قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کی سالانہ اصلاحی روحانی تربیتی اجتماع بسلسلہ ختم بخاری شریف جامعہ مخزن العلوم عیدگاہ خان پور میں خطاب
26 دسمبر 2025
خطبہ مسنونہ کے بعد
برادران مکرم حضرت مولانا حافظ فضل الرحمن صاحب دامت برکاتہم العالیہ، خانوادہ حافظ الحدیث والقرآن کہ میرے تمام بزرگ، میرے تمام بھائی، سٹیج پر موجود اکابر علماء کرام، اجتماع میں موجود بزرگان محترم، میرے دوستو اور بھائیو! میرے لیے انتہائی سعادت کی بات ہے کہ میں صحیح بخاری کی تکمیل کی تقریب میں علماء کے ساتھ اور اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ اور فضلاء کے ساتھ شریک ہو رہا ہوں۔ ہم جب اس قسم کے تقریبات منعقد کرتے ہیں تو یہ محض ایک جشن نہیں ہے ایک رسم نہیں ہے بلکہ درحقیقت اس علم کی قدر و منزلت کو پہچاننا ہے جس علم کی حصول کے لیے ہم نے مدارس کا یہاں آٹھ سال کا عرصہ گزارا، دس سال کا عرصہ گزارا، مدارس کی خاک چھانی اور یہ جامعہ مخزن العلوم جو حضرت حافظ الحدیث والقرآن حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی صاحب رحمہ اللہ کی زندگی بھر کی خدمات جلیلہ کا ایک شاہکار ہے اور یہ جامعہ محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں ہے بلکہ ان علوم سے جو ہم نے عقیدہ اور نظریہ اخذ کیا ہے اس کے بعد اب ہم جس عقیدے اور نظریے کے حامل ہیں، اس کو فروغ دینا ہے۔ اس کو پھیلانا ہے۔
كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ ۔
صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین پوری دنیا میں پھیلے۔ آج بھی جسے دنیا میں عالم اسلام کہا جاتا ہے اس کے حدود وہی ہیں جہاں تک صحابہ کرام پہنچے تھے، چاہے دعوت لے کر، چاہے علم کی روشنی لے کر، چاہے جہاد کی تلوار لے کر، جہاں جہاں تک صحابہ کرام پہنچے تھے اج بھی وہی وہی علاقہ عالم اسلام کہلاتا ہے۔ ہم نے شاید کچھ کمی کردی ہو لیکن اضافہ ہم نہیں کر سکے اور اسی کے اندر ہماری تحریکیں چلتی رہی ہیں۔ اگر ہمارے اکابر نے آزادی کی تحریک چلائی ہے تو آزادی کی تحریک اسی قران و سنت کا منشاء ہے اور جہاں میں کھڑا ہوں اس کی نسبت دین پور شریف کی مرکز کی طرف ہے، جس کی بنیاد حضرت مخدوم مولانا غلام محمد صاحب رحمہ اللہ نے رکھی تھی۔ جس کی آبیاری حضرت مولانا عبدالہادی صاحب رحمہ اللہ نے کی اور آج بھی ہم اسے اپنا مرکز تصور کرتے ہیں۔ یہیں سے سید اسماعیل شہید اور سید احمد بریلوی شہید رحمہ اللہ کا قافلہ گزرا، یہی پر انہوں نے پڑاؤ ڈالا تھا اور پھر آگے بڑھے اور بلوچستان کے علاقوں سے ہوتے ہوئے افغانستان پہنچے اور افغانستان سے انہوں نے ہندوستان میں جہاد کا آغاز کر دیا۔ تو یہ وہ تاریخ ہے جہاں سے ہمارے اکابر کی قدم یہاں سے گزرے ہیں، ان کی قدموں کی دھول اب بھی زندہ ہے اور ہم ان کے نقش قدم پر چلنے کو اپنے لیے مایہ افتخار سمجھتے ہیں۔
تو میرے محترم دوستو! آپ تبھی زندہ ہیں اگر آپ کی تاریخ زندہ ہے، دنیا اس بات کی کوشش کر رہی ہے کہ اپنے اکابر و اسلاف سے ہمارا رشتہ توڑ دے اور اپنے اکابر و اسلاف کو ہم ماضی کی کہانیاں سمجھیں، نہیں، یاد رکھیں! دین اسلام سند کا نام ہے، ہم جو شریعت پڑھتے ہیں اس کی بھی سند ہے اور سند کی ہم بہت بڑی حفاظت کرتے ہیں۔ اگر ہماری طریقت ہے اس کی بھی سند ہے، اگر ہماری سیاست ہے اس کی بھی سند ہے، اور اگر ہمارا نسب ہے اس کی بھی سند ہے اور جن کا نہ نسب نامہ ہے، یورپ کی تقلید ہے، ان کی تہذیب کی پیروی ہے اور پھر جب ہم سیاست کرتے ہیں تو کہتے ہیں یہ موروثی سیاست ہے۔ موروثی تجارت ٹھیک ہے، موروثی زراعت ٹھیک ہے، موروثی صحافت ٹھیک ہے، لیکن موروثی سیاست اس لیے کہ مغرب میں وراثت ہے ہی نہیں، تو الحمدللہ ہم تو ان انبیاء کے وارث ہیں کہ جن انبیاء کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الکریم ابن الکریم ابن الکریم ابن الکریم ۔
تو ہم سمجھتے ہیں کہ دنیا میں اعلیٰ ترین مسند اعلیٰ ترین منصب وہ نبوت کا منصب ہے اور اگر نبوت کے منصب میں ہمیں وراثت ملتی ہے تو یہ قیامت تک امت کے لیے ایک اچھا نمونہ ہے۔ اگر اولاد میں صلاحیت ہے اور وہ اپنے بزرگوں کے مقصد کو اگے لے بڑھ سکتے ہیں تو ان کے مسند پر انہی کو بیٹھنے کا حق حاصل ہے اور اگر ان میں صلاحیت نہیں ہے تو پھر اللہ تعالی تو اصول بیان کرتا ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے شریعت اور بہ تقاضائے بشری اور بہ تقاضائے فطرت بشری اللہ سے مانگا؛۔ قَالَ وَمِن ذُرِّيَّتِي تو یہ خواہش پیغمبر کی خواہش تھی، ناجائز خواہش تو نہیں ہو سکتی، لیکن اللہ نے جواب میں اصول بیان فرمایا؛ قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ۔ جو بے راہ رو ہیں ان کو یہ منصب نہیں مل سکتا، اصول بیان کر دیا۔
یاد رکھیں جب تک ہمارے ان مراکز میں علم موجود ہے، وہاں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت موجود ہے، وہاں پر سنت کی پیروی موجود ہے اور جب یہ علوم ختم ہو جاتے ہیں تو پھر اس کے بعد خواہشات شروع ہو جاتی ہے۔ گدیاں بن جاتی ہیں، گدی نشین بن جاتے ہیں اور وہاں رسومات چلتی ہیں پھر، کوئی وہاں دین و شریعت کی رہنمائی میں کام نہیں ہوتا۔ تو ان لوگوں کے ساتھ بھی ہمیں جوڑ کے رکھنا ہے، یہ جو ہم نے رابطے توڑ دیے ہیں اس کا معنی یہ ہے کہ ہم نے اپنے اکابر و اسلاف کے مراکز کو ان لوگوں کے حوالے کر دیا ہے کہ جن کو وہ مرکز سنبھالنے کے اہلیت نہیں ہے۔ جائیں، اپنی آواز وہاں پر پہنچائیں، وہاں پر اپنے نسبت قائم کریں، ان سے رابطے میں رہیں، تاکہ یہ دوریاں بھی ختم ہوں، امت میں وحدت بھی ائے اور ان مراکز میں سنت بھی چلی جائے۔
مجھے ایک بزرگ نے کہا ایک درگاہ کی جانشین نے کہا مولانا اپ لوگ اپ علماء یہ ہمارے درگاہوں میں آیا کریں ورنہ خدا کی قسم ہمارے درگاہوں میں وہ خرابات ہیں، وہ خرافات ہیں کہ جن کو برداشت کرنا مشکل ہے اور ہم بے بس ہیں۔ اگر علماء وہاں پر نہیں آئیں گے تو ہم بے بس ہیں۔
تو میرے محترم دوستو! ان مراکز کا ہم پر احسان ہے، یہی سے ہمیں شریعت ملتی ہے اور شریعت راستہ ہے، یہی سے ہمیں طریقت ملتی ہے جو اس راستے پر چلنے کا اسلوب ہے، یہی سے ہمیں سیاست ملتی ہے جو اس راستے کی مشکل کا عبور ہے۔ سیاست میں ذرا مشکل اتی ہے، رکاوٹیں ہوتی ہیں، حکمرانوں کو چیلنج کرنا ہوتا ہے اور جب اپ حکمرانوں کو چیلنج کریں گے تو ایمان اور عمل صالح کے بعد اللہ رب العزت اپ کی ذمہ داری قرار دیتا ہے کہ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ، حق کا پرچار کرو، اب حق یہاں پر مطلقاً ذکر ہوا ہے اور چیز جب ذکر ہوتی ہے مطلقاً تو خارج میں فرد کامل مراد ہوتا ہے اور اب حق کے فرد کامل کو ہم کیسے پہچانیں گے، سو پہلے ہم باطل کو پہچانیں گے اور باطل کی سب سے بڑی اور کامل مکمل شکل باطل حکمران ہوا کرتا ہے، سو یہاں پہ بھی حق سے مراد باطل حکمران کے مخالف کلمہ حق کو بلند کرنا ہے۔ کیونکہ ہم نے تو کامل معنی لینا ہے قران کریم کا اور جب اپ حکمران کے مقابلے میں کلمہ حق کہیں گے تو آزمائشیں تو تب ہی ائیں گی نا، ہم محلے کے غریب ادمی پر غصہ ٹھنڈا کر لیتے ہیں تو کہتے ہیں ہم نے تو حق بولا ہے، وہ بیچارہ تمہیں جواب ہی نہیں دے سکتا، اس میں ہمت ہی نہیں ہے اپ سے پنگا لے۔
تو جب حکمران کے مقابلے میں اپ کلمہ حق بولیں گے تو آزمائشیں انبیاء پر بھی ائی ہے اور انبیاء اشد بلا، سب سے زیادہ آزمائشیں انبیاء پر آئی ہیں۔ اس کے بعد جو ان کی راہ پہ چلتے رہے چلتے رہے تو آج اگر آپ کا دعویٰ ہے کہ العلماء ورثۃ الانبیاء، علماء انبیاء کے وارث ہیں اور: إِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ، وَإِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا، وَإِنَّمَا وَرَّثُوا الْعِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ. کہ انبیاء کرام نے وراثت میں نہ روپے پیسہ چھوڑا ہے، نہ جائیداد چھوڑی ہے، اگر انہوں نے اپنی جائیداد میں کچھ چھوڑا ہے تو یہ علم چھوڑا ہے۔ اب اس علم کا تقاضا یہ ہے کہ پہلے "وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ، اور اس کی دلیل ہے کہ حق سے میں نے یہ معنی کیوں لیا ہے؟ میں نے باطل کے مقابلے میں کلمہ حق اس "وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ سے کیوں لیا ہے، اس کی دلیل ہے وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ، تو ظاہر ہے صبر و استقلال اور برداشت یہ حکمرانوں کی طرف سے ائے ہوئے آزمائشوں کے مقابلے میں ہوتا ہے۔
اللہ رب العزت نے بڑی ترتیب کے ساتھ اپنا دین سکھایا اور سمجھایا ہے اور سیاست ہمارے اکابر کہتے ہیں کہ یہ مشکل راستے کا نام ہے مشکل راستے کی تعبیر بھی تو اللہ نے کی ہے،۔ فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ۔ وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا الْعَقَبَةُ۔ تم جانتے ہو اللہ نے اس گھاٹی کی قسم اٹھائی اور فرمایا جانتے ہو گھاٹی کیا ہے یعنی شریعت کو اللہ نے تعبیر کیا گھاٹی سے اور گھاٹی مشکل گزرگاہ کا نام ہوا کرتا ہے، جس میں جھاڑیاں بھی اتی ہیں، جس میں پتھر بھی اتے ہیں، جس میں پانی بھی اتا ہے جس میں پہاڑی پہ اتی ہے اور جب اپ کے سامنے یہ راستہ ائے گا اور اپ اس راستے میں داخل ہوں گے اور اس کے لیے اللہ نے مقدمہ باندھا ہے یونہی خوامخواہ نہیں کہہ دیا: فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ، وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا الْعَقَبَةُ، اس سے پہلے مقدمہ اللہ نے باندھا، لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَـٰنَ فِى كَبَدٍ، اب جب فرما دیا کہ اللہ نے انسان کو مشکل میں پیدا کیا، ازمائش میں پیدا کیا، تو پھر فرمایا: فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ۔ وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا الْعَقَبَةُ۔ پھر اپ گھاٹی میں داخل ہوئے، یعنی شریعت میں داخل ہو گئے اور اس شریعت کا جو اولین تقاضا ہے اس کو سمجھنا چاہیے۔ فَكُّ رَقَبَةٍ۔ گردن چھڑانا، گھر کے ایک غلام سے لے کر، قرآن ہے نا قرآن کو ہم نے قرآن کی وسعتوں کے حوالے سے قوموں کی آزادی تک، گھر کے اندر کے غلام سے لے کر قوموں کی آزادی تک فَكُّ رَقَبَةٍ، غلامی کی طوق کو گردن سے نکالنا اور قوموں کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنا یہ سب سے اولین تقاضہ ہے اس دین کا، آزادی سب سے پہلا مقصد ہے۔ أَوْ إِطْعَـٰمٌ فِى يَوْمٍۢ ذِى مَسْغَبَةٍ۔ بھوک کے دن کسی کو روٹی کھلانا اب وہ پڑوس میں غریب ہو، ایک فرد ہو، جس فرد کو اپ نے کھانا کھلایا یہ بھی قرآن کا تقاضہ، لیکن قوم کی معاشی حالت کو بہتر بنانا یہ بھی شریعت کا تقاضہ ہے۔ یہ بھی قران ہی کا تقاضا ہے اور پھر اس کے بعد مفلوک الحال طبقوں کا ذکر ہے: يَتِيمًا ذَا مَقْرَبَةٍ۔ أَوْ مِسْكِينًا ذَا مَتْرَبَةٍ۔ وہ یتیم پھر جو قرابت دار بھی ہے اور وہ مسکین جو بیچارے کے جسم پر لباس نہیں ہے اور گرد آلود ہے۔ تو ازادی، خوشحال معیشت، مفلوک الحال طبقوں کا خیال رکھنا اس کے بعد ایمانیات ہیں؛ ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَتَوَاصَوْا۟ بِالصَّبْرِ۔ تو دین متین کی اس تصور کو ہمارے اکابر نے اجاگر کیا، اس کو فروغ دیا اور انگریز حاکمیت نے دین کے اس تصور کو روکنے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا، کردار کشی کی، مولوی تو سیاست کرتا ہے، تو سیاست صرف میں نے کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ بنی اسرائیل کی سیاست انبیاء کرام کیا کرتے تھے، ایک پیغمبر جاتا تھا دوسرا پیغمبر اس قوم کی سیاسی نظام کو سنبھالتا تھا، اب میرے بعد کوئی دوسرا نبی نہیں ائے گا میں وہ اخری پیغمبر ہوں جس نے دنیا کے سیاسی نظام کو سنبھالا ہے۔اب ہم مولوی صاحبان بھی کہتے ہیں ختم نبوت غیر سیاسی موضوع ہے، یہ سیاست سے بالاتر ہے، یہ عقیدے کا سوال ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لا نبی بعدی، سیاست کے ذیل میں فرمایا ہے۔ اور جب انبیاء سیاست کرتے تھے اور اخری سیاستدان بحیثیت نبی کے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو اپ بتائیں کہ العلماء ورثتہ الانبیاء کے بعد یہ ذمہ داری سب سے بڑھ کر علماء کی نہیں آج تو اور اس کی ہے؟ تو ہمیں شریعت کی اس پہلو کو سمجھنا ہے اور اللہ رب العزت نے فرمایا؛
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا۔
اج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور میں نے اسلام کو بطور نظام حیات کے تمہارے لیے پسند کیا اور ہمارے اکابر علماء نے اس ایت کی جو وضاحت کی ہے تو پہلی چیز ہے اکمال دین، کہ دین مکمل ہے، مکمل بہ اعتبار تعلیمات کہ، بہ اعتبار احکامات کہ، دین مکمل ہو گیا ہے، وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي، اور میں نے اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے، یہاں پھر نعمت مطلقاً ذکر ہوا ہے اور جب نعمت کا ذکر مطلقاً ہوگا تو خارج میں فرد کامل مراد ہوگا اور فرد کامل اس دین کامل مکمل کی حکمرانی اور اقتدار ہے۔
یہ ہمارے اکابر نے اس کی تشریح کی ہے، وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي، اتمام نعمت سے مراد اللہ کے دین کا اقتدار ہے، اس کے حاکمیت ہے اور حضرت یوسف علیہ السلام کے قمیص جب حضرت یعقوب علیہ السلام کے پاس پہنچائی گئی اور اپ نے چہرے پہ ڈالی اپ کی بینائی واپس اگئی تو فوراً پوچھا؛ کہ یوسف کو کہاں چھوڑا آئے ہو؟ تو اس نے جواب دیا وہ مصر کا بادشاہ ہے۔ پھر پوچھا کون سی دین پر اپ نے اس کو چھوڑا ہے؟ وہ کیا کر رہا تھا؟ تو جواب دیا میں نے دین اسلام کو حاکم بنا کر اس کو اس کو چھوڑا ہے جب یہ لفظ کہا تو حضرت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام کا جواب دیا اب نعمت تمام ہوگئی، نعمت اس دین کا اقتدار ہے۔
تو اسلام تو کب سے انبیاء کا دین رہا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ہمارا نام مسلمان رکھا، اب اس حقیقت کو کیسے ہم پہچانیں؟ عام ادمی تک ہم اس کے برکات کیسے پہنچائیں؟ عام ادمی کے ذہن میں ان کی اسلام کے یہ مفہوم کیسے بٹھائے؟ اپ تو ایک نعرے پہ بسر کرتے ہیں، محض ایک خوشنما نعرے پہ، اور پھر اپ اپنی ذات تک محدود ہیں۔ اب ایک ظالم جابر کو اور ایک غلط نظریے اور فکر کے حامل کو ووٹ کیوں دیتے ہیں، کیا کرے
سائیں ساڈا مخدوم ہے، سردار ہے؛ تھانے وچ کیہہ کرے سوں؟ دفتر وچ ساڈے کم کون کرے سی؟
یہ اپ کی جان چھڑائے گی؟ یہی تو غلامی ہے، اسی غلامی کے خلاف تو جمیعت میدان میں ہے اور ہماری سیاست پارلیمانی سیاست ہے، جمیعت کو پارلیمانی قوت بناؤ اور پھر توقع رکھو کہ ان شاءاللہ اس جاگیرداری سے، اس ظلم سے، اس جبر سے، غریب انسانیت کی نجات ہوگی اور یہ تفصیر بن جائے گی؛ فَكُّ رَقَبَةٍ، معیشت ازاد ہوگی؛ أَوْ إِطْعَـٰمٌ فِى يَوْمٍۢ ذِى مَسْغَبَةٍ۔
تو اس پہلو کو اس کتاب نے واضح کیا ہے جو ہمارے سامنے ہے۔ اپ تقریب ختم بخاری کرتے ہیں یہ رسم نہیں ہے، اس میں ہم لوگوں کو بھی شریک کرتے ہیں تاکہ اس کتاب کے طالب علم یہ سب بن جائیں اور اس کتاب کا پیغام امت تک پہنچے۔ تو اس میں اپ نے حکمت کے ساتھ کام کرنا ہے۔ ہم بڑے اچھے اچھے مولوی ہوتے ہیں، بہت اچھا پڑھاتے ہیں، لیکن حکمت سے خالی ہوتے ہیں، یہ پتہ نہیں چلتا کہ ہم اس موقع پر میں نے کیا بات کہنی ہے اور کتنی کہنی ہے، بے موقع بے محل بات کرنا اسی کا نام تو ظلم ہے، تو بے موقع بے محل بات کرنا ہر چند کے وہ سچی اور صحیح بات ہو لیکن اگر وہ حکمت سے خالی ہے تو، اور قران کریم دو لفظوں کو جوڑ کر بیان کرتا ہے، بار بار قران کریم میں اپ کو ملے گا الکتاب و الحکمہ، جب قران سے اپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کی طرف آئیں گے، اپ کی سنت کی طرف آئیں گے تو وہی چیز تبدیل ہو جاتی ہے الکتاب والسنہ، تو سنت پر عمل یہ اصل میں وہ حکمت ہے جو اللہ رب العزت نے انسانیت کو عطاء کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام حیات طیبہ اس حکمت کا مظہر تھی؛
وَمَن يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا۔
اس کو تو بہت بڑا خیر مل گیا جس کو حکمت مل گئی۔ اب جو چیزیں اپ کے اس پیغام اور اس پروگرام کے فروغ میں رکاوٹ ہے اس کو سمجھو، سب سے بڑی رکاوٹ فرقہ واریت ہے۔ ہمیں بھی اپنا عقائد سے محبت ہے، ہمیں اپنے افکار سے محبت ہے، ہم بھی جوش میں ا جاتے ہیں اگر ہمارے عقائد پر کوئی حملہ کرتا ہے لیکن پھر ہم نے سبق کس لیے پڑھے ہیں کہ ہم جوش جذبے کی اطاعت تو کریں لیکن حکمت کی اطاعت نہ کریں۔ اب ہم نے مسلکوں کو، مسلکوں کو ناراض نہ ہونا، ہم نے مسلکوں کو اپنا دکان بنا لیا ہے یہ ہمارے کمانے کے ذریعے بن گئے ہیں اور ایک مولوی صاحب سے میں نے کہا جی یہ جھگڑا تو ختم ہو گیا تھا پھر کیوں شروع ہو گیا؟ تو کہتے ہیں سائیں دکان بند ہوتی ہے۔
تو دین کو دین سمجھو، اگر کوئی بحث کرنی ہے تو درسگاہ میں طلباء کے سامنے بحث کریں، ردالقضا بھی ہوتی ہے ان کے دلائل بھی اپنے دلائل بھی، لیکن اگر علمی باتیں اپ پبلک میں کریں گے وہ کیا سمجھ میں ائے گے، وہ تو فوراً ڈنڈا اٹھائیں گے، بندوق اٹھائیں گے، تو نفرتوں سے ہمیں بچنا چاہیے اور ہم نے تو ازمایا ہے اپنے آپ کو، ہم پاکستان میں اسلام کے مطالبے کرتے ہیں، دیکھیں اسلام کے لیے اپ کے پاس ایک تو عقیدے اور ایمان کے حوالے سے جو دلیل ہے وہ تو ہے، لیکن حکمران کے لیے وہ کافی نہیں ہے جب تک ملک کے اندر اپ اس کو کسی میثاق کا پابند نہ بنائیں۔ سب چیزیں ٹھیک ہیں لیکن ہم ایک دوسرے کے لیے پابند نہیں ہیں، ہم نے ایک دوسرے کے لیے پابند ہونا ہے اگر میرے ملک کے اندر ائین ہوگا، اگر میرے ملک کے اندر قانون ہوگا اور قانون اور ائین یہ پارلیمنٹ میں بنتے ہیں، زبردستی کی حکومتیں اسے ہمارے اکابر نے تائید نہیں بخشی، جنگوں میں فتوحات حاصل ہوتی ہے تب بھی اپ نے پبلک کی طرف جانا ہے، عوام کی بیعت لینی ہوتی ہے، مسجد میں امامت جائز ہے کہ لوگ کہیں کہ تم میرا امام نہیں اور زبردستی مصلے پہ کھڑے ہو جاؤ، مصلے پر امامت نہیں کر سکتے اگر عوام تمہیں ناپسند کرتے ہیں۔ مقتدی تمہیں نہیں چاہتے تو ملکی نظام میں بھی اگر اسمبلی وجود میں آئیں، سن 1973 میں ائین بنا تو قرار داد مقاصد اس پہ شامل ہے، جو کہتا ہے کہ حاکمیت اللہ رب العالمین کی ہوگی اور ہم زندگی کے تمام شعبوں میں قران و سنت کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزاریں گے اور پھر ائین کہتا ہے کہ اسلام ہمارا مملکتی مذہب ہوگا اور پھر آئین کہتا ہے کہ تمام قوانین قرآن و سنت کے تابع ہوں گے اور قرآن و سنت کے تابع کوئی قانون نہیں ہوگا۔
اب آئین میثاق ملی ہے، اب ہم حکمران سے کہہ سکتے ہیں کہ تم اس میثاق کے پابند ہو، حجت آپ کے ہاتھ میں آگئی ہے اور اس میں اگر آپ کے علماء کرام آپ کے اکابر اسمبلی میں موجود نہ ہوتے تو اسلام کی یہ شقیں نہ ہوتی، ختم نبوت کے عقیدے کے تحفظ کے لیے اگر آپ کے علماء اسمبلی میں نہ ہوتے تو یہ مسئلہ اسی طرح جھگڑے میں رہتا، بنگلہ دیش میں ابھی تک جھگڑے میں ہے وہاں سرکاری طور پر وہ غیر مسلم قرار نہیں دیتے گئے ہیں۔ آپ کے ملک کا مسئلہ حل کیا، آئندہ اسلامی دفعات آئے اس کے اندر، ابھی چند دن پہلے میں اسمبلی میں گیا تو مشترکہ اجلاس تھا پارلیمنٹ کا اور اسی وقت مجھے ایک گھنٹہ پہلے معلوم ہوا کہ انہوں نے ایجنڈے پر رکھا ہوا ہے اقلیتوں کا ایک کمیشن کا قیام، اقلیتوں کے حقوق کے لیے کمیشن بنتا ہے ہمیں کوئی اعتراض نہیں، لیکن اگر اس میں یہ لکھا گیا کہ اس کمیشن کے تحت جو قوانین ہیں ان کو تمام قوانین پر بالادستی حاصل ہوگی، تو اپ بتائیں جس قانون کے تحت بھی فیصلہ ہوگا دوسرا ادمی کوٹ میں جائے گا کہ چونکہ یہ کمیشن والے قانون سے متصادم ہے لہذا بالادستی اس کو حاصل ہے میرے قانون کو ختم کردو اور پھر اس کا فائدہ قادیانی نہ اٹھاتے، کہ ہمارے خلاف سن چوہتر میں جو قوانین آئے تھے، سن چوراسی میں آئے تھے اب ان قوانین کی ثانوی حیثیت ہے یہ چونکہ اس قانون کے خلاف ہے۔ تو اس طرح چوری کا ایک راستہ دینے کی کوشش کی جو عین موقع پر ہم نے پکڑ لیا، مجھے اپنے ساتھیوں نے کہا جی یہ ایجنڈے کے پہلے نمبر پر ہے، اپ نے لیٹ نہیں کرنا، ٹھیک وقت پہنچتا ہے، میں ٹھیک وقت پر پہنچا اور جونہی اجلاس شروع ہوا ہم کھڑے ہوئے اور ہم نے کہا کہ یہ چیز غلط ہے۔ وزیر خارجہ، نائب وزیراعظم نے اسحاق ڈار صاحب، وزیر قانون نذیر تارڈ صاحب دونوں میرے سیٹ پر آئے اور مجھے کہا کہ حضرت یہ اور وہ، میں نے کہا کچھ بھی نہیں، اس کو واپس کرو، پانچ منٹ کے اندر، پانچ منٹ کا وقت بھی نہیں لگا کہ حکومت نے اس پورے قانون کا یہ حصہ واپس کر دیا، اس کو حذف کر دیا۔
تو اس اس قسم کی چیزیں ہمارے ان ایوانوں میں آتے ہیں مجھے افسوس اس بات پر ہے کہ ہم دین اسلام، شرعی قوانین ان کا مطالبہ بھی مسلمان سے کر رہے ہیں اور اس کی حفاظت بھی ہم مسلمان سے کر رہے ہیں۔ یہی چیزیں حضرت ملک کے اندر پھر انتہا پسندی پیدا کرتی ہے۔ ہمارا واضح موقف ہے کہ مدرسہ انتہا پسندی نہیں پیدا کرتا، اسلام کے حوالے سے تمہارے یہ رویے انتہا پسندی پیدا کرتی ہے۔ میرے مدرسے کی اصلاح کی فکر مت کرو، اپنے رویوں کی اصلاح کرو۔ مدرسہ یہ زبردست این جی او ہے، عجیب بات یہ ہے کہ ساری چیزیں نجی ملکیت بنائی جا رہی ہے، سرکاری ملکیت ختم کی جا رہی ہے، کاروباری شعبے میں بہت سی چیزیں بیچی جا رہی ہیں ابھی چند دن پہلے پورے پی ائی اے کو بھیج دیا۔ تو جو سرکاری ادارے ہیں وہ تو تم سے چلتے نہیں اور بیچ رہے ہو اور اس کو نجکاری کر رہے ہو، نجکاری کر رہے ہو اور مدرسہ پہلے سے نجی ادارہ ہے اس پر کنٹرول حاصل کر رہے ہو۔ تو جب تمہارے زیر انتظام سارے ادارے ناکام ہیں تو پھر میرے مدرسہ اور تمہاری ادارے میں ائے گا تو پھر یہ ناکام نہیں ہوگا؟ ہاں اچھی تجویز دو ہمیں پہلے بھی قبول کی ہے بعد میں بھی قبول کریں گے کہ قران و حدیث کے علوم پر اس کا اثر نہ پڑھے۔ تو اس اس حوالے سے ہمارے مؤقف میں اعتدال بھی ہے، دلیل بھی ہے ہم بلا وجہ ضد نہیں کر رہے،
میں یونہی نہیں دست و گریباں زمانے سے
میں جس جگہ پر کھڑا ہوں کسی دلیل سے ہوں
تو آئیں بیٹھ کر معاملات طے کریں اور جو طے ہو چکا ہے اس پر عمل کرو۔ مدارس کے حوالے سے قانون پاس ہو چکا ہے، عمل درآمد کیوں نہیں ہو رہا؟ اسلامی نظریاتی کونسل کے سفارشات اسمبلی میں لاؤ بحث کرنے کے لیے، اب یہ 26 ویں ترمیم میں ہم لا چکے ہیں، پاس ہو چکا ہے ایک سال گزر گیا ایک سفارش بھی ابھی تک نہیں آئی، جو طے ہوا ہے اس پر عمل درآمد ہونا چاہیے، جو طے نہیں ہے اس پر مذاکرات ہونی چاہیے، بات چیت کریں۔ ہم نے کبھی افہام و تفہیم سے معاملات کو طے کرنے کا انکار نہیں کیا، لیکن جب آپ ضد کرتے ہیں تو پھر ہم بھی ضد کرتے ہیں۔
نہ تسی ضد کرو، نہ اسی ضد کراں۔
جے تسی ضد کرو گے، تاں آساں اکھڑ سوں۔
تو میرے محترم دوستو! آج اس مناسبت سے جو باتیں ذہن میں آئی میں نے آپ کے سامنے عرض کر دی ہے، انہیں خطوط پر ہمیں آگے بڑھنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے اکابرین کو اس کا اجر عطاء فرمائے اور ان کے لیے اس کو اللہ تعالی صدقہ جاریہ فرمائے اور جو لوگ اس میں شریک ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ تمام شرکاء کو اس کا اجر عطاء فرمائے اور میرے اکابر نے میرے اکابر دیوبند نے جس طرح قران حدیث کی اور حدیث کی تشریح کی ہے اس تشریح کو سامنے رکھتے ہوئے آپ کو آگے پڑھانے کی اجازت دیتی ہے۔
وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
ضبط تحریر: #سہیل_سہراب
ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
#teamJUIswat

.jpeg)
ایک تبصرہ شائع کریں