قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا ملتان جامعہ خیر المدارس میں اجتماع سے خطاب
28 دسمبر 2025
الحمد للہ رب العالمین، الصلاۃ والسلام علی أشرف الأنبیاء والمرسلین، وعلی آلہ وصحبہ امن تبعھم باحسان الی یوم الدین۔ اما بعد فاعوذ بااللہ من الشیطن الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ شَهِيدًا، صدق اللہ العظیم
برادر مکرم حضرت مولانا محمد حنیف جالندھری صاحب، حضرت مولانا فضل الرحمن درخواستی صاحب، حضرت خواجہ خلیل احمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ، سٹیج پر موجود اکابر علمائے کرام، فضلائے کرام، بزرگان ملت، میرے دوستو اور بھائیو! میرے لیے سعادت اور اعزاز کی بات ہے کہ جامعہ خیر المدارس کے فضلاء کی دستار بندی کی تقریب میں خود کو آپ کے ساتھ شریک پا رہا ہوں، مولانا محمد حنیف جالندھری صاحب ہمیشہ مجھ پر یہ احسان کرتے ہیں اور اس بار بھی میں ان کا ممنون احسان ہوں کہ مجھے انہوں اس مبارک، علمی، روحانی اور دینی اجتماع میں شرکت کی سعادت سے نوازا ہے۔
برادران محترم! جب تک انسانیت ہے، اور جب تک اس کی بقا کا انتظام اللہ نے کرنا ہے، تو اپنے دین کی حفاظت کے لیے اللہ تعالی نے آپ کو وسیلہ اور سبب بنایا ہے۔ انسانوں میں ایسے لوگوں کو چننا کہ جو اللہ کے دین کی حفاظت کریں، اللہ کے دین کو اگلی نسلوں کی طرف منتقل کریں، بحفاظت منتقل کریں، اس سے بڑی سعادت اور کیا ہو سکتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا فَأَدَّاهَا كَمَا سَمِعَهَا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو تر و تازہ کیا جس نے میری بات سنی، پھر میری بات کو یاد کیا، پھر جیسے سنا تھا اسی طرح دوسروں تک پہنچایا۔ اب جیسے سنا تھا اسی طرح دوسروں تک پہنچایا اس سے اندازہ لگائیں کہ یہ کتنی بیش قیمت ایک نعمت ہے جو اللہ رب العزت نے ان نوجوانوں کو عطاء کی۔ اور جیسے کہ اللہ رب العزت نے فرمایا؛ يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ۚ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ۔ پیغمبر علیہ الصلاۃ والسلام کے لیے اتنا ہی کافی تھا؛ يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ، جو اللہ نے اور تیرے رب کی طرف سے تجھ پر نازل ہوا، وہی لوگوں تک پہنچاؤ، اللہ کی وحی میں رد و بدل کرنا تو رسول اللہ کو بھی اس کی اجازت نہیں تھی صلی اللہ علیہ وسلم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو مجسم اطاعت تھے، سراپا اطاعت، لیکن اللہ رب العزت اس وحی کو لوگوں تک پہنچانے کی اہمیت اور اس کا وجوب اور اس کی فرضیت کا احساس دلانا چاہتے ہیں۔ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ، اگر آپ نے کچھ بھی کوتاہی کی، تو مقصد رسالت فوت ہو جائے گا۔ آپ کا فرض منصبی ہے اور منصب رسالت کا تقاضہ ہے کہ جو چیز میں نے آپ پر نازل کی وہ آپ نے لوگوں تک پہنچایا۔ یااللہ میں تیار ہوں، جس طرح آپ کا حکم ہے لوگوں تک پہنچاؤں گا، لیکن میں جو لوگوں تک آپ کی بات پہنچاؤں گا تو اس کے بدلے میں تو آزمائشیں آئیں گی، وقت کے حکمرانوں کو میں نے چیلنج کرنا ہے، جو انسانوں کے خدا بنے ہوئے ہیں، ان کی خدائی کو میں نے توڑنا ہے اور تیری خدائی لوگوں سے منوانی ہے اس کے دلوں میں ڈالنی ہے۔ انسان اور پھر انسانوں میں بھی حکمران سب کچھ برداشت کر سکتا ہے لیکن اگر آپ نے اس کے اقتدار کو چیلنج کیا یہ قابل برداشت نہیں، آپ کی عبادت کو برداشت کر لے گا، آپ کی تسبیحات کو برداشت کر لے گا، دعوت و تبلیغ کو برداشت کر لے گا، درس و تدریس کو برداشت کر لے گا، لیکن اگر حکمران کے مقابلے میں میدان میں اتر کر آپ نے اس کے اقتدار کو چیلنج کیا تو یہ کبھی بھی تاریخ انسانی اس بات کی گواہ ہے کہ حکمرانوں کے لیے یہ برداشت نہیں ہوا۔ انبیاء تک کو شہید کر دیا گیا، ان کے جسموں کو آرو سے چیرہ گیا، اس پاداش میں کہ اگر انسانیت پیغمبر کی دعوت کو قبول کرتا ہے، تو انسان کی حاکمیت اور بت کی حاکمیت وہ ختم ہو جاتی ہے۔
اسی لیے تو رب العزت نے انسان کی کامیابی کے چار بڑے اصول بتائے، اگر یہ چار اصول انسان قبول نہیں کرے گا تو خسارے میں ہے۔ "إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا، پہلی چیز ہے ایمان، ایقان، اتقان، قلب کا عمل ہے اور جب ہم اشھد کہتے ہیں تو یہ دل کی طرف سے کہتے ہیں کہ میرا دل گواہی دیتا ہے، زبان سے تو صرف اظہار ہوتا ہے، اگر دل میں یقین نہ ہو اور زبان پر آپ کہیں کہ خدا ایک ہے تو وہ رسول اللہ کا متبع نہیں ہے وہ عبداللہ ابن ابی کا متبع ہوتا ہے۔ اور دوسری چیز ہے عمل صالح، یہ جوارح کا عمل ہے، اس کا اظہار انسانی اعضاء سے ہوتا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کے اندر ایک ایمان موجود ہے اور اس کا اظہار آپ اعضاء کے ذریعے کر رہے ہیں، زبان کے ذریعے کر رہے ہیں۔
تو یہ دونوں چیزیں کامیابی کی اور تیسری چیز کامیابی کی علامت وتواصو بالحق، کہ حق کا پرچار کرو۔ اب ہر اچھی بات حق ہے، کسی کو آپ روٹی کھلانے کی ترغیب دے یہ بھی حق ہے، کسی کو آپ مدرسے کے لیے چندے کی ترغیب دے تو یہ بھی حق ہے، لیکن وتواصو بالحق، اس میں حق مطلقاً ذکر ہوا ہے اور جو لفظ علی الاطلاق ذکر ہو تو خارج میں اس کا فرد کامل مراد ہوتا ہے۔ اب حق کا فرد کامل کیا ہوگا، حق کے فرد کامل کو سمجھنے کے لیے اس کے ضد کو تلاش کرنا ہوگا اور باطل کا فرد کامل ایک باطل حکمران ہوا کرتا ہے، باطل حکمرانی ہوا کرتی ہے۔سو یہاں پر وتواصو بالحق سے مراد وہ حق ہے جو باطل حکمران کے مقابلے میں بولا جاتا ہے اور اس کی دلیل ہے، محض دعویٰ نہیں ہے، یہاں الحق سے مراد اس کا فرد کامل ہے، فرد کامل کو سمجھنا ہے اس کی ضد سے، ضد حکمران باطل حکمران ہے تو تبھی ہم حق کو ایک فرد کامل سمجھتے ہیں باطل کی مقابلے میں کلمہ حق بلند کرنا اور دلیل یہ ہے وتواصو بالصبر، کہ صبر سے کام لینا ہے۔ آزمائشیں آئیں گی، تکلیفیں آئیں گی، تو استقامت کی ضرورت ہوگی، تو مقابلہ کرنے کے آپ کے اندر عزم ہوگا، تو اگر آزمائشیں برداشت کی ہیں تو انبیاء کرام نے برداشت کی ہے۔
اب آپ نے ساری زندگی ایک ہی سبق پڑھا ہے العلماء ورثۃ الانبیاء، تو جب آزمائشیں آئیں گے تو باطل کی طرف سے آئے گی اور ہر باطل محلے کا کوئی غریب آدمی وہ تو آپ کو جواب بھی نہیں دے سکتا، وہاں وتواصو بالحق کے مقابلے میں وتواصو بالصبر لانا، اس کی تو ضرورت ہی نہیں ہے، حق وہ کہ اس کے مقابلے میں آزمائشیں آئے تو حکمرانوں کی طرف سے آتی ہے، اور وہاں پر آپ کو استقامت کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے، ڈٹ کے کھڑے ہو جانا، لیکن دین اسلام حکمت کا نام ہے، یہ بھی نہیں کہ بس وہ آپ پنجاب میں کس طرح کہتے ہیں آنے واں، اس طرح نہیں بلکہ حکمت کے ساتھ، قرآن کریم جگہ جگہ پر الکتاب والحکمہ، یہ دو الفاظ اکٹھے ذکر کرتا ہے لیکن قرآن سے نیچے آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں آتے ہیں تو وہی الکتاب والحکمہ، الکتاب والسنہ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری حیات طیبہ وہ حکمت سے معمور تھی، وَمَن يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا۔ تو آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے، اور جو آزمائشیں ہمارے بزرگوں اور ہمارے اکابر پر گزری ہو شاید وہ ہم نے دیکھی نہ ہو، کیونکہ اللہ بھی تو ہماری کمزوریوں کو جانتا ہے، تو پھر ہماری کمزوریوں کو دیکھ کر ہم پر وہ آزمائشیں بھی نہیں ڈالتا۔
میرے محترم دوستو! اس تمام چیز کو اللہ رب العزت نے امانت کا نام دیا ہے، إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَنْ يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنسَانُ ۖ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا۔ یہ امانت بھی ہے اللہ کی وحی یہ امانت ہے، یہ امانت اسمانوں پہ پیش کی گئی، زمین کے سامنے پیش کی گئی، پہاڑوں پہ پیش کی گئی، انہوں نے کہا ہمارا توبہ ہے ہم یہ امانت اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہے، وہ خوف کھا گئے اور انسان نے اس امانت کا بار اٹھایا۔ تو جب انسان نے اس امانت کا بار اٹھایا تو پھر یہاں الف لام جو ہے وہ استغراق کا نہیں ہوگا، عہد خارجی کا ہوگا، خاص لوگ انسانوں میں اللہ اس امانت کے لیے چنتے ہیں اور انہی کو اللہ تعالیٰ قوت عطاء کرتا ہے کہ اتنے بھاری بھرکم امانت کو اٹھا لے۔
سو اپنے ساتھ ذرا سوچ لو، اب بھی وقت ہے گریبان میں سوچ لو، یہاں آپ نے دستار باندھے ہیں تو پھر یہ بڑی امانت کے لیے تیار ہو جاؤ۔ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا، اب یہاں تو مقام مدح کا ہے لیکن صفت زم کے ساتھ پکارا اس کو، لیکن یہ بظاہر صفت زم ہے حقیقت میں مدح ہے، کہ ظلوم اس کو کہا جاتا ہے کہ جس کے اندر عدل کا استعداد موجود ہوگا۔ تو انسان ہی ہے کہ اگر اس کو ظلوم کہا گیا تو معنی یہ کہ اس کے اندر عدل کی صفت پیدا کرنے کی استعداد موجود ہے، جہول کہ انسان ہی ہے کہ جس کے اندر علم حاصل کرنے کا استعداد موجود ہے تبھی تو جہول کہا گیا، کسی نے اسمان کو کہا ہے او جاہل کہی کہ، کسی نے پہاڑ کو کہا ہے جاہل کہی کہ، انسان ہی کو کہا جاتا ہے او جاہل، یعنی تیرے اندر علم حاصل کرنے کا استعداد موجود ہے۔
ظرف جب خالی ہوتا ہے تو ظرف کے نام سے پکارا جاتا ہے لیکن اگر ظرف کے اندر مظروف ہو تو پھر مظروف کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ لہٰذا جب برتن خالی تھا تو ظلوم و جہول ہوا اور اس برتن کے اندر اگر چائے ہے تو اب پیالی نہیں پکاریں گے چائے لیجیے، اگر گلاس ہے تو اگر اس کے اندر شربت ہے تو آپ یہ نہیں کہیں گے کہ گلاس لیجیے شربت لیجیے، جوس لیجیے، یہ انار لیجیے، سیب لیجیے۔ تو ظرف کے مظروف کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ مولانا فرما رہے ہیں کہ ہمارے تو منہ میں پانی آگیا مظروف کے نام سن سن کر، اگر شربت انار سیب ان کا نام پکار کر منہ میں پانی آتا ہے تو جس ظرف کے اندر قران ائے گا، جس ظرف کے اندر حدیث آئے گا، جس ظرف کے اندر اللہ کا دین آئے گا، آپ بتائیں کہ اس سے بڑی لذت کی چیز اور ہو سکتی ہے کوئی، تو وہ نعمت اور وہ لذت اللہ نے آپ کو عطاء کر دی۔
اب میں ان لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ جو اس دکان پہ ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کے اندر اتنی لذیذ چیز موجود ہے جو روح کو سکون بخشتی ہے اور روح کی ایک الگ دنیا ہے، جیسے اپ حج پہ جائیں نا، تو حج کی تکلیف اتنی زیادہ ہوتی ہے تھکان اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ جسم ٹوٹ رہا ہوتا ہے اور کبھی کبھی تو آدمی کہتا ہے کہ یار پھر تو نہیں آؤں گا، لیکن اس میں جو روح کو غذا ملتی ہے وہ اتنی عالیشان قسم کی غذا ہوتی ہے کہ جب اگلے سال پھر وہ موسم اتا ہے تو روح کہتا ہے پھر جاؤ، اس کو وہ لذت یاد آتی ہے، اس کا مزہ یاد آتا ہے اور شوق اور بڑھ جاتا ہے۔
وَعْدُ وَصْلٍ چوں شود نَزْدِیك
آتِشِ شُوق تِیز تَر گَردَد۔
تو اگر یہ ادارے اللہ کے دین کی حفاظت کر رہے ہیں، تو یہ ادارے جو اللہ کے دین کی خدمت کر رہے ہیں، حکمرانوں سے کہنا چاہتا ہوں آرام سے بیٹھو، مدرسوں کو ختم کرنے کی تمہارے اندر کی جو حسرت ہے اس سے تمہارے جگر پھٹ جائیں گے لیکن یہ حسرت آپ کی پوری نہیں ہو سکے گی۔
میرے محترم دوستو! ان مدارس کا ایک مشن ہے، اللہ کا دین یہاں پڑھایا جاتا ہے اور اللہ کا وہ دین جس کے بارے میں اللہ رب العزت نے فرمایا؛ الیوم اکملت لکم دینکم، واتممت علیکم نعمتی، ورضیت لکم الاسلام دینا، آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے تو ایک ہوا اکمال دین، دین مکمل بہ اعتبار تعلیمات و احکامات کے اور میں نے اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے تو یہاں پر بھی نعمت سے مراد چونکہ قرآن کریم کا کلمہ ہے مراد اس سے فرد کامل ہوگا اور اس نعمت کا فرد کامل دین کامل کا اقتدار اور اس کے حاکمیت ہے اور میں نے تمہارے لیے اسلام کو بطور نظام حیات کو پسند کیا ہے۔ چنانچہ حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص جب حضرت یعقوب علیہ السلام کے پاس لائی گئی اور آپ کے چہرے پہ ڈالی گئی آپ کی بینائی واپس ہوئی تو فوراً پوچھا کہ یوسف کو کہاں چھوڑا ہے؟ تو اس نے جواب دیا ملک مصر، مصر کا بادشاہ ہے اس وقت، تو پھر پوچھا بادشاہ جب بن گیا ہے تو کیا نظام نافذ کیا اس نے؟ تو وہ کہتا ہے دین اسلام کو، جب یہ جواب سنا تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا؛ الآن تمت نعمۃ، واتممت علیکم نعمتی، اقتدار کی صورت میں اتمام نعمت کا ذکر فرمایا۔ یہ سب چیز آپ کے اور ہمارے لیے ہے، انبیاء کی تعلیم آپ کی اور ہماری زندگی کے لیے ہے،
إِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا، إِنَّمَا وَرَّثُوا الْعِلْمَ۔
اب اس علم کا تقاضا کیا ہے، جیسے کہ ہمارے بزرگ کہتے ہیں کہ دارالعلوم دیوبند کو دیکھا، اساتذہ کی زندگی صبح شام کی دیکھی، تو خلاصہ یہ نکالا کہ ایک مدرسہ ہے جس کو میں نے خانقاہ میں دیکھا ہے، اب مدرسہ اور خانقاہ یہ ہمارے اور آپ کے زمانے کے الفاظ ہیں درحقیقت یہ تفسیر ہے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ انما بعثت معلما، میں تو استاد بنا کر بھیجا گیا ہوں، میں تو معلم ہوں اور دوسری جگہ فرمایا؛ بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الأَخْلَاقِ"، میں اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں، یعنی ایک حیثیت میں آپ معلم ہیں اور دوسری حیثیت میں آپ مربی، آپ نے انسانیت کو تعلیم بھی دی اور اس کی تربیت بھی کی، یہ مدرسے بھی جس طرح کے تعلیم دیتے ہیں اسی طرح کی ان کی تربیت بھی کرتے ہیں۔
تو ان مدرسوں کے اندر شریعت پڑھائی جاتی ہے اور شریعت راستہ ہے، طریقت پڑھائی جاتی ہے طریقت اس راستے پر چلنے کا اسلوب ہے، شریعت کو تعبیر کیا گیا ہے تعلیم الاحکام سے اور طریقت کو تعبیر کیا گیا ہے تہذیب الاخلاق سے اور تیسری چیز ہے سیاست جس کو تعبیر کیا گیا ہے تنظیم الاعمال سے، یہ تینوں ایک دوسرے کو متلازم ہے، تعلیم الاحکام بھی، تہذیب الاخلاق بھی اور تنظیم الاعمال بھی، یہ تینوں متلازم ہیں اور یہ موالید ثلاثہ ہیں دین اسلام کے، ان تینوں سے واسطہ پڑے گا کیونکہ سیاست اس راستے کے مشکل کو دور کرنے کا نام ہے، مشکل راستہ ہے نا، سخت راستہ، گھاٹی، دشوار گزار راستہ، تو اللہ تعالیٰ نے بھی تو شریعت کی تعبیر دشوار گزار راستے سے کی ہے نا، فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ۔ وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ۔ جانتے ہو گھاڑی کیا ہے گھاٹی، گھاٹی ہمیشہ دشوار گزار راستے کو کہتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ نے یہ بیان شروع کیا اور عقبہ کی قسم کھائی ہے اور پھر کہتا ہے تمہیں سمجھ ہے عقبہ کس کو کہتے ہیں، تو اس سے پہلے آپ نے ایک مقدمہ تیار کیا، مقدمہ یہ ہے کہ لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي كَبَدٍ، ہم نے انسان کو مشکل میں پیدا کیا ہے تھکا ہارا، اور پھر کہتے ہیں ہم نے آپ کو ایک دشوار گزار گھاٹی میں اتارا ہے یعنی شریعت کا راستہ اور مشکل راستہ، اب اس مشکل راستے کی جو ترجیحات اللہ رب العزت نے متعین کی ہیں فضلاء کرام ذرا متوجہ ہوں اس طرف، کہ اللہ رب العزت نے جو اس راستے کی ترجیحات کا تعین کیا ہے،
لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي كَبَدٍ۔ فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ۔ وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ
تو پہلا تقاضا اس راستے کا کیا ہے فَكُّ رَقَبَةٍ، گردن چھڑانا، لیکن یہ قران کریم کے الفاظ ہیں پورے کائنات کا احاطہ کرتے ہیں۔ تو گھروں کے اندر کے غلام کو ازاد کرنے سے لے کر قوموں کی ازادی تک کا اس میں پیغام ہے۔
تو سب سے پہلی چیز ازادی چاہے فرد کی ہو چاہے قوم کی، أَوْ إِطْعَامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ۔ بھوک میں کسی انسان کو کھانا کھلانا، اب یہ فرد کو کھانا کھلانے سے لے کر ملک کی خوشحال معیشت تک جائیں اس کے معنی میں اور اس کے بعد مفلوک الحال طبقے ہیں، يَتِيمًا ذَا مَقْرَبَةٍ۔ أَوْ مِسْكِينًا ذَا مَتْرَبَةٍ۔ یتیم وہ بھی قرابت دار، مسکین وہ بھی جس کی جسم خاک آلود ہے جس کے جسم پر کپڑے بھی نہیں ہے۔ تو آزادی، خوشحال معیشت اور مفلوک الحال طبقوں کا خیال رکھنا ان ترجیحات کو سمجھو، اس کے بعد۔ ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ۔ أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ۔ تو اگر اصحاب المیمنہ بننا ہے تو ان ساری چار چیزوں کو سامنے رکھو،
فَكُّ رَقَبَةٍ۔ أَوْ إِطْعَامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ۔ يَتِيمًا ذَا مَقْرَبَةٍ۔ أَوْ مِسْكِينًا ذَا مَتْرَبَةٍ۔ ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ۔ أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ
تو قرآن کریم اور دین اسلام کی تعلیمات کے ان پہلوؤں کو مد نظر رکھنا پڑے گا اور یہ تعلیمات کوئی میری اپنی بنائی ہوئی نہیں ہے، یہ ہمارے اکابر کی ہے، جن کے ہم نام لیتے ہیں۔ اکابر نے دین اسلام کا یہ تعارف ہمیں کرایا ہے سو ہمارے پاس اگر شریعت ہے تو اس کی بھی سند ہے، سند کے بغیر آپ حدیث نہیں سنا سکتے، اس کے لیے استاد سے اجازت لینی پڑتی ہے اور پھر استاد اجازت دیتا ہے اور ہمارے حضرات تو بڑے سخت شرائط کے ساتھ اجازت دیتے ہیں۔ حضرت شیخ زکریا صاحب رحمہ اللہ جب مجھے حدیث کی اجازت دے رہے تھے تو فرمایا میرے اکابر کی تشریحات کی روشنی میں پڑھایا کرو، اپنے اکابر کی تشریحات کی روشنی کی شرط لگا دی، کتنا اعتماد تھا ان کو اپنے اکابر پر، طریقت ہے تو وہاں بھی سند ہے، سلاسل اربع ہیں یا اس کے علاوہ ہیں تو صحابہ کرام کے سلسلے تک پہنچتے ہیں
نقشبندی حضرات جو ہیں وہ تو حضرت ابوبکر صدیق تک پہنچتے ہیں اور دوسرے حضرات حضرت علی رضی اللہ عنہ تک، تو جس طرح شریعت میں سند ضروری ہے، طریقت میں سند ضروری ہے، سیاست میں بھی سند ضروری ہے۔ اور میں جمیعت علماء کی سیاست پر اس لیے اعتماد کرتا ہوں کہ ہمارے اکابر کا وہی سلسلہ ہماری اس سیاست کی سند ہے، تو سند بڑی قوی ہے اس کی، تو مدرسے ان سب چیزوں کی حفاظت کرتے ہیں اور ہم ششماہی امتحان تک کتاب الطہارت پڑھتے رہتے ہیں اور پھر اس کے بعد ہم دوڑتے ہیں کچھ پتہ نہیں چلتا، نہ استاد کو نہ شاگرد کو، پر اجازت دے دیتے ہیں، اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کو بھی سمجھو، بعض لوگ تنقید کرتے ہیں کہ جی مدرسے والے جو ہیں وہ کتاب الطہارت تک پڑھا دیتے ہیں اور آ کے پھر دوڑاتے ہیں۔ حضرت مولانا عبدالحق صاحب رحمہ اللہ ہمارے شیخ جب ہم فارغ ہوتے تھے تو طلباء کو نصیحت کرتے تھے کہ اب تم سمجھو گے کہ ہم عالم دین بن گئے ہیں، تم عالم دین نہیں بنے، اب تمہارے اندر عالم دین بننے کا استعداد پیدا ہو گیا ہے، سو دورہ حدیث تک جب آپ پہنچتے ہیں اور استاد سے اجازت لیتے ہیں اس کا معنی یہ ہے کہ اب اگر آپ اس کے بعد عالم دین بننا چاہیں تو اب آپ بن سکتے ہیں، آپ کے اندر استعداد آگئی ہے۔
تو اللہ رب العزت ان جامعات کی حفاظت فرمائے، ان مدارس کی حفاظت فرمائے اور آج تو دنیا کفر براہ راست اسلام پر حملہ آور ہے۔ یہاں آپ کے سٹیج پر بات ہوئی فلسطین کی، غزہ کی، کہاں فلسطین میں کیا کچھ نہیں ہو رہا، افغانستان میں کیا کچھ نہیں ہوا، کشمیر میں کیا کچھ نہیں ہوا، آگ بھی عالم اسلام پہ برس رہی ہے، مسلمان کا جسم جل رہا ہے اور دہشت گرد بھی مسلمان کو کہا جا رہا ہے اور دور کا دشمن اگر وہ میرے خلاف ہوتا مجھے اتنا احساس نہ ہوتا لیکن، اس کا خنجر ہے میری گردن پر، جس محافظ نے میرے دشمن سے ڈھال بن کر مجھے بچانا تھا، اسے ڈھال بننا تھا ہماری حفاظت کرنی تھی، لیکن وہ ہماری حفاظت کرنے کی بجائے خنجر نکال کر وہ بھی ہمیں مار رہا ہے۔
ایسے جوانوں پر ہم فخر کرتے ہیں، ایسے جوانوں کے ہوتے ہوئے ہم کسی سے نہیں ڈرتے، اور بات اب اشاروں سے نکل گئی ہے اب ہم نے ان کو کلہاڑی سے مارا ہے۔ تو ایسے ہی جوانوں پہ ہمیں فخر ہے اور آپ ہی مستقبل ہیں اور اس دین کی حفاظت اب آپ نے کرنی ہے ان شاءاللہ اور بڑی جرات کے ساتھ کرنی ہے، ڈرنا گھبرانا نہیں ہے ان شاءاللہ، اسلام اور خوف اکٹھے نہیں ہو سکتے، اسلام اور بزدلی اکٹھے نہیں ہو سکتے، یہ اللہ کا دین ہے بہادری کے ساتھ ان شاءاللہ مقابلہ کرنا ہوگا، اور دنیا کفر کو بتا دیں گے کہ تم ختم ہو سکتے ہو اسلام ختم نہیں ہو سکتا۔ تو ان شاءاللہ العزیز یہ سفر جاری رکھنا ہے۔ اللہ پاک آپ کا اور ہمارا حامی و ناصر ہو۔
وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
ضبط تحریر: #سہیل_سہراب
ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
#teamJUIswat

.jpeg)
ایک تبصرہ شائع کریں