قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کی چکوال میں مقامی میڈیا کے نمائندوں سے اہم گفتگو
18 دسمبر 2025
سوال و جواب
صحافی: حضرت یہ پہلے چھبیسویں ترمیم، پھر ستائیسویں اور اب ہم اٹھائیس ویں ترمیم کا بھی ہم سن رہے ہیں، تو یہ کیا ہے، یہ کہاں تک رکے گا؟
مولانا صاحب: دیکھیں، اتنی تیزی کے ساتھ آئین میں ترامیم کا رجحان ہے، وہ آئین کی اہمیت کو ختم کرتا ہے، حالانکہ آئین ایک میثاقِ ملی ہے۔ 26 ویں ترمیم میں کم از کم ایک ماہ یا ایک ہفتے تک بات چیت چلتی رہی، اور مفاہمت کے ساتھ اسے اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ لیکن 27 ویں ترمیم میں انہوں نے جبری طور پر اپنی دو تہائی اکثریت بنائی اور اس طاقت کے زور پر اسے پاس کرایا، جس سے آئین متنازع ہو جائے گا، کیونکہ اسے لوگ تسلیم نہیں کریں گے۔
پھر انہوں نے جو قانون سازیاں کی ہیں، مثلاً 18 سال سے کم عمر کی شادی کے حوالے سے، گھریلو تشدد کے حوالے سے، یا جنس کی تبدیلی کے حوالے سے، یہ سب قرآن و سنت کے خلاف ہیں۔ قانون سازی کے دوران جو نوٹ پیچھے دیا گیا ہے، وہ اقوامِ متحدہ کے منشور اور ان کے اہداف کی پیروی پر مبنی ہے۔ ہم نے اس آئین کا حلف اٹھایا ہوا ہے، جس میں قرآن و سنت کے مطابق قانون سازی کا حلف شامل ہے۔ اس طرح کی غیر اسلامی قانون سازی پر ہم نے 22 دسمبر کو کراچی میں تمام دینی جماعتوں، مختلف مکاتبِ فکر اور مدارس کی ایک آل پارٹیز کانفرنس بلائی ہے، جس میں اس حوالے سے ایک حتمی رائے قائم کی جائے گی۔
صحافی: اچھا مولانا صاحب! پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت کی جانب سے دو روز قبل ایک بیان آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ہماری خواہش ہے کہ اداروں اور حکومت سے بات چیت کے لیے جو مذاکراتی کمیٹی بنے، اس کی سربراہی مولانا فضل الرحمٰن کریں۔ کیا اس حوالے سے پی ٹی آئی نے آپ سے باضابطہ کوئی رابطہ کیا ہے؟
مولانا صاحب: بیان ہی تو دیا ہے، لیکن میرے ساتھ اس حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی۔
صحافی: اچھا سر سپریم کورٹ نے بھی اج فیصلہ دیا ہے زنا بالجبر کا کیس تھا، بیس سال کی سزا تھی اور اس کو کنورٹ کرکے زنا بالرضا کرکے اور پانچ سال کر دی، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ۔۔۔۔
مولانا صاحب: زنا بالرضا اور زنا بالجبر کے درمیان فرق مشرف کے زمانے میں ہوا تھا، یہ فرق قرآن و سنت کے منافی تھا، اب مشکل یہ اگر زنا کا مسئلہ ہو تو وہاں سہولتیں مہیا کی جا رہی ہیں، اور اگر جائز نکاح کا مسئلہ ہو تو اس میں مشکلات اور رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔ یہ حکمران خود اپنے اسلامی جمہوریہ ہونے کی نفی کر رہے ہیں، کیونکہ اسلامی تصور یہ ہے کہ قانون سازی قرآن و سنت کے مطابق ہو۔ یہ چیزیں ان کے مینڈیٹ کو تباہ کر رہی ہیں۔ تو ہمارا خیال ہے کہ نمبر ایک ان کو مینڈیٹ ہی حاصل نہیں ہے، یہ جعلی مینڈیٹ کے ساتھ حکومت کر رہے ہیں۔
نمبر دو: جعلی مینڈیٹ کے باوجود حکومت صرف مسلم لیگ کی ہے، پیپلز پارٹی محض سہارا ہے، یعنی ایک اقلیت ملک پر حکومت کر رہی ہے۔ یعنی جعلی اکثریت نہیں، جعلی اقلیت اور تیسری بات یہ ہے کہ وہ جب یہ آئین کے خلاف قانون سازی کریں گے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ آئین کی مخالفت کے مرتکب ہو رہے ہیں، جس کے بعد ان کا مینڈیٹ خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔ اسی لیے ہم باہمی مشاورت سے ایک متفقہ موقف سامنے لانا چاہتے ہیں۔
صحافی: اچھا مولانا صاحب 28 ویں ترمیم میں نئے صوبوں کی باز گشت سنائی دے رہی ہے۔ اگر اس پر بات چیت ہوتی ہے تو جمعیت علمائے اسلام کا کیا موقف ہوگا؟
مولانا صاحب: دیکھیے! اصولی طور پر بات چیت اور چیز ہے، لیکن عملی طور پر کیا یہ ممکن ہوگا؟ فاٹا کو صوبے میں ضم کیا گیا، ہم نے اس کی مخالفت دلیل کی بنیاد پر کی اور اس کے انجام اور نقصانات سے آگاہ کیا، لیکن اسٹیبلشمنٹ خود کو عقلِ کل سمجھتی ہے۔ آج وہی عقلِ کل کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ یہ بھی غلط ہوا تھا اور رہے سہے کو صوبے ہیں ان کو بھی تقسیم کر دو، اب رہے سہے صوبوں کو تقسیم کرنے کے لیے کیا زمینی ماحول تیار ہے کی بات ہو رہی ہے، یا کل پھر ہم روئیں گے کہ ہم نے تو ملک توڑ دیا۔
لہذا اس حوالے سے سب چیزوں کو ابتدا سے نہیں سوچنا چاہیے، یہ اچھی سوچ ہوتی ہے، اس کا آغاز بھی وہ اچھی نیت سے کرتے ہیں، لیکن جس کو تدبیر اور تدبر کہتے ہیں اس کا معنی یہ ہے کہ معاملات کے انجام پر نظر رکھنا۔ تدبیر اور تدبر کا مادہ د ب ر ہے، معاملات کے انجام پر رکھنا، تو یہ لوگ بات تو کر لیتے ہیں، کرنے کے بعد کہتے ہیں ہم طاقتور ہیں، تو جو ہم سوچیں گے وہی ہوگا، تو پھر طاقت کے ذریعے وہ کر بھی لیتے ہیں، تو طاقت کے زور پر فاٹا کا انضمام کیا گیا، آج وہاں حالات قابو میں نہیں، مسلح گروہ علاقے پر قابض ہیں، ریاستی رِٹ ختم ہو چکی ہے، اور اب لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ علاقے خالی کریں۔ لوگ پہلے بھی علاقے خالی کر چکے ہیں، تو کون سا تیر مارا انہوں نے ؟ اب جب یہ ایکشن لیتے ہیں تو مسلح افراد اور زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔
اس کا معنی یہ ہے کہ پالیسی میں کہیں جھول ہے، پالیسی میں کہیں خلا ہے، پالیسیوں میں کہیں غلطی ہے، میں دعوے سے کہتا ہوں کہ 78 سالوں میں نہ پاکستان کی افغان پالیسی درست رہی، اور نہ ہی پچھلے 30–40 سالوں کی دہشت گردی کے خلاف پالیسی کوئی نتیجہ خیز ثابت ہوئی۔ لہذا طاقتور قوتوں کو سوچنا چاہیے کہ سیاستدان معاملات طے کرتے ہیں، طاقت کا استعمال سیاست کے تابع ہونا چاہیے۔ ہماری فوج ایک مضبوط اور اچھی طاقت ہے، لیکن اسے خود کو عقلِ کل نہیں سمجھنا چاہیے۔
صحافی: حضرت یہ جو پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات خراب ہو ہیں، آپ کیا سمجھتے ہیں کہ پاکستان کس طرف جائے گا؟
مولانا صاحب: میرے خیال میں ہمیں اجتماعی رائے قائم کرنی چاہیے، اور 22 تاریخ کو تمام مکاتبِ فکر کے علماء مل کر اس حوالے سے ایک اجماعی رائے قائم کریں گے۔
صحافی: مولانا صاحب بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں نہیں ہونے دی جا رہیں، کیا جمہوری ملک کے اندر ایک جمہوری پارٹی کے سربراہ سے ملاقاتوں کا نہ ہونے دینا، اس معاملے کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہے؟
مولانا صاحب: دیکھیے بات یہ ہے کہ میں تو یہ بھی کہوں گا کہ وہ کیوں گرفتار ہے، میں تو یہ بھی کہوں گا کہ ان کے ساتھ ملاقات کیوں نہیں ہونے دی جا رہی، نہ میں سیاستدانوں کی گرفتاری کے حق میں ہوں، اور نہ ہی ملاقاتوں پر پابندی کے حق میں ہوں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ حکومت کس کی ہے اور اصل فیصلے کون کر رہا ہے؟ تو ان کی پالیسیاں ہیں، ان کی سوچ ہے، ان کے فیصلے ہیں اس کے تحت ہم سب زندگی گزار رہے ہیں۔
صحافی: کچھ دنوں پہلے سر اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں علماء کرام کو اکٹھا کیا گیا، اس پہ سر آپ کیا تبصرہ کریں گے؟
مولانا صاحب: میرے خیال میں آرمی چیف نے جو نیا اسٹیٹس لیا ہے اور مستقبل کی سمت کا آغاز کیا ہے، اس میں علماء سے ملاقات کرکے آغاز کیا ہے، تو اس پر اچھا گمان رکھنا چاہیے۔
ضبط تحریر: #سہیل_سہراب
ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
#teamJUIswat

.jpeg)
ایک تبصرہ شائع کریں