قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا دارالعلوم زکریا ترنول اسلام آباد میں خدمات مدارس دینیہ ، دستار فضیلت کانفرنس سے خطاب
08 جنوری 2026
خطبہ مسنونہ کے بعد
اکابر علماء کرام، مشائخ عظام، طلبائے عزیز، بزرگان محترم، میرے دوستو اور بھائیو! ہمارے مدارس میں یہ معمول ہے کہ جب تعلیمی سال مکمل ہوتا ہے تو صحیح بخاری کے آخری حدیث کی درس کے لیے خصوصی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں، ایک طرف سے ان مدارس و جامعات میں اپنی تعلیمی سلسلے کو مکمل کرنے پر ان کی حوصلہ افزائی مقصود ہوتی ہے، ان کا اعزاز مقصود ہوتا ہے اور ان کے خاندانوں کے لیے ایک خوشی کا پیغام جاتا ہے کہ آپ کے گھر میں ایک عالم دین پیدا ہو گیا ہے اور یقین جانیے کہ اس دنیا میں خوشی کے اور بھی بہت سے اسباب ہیں، خوشی کے بہت سے مواقع ہیں لیکن قرآن و حدیث کا علم حاصل کرنا اور اس نصاب کو مکمل کرنا، اس سے بڑھ کر خوشی کی اور کوئی بات نہیں ہوسکتی۔
لیکن جب سال کے آخر میں اس اجتماع کا انعقاد کیا گیا تو اس اجتماع کے مہمان خصوصی ہمارے مخدوم، نہایت محترم حضرت مولانا پیر سید مختار الدین شاہ صاحب نے بھی تشریف لانا تھا، اللہ نے ان کو اپنے ہاں بلا لیا، وہ ہمیں داغِ مفارقت دے گئے اور ہمارا یہ اجتماع ایک طرح سے تعزیتی اجتماع میں تبدیل ہو گیا۔ اس اجتماع میں ان کے صاحب زادے، ان کے جانشین مولانا سید زبیر صاحب بھی موجود ہیں ہم سب اجتماعی طور پر ان سے اظہار تعزیت کرتے ہیں اور ان کو یہ بھی بتلا دینا چاہتے ہیں کہ حضرت مولانا کی وفات کے حوالے سے ہم سب بذات خود مستحق تعزیت ہیں۔
ہمارے مدارس کے ماحول میں، خانقاہوں کے ماحول میں، چند دن پہلے جامعہ اشرفیہ لاہور کے مہتمم حضرت مولانا فضل الرحیم صاحب بھی ہمیں داغِ مفارقت دے گئے۔ وہاں بھی ختم بخاری کی تقریب میں شرکت کے لئے مجھے دعوت دی گئی تھی لیکن اب وہ اجتماع بھی ایک تعزیتی اجتماع میں تبدیل ہو جائے گا۔ اسی طریقے سے ایک ہی سلسلے اور ایک ہی خاندان اور ایک ہی شیخ کے دو بڑے جانشین حضرت پیر ذوالفقار نقشبندی صاحب اور حضرت مولانا عبد الرحیم نقشبندی صاحب وہ بھی انہی دنوں میں ہم سے جدا ہوئے ہیں، تو یہ سال ہمارے لئے تو عام الحزن بن گیا ہے۔ لیکن ہمارا ایمان ہے کہ زندگی دینا بھی اللہ کے اختیار میں ہے اور زندگی واپس لینا بھی اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ اللہ کے علاوہ کوئی ذات نہ کسی کو زندگی دے سکتا ہے نہ زندگی کسی سے چین سکتا ہے۔ لیکن ہم اللہ کے بندے ہیں اور اپنے رب سے دعا گو ہیں، دعا جو ہیں کہ ہمارے ان بزرگوں کو اللہ جنت الفردوس میں عالی مقام نصیب فرمائے، ان کے ارواح مقدسہ کو راحتیں نصیب فرمائے اور زندگی بھر کے ان کی خدمات جلیلہ کو اللہ تعالی میزان حسنات میں جمع فرمائے اور اخروی عِیۡشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ کا ذریعہ بنائے۔
ہمارا دین جو ہمیں تعلیم دیتا ہے وہ یہی ہے کہ جو اکابر زندگی میں اپنا نصب العین رکھتے ہیں اور عظیم نصب العین رکھتے ہیں جب وہ دنیا سے چلے جاتے ہیں تو ان کا نصب العین ہمارے حوالے ہو جاتا ہے اور وہ امانت ہمارے حوالے ہو جاتی ہے اور امت مسلمہ کی بقاء کا مدار وہ ظاہر ہے کہ عقیدہ توحید، ایمان اور اعمال صالحہ پر ہے۔ جو دین اللہ تعالی نے ہمیں حوالے کیا ہے جب ہم اس پر عمل کرتے ہیں تو یہ در حقیقت اس امانت کی حفاظت ہے جس کا بوجھ حضرت انسان نے اٹھایا؛
اِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَا اَنْ يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنسَانِ اِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا۔
یہی وحی کی امانت ہم نے آسمانوں کے سامنے پیش کی، زمین کے سامنے پیش کی، پہاڑوں کے سامنے پیش کی، انہوں نے اس امانت کا بوجھ اٹھانے سے انکار کر دیا، گھبرا گئے اور انسان اس بوجھ کو اٹھانے کیلئے تیار ہوگیا، اِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا
اب بظاہر تو انسان نے اتنے بڑے بوجھ کو اٹھایا، امانت کی یہ عظیم ذمہ داری اپنے سر لے لی، اب یہ مقام مدحہ ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے انسان کو جس صفت سے پکارا وہ بظاہر ذم ہے کہ انسان ظلوم بھی ہے اور انسان جہول بھی ہے۔ لیکن ہمارے علماء فرماتے ہیں، ہمارے اساتذہ فرماتے ہیں کہ بظاہر ذم ہے در حقیقت مدحہ ہے کیونکہ ظلوم وہی ہوگا کہ جس کے اندر عدل کا استعداد ہوگا، جہول وہی ہوگا کہ جس کے اندر علم کا استعداد ہوگا، آسمان اس میں تو استعداد ہی نہیں ہے تو کسی نے آج تک آسمان کو نہیں پکارا کہ اوئے جاہل کہی کہ، اوئے ظالم کہی کہ، کبھی پہاڑ کو کسی نے یہ نہیں کہا کہ ظالم یا جاہل، کبھی زمین کو کسی نے یہ نہیں کہا کہ ظالم اور جاہل، اس لیے کہ وہاں پر نہ علم کا استعداد ہے نہ عدل کا استعداد ہے۔
سو حضرت انسان میں چونکہ استعداد ہے عدل کا بھی اور علم کا بھی، لیکن ظرف اگر مظروف سے خالی ہے تو پھر ظرف اپنے نام سے پکارا جاتا ہے اور اگر ظرف میں مظروف ہے تو پھر مظروف کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اگر گلاس خالی ہے تو گلاس لیجئے، لیکن اگر گلاس میں لسی ہے تو یہ لسی لیجئے، اگر گلاس میں شربت ہے تو پھر شربت لیجئے، پیالہ خالی ہے تو پیالہ لیجئے اور اس میں اگر چائے ہے تو پھر چائے لیجئے، رکابی خالی ہے تو رکابی لیجئے، پلیٹ لیجئے اور اگر رکابی میں حلوہ ہے تو یہ حلوہ لیجئے، کیسے مزہ آیا آپ کو، تو مظروف کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اب یہاں پر چونکہ انسان نے نہ ابھی اپنے ظرف میں عدل کو ڈالا ہے نہ علم کو ڈالا ہے تو پھر ظاہر ہے کہ اس کو ظرف کے نام سے پکارا جائے گا مظروف کے نام سے ابھی نہیں پکارا جائے گا۔
تو یہ بہت بڑی امانت ہے جو آپ نے سر پر اٹھائی، لیکن اللہ رب العزت نے انسان کو پیدا کیا تو مقصد تخلیق بھی بتا دیا؛ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونَ۔ کہ انس و جن کو اگر میں نے پیدا کیا ہے تو صرف اپنی عبادت کیلئے، لیکن یہاں پر عبدیت تشریعی ہے، تکوینی نہیں ہے۔ اگر عبدیت تکوینی ہوتی تو اللہ تعالیٰ تمام انسانیت کو ہدایت کے راستے پر ڈال لیتا، ساری انسانیت ایک راستے پر ہوتی، لیکن چونکہ عبدیت تشریعی ہے اور تشریع کا معنی یہ ہے کہ حضرت انسان کے حوالے کر دیا گیا ہے کہ یہ آپ کی مرضی ہے آپ قبول کرتے ہیں یا انکار کرتے ہیں، یہ آپ کی مرضی ہے کہ آپ اس کو قبول کرتے ہیں یا آپ انکار کرتے ہیں۔ سو جب انسان کے حوالے ہو گیا تو انسان یہ فیصلہ اپنے عقل کی بنیاد پر کرتا ہے۔ اب اللہ رب العزت نے رہنمائی کیلئے وحی بھیجی، انبیاء بھیجے اور دنیا میں جو رہنے کے لئے زندگی کا اللہ کی مرضی ہے اس کے لئے ساری تعلیمات اللہ نے انسان کے حوالے کر دی، اب انسان کی مرضی ہے وہ قبول کرتا ہے یا انکار کرتا ہے۔ آپ حق بات چلے جائیں جو رب کی طرف سے تجھے ملتا ہے پھر مرضی ہے وہ ایمان لاتے ہیں یا انکار کرتے ہیں۔
سو اس اعتبار سے انسان دو حصوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں، ایک اطاعت و فرمانبرداری کا راستہ اختیار کر لیتا ہے اور دوسرا کفر و طغیان کا راستہ اختیار کر لیتا ہے تو انسان بٹ جاتا ہے۔ تو ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان لوگوں میں پیدا کیا ہے کہ جس نے اللہ کے وحی کو قبول کیا، اس کے انبیاء کو قبول کیا، انبیاء کی تعلیمات کو قبول کیا اور اُس پر ایمان لے آئے۔
قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ۔ لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ۔ وَلَا أَنْتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ۔ وَلَا أَنَا عَابِدٌ مَا عَبَدْتُمْ۔ وَلَا أَنْتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ۔ لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ
راستے تقسیم ہیں، لیکن چونکہ انسان دوسرے جنگلی حیوانات اور درندوں کی طرح نہیں ہے کہ اُن کی زندگی انفرادی ہے اور بس انفرادی ہے اور اپنی ذات کیلئے ہے۔ حضرت انسان مدنی الطبع ہے اُس کی فطرت میں مل جل کر رہنا ہے، سو جب مل جل کر رہے گا تو ایک دوسرے سے حقوق وابستہ ہوں گے اور پھر اُن حقوق کیلئے نظام عطاء کیا جاتا ہے، قوانین دیے جاتے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ کس طرح رہنا ہے، گھر میں کیسے رہنا ہے، خاندان کے ساتھ تمہارے حقوق کیا ہیں، باپ کے حقوق، ماں کے حقوق، بیٹے کے حقوق، بھائی کے حقوق، رشتہ داروں کے حقوق، محلہ داروں کے حقوق، شہر کے حقوق، تو یہاں پر اسلام کی جو تعلیمات ہے وہ فرد کی رہنمائی بھی کرتے ہیں کہ اپنی ذات میں امانت ہو اور دیانت ہو، اپنے سینے کے اندر اس کے ایمان بھی ہو اور دین بھی ہو۔
تو یہ جو ہم مدرسوں میں پڑھتے ہیں یہاں تو ہم علم حاصل کرتے ہیں یہ تو ہوئی شریعت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ میں استاد بنا کر بھیجا گیا ہوں تاکہ تمہیں سکھاؤں کہ دنیا میں یہ کیسے رہنا ہے، عبادت کیسی کرنی ہے، معاشرت کا نظام کیا ہے، معیشت کا نظام کیا ہے، حقوق کیا ہے، ایک دوسرے کے رہنے کے اصول کیا ہے، لیکن دوسری طرف فرمایا میں تمہارے اعلیٰ اخلاق آپ کو پہنچانے کے لئے آیا ہوں۔ اب ایک طرف سے آپ معلم ہیں تعلیم دیتے ہیں، دوسری طرف سے آپ مربی ہیں آپ تربیت بھی کرتے ہیں۔
تو مدرسہ میں شریعت پڑھائی جاتی ہے یہ رسول اللہ کے علوم ہیں اور خانقاہوں میں دل کے اندر اللہ کو اور اس کے تصور کو، اس کے ذکر کو راسخ کیا جاتا ہے تاکہ مرتبہ احسان حاصل کیا جا سکے۔ تو اصل مقصود مقام احسان حاصل کرنا ہے جس طرح حضرت جبریل تشریف لائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سوالات کیے، جس میں ایک سوال تھا؛ احسان کسے کہتے ہیں؟ تو اپ نے فرمایا؛ "اللہ کی عبادت ایسے کرو کہ جیسے تُو اللہ کو دیکھ رہا ہے اور اگر یہ درجہ حاصل نہیں تو کم از کم اس طرح کرو کہ جیسے وہ تجھے دیکھ رہا ہے"۔
اب مقصود بالذات تو مقام احسان حاصل کرنا ہے لیکن اس کے لئے ذریعہ مختلف ہو سکتے ہیں جیسے جہاد، اگر آپ مسلح جہاد لڑتے ہیں تو آپ بندوق سے لے کر ایٹم بم تک اس دور میں استعمال کرتے ہیں، جبکہ کسی زمانے میں تلوار اور نیزے ہوتے تھے۔ تو ذرائع تبدیل ہو سکتے ہیں، ذرائع کا تبدیل ہونا یہ بدعت نہیں ہے، مقصود تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ زیادت اور اضافہ اگر فی الدین ہو تو بدعت ہے اور اگر لِی الدین ہو تو دین ہے۔ تو یہ تعلیم گاہوں میں جو کام ہو رہا ہے اس کی بھی سند ہے، شریعت کی بھی سند ہے، طریقت کی بھی سند ہے، سیاست کی بھی سند ہے، اور نسب کی بھی سند ہے اور سند بہت محترم ہوتی ہے۔
تو جو کچھ ہم پڑھتے ہیں، سیکھتے ہیں اس کی ایک سند ہے میں اکوڑہ خٹک دارلعلوم میں پڑھا ہوں تو اُن اساتذہ نے جو مجھے حدیث پڑھائی ہے وہ میری سند ہیں اور اگر تھوڑا سا سند عالی ہو جائے تو حضرت شیخ ذکریہ رحمہ اللہ نے مجھے حدیث کی اجازت دی ہے لیکن ایک شرط کے ساتھ کہ میرے اکابر کی تشریحات کی روشنی میں پڑھانا ہے، تو صرف حدیث کا بیان سند کے حوالے سے کافی نہیں، بلکہ اس حدیث کی تشریح اور اس کا نتیجہ جو ہمارے اکابر نے بیان کیا ہے وہ بھی سند ہے۔ ہم نے اسی کتاب حدیث کو آگے سنانا ہے۔ تو اگر اس شرط کے ساتھ آپ پڑھا سکتے ہیں تو ہمارے طرف سے اجازت ہے ورنہ کوئی اجازت نہیں ہے۔
تو میرے محترم دوستو! ہمارے علماء کے حلقے بھی اس میں شامل ہیں معذرت کے ساتھ، کہ ہم بھی سیاست کو ایک اضافی چیز سمجھتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ اس پر دنیا میں حکمرانوں کا قبضہ ہے ان حکمرانوں کا جو زیادہ تر فاسق اور فاجر ہوتے ہیں، دنیا پرست ہوتے ہیں۔ منصب حاصل کرنا اور منصب حاصل کر کے اس کو ذات کے مفاد کیلئے استعمال کرنا، دولت بنانے کیلئے استعمال کرنا، یہ اس کو چالاکیاں کہتے ہیں۔ جھوٹ بول کر، دھوکے دے کر، چالاکیوں کے ساتھ مناصب تک پہنچانا، وسائل تک پہنچانا، مفادات تک پہنچانا اس کا نام رکھ دیا ہے انہوں نے سیاست، ظاہر ہے کہ اگر ان کے کردار کو دیکھ کر ہم سیاست کو سمجھیں گے تو پھر سیاست یقیناً معیوب چیز بن جائے گی۔ لیکن ہم نے ان کو حوالے کر دیا ہے یا انہوں نے قبضہ کر لیا ہے۔
حضرات گرامی انیسویں صدی تک برصغیر کی سیاست علماء کرام کے ہاتھ میں تھی، امت کی قیادت علماء کرام کے ہاتھ میں تھی، جب تک برصغیر کی سیاست علماء کے ہاتھ میں تھی آپ نے نہیں سنا ہوگا کہ کوئی فساد ہوا ہو یا مسلم غیر مسلم کا یا مسلمان فرقوں کا آپس میں، ان کی قیادت نے انسانیت کو متحد رکھا ہے۔ اور جب سے سیاست جدید فیشن کے حوالے ہو گئی، دنیا داروں کے حوالے ہو گئی، پھر اس وقت سے جو فسادات شروع ہوئے ہیں آج بھی ان کی پالیسیوں کی وجہ سے خون ہے جو تھم نہیں رہا ہے، نفرتیں ہیں جو آسمان کو چھو رہی ہیں، عداوتیں ہیں جس نے ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کا دشمن بنا دیا ہے۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے کیلئے تیار نہیں ہوتے، ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھ ملانے کیلئے تیار نہیں ہوتے، یہ نفرتیں انہوں نے پیدا کی ہے اور آج بھی مدارس اور دین علوم ان کے لئے بوجھ ہیں، مدارس کو بند کرنا چاہتے ہیں، مدارس کو اپنے قبضے میں لینا چاہتے ہیں، مدارس کو اپنے زیر اثر لانا چاہتے ہیں اور آپ کے علم میں لانا چاہتا ہوں کہ باقاعدہ سرکاری اسکول سینکڑوں کی تعداد میں اور مزید ہزاروں میں اس کا اضافہ ہوتا جائے گا جو سرکاری اسکول ہیں، ان کو این جی اوز کے حوالے کیا جا رہا ہے، غیر ملکی این جی اوز کے حوالے کیا جا رہا ہے، ان کو پرائیوٹائز کیا جا رہا ہے، نجی شعبوں کی طرف لیا جا رہا ہے اور وہ مدرسہ جو نجی شعبے میں ہے، جو رفاہی ادارہ ہے، جو طالب علم کو پڑھاتا ہے تو جگہ بھی دیتا ہے، کمرہ بھی دیتا ہے، بجلی بھی دیتا ہے، گیس بھی دیتا ہے، صبح و شام کا کھانا بھی دیتا ہے اور کتاب بھی دیتا ہے، تمام سہولتیں مہیا کرتا ہے اس مدرسے کو اپنے قبضے میں لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تو تم اپنے اسکولوں کو نہیں چلا سکتے، تم تسلسل کے ساتھ سرکاری اسکول نجی شعبے کو دے رہے ہیں اور ان کو پرائیوٹائز کر رہے ہیں اور دینی مدرسے کو اپنے تحویل میں لینے کی کوشش کر رہے ہیں، کیا مقصد ہے تمہارا؟ یہی کہ اگر دینی مدرسے میں دین کا علم ہے تو یہ سلسلہ بند ہو جائے۔
برصغیر کی تاریخ میں خانقاہیں بھی ہیں لیکن ہم ان خانقاہوں کی تاریخ بھی جانتے ہیں، ان درگاہوں کی تاریخ بھی جانتے ہیں جنہوں نے انگریز کے لئے خدمتیں سر انجام دی آج وہ خانقاہیں نہیں بڑی بڑی جاگیرے ہیں، کمائی کے ذرائع ہیں اور جنہوں نے انگریز کا مقابلہ کیا وہ خانقاہیں آج بھی فقیروں کی طرح ہیں۔ تو ہمارے ملک کے نظام میں وہ سلسلہ مسلسل چلا آرہا ہے۔ پی آئے کو نجی شعبے میں دے رہے ہیں اور دینی درگاہ کو اپنے قبضے میں لے رہے ہیں اور ہماری پنجاب کی گورنمنٹ کہتی ہے امام بڑا غریب ہے پانچ ہزار، دس ہزار بیچارے کی تنخواہ ہے ہم پچیس ہزار دیں گے۔ مولوی صاحب کا غم کھائے جا رہا ہے۔ ہمارے صوبے میں بھی ایک زمانے میں صوبائی حکومت نے دس ہزار کا اعزازیہ مقرر کیا تھا، آپ کی ہمدردی کا شکریہ۔ دیکھیں آگے بھی جائے نا۔ پیسہ تو آپ دے رہے ہیں پچیس ہزار، لیکن مولوی کو آپ پگڈنڈی کے اوپر ڈال رہے ہیں، ایسی پگڈنڈی پر کہ اگر تھوڑا آگے کچھ ہوتا ہے تو گرتا ہے۔ تم نے پچیس ہزار کے لیے جو شرائط رکھے ہیں کہ کن شرائط پر دیا جائے گا، آپ امامت کرائیں گے تو کیسے کرائیں گے؟ آپ خطبہ پڑھیں گے تو کیسا خطبہ پڑھیں گے؟ اور پھر مولوی صاحب کے پاس جا کر اس کو باقاعدہ لکھنا پڑے گا تمہارا نام کیا ہے؟ تمہاری ولدیت کیا ہے؟ تمہاری بیوی کیا نام کیا ہے؟ کتنی بیویاں ہیں؟ بچے کتنے ہیں؟ تمہارا قد کتنا ہے؟ تمہارے آنکھوں کا رنگ کیسا ہے؟ اور تقریر یوں کرنی ہوگی، بات اس طرح کرنی ہوگی، گفتگو میں یہ ہوگا اور خبردار اگر غلطی کی تو پھر صرف یہ نہیں کہ پچیس ہزار روک دیے جائیں گے جتنے وصول کیے ہیں وہ بھی واپس کرو، تو میں نے ایک لفظ کہہ دیا کہ ہم تمہارے منہ پہ مارتے ہیں، اس پر وہ ناراض ہوتے ہیں، ناراضگی شاید اس وجہ سے ہو کہ ایسی بات کرنے والی خاتون ہے مطلب یہ ہم مسترد کرتے ہیں۔ کچھ الفاظ ہوتے ہیں جہاں الفاظ کی پیچھے نہیں جانا ہوتا، اس کے معنی مفہوم کی پیچھے جانا ہوتا ہے۔
مدارس کے بارے میں کہتے ہیں وزارت تعلیم کے تحت، پتہ نہیں تیس لاکھ طلبہ کہاں ہیں بھئی، مدارس، یہ مدارس نہیں ہے یہ علماء کی حوصلہ شکنی کرنے کی کوشش ہے، ان کو اپنے زیر دام لانے کی کوشش ہے، ان کی آزادی و حریت کو چھیننے کی کوشش ہے، تعلیم کا نظام اپنے قبضے میں لینے کی کوشش ہے۔ تو حکمرانوں سن لو! الحمدللہ ابھی تک ہم زندہ ہیں تمہارا باپ بھی یہ خواب پورا نہیں کرسکتا۔ ہمارے ہاں اسلام آباد میں ایک نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی ہے، این ڈی یو کہتے ہیں اسے، تو یہ صرف حکمرانوں کے پاس نہیں ہے ہمارے مولویوں کے پاس بھی اس طرح کے این ڈی یو ہے، لیکن یہاں پر جو این ڈی یو ہے وہ ہے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اور جو ہمارے مولویوں کے پاس ہے وہ ہے نیشنل ڈمی یونیورسٹی، تو ڈمی نہیں چلے گا اور میں حکمرانوں سے بھی کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے آپ کو خراب نہ کرو، اس مدرسے سے بھی کئی گنا بڑا حال بنا دو اور اپنی مرضی کے مولویوں کو جہاں جہاں سے وہ اکٹھا کر لو اور وہ جو مدح سرا ہوتے ہیں جتنی بھی وہ مدح سرائی کریں ان شاءاللہ خواجہ سرا ثابت ہوں گے، کوئی فائدہ نہیں بھائی ایسے اپنے آپ کو خراب نہ کرو، آپ کو کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔
تو ان شاءاللہ یہ مدارس اسلام کے قلعے ہیں اور آپ کی پشت پر جس طرح ڈھائی سو سال سے زیادہ کی لمبی تاریخ ہے ہم نے اُس کی روشنی میں چلنا ہے، ہم نے اُن کے اصولوں میں چلنا ہے، ہم نے اُن کے طرز عمل کی پیروی کرنی ہے۔ آج کل تفرقہ بازی اُس کی بڑی تعریفیں ہوتی ہیں، پتہ نہیں کوئی ایک نیا اٹھتا ہے، یکدم سکالر بن جاتا ہے اور پھر اپنے طور پر دینِ اسلام کی اور قرآنِ حدیث کی نئی نئی تشریحات وہ تعبیرات کرتا ہے اور وہ تعبیرات جو مغرب کے لئے قابل قبول ہوں اور پھر ہم پہ تنقید کرتا ہے۔ یہ تو فرقوں میں تقسیم ہیں، یہ تو فرقیں ہیں، میں تو الگ سا، بابا تم الگ سا ایک مستقل فرقہ بن رہے ہو، تم تفرقوں میں اضافے کا سبب بن رہے ہو، کس چیز کے سکالر ہو تم، تمہارے پاس نہ سند ہے نہ تمہارے پاس کوئی استاد ہے۔ اب کوئی شخص گھر میں طب کی کتابیں جمع کر کے پڑھتا رہے پڑھتا رہے پڑھتا رہے، گھر میں پڑھتا رہے کیا وہ ڈاکٹر کہلائے گا، کیا وہ طبیب اور حکیم کہلائے گا، وہ میری طرح کا ڈاکٹر ہوگا۔
تو اس پہلو کو ذرا مدنظر رکھنا ہے، یہ تو انگریز کے پیروکار ہیں لڑاؤ اور حکومت کرو، لڑاؤ اور حکومت کرو، مدارس کو توڑو، جماعتوں کو توڑو، مسالک کو توڑو، لیکن الحمدللہ وفاق المدارس بھی بڑے آب و تاب کے ساتھ کام کر رہا ہے اور جمعیت علماء بھی الحمدللہ سیاست کے عروج پر کام کر رہا ہے۔ لیکن سیاست کو آپ اس طرح دعویدار بن جائیں جس طرح آپ اس شریعت کے دعویدار ہیں، اس طریقت کے آپ دعویدار ہیں، اسی طرح سیاست کے آپ دعویدار بنیں، یہ بھی تو انبیاء کی وراثت ہے، اب جب سیاست انبیاء کی وراثت ہے، یہ ان کا وظیفہ ہے، اب آپ مولوی صاحبان اپنے علاوہ کسی کو مصلے پر نہیں چھوڑتے کہ یہ پیغمبر کا مصلہ ہے یہ میرا حق ہے، اس کا وارث میں ہوں، العلماء ورثۃ الانبیاء، منبر پر آپ کے علاوہ کوئی کھڑا نہیں ہوسکتا خطبہ دینے کیلئے، کہ یہ پیغمبر کی وراثت ہے اور اس پر عالم ہی بیٹھ سکتا ہے، تم نہیں بیٹھ سکتے۔ تو پھر سیاست کا عظیم منصب کیا وہ انبیاء کا منصب نہیں ہے، آپ نے کس کو حق دے دیا وہاں پر اس کی بیٹھنے کا، تو یہ ایسا ہی ہے جیسے دنیا کی نعمتیں ہیں اور دنیا کی زیب و زینت اور دنیا کی طیبات اگر ہمارا کوئی صوفی خشک ملا، وہ تقریر کرتا ہے دنیا کو چھوڑو یہ دنیا کیا چیز ہے اور بس ترک دنیا اور زہد اس کو کہتے ہیں کہ دنیا کو ترک کر دو اور میلے کچیلے رہو اور بس ختم کرو مسئلہ کو اور دنیا نے کیا رکھا ہے آج ہے کل نہیں ہے، بابا اس پر سب کا ایمان ہے اس پر جانوروں کو بھی ایمان ہے کہ ہم نے ختم ہونا ہے، لیکن اللہ رب العزت نے اس دنیا کی جو نعمتیں پیدا کی ہیں اس پر بھی سب سے پہلا حق مؤمنین کا ہے؛
قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ ۚ قُلْ هِيَ لِلَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ
یہ تمام وسائل چاہے نہریں ہیں، چاہے زرعی زمینیں ہیں، چاہے باغات ہیں، چاہے معدنیات ہیں یہ سب کے سب مؤمین کا اس پر پہلا حق ہے دنیا میں، لیکن مشاہدہ یہ ہے کہ ان نعمتوں کے اصل مالک جیسے غیر مسلم دنیا ہو، سو میں بتا دینا چاہتا ہوں ہمارے اکابر مفسرین اس کی تاویل کرتے ہیں کہ چونکہ ہمارا اللہ سے ایمان کا رشتہ کمزور ہو گیا ہے تو غیر مؤمنین و غیر مسلمین نے اب ان پر قبضہ کر لیا ہے ان کی حیثیت غاصب کی ہے تو غاصب سے بھی تو کبھی بھیک مانگی جاتی ہے۔ تو جس سیاست، اجتماعی زندگی، مملکتی زندگی اور جس پر کے آپ علماء اکرام کا حق ہے ان کو کہا جاتا ہے آپ تو دنیا کے لوگ نہیں ہیں، آپ تو آخرت کے لوگ ہیں، یہ سیاست تو دنیا کی چیز ہے، یہ کرسی تو دنیا کی چیز ہے، یہ تو دنیا کی معتبری کا نام ہے اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں، سو اس پر ہم دنیا داروں کا حق ہے، سو دنیا داروں کا حق نہیں ہے۔ تو اللہ نے جب پیدا کیا ہے دنیا میں، مجھے بھی دنیا میں پیدا کیا اور ان نعمتوں کو بھی دنیا میں پیدا کیا، ان طیبات کو بھی دنیا میں پیدا کیا، تو دنیا کی زندگی میں ان نعمتوں پر بھی سب سے پہلے حق مومنین کا ہے اور آج یہ لوگ جس طرح عالمی سطح پر عالمِ کفر ان نعمتوں پر قابض ہے اس طرح ہمارے ملک کا سیاستدان اس مسند سیاست پر قابض ہے اور آپ ان سے بھیک مانگ رہے ہیں۔ یہاں سمجھو اپنے حق کو، لاؤ حق اپنے ہاتھ میں لاؤ، خود اعتمادی اپنے اندر پیدا کرو، ہمیں ان کم بختوں نے احساس کم تری میں مبتلا کیا ہوا ہے، جیسے ہم کسی کام کے نہیں، ہم بڑے کام کے لوگ ہیں ایسا نہیں ہے۔
تو یہ چیزیں ذرا مدنظر رہنے چاہیئے، ہمیں اس رخ پر سوچنا چاہیئے اس لیے کہ جو آپ نے پڑھا آج، بخاری شریف کی آخری حدیث پڑھی، قرآن کریم پہ ختم کرتے ہیں یہ سارے کی سارے چیزیں یہ اللہ کا وہ دین ہے کہ جس دین کو آپ نے دنیا میں نافذ کرنا ہے، یہ حاکمیت کا متقاضی ہے، انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی، مملکتی زندگی ہو یا ملی زندگی اس پہ تطبیق کا تقاضا رکھتا ہے؛ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ، میں نے تمہارا دین تمہارے لئے مکمل کر دیا ہے تو اکمال دین بہ اعتبار تعلیمات اور احکامات، وَأَتْمَمتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِ اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور نعمت یہاں مطلقاً ذکر ہوا ہے اور جو چیز ذکر ہو مطلقاً خارج میں وہ فرد کامل مراد ہے، تو نعمت کا فرض کامل کیا ہوگا، نعمت کا فرض کامل اس کامل اور مکمل دین کی اقتدار و حکومت کا نام ہے، وَأَتْمَمتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِ، میں نے اپنی نعمت تم پر تمام کر دی تو اتمام نعمت اس کامل اور مکمل دین کی حاکمیت اور اس کی اقتدار و حکومت کا نام ہے، وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا اور اسلام کو بطور نظام حیات کے میں نے تمہارے لئے پسند کر دیا ہے۔
حضرت یعقوب علیہ السلام جو اپنے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام کے غائب ہو جانے کے بعد ان کے غم میں بصارت کھو بیٹھے تھے اور جس وقت ان کی قمیض لائی گئی اور آپ کے چہرے پر ڈالی گئی اور آپ کی بصیرت لوٹ آئی، تو آپ نے پوچھا یوسف کو کہاں چھوڑ آئے؟ تو جواب دیا ملک مصر، مصر کا بادشاہ بنا کر چھوڑ آئے، اندازہ تو تھا کہ خوابوں کا یہی تعبیر ہوگا، عَلَىٰ اَيِّ دِینٍ تَرَكْتَ کس دین پر چھوڑ کر آئے ہو ؟ کہا عَلَىٰ دِینِ الْإِسْلَام، حکمران بھی ہے اور اسلام کی حکومت قائم کی ہے۔ تو حضرت یعقوب نے جواب میں فرمایا الْآم تَمَّتِ النِّعْمَةِ پس اب نعمت تمام ہوگئی، واَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِ اور الْآن تَمَّتِ النِّعْمَةِ ان کو آپس میں ملاؤ، پھر دیکھو کہ اللہ کا دین کیا تقاضا کرتا ہے آپ سے، اس پہلو کو نظرانداز کیا ہوا ہے اگر ہم نے، تو بلکل پھر وہی نتیجہ نکلے گا جس طرح قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ، اب اس آیت پر ہماری نظر نہیں ہے، ہماری نظر وہ دوسری آیت کے جاکر پڑتی ہے جہاں اللہ تعالی آزمائش میں مبتلا کرتا ہے، وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ۔ وہ بھی اپنی جگہ پر ٹھیک ہے کہ اتنا بھی دنیا کو دل مت دو کہ ایک حصہ نعمتوں کا جو اس دنیا میں اللہ نے دیا ہے اور ننانوے فیصد نعمتیں اللہ نے آخرت میں رکھی ہوئی ہیں اور خالصتاً يوم القیامہ، وہ صرف مومنین کے لئے ہوں گی۔ تو اسی لئے جب دعا کی جاتی ہے اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي حَظَّ الدُّنْيَا وَنَعِيمَ الْآخِرَةِ، یہ حظ ہو جاتا ہے۔
تو اس اعتبار سے ان مدارس کا تحفظ ضروری ہے، ان علوم کا تحفظ ضروری ہے، اس تربیت کا تحفظ ضروری ہے، اس سیاست کو اٹھانا ہے، علماء کرام نے اٹھانا ہے، علماء ہی اس کے وارث ہیں اور سیاست پر سب سے پہلے حق علماء کرام کا ہے۔ اور اپنے اکابر کے قربانیوں کی طرف جاؤں ذرا، بلکہ میرے نزدیک تو سب سے بڑی خانقاہ ہی جمعیۃ ہے۔ یہ جو آپ لوگ خانقاہوں کے اندر بیٹھتے ہیں اور ضربیں لگاتے ہیں اللہ اللہ اللہ، یہ ضربیں کس لیے لگائی جاتی ہیں، اس لیے کہ اندر کی سینے کی جو کثافتیں ہیں ان کثافتوں کو روحانی لطافتوں میں تبدیل کر دی جائے۔ یہ سب یہی معنی ہے نا، تو اندر کی جو کثافتیں ہیں ان کو روحانی لطافتوں میں تبدیل کرنے کیلئے ہم خانقاہوں میں بیٹھتے ہیں، یہ مدرسہ ہے، خانقاہ باقاعدہ مدرسہ ہے، جس طرح دینی علوم کیلئے مدرسہ مدرسہ ہے، وہ بھی مدرسہ ہے۔
تو جمیعۃ علماء اسلام کو سیاست کا مدرسہ سمجھ لو، حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ ایک طرف مدرسہ کی اثاث ہیں اور دوسری طرف جمیعۃ علماء کی اثاث ہیں۔ ایک اعتبار سے ہم ان کو مقتدا مانتے ہیں اور اپنے آپ کو اس کا وارث اور دوسری اعتبار سے ہم نے ان کو چھوڑ دیا۔ مولانا ارشد مدنی دامت برکاتہم تشریف لائے تھے، ڈیرہ اسمعیل خان میں تقریر کر رہے تھے، تو حضرت شیخ الہند کا ایک قول انہوں نے نقل کیا اور فرمایا کہ جو لوگ حجروں میں بیٹھ کر اور محرابوں میں بیٹھ کر دین کی خدمت کو اپنے لئے کافی سمجھتے ہیں یہ دین کے خادم نہیں، دین کے دامن پر کالا داغ ہیں۔ یہ لوگ ہماری مقتدا ہیں، ان کو ہم نے کہاں چھوڑ دیا۔
سو ان سارے خطوط کو لے کر ہم نے آگے بڑھنا ہے، شریعت کو بھی، طریقت کو بھی، سیاست کو بھی اور ملک کو ٹھیک کرنا ہے۔ کیونکہ سیاست کے جو لغوی معنی ہیں وہ کسی چیز کو ٹھیک کرنا ہے، القيامة بشيء بما يصلح، یہ جامع تاریخ ہے کسی چیز کا اس طرح وجود پذیر ہونا کہ جو اصلاح کا سبب بنے۔ گھر میں جب گھوڑا رکھا جاتا ہے اور آپ گھوڑے کو دھوتے ہیں، صاف کرتے ہیں، خرخرہ کرتے ہیں، اس کے زین کو صاف کرتے ہیں، اس کی اوپر ڈالتے ہیں، اس سب کو سیاست کہتے ہیں۔
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اہلیہ تھی وہ خود فرماتی ہیں؛ وَكَانَ لَهُ فَرَسٌ قُمْتُ أَسُوسُهَا، اس کا ایک گھوڑا تھا اس کی دیکھ بھال میں کرتی تھی، وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ عَلَيَّ أَشَقَّ مِن سِيَاسَةِ الْفَرَسِ، گھوڑے کی دیکھ بھال سے زیادہ مشقت والی گھر میں میرے لئے اور کوئی چیز نہیں تھی۔ تو سیاست دیکھ بھال کا نام ہے، تدبیر و انتظام کا نام ہے، الْقِيَامَةُ بِمَا يَصْلُحُ کا نام ہے اور اللہ کے احکامات کو روئے زمین پر نافذ کرکے عمل قائم کرنے کا نام ہے، حقوق کے تحفظ کا نام ہے۔
تو اللہ تعالیٰ ہمارے ان اداروں کو محفوظ فرمائیں اور جو باتیں میں نے آپ کے خدمت میں عرض کی، یہی جو ہم سے رخصت ہو چکے ہمارے اکابر یہ ان کا نصب العین تھا اور ان کا نصب العین آج ہمارے لئے امانت ہے ان کی امانت کو ہم نے زندہ رکھنا ہے۔
وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
،ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض
ممبرز ٹیم جےیوآئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
#teamJUIswat

.jpeg)
ایک تبصرہ شائع کریں