قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا لیاری کراچی میں تحفظ مدارس دینیہ کنونشن سے خطاب
21 دسمبر 2025
الحمد للہ رب العالمین، الصلاۃ والسلام علی أشرف الأنبیاء والمرسلین، وعلی آلہ وصحبہ ومن تبعھم باحسان الی یوم الدین۔ اما بعد فاعوذ بااللہ من الشیطن الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ شَهِيدًا، صدق اللّٰہ العظیم
جناب صدر اجتماع، اکابر علماء کرام، فضلائے کرام، طلبائے عزیز، بزرگان محترم، میرے دوستو اور بھائیو! صوبہ سندھ کی جماعت نے کراچی کے مختلف اضلاع کے دینی مدارس کے فضلاء کو اج یہاں جمع کیا ہے اور ان کے سروں پر دستار فضیلت سجانے کے لیے اس اجتماع کا اہتمام کیا گیا ہے میں تمام فضلاء کرام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے اپنے مدارس کے تعلیمی نصاب کو مکمل کیا اور اب انہوں نے عملی زندگی کی طرف جانا ہے۔
میرے محترم دوستو! ایک تاثر پھیلایا جا رہا ہے کہ دینی مدارس میں نوجوانوں کی صلاحیتیں محدود کر دی جاتی ہیں اور وہ ملک اور معاشرے کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کر سکتے۔ مجھ سے قبل علماء کرام نے اس پہلو پر روشنی ڈالی ہے اور ہمیں بھی سوسائٹی کے مختلف لوگوں سے ملنا پڑتا ہے ان کے دل و دماغ میں بھی دینی مدارس کے حوالے سے تحفظات ڈالی گئی ہیں لیکن انہیں یہ نہیں بتایا جا رہا کہ دینی مدرسہ کیوں وجود میں ایا تھا، اس کا پس منظر کیا ہے، 1857 سے پہلے برصغیر میں اس نوعیت کا مدرسہ نہیں تھا اور اج بھی برصغیر سے باہر اس طرح کی دینی جامعات اور مدارس نہیں ہیں۔ تو یہ سوال ان سے پوچھا جائے کہ برصغیر میں اس طرح کا دینی مدرسہ کیوں وجود میں ایا، پوری دنیا میں اس طرح کے مدارس کیوں نہیں ہیں اور پاکستان انڈیا بنگلہ دیش کشمیر میں کیوں ہیں۔ ظاہر ہے کہ انگریز کی نگرانی میں جب علی گڑھ میں مدرسہ کھولا گیا، سکول کھولا گیا، تو انگریز حکمران نے اس کے نصاب میں تبدیلی کی اور ہندوستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ایسا مدرسہ انگریز سرکار کی نگرانی میں وجود میں ایا کہ جس کے نصاب سے قران کے علوم نکال دیے گئے، جس کے نصاب سے حدیث کا عنوان نکال دیا گیا، جس کے نصاب سے فقہ خارج کر دیا گیا اور جس کے نصاب سے فارسی زبان نکال دی گئی کیونکہ فارسی برصغیر کی سرکاری زبان تھی، تاکہ آنے والی نسلیں اتنا تو سمجھ سکیں کہ ہم مسلمان ہیں لیکن اس کو اپنے دین کے بارے میں کچھ بھی علم نہ ہو۔ یہ برصغیر کے علماء تھے جنہوں نے ان علوم کی حفاظت کا بیڑا اٹھایا اور دیوبند قصبے میں مدرسہ کھولا، جن میں ان علوم کی حفاظت کی ذمہ داری لی۔ مدرسے کے قیام کا سبب تم بنے ہو، قران و حدیث کی حفاظت کا مسئلہ تم نے اٹھایا، ہم نے تو رد عمل میں اس کے تحفظ کے لیے مدرسہ قائم کیا ہے۔
سو مدرسے کے بارے میں یہ سوچ جو انگریز کی تھی اس کا تسلسل آج بھی برقرار ہے۔ انگریز کے زمانے کی بیوروکریسی انگریز کے زمانے کی اسٹیبلشمنٹ اور آج کی بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کا دینی مدرسے کے بارے میں سوچ میں تسلسل برقرار ہے۔ جب پاکستان بنا، حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ انہوں نے تو ہجرت کی تھی پاکستان انے کی، دیوبند کو چھوڑا تھا، یہ تو دیوبند کے رہنے والے تھے دارالعلوم دیوبند کو چھوڑ کر پاکستان انے کے لیے ہجرت کی اور یہیں کے رہے۔ جب انہوں نے اپ سے کہا کہ آئیں اب نہ انگریز ہے اور نہ ہندو اور ہم ایک نصاب بنائیں، مشترکہ نصاب، پوری قوم ایک ہی نصاب پڑھے تو تجویز دینی مدرسے کے عالم دین کی تھی اور انکار پاکستان کی بیوروکریسی کا تھا اس وقت بھی، تو قیام پاکستان سے لے کر اج بھی ہماری اسٹیبلشمنٹ اور ہماری بیوروکریسی کی سوچ دینی مدرسے کے بارے میں برابر ایک ہے۔ اس بات کو مد نظر رکھنا چاہیے۔ ہم نے ہمیشہ ایک تعلیم اور ایک نصاب کی بات کی ہے، لیکن تم نے ہمیں مجبور کیا ہے کہ ہم دینی علوم کا تحفظ کریں، ہمیں خطرہ کس سے ہے؟ ہمیں اج انگریز سے خطرہ نہیں ہمیں دینی علوم کے لیے اج ہندو سے خطرہ نہیں، ہمیں اپنے مسلمان سے خطرہ ہے۔ مجھے اپنی بیوروکریسی سے اور اپنی اسٹیبلشمنٹ سے خطرہ ہے۔
اس کا خنجر ہے میری گردن پر
جس محافظ نے ڈھال بن کر مجھے بچانا تھا
میری حفاظت ان کی ذمہ داری، مجھے تحفظ دینے کی تھی اج میرے محافظ نے اپنا خنجر میری گردن پہ رکھا ہوا ہے، اپنا احتساب کرو میرے بارے میں مت سوچا کرو۔
تو میرے محترم دوستو! ہمیں خطرہ اپنوں سے ہے، اپنے حکمرانوں سے ہے، اپنی بیوروکریسی سے ہے، اپنے اسٹیبلشمنٹ سے ہے، اپنے جاگیر دار سے ہے، اپنے صنعت کار سے ہے، اپنے سرمایہ دار سے ہے۔ وہ اج بھی دینی مدرسوں کو بدنیتی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ پاکستان کے حالات تو ٹھیک کرو، پہلے کون سا شعبہ ہے پاکستان کا جو تمہاری 78 سالہ کارکردگی کا گواہی نہیں دے رہا کہ وہ ڈوب چکا ہے اور دنیا میں عالمی رینک پر ہر شعبے میں تم پیچھے ا گئے ہو، تمہارے ملک کا انصاف نیچے گر گیا ہے، تمہاری معیشت نیچے گر گئی ہے، تمہاری انجینئرنگ نیچے گر گئی ہے، تمہارا میڈیکل نیچے گر گیا ہے، ہر شعبے میں تم گرے ہوئے ہو، ایک دینی مدرسہ ہے ایک دینی مدرسے کا عالم ہے جس کی رینکنگ عالمی سطح پر ٹاپ پر ہے۔ دنیا میں اگر میں نے اپ کو ٹاپ رینکنگ پہ رکھا ہوا ہے تو وہ دینی مدرسہ ہے اور یہی اپ کی نظریاتی قوت ہے اس وطن عزیز کی، اگر نظریہ پاکستان کا نام کوئی عنقا نہیں ہے اور ایک زمینی حقیقت ہے تو نظریہ پاکستان کی تعبیر اج دنیا کے سامنے میرے دینی مدرسہ اور اس کا عالم دین ہے۔ تم اپنے ملک کے نظریے کو تباہ کر رہے ہو، اگر میں پاکستان کی دفاع کو طاقتور دیکھنا چاہتا ہوں، اگر میں پاکستان کی فوجی قوت کو دفاعی اعتبار سے طاقتور دیکھنا چاہتا ہوں تو پھر تم پاکستان کی اس نظریاتی قوت کو کیوں کمزور کر رہے ہو؟ تعاون دونوں طرف سے ہوتا ہے، معاونت باہم دیگر مدد کرنا ہوتا ہے، تعاون ایک دوسرے کے ساتھ مدد کرنے کا نام ہے، یک طرفہ چیز نہیں ہوا کرتی۔ لہذا ہمیں میٹھی میٹھی باتوں سے بہکاؤ نہیں، دنیا کا رواج ہے جب وہ دنیا میں خاتمہ کرنا چاہتے ہیں، جب وہ دنیا میں فساد برپا کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے بھی ابتدا میں معصوم جملوں کا سہارا لیا جاتا ہے، معصوم جملوں کا سہارا، دینی مدارس کے ساتھ اپ کے مذاکرات ہوئے، 2004 کے دسمبر تک مذاکرات ہوئے، دینی مدارس کے ساتھ 2005 کے اوائل میں دستخط ہوئے، دینی مدارس کے ساتھ 2010 میں پھر معاہدے ہوئے، اپ کی طرف سے شرائط ائی، دینی مدارس سے وہ قبول کی اس کے باوجود دینی مدارس کے خلاف سازشیں کیوں کر رہے ہو، مانتا ہوں پاکستان میں این ڈی یو ہے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی، ہمیں کوئی اعتراض نہیں، لیکن ہمارے مدارس کے اندر تم نیشنل ڈمی یونیورسٹی بناؤ تو ہم قبول نہیں کریں گے۔ این ڈی یو وہاں بھی ہے ایک یہاں بھی ہے، وہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی ہے یہ نیشنل ڈمی یونیورسٹی ہے۔ لیکن تکلیف ہوتی ہے جب میں ان کا تذکرہ کرتا ہوں،
چھوٹے لوگوں کو بڑا کہنا پڑا ہے اکثر
ایسی تکلیف کئی بار سہی ہے میں نے
تم نے مدارس کو تقسیم کیا، ان کی تنظیموں پر شب خون مارا لیکن مدارس نے اپ کو شکست دے دی ہے اج لاکھوں طلباء صرف وفاق المدارس کے اندر تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ تو پھر ڈمی طور پر کہتے رہے، تو جو بھی کوئی کرے اپنا کام کرے، اپنے کام سے اپ نے غرض رکھنی ہے، دینی مدرسے کے خلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔ ہاں سنجیدہ ہو آو، جو معاہدے ہوئے ہیں اس پر عمل کرو لیکن اگر کوئی دینی مدرسہ اپ کے ہاتھ لگا ہے تو اج تم نے اس کا حشر نشر کر دیا ہے، پشاور کی اسلامیہ کالج یہ دارالعلوم الاسلامیہ کے نام سے قائم ہوا تھا، اج اس میں کوئی دارالعلوم الاسلامیہ کا تصور ہے؟ بہاولپور کا جامعہ عباسیہ جہاں مولانا شمس الحق افغانی رحمہ اللہ تعلیم دیتے تھے، جہاں مولانا مفتی حسن تعلیم دیا کرتے تھے، بریلوی مکتب فکر کے جید علماء کرام وہاں تعلیم دیتے تھے، اج کہاں ہے وہ جامعہ، جب تمہارے ہاتھ لگا تو کیا اس کی وہ حیثیت رہی نام و نشان تک نہیں ہے۔
تو پاکستان کی تاریخ میں جو بھی ادارہ آپ کے ہاتھ لگا ہے اس کی دینی علوم کی حیثیت ختم کر دی گئی ہے۔ تو ہم کیسے آپ پہ اعتبار کریں، سلیقے سے آؤ، سنجیدگی سے آؤ، جو طے ہوا ہے اس پر عمل کرو، بسم اللہ، کیونکہ میں اپنی ایک سوچ رکھتا ہوں اور آپ علماء کرام کے اس اجتماع کے سامنے میں رکھنا چاہتا ہوں کہ علم کی جو تقسیم ہے یہ کس نے پیدا کیا ہے، اللہ رب العزت نے تو مطلقاً فرمایا ہے! وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا، حضرت ادم کو سب چیزوں کا علم دیا گیا اور جب حضرت ادم کو سب چیزوں کا علم دیا گیا تو اس کا معنی یہ ہوا کہ بنی آدم کے اندر ہر چیز کا علم حاصل کرنے کی صلاحیت اور استعداد پیدا کر دی گئی۔ چنانچہ آج کی دنیا کی نئی ایجادات، نئے انکشافات، سائنسی ترقی، یہ سب کچھ اسی وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا کا مظہر ہے، البتہ تمام علوم کے اندر کچھ امتیازات کی طرف اللہ نے اشارے کیے ہیں الرحمن علم القران، اب قرآن ان کے علوم کو حاصل کرنا جو منبع ہے کائنات کے تمام علوم کا، تمام نظام ہائے حکومت، شریعت، سیاست سارے علوم کا مجموعہ قرآن کریم ہے، سائنسی علوم کا خزینہ قران کریم ہے، انبیاء کرام کو یہ علوم دیے گئے اور ان علوم کے کامیاب مظاہرے انبیاء کرام کے ہاتھوں سے ظاہر ہوئے۔ ہم تو علم کی تقسیم کے قائل ہی نہیں ہیں لیکن اگر آپ پر اعتماد کریں اور اپ کے حوالے کریں تو نہ قران رہے گا، نہ حدیث رہے گی، نہ فقہ رہے گا نہ دین رہے گا۔
آج بھی حکمرانوں کے زیر سایہ اور بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کی خواہش کے مطابق ایسے ایسے سکالر آئے دن میڈیا پر ان کا پرچار ہوتا ہے کہ وہ شریعت کی وہ تعبیر کریں جو مغرب کے لیے قابل قبول ہو، کرتے رہیں، مدارس کے مقابلے میں وہ ناکام، عام مسلمان اس کی تشریحات کو قبول نہیں کر رہا، بٹھا لو اپنے سامنے دس، پندرہ، بیس آدمیوں کو، کہ میں کوئی نیا فلسفہ دے رہا ہوں، شریعت کی کوئی نئی تعبیر اور نئے تعارف کروا رہا ہوں جو پچھلے لوگوں کو معلوم نہیں تھی اور آج ان پر انکشافات ہو رہے ہیں۔ لیکن بہرحال اعتماد مدارس پر ہے اور پھر میرے مدرسے کا طالب علم وہ کالج میں پڑھتا ہے، وہ بورڈ کا امتحان دیتا ہے تم بتاؤ تمہارے کالجز اور یونیورسٹیوں میں پڑھے ہوئے لوگ وہ کتنے ہیں دینی مدارس میں پڑھنے والے، تقابلی جائزہ تو لے لو اور جس شرح کے ساتھ میرے مدرسے کا طالب علم بورڈ کا امتحان دیتا ہے، کالج اور یونیورسٹی کا امتحان دیتا ہے تو پھر اس نے صرف امتحان نہیں دیا، اس نے اس ٹیلنٹ کو دنیا میں متعارف کرایا ہے کہ تین سال مسلسل میرے مدرسے کی طالب علم نے اپ کے بورڈ کو ٹاپ کیا ہے۔ ذہانت میں بھی ہم آپ سے زیادہ ہیں۔
لہذا یہ مسئلہ اس طرح نہیں ہے کہ اپ جیسے چاہیں وہ ہو جائے گا۔ چھبیسویں ترمیم کے ساتھ متصل ایک قانون پاس کیا گیا، اب میں اپ یہ بات بتا دوں کہ اس قانون کا مسودہ ہم نے تیار نہیں کیا تھا، اس کا مسودہ حکومت نے تیار کیا تھا ہم نے قبول کیا تھا۔ اسمبلی میں ہم نے پیش نہیں کیا تھا حکومت نے پیش کیا تھا اور چونکہ ہمارے ساتھ مشاورت کے ساتھ تھا ہم نے ووٹ دیا، اتفاق رائے ہو گیا۔ بعد میں ہمارے کچھ بھائیوں نے شور مچایا کہ ہماری تنظیمیں رہ گئی ہیں ہماری تنظیمیں رہ گئی ہیں اور ایسا گلہ کیا جیسے کہ ان کو اس ڈرافٹ سے ہم نے نکالا ہو، تو حکومت والوں نے کہا جی یہ تو ساتھی یہ شور مچا رہے ہیں اپ کے، کہ ہماری تنظیموں کا اس میں کوئی ذکر ہی نہیں ہے۔ میں نے کہا بھائی ڈرافٹ آپ نے بنایا ہے، اسمبلی میں بھی آپ نے پیش کیا ہے، اس میں ہمارا کیا قصور ہے۔ تو انہوں نے کہا جی ان کا بھی کوئی ذکر ہو جائے، کوئی مدرسہ اگر وہاں پر رجسٹر ہونا چاہے تو آپ کو کیا اعتراض ہونا چاہیے، ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ اب قانون بنا ہے 1860 کی سوسائٹی ایکٹ کا، ہمارے تنظیمات اتحاد مدارس کو مدنظر رکھتے ہوئے اور بعد میں پاس ہونے کے بعد جب ان کی شکایت آئی تو ان کو ضمنا شامل کیا گیا، اب جن تنظیموں کو ضمنا شامل کیا گیا ہمارا ڈپٹی کمشنر اور ہماری بیوروکریسی علماء کرام اور مہتمم کے ہاتھ مروڑ کر کہتی ہے نہیں ادھر رجسٹریشن کرواؤ، میرا عالم دین فائل لے کے آپ کے پاس ا رہا ہے وہ مہتمم ہے وہ اپ سے کہہ رہا ہے کہ مجھے رجسٹریشن چاہیے 1860 کی سوسائٹی ایکٹ کے تحت چاہیے، ہم نے قبول کیا ہے اس کو، اپ ہوتے کون ہیں اس کو یہ کہنے والے کہ نہیں وہاں رجسٹریشن کراو وزارت تعلیم کے تحت، اپ ہوتے کون ہیں۔ یہاں سے دینی علوم کی دشمنی تمہارے اندر سے اگلتی ہے، تمہاری بدنیتی یہاں سے ظاہر ہو رہی ہے، حکمران ہو تم حکومت ہو اپنے اندر کم از کم اتنی استعداد تو پیدا کرو کہ کوئی اپ پر اعتماد کر سکے۔ دنیا بھر میں سب سے ناقابل اعتماد اگر دنیا میں کوئی رہ گیا ہے تو وہ ہماری بیوروکریسی اور ہماری اسٹیبلیشمنٹ رہ گئی ہے۔ ہماری فوج کہتی ہے ہمیں سیاست میں نہ گھسیٹا کرو، بابا ہم اپ سے ہاتھ جوڑ کر کہتے ہیں اپنے علاقے میں چلے جاؤ واپس، ہم تو سیاست میں اپ کے انے کے خلاف ہیں، اپ کی مداخلت کے خلاف ہیں، کیوں ہم اپ کو گھسیٹیں گے، ہم اپ کو اپنے محفوظ علاقوں واپس جانے کے لیے تجویز دے رہے ہیں، سیاست میں ہم اپ کو گھسیٹیں توبہ توبہ، ہم کیوں اپ کو گھسیٹیں گے، کیا ہو گیا ہمیں، ہم سے شکایت کرنے کی بجائے ذرا اپنے گریبان میں تو جھانک لیجئے۔ امریکہ پاکستان کے تقاضے پورے نہیں کر سکتا، اپ اپنے موقف پہ رہیں اپ اپنی بات کریں ہم اپ کے پشت پر ہوں گے نا، لیکن یہ اچھی بات نہیں ہے کہ دوسری دنیا کے ساتھ ہزار معاملات پر اپ کے تعلقات خراب ہوں لیکن دوستی رکھنے کے لیے صرف مدرسہ دشمنی اس کو استعمال کرنا پڑے گا۔ میرے مدرسے کے دشمنی کے نام پر اپنے سروں پر ٹوپیاں نہ سجایا کرو۔ ہم آپ سے کوئی جنگ نہیں لڑنا چاہتے، آپ سیاست میں آتے ہیں پھر کہتے ہیں ہمیں سیاست میں گھسیٹتے کیوں ہو، بابا ہم آپ سے کہہ رہے ہیں سیاست میں آتے کیوں ہو، زبان سے بات نہیں بنتی، عمل اور کردار سے ایک تاثر بنتا ہے اگر آپ نے اس تاثر کو توڑنا ہے تو اپنے کردار اور عمل کو تبدیل کرنا ہوگا۔ اس میں انقلابی تبدیلی لانی ہوگی، خیر خیریت ہو جائے گی۔ آپ ہماری فوج، آپ ہماری اسٹیبلشمنٹ، آپ ہمارے بیوروکریسی، سر آنکھوں پر، یہ پاکستان کے ناگزیر ادارے ہیں لیکن وہ انصاف کے لیے ہے، وہ حقدار کو حق دینے کے لیے ہے حقدار سے حق چھیننے کے لیے، تمام علماء کرام، تمام مکاتب فکر، جمیعت علماء اسلام، وفاق المدارس العربیہ یہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان میں ایک پرامن نظام ہونا چاہیے۔ کوئی پارٹی اپنے منشور کے لیے جدوجہد کرتی ہے تو پرامن جدوجہد، عدم تشدد کا فلسفہ حضرت شیخ الہند نے دیا تھا، اج ہم ہی ہیں کہ جو اپنے حضرت شیخ الہند کے فلسفے کا انکار کر رہے ہیں۔ اج ہم ہی ہیں کہ حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی، حضرت مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ اور اس کے بعد کے سارا سلسلہ جو پاکستان کے جمہوری نظام سے یا اس سے قبل ہندوستان کے جمہوری نظام سے وابستہ تھا ان پر فتوے صادر کر رہے ہیں ہم لوگ، یاد رکھیں آج آپ نے جو پگڑی پہنی ہے اور جو لباس میں اپ بیٹھے ہیں اس کو بھی سند چاہیے، بغیر سند کے اپ اگے نہیں بڑھ سکتے، سیاست بھی اس میں ہماری ایک سند ہے جس طرح شریعت میں سند ہے اسی طریقے سے سیاست میں بھی سند ہے، اسی طریقے سے طریقت میں بھی سند ہے، یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ حدیث کے حوالے سے تو کہیں کہ یہ میری سند اور بالکل سلسلتہ الذہب اور بڑی ثقہ قسم کی میری روایت ہے اور اس بنیاد پر میں قران و حدیث پیش کر رہا ہوں، لیکن سیاسی حوالے سے میرے اکابر غلط تھے، سیاست شریعت نہیں ہے، سیاست کو اپ نے اسلام کے دائرے سے نکال دیا ہے اور اپنے جہالت کو جہاد کہہ کر ہم پہ مسلط بھی کرتے ہو، سیاست انبیاء کا وظیفہ ہے، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا!
كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ، كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ، وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي، وَسَتَكُونُ خُلَفَاءُ فَتَكْثُرُ. بنی اسرائیل کی سیاست تو انبیاء کیا کرتے تھے، تو کیا معنی ہوا، یعنی بنی اسرائیل کی ملی اور قومی اور مملکتی زندگی کا تدبیر و انتظام انبیاء کرام کیا کرتے تھے۔ سیاست: کسی چیز کا اس طرح وجود پذیر ہونا جو اصلاح کا ذریعہ بنے اور ہمارے اکابر نے سیاست کو فروغ دیا ہے جس طرح کے اللہ رب العزت نے فرمایا آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور میں نے تمہارے لیے دین کو بطور نظام حیات کو پسند کر لیا۔ اب ہمارے حضرات، ہمارے اکابر ہیں، ہمارے اساتذہ ہیں جو اس کی تعبیر کرتے ہیں کہ اکمال دین با اعتبار احکامات و تعلیمات کے ہیں، احکامات اور تعلیمات کے اعتبار سے دین مکمل ہے اور اتمام نعمت اس کامل اور مکمل دین کے اقتدار کا نام ہے کوئی چیز جب مطلق ذکر ہوتی ہو تو خارج میں اس کا فرد کامل مراد ہوتا ہے تو نعمت کا فرد کامل وہ اس دین کامل کے حاکمیت ہے، اس کا اقتدار ہے اور دین اسلام کو بطور نظام حیات کے اللہ نے پسند کیا ہے چنانچہ حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص جب ان کے والد حضرت یعقوب علیہ السلام کے پاس لائی گئی اور آپ نے چہرے پر ڈالی اور آپ بینا ہوئے تو پوچھا کہ یوسف کو کہاں چھوڑ آئے ہو؟ تو اس نے جواب میں کہا؛ وہ تو مصر کا بادشاہ ہے، مصر کے بادشاہ کے طور پر چھوڑ کے آئے ہیں، پھر پوچھا کس دین پہ چھوڑ آئے ہو، تو جواب دیا میں نے اسلام کو نافذ کرتے ہوئے دین اسلام پر ان کو چھوڑا ہے، تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا اب نعمت تمام ہوگئی مکمل ہوگئی۔
یہ علوم آپ کے اور ہمارے نہیں تو کس کے ہیں؟ ہم نے سیاست ان کے حوالے کر دی کہ جن سے اگر پوچھا جائے کہ سیاست کس زبان کا لفظ ہے تو یہ بھی پتہ نہ ہو کہ سیاست کون سی زبان کا لفظ ہے، کیا یہاں پر ہم انبیاء کے وارث نہیں ہیں، إِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ، إِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا، وَإِنَّمَا وَرَّثُوا الْعِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ. اس علم میں اگر شریعت بھی ہے اور طریقت بھی ہے تو پھر سیاست بھی ہے، باہم متلازم ہیں، ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے۔
تو ہمیں اپنے اکابرین کے طرز عمل کو اپنانا ہوگا اور یاد رکھو ہمارے اکابرین نے ہمیں کیا دیا ہے ایک نظریہ اور عقیدہ دیا اور ایک اس نظریے اور عقیدہ کے لیے کام کرنے کا منہج دیا ہے
اس اعتبار سے جمیعت علماء کو سمجھو، اس اعتبار سے وفاق المدارس کو سمجھو، مدارس کی تاریخ کو سمجھو، مدارس کے وجود کو سمجھو، اس کی ضرورت کو سمجھو۔ یہی چیز ہے اج کی اس اجتماع کا موضوع ہے اور میں نے جو اپنی گفتگو کی یقیناً میں شاید اپنی کم علمی کی وجہ سے اس کا حق ادا نہیں کر سکوں گا، لیکن آنکھیں بند کر کے جو اجازت اپ کو حدیث کی ملی ہے اور میں بھی دیتا ہوں صرف اس شرط پر کہ اپنے اکابر ان پر اپ نے آنکھیں بند کر کے اعتماد کرنا ہے، ان کی تشریحات کی پیروی میں حدیث پڑھانی ہے تب اجازت ہے اپ سب کو اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے۔
وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
ضبط تحریر: #سہیل_سہراب
ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
#teamJUIswat

.jpeg)
ایک تبصرہ شائع کریں