قائدِ جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا جامعہ مدنیہ جدید لاہور میں دستاربندی کی تقریب سے خطاب
11 جنوری 2026
الحمدللہ، الحمدللہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی لاسیما علی سید الرسل و خاتم الانبیاء وعلی آلہ وصحبہ ومن بھدیھم اھتدی۔ أَمَّا بَعْدُ. فأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔ وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ۔
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔ بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَىٰ: ﴿وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ﴾ وَأَنَّ أَعْمَالَ بَنِي آدَمَ وَقَوْلَهُمْ يُوزَنُ. وَقَالَ مُجَاهِدٌ: الْقِسْطَاسُ هُوَ الْعَدْلُ بِالرُّومِيَّةِ، وَيُقَالُ: الْقِسْطُ مَصْدَرُ أَقْسَطَ، وَهُوَ الْعَادِلُ، وَأَمَّا الْقَاسِطُ فَهُوَ الْجَائِرُ. وَبِالسَّنَدِ الْمُتَّصِلِ، قَالَ الإِمَامُ الْهُمَامُ، أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي الْحَدِيثِ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْجُعْفِيُّ الْبُخَارِيُّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَىٰ عَنْهُ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِشْكَابَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عِمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَىٰ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: كَلِمَتَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمٰنِ، خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ، ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ۔
حضراتِ علماءِ کرام، مشائخِ عظام، طلبہ عزیز، فضلاءِ کرام، بزرگانِ محترم، میرے دوستو اور بھائیو! آج ہم ایسے ماحول میں اس تقریب کا اہتمام کر رہے ہیں کہ جب مولانا محمود میاں صاحب رحمہ اللہ کبھی ہمارے میزبان ہوتے تھے اور آج ہم اُنہیں اپنے پیش رو بزرگوں کی صف میں شمار کر رہے ہیں۔ میں ابھی جامعہ اشرفیہ سے وہاں کی ختمِ بخاری کی تقریب سے آیا ہوں، وہاں بھی صورتحال یہی تھی کہ وقت تو متعین تھا بخاری شریف کی آخری حدیث پڑھنے کا، لیکن وہ بھی مولانا فضلِ الرحیم صاحب کی تعزیت میں بدل گئی۔ سو آج ہمیں بھی اس کیفیت کا سامنا ہے کہ کسی زمانے میں جب میں یہاں حاضر ہوا تھا تو وہ ایک میزبان کے فرائض سرانجام دے رہے تھے اور آج یہ ایک تعزیتی محفل کی شکل اختیار کر گئی ہے ہماری اس مجلس نے، اللہ ربّ العزت ہمارے تمام اکابرین جو اب ہم سے جدا ہو چکے ہیں، اُن کی قبور کو نور سے بھر دے، کروٹ کروٹ اُن پر رحمتیں نازل فرمائے، اور اُن کی قبروں کو جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ بنا دے۔
شریعت نے جو ہمیں تعلیمات دی ہیں، یقیناً موت حق ہے۔ جو بھی اس دنیا میں آیا ہے، وہ جانے کے لیے آیا ہے، کوئی بھی ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں آیا۔ لیکن بڑے لوگ جب دنیا سے چلے جاتے ہیں تو وہ اپنا نصب العین، جس کے لیے انہوں نے اپنی پوری زندگی وقف کی ہوتی ہے، وہ ہمارے اور آپ کے لیے بطور امانت چھوڑ جاتے ہیں۔ اب یہ ہمارا اور آپ کا فرض بن جاتا ہے کہ ہم اُن کے نصب العین کو، اُن کے مقصدِ زندگی کو زندہ بھی رکھیں اور اس کی خدمت کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔
اللہ ربّ العزت فرماتے ہیں:
وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ، أَفَإِن مَاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ، وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا
حضرت محمد ﷺ کی ذاتِ مبارکہ اور صفاتِ مبارکہ کو اگر مختصر الفاظ میں بیان کیا جائے تو ہم یہی کہیں گے:
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
وہ بھی پردہ فرما گئے۔
اب غزوۂ اُحد کے موقع پر جب یہ افواہ پھیلی تو بہت سے صحابۂ کرام وہ بیٹھ گئے، کسی نے تلوار توڑ دی کہ جس کے لیے ہم لڑ رہے تھے وہ نہ رہے تو اب کیا لڑنا ہے؟ اس پر اللہ ربّ العزت نے ایک تعلیم دی جو پوری امت کے لیے تعلیم بن گئی۔ تمام انبیاء دنیا سے گئے، آپ ﷺ نے بھی ایک دن پردہ فرمانا تھا، تو جو مقصد وہ لے کر آئے تھے، کیا تم اس میں پسپائی اختیار کرو گے؟
مفسرین اس پر ایک نکتہ ذکر کرتے ہیں کہ اگر پسپائی اختیار کرو گے تو یہ اپنے آپ کو نقصان پہنچانا ہے، اللہ کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا۔
اللہ ربّ العزت نے اپنے دین کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے، لیکن اسباب کی دنیا میں اللہ نے آپ کو چنا ہے۔ اس اعتبار سے آپ کتنے خوش نصیب ہیں، اور جب آپ اپنی خدمات کو جاری رکھیں گے تو اپنے اساتذہ اور اکابر کے لیے صدقہ جاریہ بنیں گے۔
تو جو شریعت اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کی، پوری امت اس پر عمل پیرا ہے۔ لیکن امام بخاریؒ نے جب اپنی کتاب کا آغاز کیا تو کتاب الوحی سے کیا:
باب کیف کان بدء الوحی إلیٰ رسول اللہ ﷺ
لیکن جو حدیث باب میں لائے وہ ہے:
إنما الأعمال بالنیات
اس بات پر تنبیہ کرنے کے لیے کہ جو کام بھی آپ شروع کریں، اس کی قبولیت کا دار و مدار نیت پر ہے۔ اور نیت عمل ہے دل کا، پھر اس کا اظہار یا تو زبان کے ذریعے ہوتا ہے یا اعضاء و جوارح کے ذریعے سے، ایک بڑے پڑھے لکھے آدمی نے مجھ سے پوچھا کہ اخلاص کسے کہتے ہیں؟ اب میں نے نہ مطالعہ کیا تھا، لیکن مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ شخص اس نوعیت کا سوال کرے گا۔ تو میں نے انہیں جواب دیا کہ قرآن کریم میں ایک سورت ہے، اور اللہ تعالیٰ کی عادت یہ ہے کہ جس سورت میں بھی جس چیز کا ذکر ہوتا ہے، اسی کے مطابق سورت کا نام رکھ دیا جاتا ہے۔ لیکن سورۂ اخلاص میں لفظ اخلاص کہیں موجود نہیں ہے۔ تو ظاہر ہے کہ اس کے پورے مضمون کو پڑھنے کے بعد ہمیں اس کا خلاصہ، اس کا معنی اور اس کا مفہوم متعین کرنا ہوتا ہے۔ تو میں نے کہا: مجھے تو یوں سمجھ میں آتا ہے کہ انسان کی نیت اور اس نیت پر مبنی عمل جب ایک ہی ذات واجب تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوں گے تو اسے اخلاص کہتے ہیں۔ وہ بھی پڑھا لکھا آدمی تھا، پتا نہیں کتنے عرصے سے اس کے ذہن میں یہ سوال تھا۔ بڑے توقف کے بعد کہنے لگا: اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ تو دو جلدوں پر مشتمل احادیث کا مجموعہ، یہ دنیوی زندگی میں عمل کا لائحہ عمل ہے۔ تو پہلے ہی کہہ دیا: إنما الأعمال بالنیات لیکن آخرت میں اعمال کی قبولیت ایمان پر ہے۔
ایمان ہے تو اعمال قبول ہیں، ایمان نہیں ہے تو اگر اچھے کام بھی کرو تو آخرت میں کوئی کام نہیں آئیں گے۔ اسی لیے بعض شارحین فرماتے ہیں کہ کتاب الوحی یہ بمنزلہ مقدمہ کے ہے، اور جب امام بخاریؒ مقدمہ سے فارغ ہوئے تو اب کتاب الإيمان سے آغاز کرتے ہیں۔ لہٰذا صحیح بخاری کا اصل آغاز کتاب الإيمان سے ہے، کیونکہ تمام اعمال کی آخرت میں اور ابدی زندگی میں قبولیت کا مدار ایمان پر ہے۔ لیکن جب کتاب الإيمان کا ذکر کیا تو جتنے ابواب اور جتنی احادیث لائے، وہ سب ایجابی پہلو سے ہیں: آپ کا یہ عقیدہ ہے تو آپ مومن ہیں، آپ کا یہ عقیدہ ہے تو آپ مومن ہیں۔ اور جب کتاب کا اختتام کیا تو وہ کتاب التوحید پر کیا۔ یعنی ابتدا بھی عقیدے سے اور انتہا بھی عقیدے پر۔ لیکن کتاب التوحید میں جتنے ابواب ہیں، غالباً اٹھاون، اور ان میں جو احادیث ہیں وہ منفی پہلو سے ہیں: اگر آپ کا یہ عقیدہ ہے تو آپ مومن نہیں ہیں، یہ عقیدہ ایمان کے منافی ہے اور یہ آخری باب:
باب قول اللہ تعالیٰ: وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ یعنی اعمال ایسے نہیں ہیں کہ دنیا میں کر لیے اور بس ختم ہو گئے۔ دنیا میں عمل ہے، حساب نہیں، اور آخرت میں حساب ہے، عمل نہیں۔ تو آخری باب میں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ یہ اعمال تولے جائیں گے۔ وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ ہم قیامت کے دن عدل کے ترازو قائم کریں گے۔ موازین، میزان کی جمع ہے۔ میزان وزن سے ہے، مصدرِ مثال واوی ہے۔ بظاہر اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ترازو متعدد ہوں گے۔ اگر ترازو متعدد ہیں تو باعتبارِ اشخاص، باعتبارِ اقوال، باعتبارِ اعمال کہ، اور بعض شارحین کہتے ہیں کہ میزان ایک ہی ہے، اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمان و زمین سب ایک پلڑے میں رکھ دیے جائیں گے۔ تو جب میزان ایک ہے اور جمع موازین لایا گیا ہے تو یہ جمعِ تفخیم کے لیے ہے۔ جیسے ہم اپنے معزز مہمانوں کو بلاتے وقت کہتے ہیں: “ہمارے محترم مہمان تشریف لا رہے ہیں” یہ نہیں کہتے: “ہمارا مہمان آ رہا ہے”۔ اسی طرح قرآن میں فرمایا: وَكَذَّبَتْ قَوْمُ نُوحٍ الْمُرْسَلِينَ حالانکہ نوح ایک ہی رسول تھے، لیکن تعظیماً مرسلین فرمایا۔ اور یہاں القسط مصدر ہے، اور مصدر میں مفرد، تثنیہ اور جمع سب برابر ہوتے ہیں۔ اسی لیے کہا جا سکتا ہے: میزانِ قسط، میزانانِ قسط، موازینِ قسط۔ اور بعض مقامات پر موازین موزون کی جمع بھی ہے:
فَأَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ۔ وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ
آگے فرمایا: وَقَالَ مُجَاهِدٌ: القسطاس العدل بالرومیہ
امام بخاریؒ کی عادت ہے کہ ترجمۃ الباب میں اگر کوئی لفظ آئے تو اسی مادے سے قرآن میں موجود دوسرے الفاظ کی طرف بھی اشارہ کر دیتے ہیں۔ اور اگر کوئی لفظ رومی یا عجمی ہو، لیکن عربوں میں رائج ہو جائے تو وہ مُعَرَّب ہو جاتا ہے، اور قرآن کا اعجاز الفاظ سے نہیں بلکہ اسلوبِ عربی سے ہے۔ اس لیے ایک دو عجمی الفاظ آنے سے فصاحت و بلاغت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ یہ پورا نظام، یہ پورا علم، قیامت کے دن حساب میں آئے گا۔ اور امام بخاریؒ نے یہ سب سند کے ساتھ بیان کیا ہے۔ جیسے شریعت میں سند ہے، طریقت میں سند ہے، سیاست میں بھی سند ہے، اور تمام سندیں رسول اللہ ﷺ تک پہنچتی ہیں۔ ہمارے اکابر نے جو شریعت ہمیں دی ہے وہ کسی محدود فکر پر نہیں، بلکہ ایک جامع، آفاقی اور عالمی نظریے پر مبنی ہے۔ جب ہم اپنے آپ کو اہلِ سنت والجماعت کہتے ہیں تو یہ کوئی نیا نام نہیں، بلکہ خود صحابہؓ اور تابعین کے فہم سے ثابت ہے۔ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں:
يَوْمَ تَبْيَضُ وُجُوهُ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ، وَتَسْوَدُ وُجُوهُ أَهْلِ الْبِدْعَةِ وَالضَّلَالَةِ
دارالعلوم دیوبند اور اس کے اکابر اسی فکر کا تسلسل ہیں، کوئی تنگ نظر یا محدود فکر کا فرقہ نہیں۔ یہ اسی فکر کا نشاط ثانیہ ہے جسے برصغیر اور عالمی سطح پر فروغ ملا۔ تو اس اجتماعیت کو سامنے رکھتے ہوئے ہم نے زندگی گزارنی ہے ہر آدمی جماعت سے الگ ہو جاتا ہے اور پھر خود کو دین کا معیار سمجھتا ہے اور پوری امت کو کہتا ہے کہ یہ تو روایتی قسم کے لوگ ہیں، رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: الجماعۃ رحمہ و فرقۃ العذاب،
تو ہمارے اکابر نے جس اجتماعیت کو سامنے رکھ کر ہمیں حوالے کی ہے۔ اب جو بھی الگ ہو جاتا ہے کہتا ہے میں معیار ہوں۔ اب پورے برصغیر کے علماء ہند وستان کے ہو، بنگلہ دیش کے ہو، پاکستان کے ہو اگر تمام کے تمام اور تمام مکاتب فکر اس بات پر اتفاق کر لیتے ہیں کہ مسلح جنگ نہیں، اس اجماع سے ہٹ کر اگر کوئی سمجھتا ہے کہ مجھ پر تو جہا د پر فرض ہے اور مسلح جہا د فرض ہے وہ اس کا تفرد ہے۔ اب جب امت فرقوں میں بٹے گی، تفرقہ آئے گا تو اس تفریق کی ایک تعبیر تو رب العالمین نے کی ہے۔
تو بہرحال حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے: كَلِمَتَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمٰنِ، خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ، ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ۔
اب آپ حضرات بھی پڑھ لے اس کو سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ (تین بار)
وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
،ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض
ممبرز ٹیم جےیوآئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
#teamJUIswat

.jpeg)
ایک تبصرہ شائع کریں