قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا قاری طاہر رحیمی رحمہ اللہ کی یاد میں منعقدہ سیمینار سے خطاب
30 دسمبر 2025
الحمد للہ رب العالمین، الصلاۃ والسلام علی أشرف الأنبیاء والمرسلین، وعلی آلہ وصحبہ ومن تبعھم باحسان الی یوم الدین۔ اما بعد فاعوذ بااللہ من الشیطن الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا ۗ وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ۔ صدق اللّٰہ العظیم۔
برادر مکرم حضرت مولانا قاری عبد القادر صاحب، برادر مکرم قاری شاکر رحیمی صاحب اور حضرت قاری صاحب کے تمام صاحبزادگان اور ان کے خانوادے کے یہاں پر موجود تمام احباب علماء کرام، میرے بزرگو، دوستو اور بھائیو! یہ بڑی اچھی روایت ہوتی ہے اگر ہم اپنے بزرگوں کو اور اپنے اکابر کو اس طرح کے اجتماعات منعقد کر کے یا اپنے اکابر کے حق میں کچھ کتابیں تحریر کر کے انہیں ہم زندہ جاوید بنا سکتے ہیں۔
حضرت قاری محمد طاہر صاحب رحمہ اللہ ان کا بہت زیادہ حق تھا ہمارے اوپر، کہ ہم ان جیسے عالی مرتبت اور بلند پائے کے استاد اور عالم ان کا تذکرہ کرنے کے لیے اس طرح کی کوئی مجلس منعقد کرتے، یہ وہ شخصیت ہے جو گمنامی میں بہت بڑی خدمت کر گئے۔ میں جب سکول پڑھتا تھا ملتان میں، تو میں اسکول سے حسن قرات کے مقابلوں میں شرکت کرتا تھا۔ تو ایک دن والد صاحب نے بٹھایا، کہ تم نے تجوید پڑھی نہیں ہے مقابلے کیسے کرتے ہو اور پھر جیتتے کیسے ہو؟ تو سناؤ، جب میں نے سنایا تو انہوں نے قدم قدم غلطیاں پکڑی اور غلطیاں پکڑی اور ان غلطیوں کے ساتھ مقابلے بھی کرتے ہو اور جیتتے بھی ہو۔ دوسروں کا کیا حال ہوگا؟ اس پر انہوں نے قاری صاحب سے بات کی اور کہا کہ فضل الرحمٰن کو پڑھایا جائے۔ چنانچہ میں نے ان سے چھوٹے رسالے، جمال القرآن، قرآن اور فوائدِ مکیہ پڑھے، اور انہوں نے میری تجوید اور اصلاح بھی کی۔ اور ظاہر ہے کہ یہ جو ایک سلسلہ ہے حضرت قاری محمد طاہر صاحب کا، قاری رحیم بخش صاحب کا رحمہ اللہ، قاری فتح محمد صاحب رحمہ اللہ، یہ پانی پت کے سلسلے کے لوگ ہیں، تو کبھی بھی اس نے مجھے لہجہ تبدیل کرنے کا نہیں کہا، لیکن یہ ہے کہ پڑھاتے بھی تھے، پھر ساتھ ساتھ گلستان بوستان یہ بھی پڑھاتے رہے مجھے اور حضرت والد صاحب رحمہ اللہ کو بہت ہی خواہش ہوتی تھی کہ رمضان شریف ہو تو پھر تراویح میں ختم قرآن قاری صاحب بھی کرائے، تو مسجد میں تو کراتے ہی تھے لیکن بعض اوقات میں نے دیکھا کہ والد صاحب بڑی خصوصی وہ انتظام کرتے تھے اور جب مفتی صاحب وزیراعلی بنے تو اس سال جب رمضان شریف آیا تو قاری صاحب کو پشاور بلایا اور وہاں سی ایم ہاؤس میں انہوں نے ختم القرآن کیا۔
تو انتہائی ایک تعلق، محبت اور ان کے علمی استعداد کو عالم دین ہی جانتا ہے۔ پھر جب مدینہ منورہ منتقل ہوئے یہاں سے، تو ظاہر ہے کے ایک ملک سے دوسرے ملک، اور وہاں مستقل رہنے کے غرض سے تو کچھ مشکلات آتی تھی، تو اس مشکلات پہ وہ مجھ سے رابطہ بھی کرتے تھے، اور میں ان سے پوچھتا تھا کہ قاری صاحب آپ کیوں مدینہ منورہ جا رہے ہیں یہاں تو ٹھیک نظام چل رہا ہے آپ کا، کہتے ہیں نہیں، میں نے اللہ سے وعدہ کیا تھا کہ 50 سال کے بعد پھر میں مدینہ منورہ میں رہوں گا، میں مذید زندگی مدینے کے حوالے کروں گا اور وہ انہوں نے نبھایا۔
تو جب بھی میں جاتا تھا ملاقات بھی ہوتی تھی اور انتہائی شفقت بھی فرماتے تھے اور یہ بھی بتاتے تھے کہ میں فلاں نے وقت کی جو نفل پڑھتا ہوں اس میں فلانے روایت میں فلاں سپارے میں ہوں، تہجد میں ہوتا ہوں تو اس وقت فلانے روایت کے اندر میں فلانے سپارے میں ہوں، اوابین پڑھتا ہوں تو میں فلانے روایت کے تحت فلانے سپارے میں ہوں، یعنی مختلف روایات میں وہ مسلسل بیک وقت ختم کر رہے ہوتے تھے۔ تو یہ قرآن کریم کے ساتھ ان کا ایک تعلق اور اللہ کے کلام کے ساتھ جو آدمی جڑ جائے تو اس سے بڑی بات پھر تو اور ہو نہیں سکتی۔ بہرحال دنیا میں جو بھی آیا وہ اپنے تمام تر صلاحیتوں اور اپنی بڑائی کے ساتھ دنیا سے چلا جاتا ہے۔ اس کائنات میں اگر بقا کسی ذات کو حاصل ہے تو اللہ رب العالمین کی ذات ہے ۔بڑے بڑے شخصیات دنیا میں آتی ہے شخصیات کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور انسانی معاشرے کو دو چیزیں چاہیے ایک قیادت اور دوسرا قانون، قانون وہ دائمی بھی ہوتا ہے مسلسل چلتا ہے، شخصیات اور قیادت کسی وقت وہ دنیا سے چلے جاتے ہیں پردہ کر جاتے ہیں۔
ہمارے اکابر نے دین اسلام سے جو کچھ اخذ کیا اور ہمیں پڑھایا انہوں نے، وہ یہی ہے کہ ہم اکابر کے نصب العین کو سامنے رکھیں اور اس ان کے نصب العین کو زندہ رکھے، کہ نصب العین کو بقا حاصل ہے۔ میں تو ایک طالب علم ہوں، میں علماء کرام کے سامنے بھی اس کا ذکر کرتا رہتا ہوں کہ غزوہ احد کے موقع پر جب صورتحال پلٹ گئی، ستر صحابہ کرام شہید ہو گئے، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک شہید ہو گئے، چہرے سے خون آگیا، غار میں پناہ بھی لینی پڑ گئی اور کس کرب سے اس وقت وہ گزرے۔ ایسے وقت میں حضرت ابو سفیان جو اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے اور مشرکینِ مکہ کے کمانڈر تھے نے میدانِ جنگ کے بعد بلند آواز سے پکارا:
أَفِيكُم مُّحَمَّدٌ؟
کیا تم میں محمد ﷺ موجود ہیں؟
صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا:
یا رسول اللہ! کیا ہم جواب دیں؟
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
لَا تُجِيبُوهُ
(اسے جواب نہ دو)
پھر ابو سفیان نے پکارا:
أَفِيكُمُ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ؟
کیا تم میں ابنِ ابی قحافہ (حضرت ابو بکرؓ) ہیں؟
صحابہؓ نے پھر عرض کیا:
یا رسول اللہ! کیا جواب دیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
لَا تُجِيبُوهُ
پھر اس نے پکارا:
أَفِيكُمُ ابْنُ الْخَطَّابِ؟
کیا تم میں ابنِ خطاب (حضرت عمرؓ) ہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
لَا تُجِيبُوهُ
جب ان تین عظیم شخصیات کے بارے میں کوئی جواب نہ ملا تو ابو سفیان نے سمجھا کہ (نعوذ باللہ) یہ سب شہید ہو چکے ہیں، چنانچہ اس نے فتح کا نعرہ لگایا اور کہا:
أُعْلُ هُبَل
ہُبل (بت) بلند ہو گیا!
اس موقع پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
أَلَا تُجِيبُونَهُ؟
کیا تم اسے جواب نہیں دو گے؟
صحابہؓ نے عرض کیا:
یا رسول اللہ! کیا کہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
قُولُوا: اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ
کہو: اللہ سب سے بلند اور سب سے بڑا ہے۔
پھر ابو سفیان نے کہا:
لَنَا الْعُزَّى وَلَا عُزَّى لَكُمْ
ہمارے پاس عُزّیٰ ہے، تمہارے پاس کوئی عُزّیٰ نہیں۔
تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
أَلَا تُجِيبُونَهُ؟
صحابہؓ نے عرض کیا:
یا رسول اللہ! کیا کہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
قُولُوا: اللَّهُ مَوْلَانَا وَلَا مَوْلَى لَكُمْ
کہو: اللہ ہمارا مولیٰ (مددگار) ہے اور تمہارا کوئی مولیٰ نہیں۔
اب ہمیں تھوڑا سا سوچنا پڑتا ہے کہ پہلے تین آوازوں پر جواب نہیں دیا اور آخری دو آوازوں پہ جواب دے دیا اس سے حاصل کیا ہوتا ہے؟ ہم نے سبق کیا لینا ہے اس سے؟ یہ ایک تعلیم ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاموشی بھی بعض مقامات پر حکمت کا تقاضا ہوتا ہے، امت کو تعلیم دے دی، پہلے تین آوازوں پر جواب نہیں دیا اگر دے دیتے تو ہمیں یوں ذہن دے دیا جاتا، ہمیں یوں تعلیم ملتی کہ جیسے ہمارا بقا اور دارومدار ان شخصیات پر ہیں یہ ہیں تو پھر امت ہے ورنہ نہیں، تو اس موقع پر آپ نے خاموشی ظاہر کی تاکہ شخصیات کی اہمیت بھی برقرار رہے اور یہ کہ انہوں نے تو ہمیشہ نہیں رہنا تو امت کی بقا اور دین کی بقا کا دارومدار شخصیات پہ نہیں ہے۔ لیکن جب اس نے عقیدے کا اظہار کیا آپ نے فوراً جواب دیا، تعلیم دی ہمیں اور آپ کو اور امت کو کہ اس عقیدے توحید کے ساتھ امت زندہ رہے گی۔
تو اسی طرح ہمارے اساتذہ ہمارے اکابر جن کا ہم تذکرہ کرتے ہیں تو وہ ہمارے لیے حجت ہوتے ہیں۔ حضرت قاری رحیم بخش صاحب رحمہ اللہ حسین آگاہی والی مسجد میں چھوٹی سی مسجد میں پڑھاتے تھے اور میں نے دیکھا کہ والد صاحب باقاعدہ جاتے تھے مسجد میں ان کے ساتھ محراب میں بیٹھ جاتے تھے، طلباء پڑھ رہے ہوتے تھے، طلباء کی تلاوت کی گونج میں اپس میں حال احوال نہیں ہو سکتا تھا اور دونوں خاموش ایک گھنٹہ بیٹھے رہتے تھے اور قرآن سنتے تھے بچوں کا اور پھر رخصت ہو جاتے۔ تو ان حضرات کے ساتھ جو تعلق میں نے دیکھا، میں نے اس کا مشاہدہ کیا اس تعلق کا ہمیں قدر کرنا چاہیے اور ماشاءاللہ ان کی اولاد میں تحفیظ قرآن، تجوید، جو حضرت نے ان کو منتقل کی، ان میں بھرپور صلاحیت و استعداد اللہ نے دیے اور وہ آج ان کی اولاد میں زندہ ہے اور وہ صلاحیت اللہ نے ان کو عطا کی ہے۔
تو اس قسم کے اجتماعات ہمارے اکابر کے حوالے سے ہونی چاہیے ہم کسی کے عرس تو نہیں مناتے، نہ ہمارے نزدیک کوئی دن متعین ہے، لیکن ایسے اجتماعات میں اگر ہم اپنے اکابر کی تذکرے کریں گے تو یہ تذکرہ بھی عقیدہ کی پختگی کا سبب بنتا ہے اور یہ سند بنتا ہے کیونکہ دین سند کا نام ہے۔ ان لوگوں سے قرآن ہمیں منتقل ہوا ہے، حدیث ہمیں منتقل ہوئی ہے، تو ظاہر ہے کہ اگر ہم ان کے فیوض و برکات سے استفادہ کرنا چاہیں گے تو پھر تعلق جو ادب کا ہے اور احترام کا ہے وہ برقرار رکھنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ ان کے ارواح کو تر و تازہ رکھے۔ ایک دفعہ مجھے فرمانے لگے کہ مولوی فضل رحمان عجیب کام ہوا ہے میرے ساتھ، میں قرآن کی تلاوت کرتا ہوں اور جب میں ایک دن اتفاق سے غار حرا میں گیا تو میں نے چاہا کہ میں یہاں دو رکعت پڑھوں۔ تو میری منزل جو تھی آج کی منزل شروع ہو رہی تھی اقرا سے اور کہا پہلے مجھے علم نہیں تھا لیکن جب میں نے اپنی منزل کو دیکھا اور میں نے کہا کہ دو رکعت پڑھوں گا تو اس میں کون سی سورت میں نے پڑھوں گا تو میرے آغاز اقرا سے ہوا، تو کہتے ہیں بہت میں خوش ہوا کہ جہاں پہلی وحی آئی ہے اور میری منزل بھی آج یہیں سے شروع ہو رہی ہے تو یہ وہ لگاؤ تھا اور اس قسم کے لگاؤ کے بعد ان کی جو نورانی شخصیت، میں تو مدینہ منورہ میں جب بھی جاتا تھا تو زیارت کے لیے حاضر ہوتا تھا اور جب وہ بیمار تھے تو گھر میں جا کر انہوں نے مجھے اجازت دی کہ آپ اندر آجائیں۔ تو آخری ملاقات وہی تھی، اس کے بعد وہ ہم سے جدا ہوگئے اور آج ان کی جدائی کے بعد پہلی مرتبہ اتنے خوبصورت اجتماع میں ان کا ذکر کر رہے ہیں۔
تو یہ تذکرے اپنے اکابر کی جاری رہنی چاہیے اور ان کی خدمات کو زندہ رکھنا چاہیے تاکہ امت کو رغبت ملے اور ان کے نصب العین کے ساتھ لوگ وابستہ ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ اس اجتماع میں شریک ہونے والے تمام شرکاء کو دونوں جہانوں کی خوشیاں نصیب فرمائے۔
وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
ضبط تحریر: #سہیل_سہراب
ممبر ٹیم جےیوآئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
#teamJUIswat

.jpeg)
ایک تبصرہ شائع کریں