قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی رحیم یار خان میں میڈیا سے گفتگو

قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی رحیم یار خان میں میڈیا سے گفتگو

25 دسمبر 2025

مولانا صاحب: آپ اپنے سوالات کا آغاز کرلے، میں تو روزانہ بول رہا ہوں آپ کو سب کچھ پتہ ہے۔

صحافی: مولانا صاحب اپ کا دو روزہ دورہ رحیم یار خان ہے، اس کے بارے میں کچھ بتائیں، یہاں پر کیا مصروفیات ہوگی اور آگے کیا ارادہ ہے؟

مولانا صاحب: میں تو دوستوں سے ملاقات کے لیے آیا ہوں۔ کوئی سیاسی پروگرام تو میرا نہیں ہے۔

 صحافی: اپ سے یہ سوال ہے کہ اس وقت پاکستان میں نئے صوبوں کی بہت زیادہ شور ہو رہا ہے بعض لوگ چاہتے ہیں کہ اس ملک میں بتیس تینتیس صوبے ہو جائے۔ اپ کی جماعت کا کیا موقف ہے کہ مزید صوبوں کی تقسیم ہونی چاہیے اور کیا انتظامی لحاظ سے یا قانونی لحاظ سے یہ ہمارے ملک کے لیے فائدہ مند ہوگا، اپ کے جماعت کا کیا موقف ہے؟

مولانا صاحب: دیکھیے انتظامی طور پر تو ڈویژن بھی بنتے ہیں، تحصیلیں بھی بنتی ہیں اور اس حوالے سے تو یہ ایک معمول کا عمل ہے۔ لیکن جہاں تک ہے صوبوں کا تعلق کہ صوبے بننے چاہیے یا نہیں بننے چاہیے اگرچہ جو باتیں میڈیا کی دنیا میں سامنے آ رہی ہیں وہ یہی ہیں کہ انتظامی بنیادوں پر، لیکن اس کے باوجود یہ ضرور دیکھنا پڑے گا کہ کیا یہ زمین ہموار ہے اس کے لیے یا نہیں، اگر زمین ہموار نہیں ہے اور اپ نے صوبوں کو تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا تو مختلف علاقوں سے مختلف رد عمل ا سکتے ہیں اور ملک کی وحدت پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ تو زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے تجاویز سامنے لانے چاہیے، تمام پارٹیوں کو، سیاست دانوں کو، صوبے کے عوام کو سب کو اس پہ اعتماد میں لینا پڑے گا۔

صحافی: مولانا صاحب میرا سوال ہے اپ سے، یہ حکومت نے جو ہے وہ مذاکرات کی پیشکش کی ہے پی ٹی ائی کو اور اس میں انہوں نے رضامندی کا بھی اظہار کیا ہے۔ تو اپ کیا سمجھتے ہیں کہ یہ اپنی ائینی مدت پوری کرے گی اور دوسرا اس کے بعد اپ کیا عمران خان کو باہر اتا دیکھ رہے ہیں یا اپ کا کس طرح دیکھ رہے ہیں؟

مولانا صاحب: مذاکرات کی پیشکش کرنا اور دوسری طرف سے مذاکرات کے پیشکش کو قبول کرنا یہ سیاست میں ایک مثبت قدم کہلاتا ہے اور اگر اس طرف بات جاتی ہے تو ہم تو خوش امدید کہیں گے۔

صحافی: مولانا صاحب جس طرح یہ گزشتہ روز نجکاری ہوئی ہے پی ائی اے کی، کیا اپ سمجھتے ہیں کہ قومی اثاثے کو بیچنا چاہیے ؟

مولانا صاحب: حضرت میں کاروباری معاملات کو زیادہ جانتا نہیں ہوں اس بارے میں کوئی سوال اپ کریں تو اس سے کریں جو پیسے کے کاروبار اور اس حساب کتاب کو جانتا ہو، میں اس حوالے سے کوئی زیادہ ایکسپرٹ نہیں ہوں۔

صحافی: مدارس ایکٹ کا جو معاملہ ہے اور دوسرے جماعتوں کی طرف سے جو مطالبات پیش کیے گئے ہیں، حکومت کہاں تک مخلص ہے؟

مولانا صاحب: دیکھیں اس حوالے سے تمام مکاتب فکر کے علماء کا اجتماع ہوا اور مجلس اتحاد امت کے پلیٹ فارم پر ہوا۔ جس میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے ہر چند کے قومی اسمبلی اور سینٹ میں قانون پاس ہو چکا ہے لیکن نہ تو وفاق کی سطح پر اس پر کوئی عمل درامد ابھی تک ہو رہا ہے اور نہ صوبوں میں ابھی تک قانون سازی ہو رہی ہے۔ ضروری ہے کہ صوبوں میں قانون سازی ہو اور اس کو ایمپلیمنٹ کیا جائے، دیانتداری کے ساتھ کیا جائے، یہ نہیں کہ اگر ہم نے فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ جو وزارت تعلیم کے تحت ایک ڈائریکٹریٹ ہے مدارس کا اس کے اپشن کو قبول کر لیا ہے تو اب اپ مدارس کے ہاتھ مروڑ کر ان کو کہیں کہ نہیں اپ نے سوسائٹی ایکٹ کے تحت رجسٹر نہیں ہونا، وزارت تعلیم کے ڈائریکٹریٹ کے تحت ہونا ہے۔ تو یہ جو انتظامیہ اور بیوروکریسی اس طرح کے وہ علماء کرام کے اور مدارس کے مہتممین کے ہاتھ مروڑتی ہوتی ہے اور جبر کرتی ہے تو ظاہر ہے کہ کہیں سے اوپر سے ان کو ایک پالیسی ہوگی، ان کو کچھ اشارے ملتے ہوں گے جو انتہائی نامناسب ہے۔ یہ تو مدارس ہیں پورے ملک کے نمائندگی کرتے ہیں، تعلیمی ادارے ہیں اور عالمی سطح پر ایک واحد دینی مدرسہ ہے اس کی رینکنگ جو ہے وہ عالمی سطح پر ٹاپ پہ ہے اور اپ کے گاؤں گاؤں، محلے محلے میں لوگوں کو تعلیم دے رہی ہے اور مفت دے رہی ہے۔ وفاقی ادارے ہیں جو فیس نہیں لیتی، الٹا لوگوں کے صدقات عطیات کے بنیاد پر وہ مفت تعلیم دیتے ہیں، مفت رہائش دیتے ہیں، روشنی مفت ہے، پانی مفت ہے، گیس مفت ہے اور کتاب مفت ہے، چارپائی مفت ہے، سب چیزیں ہم ان کو مہیا کرتے ہیں اور وہ یہ تعلیم حاصل کرتے ہیں تو ریاست کی سطح پر تو اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے تھی لیکن عالمی ایجنڈے کے لیے دباؤ میں ہمارے ریاست بھی ان اداروں پر دباؤ ڈالتی ہیں اور ان کے حوصلہ شکنی کرتی ہے۔

صحافی: آئینی ترمیم کے حوالے سے آپ کیا دیکھ رہے ہیں؟ کیا حکومت صدارتی نظام کی طرف جا رہی ہے؟

مولانا صاحب: دیکھیے، صدارتی نظام پاکستان کی تاریخ میں ناکام ہو چکا ہے۔ اس ناکامی کے بعد ملک کے اندر باقاعدہ تحریک چلی، اور اس تحریک کے نتیجے میں تمام سیاسی جماعتوں کے ایوب خان کے ساتھ مذاکرات ہوئے۔ بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ووٹ کا حق اور پارلیمانی طرزِ حکومت، یہ دو بنیادی مطالبات رکھے گئے، جو تسلیم بھی کر لیے گئے۔

اگرچہ ذوالفقار علی بھٹو صدارتی طرزِ حکومت کے قائل تھے، لیکن جب آئین بنا تو عبوری آئین میں ایک مخلوط نظام قائم ہوا: وفاق میں صدارتی طرزِ حکومت اور صوبوں میں پارلیمانی نظام۔ بعد ازاں جب باقاعدہ آئین تشکیل پایا تو بھٹو صاحب کے پاس دو تہائی اکثریت موجود ہونے کے باوجود انہوں نے تمام صوبوں کو اعتماد میں لے کر پارلیمانی طرزِ حکومت اور بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ووٹ کے نظام کو آئینی تحفظ دیا۔

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ایک مقبول لیڈر اور سب سے بڑی جماعت وہ حالات کو دیکھتا تو فیصلہ کرتا ہے کہ ملک کے لیے کیا بہتر ہے۔ ہر چند کے پاکستان کے ابتدائی تئیس سال یا جتنے بھی سال صدارتی نظام میں گزرے، اس کے باوجود قوم نے پارلیمانی نظام کا مطالبہ کیا، سو آئین بن چکا ہے روز روز آئین کا کھلواڑ کیوں کیا جا رہا ہے۔

صحافی: مولانا صاحب میرا اپ سے یہ سوال ہے کہ جب چھبیس ویں آئینی ترمیم ہوئی تھی، تو آپ کی وجہ سے کچھ ترامیم نکال دی گئی تھی، اب کون سے ترامیم انہوں نے ستائیسویں آئینی ترمیم میں ایڈ کر دی ہے۔۔۔۔۔ اور اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو کیا ان کے پاس دو تہائی اکثریت ہوگی، تو آپ کا کیا ردعمل ہوگا؟

مولانا صاحب: قانون سازی اور آئین سازی میں بہت بڑا فرق ہے ، قانون میں ترمیم اور ائین میں ترمیم اس میں بڑا فرق ہے۔ جتنا اپ کا دستاویز مظبوط اور مستحکم ہے اتنا ہی اس میں ردوبدل کے شرائط بھی سخت ہوا کرتے ہیں۔ قرآن کریم ہمارے پاس ایک ابدی دستاویز ہے، مجال ہے کہ قیامت تک اس میں کسی کو ایک حرف کی تبدیل کرنے کی اجازت ہو، اس کے بعد حدیث کا درجہ آتا ہے تو کتنے احتیاط کے ساتھ چلنا پڑتا ہے کہ کسی حدیث میں ہم اپنی طرف سے بات نہ کرلے

 اسی طرح جب ملکوں کے اندر ملی میثاق بنتے ہیں تو اس کے ائین کی صورت میں بنتے ہیں، سو اس وقت ملک کے اندر آئین متفقہ طور پر موجود ہیں، اگر ہم نے چھبیسویں ترمیم کی ہے تو مجھے یاد ہے کہ اس وقت بھی حکومت کو بہت جلدی تھی اور وہ چوبیس گھنٹوں یا تین دن کے اندر اسے پاس کرانا چاہتی تھی۔ لیکن چونکہ ان کے پاس دو تہائی اکثریت موجود نہیں تھی اور جمعیت علماء اسلام کے ووٹوں کی ضرورت تھی، اس لیے ایک مہینہ اور ایک ہفتہ تک مذاکرات چلے۔ نتیجتاً حکومت کو چونتیس شقوں سے دستبردار ہونا پڑا اور صرف بائیس شقیں رہ گئیں، پھر ہم نے مزید پانچ شقیں شامل کیں، اور یوں ستائیس شقوں پر مشتمل بل منظور ہوا۔

اس وقت تقریباً اتفاقِ رائے پیدا ہو گیا تھا۔ پاکستان تحریکِ انصاف نے بھی کہا تھا کہ اب ان کا کوئی اعتراض نہیں رہا، اگرچہ انہوں نے ووٹ استعمال نہیں کیا، اور اس بارے میں میری بھی یہی رائے تھی کہ وہ اس وقت اس پوزیشن میں نہیں تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے ایوان کے اندر اور باہر جمعیت علماء اسلام کی تعریف کی۔

اب صورتِ حال یہ ہے کہ 27ویں ترمیم کے وقت حکومت کے پاس دو تہائی اکثریت موجود تھی۔ سوال یہ ہے کہ ایک سال کے اندر یہ اکثریت کیسے حاصل کی گئی؟ کتنے لوگوں کو دباؤ میں لایا گیا، کتنے ضمیروں کا سودا ہوا؟ تو ہم انے والے نسلوں کو کیا سبق دے رہے ہیں کہ ہم نے آئین کو کیا چیز بنا دیا ہے۔ اس سے یہ متنازع ہو جائے گا

میں سمجھتا ہوں کہ اٹھارویں ترمیم اتفاقِ رائے سے ہوئی تھی، اور اسی اتفاق نے آئین کے اصل چہرے کو واضح کیا۔ چھبیسویں ترمیم کے حوالے سے تو کوئی مسئلہ نہیں تھا یا اگر کسی کو اعتراض ہے تو ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ اگر ائین میں کوئی ترمیم ہوتی ہے یا قانون میں کوئی ترمیم ہوتی ہے، اور اس کو کہیں اشکال ہے یا اس کے ذہن میں کوئی ابہام ہے، وہ عدالت سے رجوع کرسکتا ہے۔ اسی لیے کچھ لوگ عدالت گئے، اور معاملہ زیرِ سماعت رہا۔ لیکن سماعت جاری ہونے کے دوران ہی ایک نئی ترمیم لائی گئی۔ پھر اس کے اندر جو چیزیں اس وقت ہم نے ہے کہ تھی ہم خود اس کے حامی تھے کہ آئینی عدالت ہو، اب اس پر ڈیبیٹ ہوسکتی ہے، ہر شخص کی اپنے رائے ہوتی ہے، لیکن ایک درمیانی راستہ نکالا گیا اور ایک آئینی بنچ تشکیل دیا گیا اور پھر ایک سال کے اندر اندر آپ لوگوں کے ہاتھ مروڑ کر پھر ایک نئی ترمیم لاتے ہیں۔ پھر اس میں جو استثناء دی گئی ہے۔ اس استثناء کا اسلام میں کوئی تصور ہے؟ کہ کوئی خدمات کے بدلے تاحیات مراعات حاصل کرے۔ رسول اللہ ﷺ نے تو خود اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کیا۔ حضرت عمر فاروقؓ عدالت میں پیش ہوئے۔ پوچھتے بھی تھے کہ اگر مجھ سے غلطی ہوگئی تو آپ کا رد عمل کیا ہوگا، تو آج یہ چیزیں آگئی کہ ہم خدمات کے بدلے تا زیست استثناء کے رہے ہیں۔ تو یہ نہ شریعت کے مطابق ہے، نہ جمہوری روایات کے مطابق، اور نہ ہی ہمارے جیسے ملکوں کے لیے مناسب ہے۔

اگر کسی کو مراعات دی بھی جائیں تو بہتر یہ ہے کہ وہ خود انہیں قبول کرنے سے انکار کرے۔ اسی سے قد اور کردار بلند ہوتا ہے۔ ورنہ یہ سب کمزوری کی علامت ہے۔

صحافی: محترم آپ کا جو حالیہ دورہ ہے یہ تنظیمی دورہ ہے یا آپ دوبارہ تنظیم کو فعال کر رہے ہیں۔ دوسرا آپ دو ہزار چھبیس کو الیکشن کا سال دیکھ رہے ہیں ؟

مولانا صاحب: میں آپ لوگوں کے ساتھ ملاقات کے لیے آیا ہوں۔

صحافی: مولانا صاحب آپ نے ہمیشہ اسمبلیوں میں، ایوانوں میں جمہوریت کے لیے آواز اٹھائی ہے تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ہر بار تین سال یا ڈھائی سال کی حکومت آتی ہے، تو کچھ لوگ آکے پریس کانفرنس کرتے ہیں کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کو سیاست سے مکمل الگ ہونا چاہیے یا آپ اس کو کیسے دیکھتے ہیں ؟

مولانا صاحب: سیاست سے کوئی بھی مکمل طور پر لاتعلق نہیں ہو سکتا۔ بادشاہت ہو یا آمریت، وہاں بھی سیاست موجود ہوتی ہے۔ ہر شہری ملک کے معاملات میں دلچسپی رکھتا ہے، گفتگو کرتا ہے، رائے رکھتا ہے۔ سیاست کا اعلیٰ ترین مظہر حکومت کرنا ہے، حکومت معیشت، امن و امان اور نظامِ ریاست کی تدبیر کرتی ہے۔

ہمارے ملک میں اداروں کا اپنا اپنا دائرہ اختیار ہے۔ اگر کوئی ادارہ اپنے دائرے میں رہنا چاہے تو ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

صحافی: پنجاب حکومت نے علماء کرام کے لیے وظیفے کا اعلان کیا ہے، باقاعدہ درخواستیں دی گئی ہے، تو ابھی جس طرح آپ نے کہا کہ ہم اپنے دائرہ کار میں کام کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ تو پنجاب حکومت اگر مدد کرنا چاہتی ہے تو آپ کیا سمجھتے ہیں؟

مولانا صاحب: کس مد میں؟ اگر سرکاری سکول ہے اس میں ایک عالم دین دینیات ٹیچر ہے، عربی یا قاری ٹیچر ہے۔ اگر کوئی اوقاف کی مسجد ہے اس میں کوئی خطیب ہے، کوئی امام ہے، نائب امام ہے، کوئی مؤذن ہے اور اس کو تنخواہ دی جاتی ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے یہ مدرسوں۔ میں اعزازیہ تقسیم کرنا یہ خیبرپختونخوا میں عمران خان کی حکومت میں ہوا اور انہوں نے مسترد کر دیا، تو اب جب ان کو اعزازیہ دیا جائے گا تو پھر یہ یہ کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ جو شرائط وابستہ کیے گئے ہیں وہ خود بتاتی ہے کہ یہ علماء کرام کے زبانوں کو قدغنیں لگانا ہے، اپنی مداح سرائی کروانی ہے، اپنی خوشامد میں تقریریں کروانی ہے، اور کسی طرح سے وہ حکومت کی کسی غلطی کی نشاندھی کرسکیں گے نہ کوئی تبصرہ کر سکیں گے۔ تو یہ مساجد اور مدارس پر قدغنیں کا ایک عمل ہے اور پیسہ کے ذریعے کرنا چاہتے ہیں اور ہماری غربت کا مذاق اڑا رہے ہیں۔

صحافی: مولانا صاحب، کیا آپ کو کوئی بڑی سیاسی تبدیلی یا نیا سیاسی اتحاد یا جماعت بنتا ہوا نظر آ رہا ہے؟

مولانا صاحب: میرے خیال میں تو ہم اس نظام اس الیکشن کو تسلیم نہیں کرتے، جمعیت علماء اسلام نے نہ ہی دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن کو تسلیم کیا ہے اور نہ ہی دو ہزار چوبیس کے الیکشن کو، تو اس اعتبار سے تو ایسے الیکشن ہونے چاہیے جہاں عام آدمی آزادی سے رائے دے سکے اور اسی کو پارلیمانی طرز حکومت کہا جائے گا، اسی کو صحیح معنوں میں الیکشن کہا جائے گا، ورنہ اس کے علاؤہ تو ایسے مذاق والی بات ہو جاتی ہے کہ عوام کسی کو چاہتے ہیں اور نتیجہ کسی اور کے حق میں نکلتا ہے۔ اب تک تو ہم یہی وطیرہ دیکھ رہے ہیں۔

صحافی: ٹی ایل پی کے حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے ؟

مولانا صاحب: حضرت ٹی ایل پی کا کسی پارٹی کے ساتھ رابطہ تو ہے نہیں، لیکن ہم نے ہمیشہ ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا احتجاج کا حق تسلیم کیا ہے۔ اپنے احتجاج کے لیے روڈ پر انا اگر میں اپنے لیے حق سمجھتا ہوں تو ان کے لیے بھی سمجھتا ہوں، باقی ہر سیاسی جماعت اپنی پالیسی خود بناتی ہے، تو سٹیٹ کو ان کی پالیسیوں پر اعتراض ضرور ہے لیکن ہم ایک کارکن کی حیثیت سے ایک پارٹی پر پابندی لگانا یا ان کے احتجاج کے حق کا انکار کرنا یہ نہیں کرسکتے۔

بہت شکریہ

ضبط تحریر: #سہیل_سہراب

‎ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز 

‎#teamJUIswat

0/Post a Comment/Comments