قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب مدظلہ کی گورنر ہاؤس کراچی میں میڈیا سے گفتگو
22 دسمبر 2025
بسم اللہ الرحمن الرحیم، صلی اللہ علی النبی الکریم وعلیٰ آلہ وصحبہ وبارک وسلم۔
جنابِ گورنر صاحب! آپ کا اور آپ کی پوری ٹیم کا شکر گزار ہوں۔ آپ نے دعوت دی اور ہمیں عزت سے نوازا، جس کی میں دل کی گہرائیوں سے قدر کرتا ہوں۔ اسلام آباد میں آپ ایک سے زیادہ مرتبہ تشریف لائے ہیں اور ہم وضع دار لوگ ہیں، روایات کے لوگ ہیں، تو آپ نے دعوت دی، تو ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ یہ ہمارے سوسائٹی کا ایک حسن ہے۔ ہم سیاسی رائے جو بھی رکھیں، لیکن ایک دوسرے کو عزت دینا یہ ہماری روایات کا حصہ ہے، جس کو بچانے کے لیے آج کل بڑی جدوجہد کر رہے ہیں۔ میں اس بات پر بھی ان کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اعزازی ڈگری مجھے دی، لیکن اس کے باوجود میں مولوی صاحب ہی کہلانا پسند کروں گا۔ اور ہرچند کے ایک اعزاز ہے، لیکن میں ان کا شکر گزار بھی ہوں۔
اور ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اللہ کے نزدیک علم منقسم نہیں، ایک ہی علم ہے، اور وہی علم بنی آدمؑ کی طرف منتقل ہو رہا ہے، اور درجہ بدرجہ اس میں ارتقا آتا ہے۔ ہرچند مسلمانوں کے لیے ایک خصوصی علم اللہ نے متعین کیا ہے جو تمام علوم کا منبع ہے: الرحمٰن، علّم القرآن۔ اس پر صرف مومنین اور مسلمان ہی ایمان لاتے ہیں، اور وہ بھی تمام کرۂ ارض کے سارے علوم کا احاطہ کرتا ہے۔ وہ تقسیم کا تقاضا نہیں کرتا۔
تو اس اعتبار سے اگر برصغیر میں دینی مدارس موجود ہیں تو اس نوعیت کا دینی مدرسہ 1857ء سے پہلے تو نہیں تھا، تو پھر کیوں وجود میں آیا؟ آج بھی برصغیر سے باہر تو نہیں ہے، تو پھر صرف برصغیر میں کیوں ہے؟ ظاہر ہے کہ اس کے کوئی اسباب ہوں گے۔ اس میں کوئی ردِعمل ہوگا۔ جب قرآن، حدیث، فقہ اور ان علوم کو نصاب سے خارج کیا جائے گا تو امتِ مسلمہ کی رہنمائی کے لیے علمائے کرام نے ایک کردار ادا کیا ہے۔ اور میں آج بھی سمجھتا ہوں کہ حکومت اگر اس بارے میں سنجیدہ ہو کہ ایک مشترکہ نصاب تشکیل دیا جائے تو اس پر بات ہو سکتی ہے، لیکن دینی علوم اور مدارس کے خاتمے کا جو رویہ ہے یہ قابلِ قبول نہیں ہے، اور یہ مغرب کا ایجنڈا ہے۔ اور اس مغرب کے ایجنڈے کو اپنا ایجنڈا کہہ دینا میرے نزدیک کہیں بھی جائز بات نہیں ہے۔
جہاں تک بات ہے افغانستان کی، افغانستان کو آج کے تناظر میں نہ دیکھا جائے کہ بس آج ایک مسئلہ ہو گیا ہے، کچھ لوگ آتے ہیں، یہاں پر کارروائیاں کر جاتے ہیں۔ ہم سب ایک ہی پیج پر ہیں اس حوالے سے، ہم ڈسکس کریں اٹھہتر سال کی افغان پالیسی کو دیکھیں کہ کبھی بھی افغانستان پاکستان دوست نہیں رہا ہے، کیا اس میں ہماری اپنی افغان پالیسی کا فیلیر تو نہیں ہے؟ ہم بار بار اپنی پالیسیوں پر بھی تو غور کریں۔ بادشاہ ظاہر شاہ سے لے کر اشرف غنی تک کوئی بھی پاکستان دوست حکومت ہمیں نہیں ملی۔ اور اس کی وجہ کیا ہے؟ ہاں، اپنے ملک پر ہم اپنا بیانیہ تیار کریں گے تو الزام انہی پر ڈالیں گے، لیکن ایک لمحے کے لیے ہمیں اپنی گریبان میں بھی جھانکنا چاہیے کہ کہیں ہماری اپنی افغان پالیسی کا فیلیر تو نہیں ہے۔ اس پر بھی ہمیں ڈیبیٹ کرنا چاہیے، اس پر بھی بات چیت ہونی چاہیے۔
اور پھر جب ہم ایک اسلامی جمہوریہ میں رہتے ہیں اور ہم نے حلف اٹھایا ہے آئینِ پاکستان کا، اور آئینِ پاکستان کہتا ہے کہ قانون سازی قرآن و سنت کے تابع ہوگی، اور قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون سازی نہیں ہوگی، تو کیا ہم نے جو ابھی 27ویں ترمیم کے ساتھ کچھ قانون سازیاں کی ہیں، چاہے وہ 18 سال سے کم عمر کی شادی کے بارے میں ہوں، چاہے وہ ٹرانس جینڈر کے بارے میں ہوں، اور چاہے وہ گھریلو تشدد کے حوالے سے قانون کی تجویز ہو، کیا ہم نے کبھی یہ دیکھا ہے کہ ہم نے کس طرح قرآن و سنت کو پسِ پشت پھینک کر صرف اقوامِ متحدہ کے منشور کی پیروی میں قانون سازی کی ہے؟ ہم نے حلف کسی اور چیز کا اٹھایا ہے، ہم پیروی کسی اور چیز کی کر رہے ہیں۔
یہ سارے وہ معاملات ہیں جن پر ہم بات چیت کرتے ہیں، لیکن یک طرفہ طور پر جب آپ ایک ادارے کے خلاف ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں کہ اس کو اپنے تحفظ کی فکر پڑ جائے، سو دینی مدارس بھی ایک ادارہ ہیں۔ جچا تلا ادارہ ہے، ہمارا امتحانی نظام پاکستان کے تمام بورڈز سے بہتر ہے، ہمارا ٹیلنٹ سب سے آگے ہے۔ آپ دنیا کی رینکنگ میں جائیں، آپ ہر شعبے میں دنیا کے پتہ نہیں کس کونے میں پڑے ہوئے ہیں۔ عدلیہ آپ کی کہاں پڑی ہے؟ تجارت کہاں پڑی ہے؟ معیشت کہاں پڑی ہے؟ سب چیزوں میں آپ رینکنگ کے حوالے سے بہت نیچے ہیں۔ اگر ٹاپ رینکنگ پر ہیں تو اپ صرف دینی علوم کے حوالے سے ہیں، تو اس کی قدر کرنی چاہیے۔
ہاں، آج دفاعی حوالے سے پاکستان کی پوزیشن بہتر ہوئی ہے، اور ہمیں اس حوالے سے اسے برقرار رکھنا چاہیے۔ ہم پاکستان کے طاقتور دفاع کا خیر مقدم کرتے ہیں، لیکن دفاعی قوت کو دفاعی لحاظ سے مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں۔ دفاعی قوت کو سیاسی لحاظ سے مضبوط کرنا عوام کا حق ہے سیاستدانوں کا حق ہے۔
تو اس حوالے سے ہمیں سیاسی اداروں کو مضبوط کرنا چاہیے۔ تمام ادارے مضبوط ہوں گے تو ہم ایک قوم کی طرح آگے بڑھ سکیں گے۔ ایک دوسرے کی بالادستی کے بجائے ہمیں آئین کی بالادستی کی طرف جانا چاہیے، ہمیں پارلیمنٹ کی سپریمیسی کی طرف جانا چاہیے، ہمیں عوام کے حقِ اقتدار کی طرف جانا چاہیے، اور ان کے ووٹ کے حق اور اس کے تقدس کو تسلیم کرنا چاہیے۔ یہ وہ چند بنیادی چیزیں ہیں جس پر میرے خیال میں اصولی طور پر کوئی اختلاف نہیں ہے، لیکن عملی طور پر ہم اس پوزیشن میں آ جائیں ہم اس کا خیر مقدم کرنے کے لیے تیار ہیں۔
سوال و جواب
صحافی: کامران خان ٹیسوری صاحب یا فیصل واپڈا، ان کا اپنا ایک خاص پس منظر ہے موجودہ سیاسی منظرنامے میں، آپ اس وقت مزاحمت کی بات کر رہے ہیں اور موجودہ نظام کے مخالف ہیں، موجودہ نظام سے دو بڑے بینیفیشر ہیں، تو کس طرح آپ اپنی بات منوانا چاہتے ہیں، آپ مزاحمت چاہتے ہیں یا مفاہمت چاہتے ہیں؟
مولانا صاحب: انہوں نے اپنی بات کہی، میں نے بھی اپنی بات کہہ دی۔ اب مذید آپ نے بال کی کھال اتارنے ہے۔
صحافی: ۔۔۔۔۔۔
مولانا صاحب: دیکھیے دنیا بھر میں مکالمے ہوتے رہتے ہیں۔ میرے خیال میں ایک کلپ آیا ہے، اب ساری دنیا ایک کلپ کے گرد گھوم رہی ہے۔ تو ایک شاعر کا اچھا شاعر ہونا اس کی اپنی حیثیت ہے۔ میں فیض احمد فیض کا بھی مداح ہوں، میں احمد فراز کا بھی بطورِ فن شعر کے مداح ہوں، لیکن ان کے خیالات سے اتفاق نہیں ہے۔ اور اس طرح کے مکالمے اگر دنیا میں چلیں گے تو نئی نسل کو آگاہی ہوگی، اس کو شعور ہوگا۔
صحافی: اچھا مولانا صاحب خبر آئی ہے کہ پاک افواج کو غزہ بھیجا جائے گا، تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ پاک افواج کو بھیجا جائے یا نہیں ؟
مولانا صاحب: ہمیں ایک تلخ تجربہ ہے جو بریگیڈیئر ضیاء الحق گئے تھے اور اردن میں انہوں نے فلسطینیوں کے خلاف کاروائی کی تھی آج بھی فلسطینیوں کو وہ بھولا نہیں ہے، ہم ایک زمانے میں اس امتحان سے گزرے کہ عراق فوجیں بھیجیں جائے یا نہیں، اب یہ پیس کیفنگ فورسز، یہ فیس کیفنگ نہیں ہوتے یہ وار کیفنگ فورسز ہوتی ہیں، جس پر نام معصوم رکھا جاتا ہے، پاکستان قطعاً یہ غلطی نہ کرے کرنی چاہیے کہ وہ بین الاقوامی اس فورس کا حصہ بنے جہاں ایک بار پھر فلسطینیوں کو ہم اپنی بندوق کا نشانہ بنائیں۔ ایسی صورتِ حال سے پاکستان کو گریز کرنا چاہیے، اور عالمی سطح پر ہمیں متنازع نہیں بننا چاہیے۔
صحافی: مولانا صاحب آپ نے ابھی پاکستان اور افغانستان کے اٹھہتر سالہ تعلقات پہ بات کی، آپ اس کو کس نظر سے دیکھتے ہیں، پچاس سال ہم نے ان کی مہمان نوازی کی، خدمت کی، اس کو کس نظر سے دیکھتے ہیں ؟
مولانا صاحب: دیکھیے آپ جب مہمان کو رکھتے ہیں، آپ ایک حوالے سے بات کر رہے ہیں اور میں دوسرے حوالے سے بات کر رہا ہوں، آپ کے گھر میں مہمان ہے، اس نے تین دن گزارے، ہفتہ گزارا، مہینہ گزارا، تین مہینے گزارے، سال گزارا، لیکن نکالتے وقت اگر آپ لات مار کر نکالیں تو کیا آپ نے اپنی پوری مہمان نوازی ضائع نہیں کر دی؟ مجھے بھی شکایات ہے وہاں کے گورنمنٹ سے، مجھے شکایت ہے اس بات کی کہ وہاں پر کچھ مسلح تنظیمیں ہیں اور ان کے مراکز موجود ہیں، لیکن زور ہم یہاں مہاجرین پر ڈال رہے ہیں جو چالیس سال سے ہمارے مہمان ہیں، تو اس طریقے سے کہ زور کہیں اور سے آ رہا ہے اور اس کا اظہار ہم کہیں اور جگہ پہ کر رہے ہیں، میرے خیال میں مہاجرین کو ہمیں مہمان کی طرح ڈیل کرنا چاہیے۔ دوسری بات یہ ہے کہ مہاجر جب ایک ملک سے دوسرے ملک میں اتا ہے تو یہ دو طرفہ مسئلہ بنتا ہے۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان یہ دو طرفہ مسئلہ ہے۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ افغان عوام نے چالیس سال یہاں گزارے، اس میں کتنے افغان ہیں جنہوں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی ہے۔ بہت سے بینک ایسے ہیں کہ اگر افغان اپنا پیسہ نکال لیں تو وہ دیوالیہ ہو جائیں۔ انہوں نے یہاں سرمایہ کاری کی ہے پاکستان کے مفاد میں، اگر ان کا سرمایہ استعمال ہوتا ہے تو کیا کبھی ہم نے اس پر غور کیا ہے کہ ہم اس سرمایہ کو تحفظ کیسے دیں گے؟ ہم اس کو پاکستان کے مفاد میں کیسے استعمال کریں گے؟
اسی طرح اگر افغان مہاجرین میں سے کوئی یہاں پڑھ لکھ کر انجینئر یا ڈاکٹر بنا ہے تو یہ ہماری سکل ہے، وہ سکل جو پاکستان میں بنی ہے۔ کیا ہم اس سے فائدہ حاصل کر رہے ہیں یا اسے ضائع کر رہے ہیں، کہ نہ وہاں کام کے رہے نہ یہاں، اس کے لیے پالیسی ہونی چاہیے کہ میری سکلز میرے ملک کے مفاد میں استعمال ہو، اسی طرح جو طالب علم ہے، جو ساتویں، آٹھویں، بارہویں جماعت میں پڑھتا ہے، اگر آج ہم اسے دھکیل دیں تو وہاں تو نصاب کی کچھ اور ہوگا تو کیا میں نے اس کی تعلیمی زندگی ضائع نہیں کر دی۔ یہ انسانی حق کا معاملہ ہوتا ہے اس کیٹگری کو ہمیں الگ طور پر دیکھنا چاہیے۔ اگر وہاں امن و امان آ گیا ہے اور وہاں کی حکومت بھی کہہ دے کہ امن ہے تو مہاجرین کی واپسی کے لیے مذاکرات کے ذریعے شیڈول بنانا چاہیے، نہ کہ زبردستی دھکیل دیا جائے، گیٹ بند کر دیے جائیں، تجارت بند کر دی جائے اور لوگوں کی آمد و رفت روک دی جائے۔ ریاستی معاملات کی وجہ سے عوام کو رگیدنا اور گھسیٹنا میرے خیال میں دنیا کے کسی قانون میں جائز نہیں ہے۔
صحافی:۔۔۔۔۔۔
مولانا صاحب: دیکھیے دو سوالات آئے ہیں چھبیسویں ترمیم اتفاق رائے سے ہوئی ہے، اسے بلا وجہ متنازع بنانے کی کوشش میرے خیال میں مناسب نہیں ہے اور نہ ہی انصاف کا تقاضا ہے۔ ہاں ہر پاکستانی شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ اگر آئین میں کوئی ترمیم ہوتی ہے یا قانون سازی ہوتی ہے اور اس کے ذہن میں ابہام ہے کہ یہ صحیح ہے یا غلط، تو کورٹ میں جائے اور وہاں سے وضاحت مانگے، اگر چھبیسویں ترمیم کے خلاف کوئی کورٹ میں گیا ہے تو یہ پاکستانی شہری کا قانونی اور آئینی حق ہے، لیکن ستائیسویں ترمیم یک طرفہ ہوئی ہے، سب دنیا جانتی ہے، چھبیسویں ترمیم کے لیے ایک سال پہلے آپ کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں تھی، ایک سال کے اندر یہ اکثریت کہاں سے آ گئی؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جبر کی بنیاد پر ہوئی۔ پھر وہ تمام نکات جو چھبیسویں ترمیم میں اپ دستبردار ہوگئے تھے، انہیں ستائیسویں ترمیم میں شامل کر کے وہی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، اس سے آئین متنازع ہوتا ہے، ہمیں اس سے گریز کرنا چاہیے اور قربانی دینی چاہیے۔
تو یہ میری ایک سوچ ہے اور اس حوالے سے ہم اپنی رائے رکھتے ہیں۔ اس رائے پر ہم انصاف چاہتے ہیں۔
صحافی: نئے انتخابات ہونے چاہیے؟
مولانا صاحب: انتخابات بالکل ہونے چاہئیں۔ نہ 2018ء کے انتخابات عوامی تھے، نہ 2024ء کے انتخابات عوامی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی دھاندلی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی حکومتیں، سندھ سے لے کر کے پی کے تک، ختم ہونی چاہئیں، اور دوبارہ ملک میں شفاف انتخابات ہونے چاہئیں۔
بہت شکریہ۔
ضبط تحریر: #سہیل_سہراب
ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
#teamJUIswat

.jpeg)
ایک تبصرہ شائع کریں