قائد جمعیۃ مولانافضل الرحمن صاحب کا ڈیجیٹل میڈیا کنونشن لاہور سے خطاب

قائد جمعیۃ مولانافضل الرحمن صاحب کا ڈیجیٹل میڈیا کنونشن لاہور سے خطاب

12 جنوری 2026

الحمد للہ رب العالمین، الصلاۃ والسلام علی أشرف الأنبیاء والمرسلین، وعلی آلہ وصحبہ ومن تبعھم باحسان الی یوم الدین۔

سب سے پہلے میں پنجاب ڈیجیٹل میڈیا کنونشن کے انعقاد پر پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے مجھے اس میں شریک ہونے کی دعوت دی اور مجھے یہ اعزاز بخشا کہ میں اپ کی خدمت میں کچھ باتیں عرض کر سکوں۔

جس موضوع کو لے کر یہ کنونشن منعقد کیا جا رہا ہے، جتنی بھی گفتگو اب تک ہوئی ہے شاید وہی گفتگو اس مجلس کے موضوع کا تقاضا ہو اور میں اگر کوئی بات نہیں کروں گا تو خدا جانے اس موضوع سے اس کو کوئی تعلق ہوگا بھی یا نہیں ہوگا، کچھ منتشر قسم کے خیالات ذہن میں آ رہے ہیں، اس سے پہلے تین صوبوں میں جو کنونشنز ہوئے ہیں اس میں بھی میں شریک ہوا ہوں اور سیاسی زندگی میں یہی میرا ایک سوال ذہن میں رہا ہے کہ ہم مسلمان ہیں، ایک اسلامی مملکت میں رہتے ہیں، کسی محاذ پر بھی ہماری زندگی کا عمل ان تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتا، ہر طرف کمزوریاں ہیں۔ لیکن بالخصوص میڈیا کے حوالے سے میں نے ہمیشہ اس بات کا اظہار کیا ہے کہ میڈیا کا جو ماحول ہے، میڈیا کا جو نظام ہے، میڈیا کی جو طلب ہے، میڈیا کا جو خوراک ہے، میڈیا کی جو ترجیحات ہیں، وہ سراسر شریعت کے بالکل متصادم ہے۔ جیسے کہ مجھ سے پہلے بھی یہ بات کہی گئی کہ آج کل خاص طور پر سوشل میڈیا میں نیگیٹیوٹی بہت فاسٹ ہے بہ نسبت پازیٹیوٹی کے، کوئی الٹی سیدھی بات، کسی کی توہین، کسی کی تحقیر، کسی کا مسخرہ، کسی کے خلاف جھوٹ باندھنا، یہ بہت تیزی سے پھیلتا ہے بہ نسبت اس کے کہ آپ اس کی کوئی سنجیدہ گفتگو کو لیں۔ میں دیکھتا ہوں ہمارے بہت سے اچھے اچھے علماء بڑے اچھے اچھے مدرسین جو پانچ پانچ چھ چھ گھنٹے مسلسل پڑھاتے ہیں، بہت ہی اعلٰی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں، تفسیر پڑھاتے ہیں، حدیث پڑھاتے ہیں، فقہ پڑھاتے ہیں، لیکن اگر دوران درس انہوں نے کوئی مذاق کر لیا، بہرحال انسان انسان ہے، اگر پانچ چھ گھنٹے وہ درس دیتا ہے تو کبھی کوئی لطیفہ بھی سنا دیتا ہے، ذرا تھوڑی سی وہ تھکاوٹ دور کرنے کے لیے ذہنی تھکاوٹ دور کرنے کے لیے، بس وہی کلپ جو ہے وہ پوری دنیا میں چل رہا ہوتا ہے اور اتنا بڑا درس اور تعلیم وہ پیچھے چلا جاتا ہے۔ اور پھر یہ کہ ہم منفی خبروں کے پیچھے چلتے ہیں۔ کسی کا کوئی عیب مل جائے ٹٹولتے رہتے ہیں، اب یہ ہمارے میڈیا کی ترجیح ہے، کوئی اچھی بات مل جائے وہ کوئی خبر ہی نہیں ہے ہے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں "کہ کسی مسلمان بھائی کے عیبوں کے پیچھے نہ لگا کرو، ان کی عیبوں کو مت ٹٹولنے کی کوشش کرو ورنہ اللہ کو تو تیرے عیب بھی معلوم ہے اللہ تیرے عیبوں کو ٹٹولے گا اور گھر بیٹھے بیٹھے تجھے رسوا کر دے گا، کیا منصوبہ بندی آپ کریں گے کہ میں فلاں کے خلاف یہ بناؤں گا، اور فلاں کے خلاف یہ بناؤں گا، یہ بناؤں گا، اس کی اس عیب کو ڈھونڈوں گا اور ہماری سیاست میں بھی یہی ہے، ہمارے خفیہ ادارے جو ہیں وہ بھی یہی کام کرتے ہیں کہ اگر اپ ان کی مزاج کے مطابق کوئی بات کریں تو پھر تو اس کے آپ اپنے، لیکن اگر آپ نے اختلاف رائے کیا، بھئی اس کی فائل بناؤ، ڈھونڈو کہیں سے کوئی بات، کوئی جائیداد ڈھونڈو اس کی، کئی کوئی تقریر ڈھونڈو اس کی، تو یہ جو ہم ایک منفی انداز کے ساتھ کسی کے پیچھے لگ کر خبر ڈھونڈتے ہیں اور اسی ہی کو ہم خبر کہتے ہیں یہ نہ شریعت کی تعلیم ہے اور نہ یہ شریعت کا مزاج ہے۔ اور جیسے کہ اپ کو بتایا گیا کہ اگر کوئی شخص تمہارے پاس کوئی خبر لے آئے تو اس کی تحقیق کرو:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ۔

 اگر کوئی شخص آپ کے پاس بغیر تحقیق کے کوئی خبر لے آتا ہے تو تم تحقیق تو کرو، ایسا تو نہ ہو کہ کل کلاں اس کی حقیقت سامنے آئے اور آپ کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ نبی علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:

كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ

کسی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی بات جو ہے وہ لوگوں کو سناتا رہے بغیر تحقیق کی اور یہاں تو ہم تحقیق وغیرہ کا سوال نہیں ہے ہم تو جھوٹی خبر بناتے ہیں، کسی کے کردار کشی کے لیے بناتے ہیں اور پھر جب ہم کسی کا مذاق اڑاتے ہیں کسی بھی سیاستدان کا خاص طور پر جب کوئی ایسا پوسٹ آتا ہے کہ مخالف اس کو استعمال کر سکتا ہے اور اس پر معاشرے میں لوگوں کے تبصرے کروا سکتا ہے اس کا مذاق اڑا سکتا ہے تو ہم ان چیزوں کو ڈھونڈتے رہتے ہیں اور اللہ رب العالمین نے اس سے منع کیا ہے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ عَسَىٰ أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِّن نِّسَاءٍ عَسَىٰ أَن يَكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ ۖ وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ ۖ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ۔

تم لوگ مرد ہو تو ایک دوسرے کا مسخرہ نہ اڑایا کرو، کسی کو مذاق نہ بنایا کرو، ممکن ہے وہ دوسرا مرد آپ سے زیادہ بہتر ہو، عورت ہو تو دوسرے عورت کا مذاق نہ اڑائے ممکن ہے وہ عورت اس سے زیادہ بہتر ہو۔ ایک کمزوری نظر آگئی اور آپ اس کے پیچھے جو ہے مسخرہ اڑا دیا، مذاق اڑا دیا، اپنے اندر عیب نہ ٹٹولا کرو، کسی کو برے لقب سے نہ پکارا کرو اور ایمان کے لانے کے بعد اگر سب سے بڑی بری بیماری ہے وہ یہی ہے جو اللہ تعالی نے گن کر بتا دی ہے۔ کس چیز کے ہم مسلمان ہیں؟ کس بات پر ہم مسلمان ہونے کا دعوی کرتے ہیں؟ ہم کلمہ گو لوگ ہیں ہم ایمان لائے ہوئے ہیں، نہ قرآن کی تعلیم ہمارے مد نظر ہے نہ رسول اللہ کی تعلیمات ہمارے مدنظر ہیں۔

تو ایک تو میں اپنے جماعت کے ان دوستوں کا جنہوں نے یہ بیڑا اٹھایا ہوا ہے ان کو یہی نصیحت کروں گا کہ اپ کے ہر بات میں ایک سچائی ہونی چاہیے، حقائق پر مبنی گفتگو ہونی چاہیے، اس میں وقار ہونا چاہیے، اس میں سنجیدگی ہونی چاہیے، اگر اپ کسی کا جواب بھی دے رہے ہوں وہ بھی حقیقت پر مبنی ہونی چاہیے۔ کیونکہ ہم بھی دیکھتے ہیں ہماری اچھائیوں اور برائیوں کو ایسا پیش کرتے ہیں کہ دیکھو یہ تضاد، یہ تضاد، اچھے برے کو گڈ مڈ نہ کرو اور ہماری جماعت بہت پرانی ہے میرے خود اس میں پینتالیس سال ہو گئے ہیں، چھیالیس واں سال شروع ہے، اب دس سال پہلے سیاسی ماحول اور، اس سے دس سال پیچھے جائے تو اور، اس سے پہلے جائے تو اور، چالیس سال پہلے جائیں گے اس وقت اگر میری کوئی تقریر ہوگی وہ اس ماحول کے مناسبت سے ہوگی اور آج کے ماحول میں وہ منطبق نہیں ہوگی تو اسے اٹھا کر، لگا کر، فضل الرحمن نے کل یہ کہا تھا اور آج یہ کہہ رہا ہے، کل یہ کہا تھا، وہ یہ، بھئی وہ سارا سینیاریوں لگاؤ نا، کہ میں نے کس حالت میں کس کس ماحول میں یہ بات کہی تھی۔ تو ہم بدنیتی پر مبنی اس قسم کے پروگرام کرتے ہیں، کردار کشی کرتے ہیں اور پھر ظاہر ہے کہ یہ ایک نئی دنیا ہے اب نئی دنیا کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں لیکن اصول ایک ہی ہے۔ جب یہ کچھ بھی نہیں تھا، جب ٹیپ ریکارڈر بھی نہیں تھے، تو اس زمانے میں بھی خطیب ہوتے تھے، واعظ ہوتے تھے وہ بھی ایک میڈیا تھا، تو پہلے پانچ منٹوں میں پتہ چل جاتا تھا کہ اس مقرر کی تقریر کی لے کیا ہے، تو اگر ابتدا میں متاثر کیا تو ایک گھنٹہ دو گھنٹے کی تقریر کے لیے بیٹھے اور اگر ابتدا میں اس کا تاثر اچھا نہیں ہوتا تو چھوڑ جاتے تھے، چلے جاتے۔ اگر مجھ جیسے آدمی کا تقریر کوئی سنے گا تو پانچ منٹ کے بعد بور ہو جائے گا کہ یہ مولوی صاحب جو ہے یہی باتیں کرتا رہتا ہے اور اگر یہی موضوع عطاء اللہ شاہ بخاری بیان کرے گا تو صبح لوگ بیٹھے رہیں گے۔

تو یہ کوئی آج کی نئی بات نہیں ہے، لیکن اس نئے نظام کے ساتھ اس کا ایک تعلق بن رہا ہے تو وہ جدید تعلق اور نئے تعلق کو وہاں پر بیان کرتے ہیں، ورنہ اصول ایک ہی ہوتا ہے۔ یہ جب کسی زمانے میں یہ کچھ نہیں ہوتا تھا ہمارے دیہاتوں میں محلوں میں ایک بیٹھک کے اندر حجرے میں لوگ جمع ہوتے تھے محلے والے نوجوان بھی ہوتے تھے بزرگ بھی ہوتے تھے سب اکٹھے ہوتے تھے اور جب رات کو وہ بیٹھتے تھے تو ان کی گفتگو کا کوئی موضوع نہیں ہوتا تھا اور جب کوئی زیر بحث آجاتا تھا یا کوئی شخصیت زیر بحث آگئی، یا کوئی مسئلہ زیر بحث آگیا، تو کوئی کنٹرول نہیں ہوتا تھا کہ کون اس پر کیا تبصرہ کر رہا ہے اور کیا کمنٹس کر رہا ہے، کوئی نوجوان کچھ بول لیتا ہے، تو کوئی کچھ بول لیتا ہے، ایک کوئی اور بات کر لیتا ہے اور دوسرا کوئی اور بات کر لیتا ہے، نہ کوئی ایجنڈا ہے نہ کوئی موضوع ہے بس ایک بات آگئی اور اس پر تبصرے شروع ہو گئے، ہماری سوشل میڈیا بن گئی وہ، اب وہ بیٹھک جو ہے وہ ہمارا ایک موبائل بن گیا ہم اس میں دیکھتے ہیں کہ دنیا بھر کے جہاں کے کمنٹس آرہے ہیں، اور کمنٹ آرہے ہیں، ہم بھی بڑے غور سے دیکھ رہے ہوتے ہیں کون لائک کر رہا ہے، کون ڈس لائک کر رہا ہے، اور پھر کون مثبت بات کر رہا ہے، کون منفی بات کر رہے ہیں، میں کہتا ہوں یہ بالکل دیکھے ہی نہیں، اپنی بات پر اعتماد کرو، میں نے جو بات کی ہے وہ ٹھیک ہے، اب کسی کے سمجھ میں نہیں آئی وہ الٹا سیدھا بات بھی کرے اس کا اپنا کام ہے، کسی کو ہم پر اعتماد ہوگا کسی کو نہیں ہوگا، ہم زبردستی تو کسی کے دل میں اعتماد نہیں گھسیڑ سکتے ہیں، یہ تو اللہ کا کام ہے کہ اس کی دل میں بات ڈال دے۔ اِنَّ قُلُوبَ بَنِي آدَمَ كُلَّهَا بيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِن أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ، يُقلِّبُها كَيفَ يَشاءُ۔ انسان کا دل اللہ کی دو انگلیوں کے بیچ میں ہے جدھر پھیر دے تو پھیر دے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تو دعا کرے کہ اللہ ان کی دلوں کو پھیر دے، ہم تو مقام دعوت میں ہیں اور مجھے ضیاء الرحمن نے کہا کہ یہ کچھ باتیں آپ پہلے بہت دفعہ کہہ چکے ہیں تو آج کہنے کی کیا ضرورت ہے؟ تو میں نے کہا ہم مقام دعوت میں ہیں، دعوت میں تکرار ہوتا ہے، ایک ہی بات اتنی دفعہ کرو اتنی دفعہ کرو اتنی دفعہ کرو کہ دل میں بیٹھ جائے، ایک سورت کے اندر فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ کو کتنی دفعہ دہرایا گیا ہے۔ لیکن ہم ایک سیاسی جماعت ہے، ہم اس میدان کے طالب علم ہیں، زمانے بدلتے رہتے ہیں، سیاست بدلتی رہتی ہے، طاقتوں کا توازن بدلتا رہتا ہے، معیشتوں کا توازن بدلتا رہتا ہے، نظریات بدلتے رہتے ہیں، نظریات کا تقابل بدلتا رہتا ہے، تو ایک زمانہ تھا جب بادشاہتیں ہوتی تھیں اور وہ بھی ایسی بادشاہتیں کہ یا مغلوں کی بادشاہت تھی گیارہ سو سال یہاں انہوں نے حکومت کی برصغیر پر اور کہاں تک ان کی حکومتیں تھی، عثمانی حکومتیں تھی افریقہ تک پھیلے ہوئی تھی، مشرق وسطی پورا ان کے قبضے میں تھا، بیت المقدس کا اہتمام ان کے ہاتھ میں تھا، حرمین کا اہتمام ان کے ہاتھ میں تھا، عباسیوں کی حکومت تھی، اموی کی حکومت تھی، کہاں تک ان کے حکومت کے زیریں نگیں تھیں علاقے اور تبدیل ہو گئے۔ نوآبادیاتی نظام آ گیا، مغربی دنیا نے غلبہ حاصل کیا، افریقی ممالک ہوں، ایشیائی ممالک ہوں، ان ممالک کو انہوں نے کالونی بنایا، ہم انگریز کی کالونی تھے، بہت سے افریقی ممالک فرانس کی کالونیاں تھیں، کچھ عرب ممالک اٹلی کی کالونیاں تھیں، انڈونیشیا وغیرہ ڈچکیوں کی کالونیاں تھیں اور پھر ان کو اپنی آزادی کیلئے لڑنا پڑا، قربانیاں دینی پڑی اور آزادی کی اگر قیمت کسی کو معلوم ہے تو ہماری قوم کو معلوم ہے۔ جب اٹھارہ سو تین (1803) میں حضرت شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ نے انگریز کی خلاف جہاد کے فتوے اعلان کر دیا کیونکہ اس نے کہا اب حاکمیت ایسٹ انڈیا کمپنی کی ہے۔ حکم ہمارا چلے گا اور وہ جدوجہد شروع ہوئی اور پھر اس میں مسلح جنگ اور پھر اس میں غیر مسلح تحریکیں اور پھر اس میں انتخابی سیاست، یہ سارے ہمارے اکابرین کی جنگ تھی، تو وہ ایک زمانہ تھا جب عالمی معیشت ایشیا کے ہاتھ میں تھا اور پھر اس کالونی کے بعد ساری دولت یورپ منتقل ہو گئی اور دنیا کی معیشت پر یورپ نے قبضہ کر لیا اور وہاں پر ایک نظریہ جنم پایا کیپیٹیلزم کا، سرمایہ داریت کا لیکن سرمایہ داریت نے اپنا جابرانہ چہرہ، اپنا ظالمانہ چہرہ چھپایا جمہوریت کے اندر، ڈیموکریسی، جب اس کی مقابلے میں روس کا انقلاب آیا ادھر سے نیا چین وجود میں آیا تو انہوں نے رد عمل میں کمیونسٹ نظام کا نعرہ لگا دیا، اب یہ دو مقابل نظریہ وجود میں آگئے، لمبا زمانہ یہ تقابل رہا ہے لیکن اب وہ جنگ ایک نئی شکل اختیار کر رہی ہے ہمیں اس طرف بھی سوچنا ہوگا، مغرب کی سرمایہ داریت کے فرنٹ پر جو جمہوریت تھی اب وہ جمہوریت دم توڑ رہی ہے، اب سرمایہ داریت طاقت کے ساتھ آگیا ہے، عوامی خواہشات کے تحت نہیں، کمیونزم بھی دم توڑ رہی ہے، کمیونزم میں کل سرمایہ کی مالک ریاست ہے، فرد کی حق ملکیت کو تسلیم نہیں کیا جاتا اور ریاست سب سے بڑا سرمایہ دار ہوتا ہے لیکن اس کے پیچھے اس طرح کی خوبصورت معاشی نظام کا نعرہ لگا کر اس کے پیچھے جو نظام چھپا ہوا ہے وہ آمریت کا ہے، تو ایک طرف جمہوریت، ایک طرف کمیونزم، ایک طرف سرمایہ داریت، ایک طرف آمریت اور یہ ایک تقابلی نظام تھا دنیا کے اندر جو آج تک چلتا رہا، آج وہ بکھر رہا ہے۔ 

انیس سو پچانوے (1995) میں جب میں فارن افیر کمیٹی کا چیئر مین تھا تو ہماری کمیٹی کو چائنا نے دعوت دی اور جب ہم وہاں پہنچے تو انہوں نے اس نئے نظریہ کو متعارف کرایا کہ ہم چین میں کچھ شہروں کو فری اکانومی زون قرار دے رہے ہیں جہاں پر لوگ سرمایہ کاری کر سکیں گے یعنی فرد کو سرمایہ کاری کا حق دیا جا رہا ہے اور اسی میں ہم نے ان کو تجویز دی تھی کہ فری اکانومی زون اگر آپ نے دوسرے شہروں کو بنایا ہے تو ارومچی کو بھی بنائیں اور ٹریڈ وایہ پاکستان کا ایک نظریہ ہم نے پیش کیا جس پہ ہم نے سات دلائل دیئے ان کو اور ابھی بھی وہ بلیک اینڈمانڈ میں موجود ہے اور انہوں نے قبول کیا یعنی ایک نظام میں تبدیلی تو آئی۔ سو آپ اب دیکھیں کہاں ہیں جمہوریت؟ اگر صدام حسین کویت میں داخل ہوتا ہے تو وہ مجرم ہیں لیکن اگر امریکہ افغانستان میں داخل ہوتا ہے اگر امریکہ عراق میں داخل ہوتا ہے اگر امریکہ و برطانیہ لیبیا میں داخل ہوتے ہیں تو انصاف کے تقاضے پورے کر رہے ہوتے ہیں، آج وینزویلا میں امریکہ داخل ہوا صدر اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر لیا تو جمہوریت تو گئی، تو سرمایہ داریت بھی ہے اور قوت کے ساتھ، جمہوریت کے ساتھ نہیں، روس کو آپ نے دیکھا کس طرح افغانستان میں داخل ہوا تھا اور آج کس طرح وہ یوکرین میں داخل ہوا، تو اب کیمونزم تو نہ رہا نا، اب تو کیمونزم کی پیچھے آمریت رہی ہے اور طاقت کی بنیاد پر رہی ہے، اور یہ امکان موجود ہے کہ ان کے دیکھا دیکھی چائنہ بھی اب تائیوان میں براہِ راست داخل ہو جائے، یہ اس کی عادت تو نہیں ہے لیکن جب زمانہ تبدیل ہوگا اور حالات تبدیل ہوں گے تو جو دنیا کریں گے وہ بھی کریں گے۔ اس کے اثرات ہم تو بھی پڑ رہے ہیں، ہمارے ہاں بھی جمہوریت نہیں ہے اور اس کے جگہ طاقت نے لے لی، اس کے جگہ عسکریت نے لے لی، جو واردات دنیا میں ہو رہی ہیں وہ واردات ہمارے ہاں بھی ہو رہی ہیں، ہم ان کے زیر اثر ہیں، یہاں پر بھی اب طاقت چل رہی ہے اور ایک برائے نام جمہوریت، ڈھونگ انتخابات، جس کے نتائج ایک دفتر میں بیٹھ کر کچھ لوگ تیار کر رہے ہیں، یہ جو حکومتیں ہو رہی ہیں ملک کے اندر یہ ایک بھی منتخب نہیں ہے ایک بھی منتخب نہیں ہے، نہ وفاق کی حکومت منتخب ہے، نہ پنجاب کی حکومت منتخب ہے، نہ کے پی کی حکومت منتخب ہے، نہ سندھ کی حکومت منتخب ہے، نہ بلوچستان کی حکومت منتخب ہے، لیکن بنا دی گئی اور اس پر کوئی شرم بھی نہیں آ رہی ہے، احساس ہی نہیں ہو رہا ہے اس بات کا اور ہم چونکہ اس کا شکار ہیں، ہم تو اس کے وکٹم ہیں تو جو بات ہم کہہ رہے ہیں وہ آنکھو دیکھا حال کہہ رہے ہیں کہ ہم پہ تو گزری ہے۔

تو یہ جو دنیا میں نظاموں کی تبدیلی آ رہی ہے اب ہم نے کیا سوچنا ہے آپ نے کیا سوچنا ہے آپ نے اس میڈیا کو، سوشل میڈیا کو کس کو کیا رخ دینا ہے، آج بھی انسانیت کے پاس شریعتِ اسلامیہ اور قرآن و سنت کے علاوہ کوئی دوسرا نظام نہیں جو ان کو انصاف مہیا کر سکے۔ دنیا نے جمہوریت کے نام پر عوام کو بہلایا پھسلایا، اس میں بھی ہمارے اکابر نے محنت کی کہ نہیں بے ہنگم جمہوریت نہیں کہ عوام فیصلہ کریں حلال کے بھی فیصلہ عوام کریں اور حرام کے بھی فیصلہ عوام کریں، سوسائیٹی کے خواہشات کے مطابق جو قانون سازی ہو، ہمارے اکابر نے آئین میں ڈلوایا کہ نہیں قانون سازی ہوگی تو قرآن و سنت کے تابع، قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں ہوگی، مگر اس کے باوجود ہو رہی ہے آئین کو نہیں مانا جا رہا اسلامی نظریات کون سے موجود سن 1973 سے موجود ہے اور آج بھی ان کے سفارشات پر ایک قانون سازی نہیں ہوئی اور چھبیسویں ترمیم میں ہم نے یہ اضافہ منوایا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے سفارشات بحث کے لیے ایوان میں لائے جائیں گی، محض پیش نہیں ہوگی، ایک سال سے زیادہ عرصہ ہوگیا ہے آج تک ایک سفارش بھی ابھی تک ڈیبیٹ کے لیے پیش نہیں ہوئی۔ اور جو کچھ ہم نے چھپیسویں ترمیم میں حاصل کیا تھا ستائیسویں ترمیم میں اس کو بھی دھو ڈالا، اب آپ چھپیسویں ترمیم جس میں ہم نے تنہا مذاکرات کیے اور حکومت کو ہم نے چونتیس (34) شقوں سے دستبردار کیا، اب ایک سال کے اندر ان کے پاس دو تہائی اکثریت بھی آگئی اور ستائیسویں ترمیم کے لیے ان کے پاس اپنی دو تیہائی اکثریت موجود ہوگئی۔ آپ بتائیں جب ایک سال پہلے ان کے بعد دو تہائی اکثریت نہیں تھی تو ایک سال کے بعد دو تہائی اکثریت، اس کو میں جعلی اکثریت نہیں کہوں گا اس کو میں جبری اکثریت کہتا ہوں، اس جبری اکثریت کہ تحت انہوں نے ستائیسوی ترمیم پاس کردی اور جو کچھ اس وقت ہم نے انکو نہیں کرنے دیا تھا اب آپ اس کو ذرا تھوڑا سا دیکھیں، ہم لڑ رہے ہیں نظریات کی جنگ، ہم بات کرتے ہیں نظریات کی لیکن ستائیسویں ترمیم نے آپ کو بتا دیا کہ اب جنگ نظریات کی نہیں، اب جنگ اتھارٹی کی ہے۔ اسٹیبلیشمنٹ اپنی اتھارٹی اور اپنی گرفت کو مضبوط کر رہی ہے۔ سیول سپرمیسی ایک نام رہ گیا۔ پارلیمنٹ کی بالادستی یہ ایک نام رہ گیا۔ اب فیصلے پنڈی میں ہوں گے، قانون پاس ہوگا اسلام آباد میں۔ یہ وہ دنیا میں جو تبدیلی آرہی ہے، اس کے نقوش آپ اپنے ملک میں دیکھ رہے ہیں، ذرا سمجھنے کی ضرورت ہے اس کو۔ ہمارے عوام اس طرف متوجہ نہیں ہیں، انکو پتہ ہی نہیں اس چیز کا۔ سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو بھی ابھی اس کا علم نہیں ہے، اس کا ادراک نہیں ہے۔ ہم ابھی تک وہی سیول سپرمیسی اور جمہوریت اور ڈیموکریسی کی بات کر رہے ہیں۔ اور میں آپ کو ایک یہ بھی اپنا خیال بتا دوں، کہ یہ جو دنیا میں کچھ تنظیمیں وجود میں آئی ہیں، اور جو بڑے دھڑلے سے کہتے ہیں جمہوریت کفر ہے، یہ بھی اسی لابی کی یہاں پر کردار نظر آرہا ہے۔ رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی۔ یہ کہاں سے یہ باتیں آئی ہیں؟ حضر شیخ الہند پر کفر کا فتویٰ لگانا، حضرت مفتی کفایت اللہ پر کفر کا فتویٰ لگانا، شیخ الاسلام حضرت مدنی پر کفر کا فتویٰ لگانا، مولانا ثناء اللہ امرتسری پر کفر کا فتویٰ لگانا، نواب سندھی قیصر خان پر کفر کا فتویٰ لگانا، حضرت احمد علی لاہوری پر کفر کا فتویٰ لگانا، حضرت درخواستی پر کفر کا فتویٰ لگانا، مفتی صاحب پر کفر کا فتویٰ لگانا، یہ جرات کیسے پیدا ہوئی؟ یہ کون لوگ ہیں جو اس قسم کی باتیں کرتے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کچھ حدیثیں گڑھ لی ہیں کہ مشرق سے کچھ لوگ اٹھیں گے کالی جھنڈیوں کے ساتھ، کون سے حدیث میں آیا ہے؟ اور جو ایک دو روایتیں ہیں وہ یا ضعیف ہے یا موضوعی، اور ضعیف حدیث فضائل میں کام آتی ہے جبکہ اس مسئلہ کا تعلق عقائد کے ساتھ ہے احکام کے ساتھ ہے، عقائد او احکام کے ساتھ ضعیف حدیث کام نہیں آتی، حجت نہیں بنتی وہاں اور اگر میں حدیث پیش کروں پھر؟ کل جب ہم ختم بخاری کر رہے تھے تو آخری حدیث سے بلکل پہلے والی حدیث ہے کہ مشرق سے کچھ لوگ اٹھیں گے۔ 

يَخْرُجُ نَاسٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ وَيَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، ثُمَّ لَا يَعُودُونَ فِيهِ حَتَّى يَعُودَ السَّهْمُ إِلَى فُوقِهِ قِيلَ مَا سِيمَاهُمْ؟ ، قَالَ : سِيمَاهُمُ التَّحْلِيقُ ، أَوْ قَالَ التَّسْبِيدُ وہ بھی تو مشرق ہے، قرآن پڑھیں گے اور حلق سے نہیں اترے گی، اور ان کے سینوں سے ایمان ایسے نکلے گا جس طرح کے نیزہ کمان سے نکلتا ہے تیر کمان سے نکلتا ہے اور شکار سے سیدھا نکل جاتا ہے کچھ فائدہ نہیں ہوتا اس کا اور واپس لوٹنا بھی نہیں ہوتا اس کا، ایسے ایمان سے خالی ہو جائیں گے، تو یہ لوگ جس کا حدیث میں آتا ہے کہ یہ اپنے وقت میں علماء کو قتل کریں گے، دینداروں کو قتل کریں گے، تو ہم اس ملک میں دیکھ نہیں رہے وہ مناظر! کہ جگہ جگہ علماء کرام کو قتل کیا جا رہا ہے! پرسوں ترسوں اسی ایک وزیرستان میں ایک سال کے اندر میرا تیسرا عالم دین ہے جو جمعیت کے لئے ستون تھا اس کو شہید کر دیا گیا۔ باجوڑ میں بیک وقت ہم نے نوے (90) جنازے اُٹھائے، اس بات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ یہ قوتیں جب اس قسم کی باتیں کرتی ہیں تو موضوعی حدیث کی بنیاد پر کرتی ہیں اور اپنے آپ کو مسلمان بناتی ہیں اور دوسروں کو کافر بناتی ہیں، اور یہی ان کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ یہ لوگ مسلمانوں کو کافر کہیں گے۔ اب اس سے تو جمعیت علماء اسلام مرعوب نہیں ہوگی۔ ایسے گمراہ لوگ، سفاک مجرم، قاتل، نبی علیہ الصلاة والسلام فرماتے ہیں "کہ اللہ تعالیٰ کے لئے اگر پوری دنیا تباہ ہو جائے وہ اتنا بھاری نہیں پڑتا جتنا ایک مسلمان کا خون اللہ کے نزدیک بھاری ہے"۔ لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ دَمِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ۔

اتنا ارزاں بنا دیا تو نے مسلمان کے خون کو اور پھر بات کرتے ہو اسلام کی، ہم بھی جانتے ہیں جمہوریت کیا ہے، کہاں سے آئی ہے، ہم بھی جانتے ہیں ڈیموکریسی کا کیا معنی، لیکن ہم نے اس ماحول میں رہتے ہوئے اپنا نظریہ پیش کیا کہ عوام کی حاکمیت اس کو واضح کرو کیونکہ ہم اللہ کی حاکمیت کے قائل ہیں۔ سو آج اگر عوام کی حاکمیت جاتی ہے تو ہم تو پہلے بھی قائل نہیں ہیں، ہم۔ نے تو پہلے بھی کہا تھا کہ قرآن و سنت کے تابع ہوگا، لیکن اللہ کی حاکمیت تو مستحکم ہے نا، لہذا اس نظام کے طرف آؤ جس کی حاکمیت میں توحید بھی ہے اور اس میں استحکام بھی ہے اور دنیا اور آخرت کی حاکمیت اس ایک ذات کے ہاتھ میں ہے لہذا انسانی معاشروں کے لئے بھی جو نظام انبیاء کے ذریعے اللہ رب العالمین نے بھیجا ہے اسی کی طرف انسانیت کو جانے کی دعوت دیتا ہے۔ ہم انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں، میں مغربی دنیا کی بات کرتا ہوں، وہاں پر انسان کو حقوق دینے والا بھی انسان ہے اور جب انسان معاشرے کو حقوق دے گا تو جب چاہے گا واپس بھی لے لے گا، سلب بھی کر لے گا۔ لیکن اسلام انسانوں کو حقوق دیتا ہے اللہ کی تعلیمات کے تابع میں، سو اللہ کی دیئے ہوئے انسانی حقوق کو کوئی انسان سلب نہیں کر سکتا، اس لئے انسانی حقوق کا مستحکم نظام ہمارے دین اسلام میں ہے۔ معیشت کی بات ہے تو معیشت کا نظام جو اللہ رب العزت نے ہمیں دیا ہے۔ أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَةَ رَبِّكَ ۚ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِيَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِيًّا۔

دنیا کی معیشت، اللہ فرماتے ہیں کہ اس دنیا میں بھی ہم نے پیدا کیا اور ہم نے بعض لوگوں کو بعض کی اوپر درجات دیئے ہیں برصغیر کی پیداواری صلاحیت اور ہوگی، یورپ کی پیداواری صلاحیت اور ہوگی، جو اُن کے پاس ہے وہ میرے پاس نہیں، جو میرے پاس ہے وہ اُن کے پاس نہیں اور بالخصوص جو معدنی زخائر ہیں وہ اسلامی دنیا میں ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں زمین کی نیچے کے خزانوں کی چابیاں دی گئی اور یہی وجہ ہے کہ آج جہاں اُمتِ مسلمہ ہے وہاں پر معدنی زخائر موجود ہیں۔ اگر امریکہ کے پاس نہیں ہے تو طاقت کیوں استعمال کرتا ہے۔ آؤ! لِيَتَّخِذَ بَعْضَهُمْ بَعْضًا سُخْرِيًا، درجات مختلف ہوگئے تو آئے ایک دوسرے کو مسخر کریں، معاہدات کریں، مل بیٹھ کر اپنے حصے مقرر کریں، میرے پاس ریسورسز ہیں اور آپ کے پاس ٹیکنالوجی ہے آؤ! ٹیکنالوجی لاو، میرے ریسورسز پہ بات کرو، حصص تقسیم کریں گے آپ کے منافع میرے منافع، پھر میرے منافع میں سے میرے ملک کا منافع، میرے اُس صوبے کا منافع جہاں سے اور اُس علاقے کے عوام کا منافع کے جس علاقے سے وہ چیزیں ریسورسز ہمارے باہر آتے ہیں۔ سیدھا سادھا ایک نظام اُس کو پیچیدہ بنا دیا گیا ہے۔

لہٰذا آج کی اِس میڈیا کی مجلس سے ہم ایک پیغام لے کر چلیں کہ جب دنیا میں نظام ناکام ہو چکے ہیں، جمہوریت بھی اب دم توڑ رہا ہے، اُس کی جگہ طاقت لی جا رہی ہے، اِس کے پیچھے جو کریہہ چہرہ ہے سرمایہ داریت کا، وہ سر اُٹھا رہا ہے اور کیمونیزم جس کے پیچھے آمریت ہے وہ بھی اب دم توڑ رہا ہے، وہاں آمریت حرکت میں آئے گی اور غریب کمزور پڑوسی ممالک غیر محفوظ رہیں گے، وہاں کے عوام غیر محفوظ رہیں گے، اُن کی معیشت غیر محفوظ رہے گی، تو اُمتِ مسلمہ کو اور اُن کے حکمرانوں کو اپنے دینِ اسلام کی تعلیمات کو بنیاد بنا کر ایک نئی پالیسی دنیا کو دینی ہوگی۔ ہم کوئی تھوڑے لوگ ہیں، اگر چھ ارب یا سات ارب انسانیت ہے تو ایک ڈیڑھ ارب تو ہم ہیں صرف مسلمان، اسی لئے پاکستان اور سعودی عرب نے جب دفاعی معاہدہ کیا ہم نے اُس کی حمایت کی، کہ یہ رجحان صحیح ہے۔ آج اگر ترکی اُس میں شامل ہوتا ہے تو یہ ایک اور بہتر قدم ہے جو آگے بڑھ رہے ہیں اور اپنے اِس وطنِ عزیز کی لئے بھی ہم نے یہ واضح کرنا ہے کہ اِس ملک کا اگر مستقبل ہے، اِس ملک میں اگر عوام کی رائے ہے تو جمہوریت اگر ناکام ہے تو شورائیت تو ناکام نہیں ہے وہ تو اللہ کا دیا ہوا اصطلاح اور نظام ہے۔ ہم اب بھی پارلیمنٹ کو مجلس شورای کہتے ہیں لیکن چونکہ ہم نے غلط جگہ پہ نام رکھا ہوا ہے تو شورائیت اِس میں عوام کی شراکت کا تصور موجود ہے۔ تو اگر عوام باریکیوں کو نہیں جانتے وہ بیچارے بس سطحی طور پر جو اُن کے سامنے ایک پروپیگنڈ آجاتا ہے اُسی پہ فیصلے کرتے ہیں تو اُس پہ ذی رائے لوگ بھی تو موجود ہوتے ہیں وہ آئیں عوام کی صحیح نمائندگی کریں، ووٹ کو کیوں خراب کرتے ہو؟ اگر حکومت غلط ہے اُس کے خلاف تحریک اُٹھتی ہے اُس سے اختلاف رائے کیا جاتا ہے۔ اِسی پارلیمنٹ کے اندر حکومت بھی ہوتی ہے اور اپوزیشن بھی ہوتی ہے۔ حکومت کی پالیسیاں بھی آتی ہے اُس پہ تنقید بھی آتی ہے۔ چار سال پانچ سال کے بعد قوم پہ فیصلہ کرتی ہے، پتہ چل جاتا ہے حکمران کو کہ میں نے جو کچھ کیا تھا، کیا کیا تھا میں نے، لیکن عوام کو صحیح رخ بتاؤ، صحیح تصویر بتاؤ، کردار کشی نہ کرو کسی کی، جھوٹ بول کر کسی کو خراب کرنا، کسی کو گالیاں دینا، یہ سیاست اب بدبودار ہو چکی ہے۔ یہ گالیوں کی سیاست، یہ برے الفاظ کی سیاست، یہ غلاظتوں کی سیاست، یہ بدنام ہو چکی ہے۔ اور اِسی سیاست کے بارے میں کہا جاتا ہے عوام میں مقبول ہیں۔ تو آپ مجھے بتائیں کہ اگر گالیوں والی سیاست، جھوٹے الزامات والی سیاست، جھوٹا پروپیگنڈہ والی سیاست اگر یہ عوام میں مقبول ہے پھر دنیا میں پاکستان کے عوام کا مقام کیا رہ جائے گا اور آپ کے علم میں ہیں، میڈیا کے لوگوں کے علم میں بھی ہیں کہ پاکستان کے پارلیمنٹ کا کوئی قانون دنیا بھر کے ممالک میں بطور نظیر پیش نہیں کیا جاتا، پاکستان کے عدالتوں کا فیصلہ دنیا بھر کے عدالتوں میں بطور نظیر پیش نہیں کیا جا رہا، پوری دنیا کی نظر میں نہ ہماری پارلیمنٹ کی قانون سازی کی کوئی اہمیت ہے کہ لوگ اس کو بطور مثال پیش کرے کہ پاکستان میں ایسی قانون سازی ہوئی ہے اور نہ ہماری عدلیہ کے بارے میں کہ دنیا میں اس کے بارے میں کوئی سوچ ہو کہ پاکستان کا کوئی فیصلہ اس کو بھی ہم بطور نظیر پیش کر سکیں۔

تو ایک جگہ سے قانون بنتا ہے اور دوسرے جگہ پر قانون کے مطابق فیصلے ہوتے ہیں۔ دونوں مقامات دنیا میں غیر معتبر کہاں کھڑے ہیں آپ؟ انڈیا کی معیشت ہے، چین کی معیشت ہے، افغانستان کی معیشت ہے، ایران کی معیشت ہے، اس خطے کے اندر ایک پاکستانی معیشت ہے جو ڈوب رہی ہے۔ کیوں ڈوب رہی ہے؟ حکومت نہیں ہے۔ جو حکمران کرسی پر بیٹھے ہیں وہ ڈمی بھی ہیں اور وہ صرف گالیاں کھانے کیلئے بیٹھائے گئے ہیں، تاکہ اصل کام کوئی اور کرے، مفادات کوئی اور حاصل کرے، مراعات کوئی اور حاصل کرے، زندگی بھر کے لیے مستثنیٰ ہے قانون سے، اب یہ بھی کبھی ہوتا ہے؟ یہ پاکستان ہے کہ جہاں پر زندگی بھر کے لیے اس کے خلاف کوئی کیس نہیں ہو سکے گا، کوئی مقدمہ تیار نہیں ہو سکے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے خود کو مستثنیٰ قرار نہیں دیا۔ آپ نے تو خود دعوت دی کہ اگر مجھ پر کسی کا حق ہے وہ حق لے لے، صحابہ کرام بیٹھے ہوئے سارے، سب خاموش ایک صحابی اٹھ گیا اور کہا جی میرا آپ کے اوپر حق ہے، میں آپ سے حق لینا چاہتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے کہا لے لے، کہا کہ جی آپ نے مجھے چھڑی ماری تھی میں اُس چھڑی کا بدلہ لینا چاہتا ہوں آپ سے، آپ نے فرمایا چھڑی کا بدلہ لے لوں، حضور ﷺ نے پیٹھ کی، کہاں ماری تھی، میں نے کہا پیٹھ پر ماری تھی۔ آپ نے پیٹھ کی، کہا نہیں، جب آپ نے مجھے مارا تھا تو میری پیٹھ ننگی تھی، آپ کو بھی اپنی پیٹھ ننگی کرنی ہوگی۔ رسول اللہ ﷺ نے کرتہ اُٹھا لیا۔ وہ صحابی تھا۔ اس نے سارے مکالمے کا مطلب نکال لیا جی، وہ فوراً جاکر لپٹا اور لپٹ کر آپ کی پیٹھ کو چومتا چومتا مہر نبوت تک پہنچ گیا۔ اور کہا یا رسول اللہ ﷺ اس خواہش میں نے یہ ساری بات کی ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ کا کردار بھی دیکھیں اور صحابہ کرام کی عشق و محبت کا اندازہ بھی لگائیں۔ آپ نے تو خود کو مستثنیٰ قرار نہیں دیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ عدالت میں پیش ہوئے، مدعی علیہ تھے۔ مدعی کے ساتھ پیش ہوئے۔ انہوں نے تو اپنے آپ کو مستثنیٰ قرار نہیں دیا تھا۔ اور ہمارا صدر مملکت اب مستثنیٰ ہوگا۔ آج تک وہ بدعنوانی کے کیسز میں جیلوں میں رہا، مقدمات بگھتتا رہا اور ایک دم سے وہ صادق الامین بن گیا۔ اور اب زندگی بھر اس کے خلاف کیس نہیں کیا جاسکے گا۔ حالانکہ جو آدمی زندگی میں جرم کرتا رہا ہو اس کا تو نام تھانے میں لکھا جاتا ہے، تاکہ نگرانی میں تو رہے۔ ہمارے مولوی صاحبان کو تو فوراً فورتھ شیڈول میں ڈال دیتے ہیں۔ تھانے سے باہر جاؤ گے رپورٹ کرو۔

تو یہ چیزیں پاکستان ہضم نہیں کر سکتا۔ اپنے ملک پر ذرا رحم کرو۔ یہاں پر سوچ صرف یہ ہے کہ ہماری گرفت مضبوط ہو، ہمارے مراعات کو زندگی بھر کا تحفظ حاصل ہو اور ہم قانون سے بالاتر ہوکر مستثنی قرار دیے جائے ۔ یہ کون سی سیاست ہے؟ تم قرضے معاف کراتے ہو، لسٹیں آتی ہیں، اس میں تو جمعیۃ کا کوئی نام نہیں ہے۔ کرپشن کے کیسز آتے ہیں، لسٹیں چھپتی ہیں، اس میں تو جمعیۃ کا کوئی نام نہیں ہے۔ لیکن جس نظام میں جھوٹ اور سچ کی تمیز ختم ہو جائے اور گناہ اور بے گناہ کو اس ترازو سے تولا جائے کہ تم اسٹیبلشمنٹ کے وفادار ہو یا نہیں ہو، تو اس بنیاد پر تو پھر کیسز بھی آ جائیں گے تو کیا ہوگا؟ انگریز کے زمانے میں ہندوستان کا وفادار ہو، انگریز کا باغی ہو، وہ باغی کہلاتا تھا اور اس کو باغی کی سزا ملتی تھی۔ آج پاکستان کا وفادار ہو، اس کی وفاداری کی کوئی قیمت نہیں تا وقتیکہ آپ اسٹیبلشمٹ کہ وفادار نہ بن جائیں۔ آپ اُن کے وفادار بنیں، ملک کی خلاف جو کچھ کریں لوٹ جاؤ ملک کو، پرواہ نہیں ہے۔

تو یہ چیزیں نہیں چلیں گی اب، اس کے لیے ہمیں رائے عامہ ہموار کرنی ہوگی۔ دینی مدارس کے بارے میں دباؤ ہے کہ ڈالا جارہا ہے، مشکلات ہیں جو پیدا کی جارہی ہے۔ اب یہ مسلمہ تعلیمی ادارے ہیں، مسلمہ تعلیمی ادارے، اٹھارہ سو چھیاسٹھ میں اس مدرسے کا قیام عمل میں لایا گیا۔ انگریز کے نصابِ تعلیم کے مقابلے میں اٹھارہ سو چھیاسٹھ سے لے کر آج، دو ہزار پچیس تک، اب یہ بیڑا پاکستان کی حکومتوں نے اٹھا لیا ہے، پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے اٹھا لیا ہے کہ دینی مدرسہ غیر ضروری ہے دینی مدرسہ ضروری ہے، اگر غیر ضروری ہے تو وہ تم ہو۔ امریکہ بھی زور لگا لے، تعلیمی ادارے ہیں اور آپ کے سکول سینکڑوں کی تعداد میں جو حکومت کے زیر کنٹرول ہیں، آج حکومت اپنے زیر کنٹرول سکولوں کو سینکڑوں کے حساب سے اور آنے والے دنوں میں ہزاروں تک پہنچے گی وہ پرائیویٹ سیکٹر میں دے رہے ہیں۔ اور دینی مدرسہ پہلے سے پرائیویٹ سیکٹر میں ہے۔ طالب علم کو کمرہ بھی مہیا کرتا ہے، بستر بھی مہیا کرتا ہے، کتاب بھی مہیا کرتا ہے، بجلی بھی مہیا کرتا ہے، گیس بھی مہیا کرتا ہے، پانی بھی مہیا کرتا ہے، کھانا بھی مہیا کرتا ہے، کہیں دو وقت کا کھانا، کہیں ناشتے کے ساتھ تین وقت کا، یہ سب کچھ ایک روپیہ ایک پیسہ طالب علم سے نہیں لیا جاتا۔ بیمار ہوتا ہے تو علاج بھی ادارہ کراتا ہے۔ اس طرح کا رفاہی ادارہ دنیا میں نہیں ہے۔ این جی اوز بھی اس طرح کی ادارہ نہیں چلا رہے۔ وہ بھی فیسیں لیتے ہیں، لیکن پیچھے پڑھے ہوئے ہیں۔ گناہ کیا ہے سوائے اس کی کہ وہ دینی علوم دیتے ہیں، وہ قرآن و حدیث کا علم دیتے ہیں۔ تو اس طرح کی الٹی گنگا جو بہہ رہی ہے، یہ دین اسلام کے خلاف ہے۔ کہتے ہیں ہم بھی مسلمان ہیں، مسلمان آپ ضرور ہیں، ہمیں آپ کے مسلمانی پر کوئی جھگڑا نہیں ہے، آپ نمازی بھی ہیں تو الحمدللہ، آپ حافظ بھی ہیں تو الحمدللہ۔ اس سے ہمیں کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ لیکن یہ کرتوت کدھر جائیں گے آپ کے؟ کہ جو مغرب ہمیں فلسفہ دے گا ہم اس کو قبول کریں گے۔ آج امریکہ مجھے قبول کر لے اس کے بعد انٹیلیجنس کے ادارے کہیں گے ہاں آج کل مدرسوں کے بارے میں بڑی اچھی رپورٹیں آ رہی ہیں ماشاءاللہ۔ لیکن جب تک وہ ناراض ہے، روزانہ روزانہ، نہیں نہیں ہمارے پاس مدرسوں کے بارے میں بڑی منفی رپورٹ ہیں بڑی منفی رپورٹ ہیں۔ اب کیا کریں اس کے بارے میں؟ اگر آپ کے ہاتھ میں زخم ہو جائے کوئی دانہ پھوڑا نکل آئے، اس سے انسان کو قتل کرو۔ وہ بھی انسانی معاشرہ کا حصہ ہے۔ کہیں نا کہیں کمزوری ہوں گی، آپ کی شکایات بھی ہوں گی، اس سے پورے ادارہ اور سسٹم کو تباہ کرنا اور ختم کرنا، یعنی آپ کے نزدیک قرآن علوم غلط ہے اور جب قرآن علوم غلط ہے تو اس کا معنی ہے کہ آپ قرآنی نظام سے انکار کر رہے ہیں، اس کو تسلیم نہیں کر رہے ہیں۔ تو ذرہ اپنے عقائد کو ٹٹولنا چاہیے آپ کو۔

تو اس اعتبار سے اگر آپ نے پورے ملک کی لیول پر بھی ایسا کنونشن کرنا ہے تو ضرور کیجئے۔ لیکن اب اس تحریک کو آپ نے اس طرح آگے بڑھانا ہے۔ جو کچھ تھوڑی بہت میں دنیا پر نظر رکھتا ہوں اور کچھ سمجھتا ہوں وہ میں نے کچھ سطحی مطالعہ آپ کے سامنے پیش کر دیا ہے اور یہ جو مسلح گروہ اور جنگیں ہیں ان کی حقیقت بھی ہمیں معلوم ہے کہاں تک یہ اسلام اسلام کی بات کرتے ہیں اور جس طرح کہ وہ جرائم کے مرتکب ہیں ہمیں پاکستان میں ایسی کوئی چیز قبول نہیں ہے۔ اور اب تو افغانستان کے علماء نے بھی کہہ دیا ہے کہ یہ غلط ہے اور پاکستان کے علماء نے بھی کہہ دیا ہے کہ یہ غلط ہے۔ تو جب افغانستان کے علماء اور پاکستان کے علماء ایک نظریہ پر متفق ہیں کہ اب کوئی مسلح جنگ نہیں ہے تو علماء کے اجماعی رائے سے اختلاف کرنا یہ خود فسق و فجور ہے، خود بے راہ روی ہے، خود ظلم و جبر ہے اور ان تنظیموں کو بھی غور کرنا چاہیے، گریبان میں جھانکنا چاہیے جو اس قسم کے حرکتیں کرتے ہیں۔ باجوہ صاحب ہوں تو فوج مقدس اور عاصم منیر ہو تو فوج جو ہے وہ امریکہ کے غلام اور غلامی کی علامت تو اس کو قتل کر دو، یہ کوئی بات ہے، ادارہ تو ایک ادارہ ہے ہم شخصیات کا نام لے کر فرق کرتے ہیں، شخصیات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میرے مدرسے کے بارے میں تو پالیسی میں کوئی فرق نہیں آرہا ابھی تک، چاہے مشرف تھا، چاہے کیانی صاحب تھے، چاہے ہمارے باجوہ صاحب تھے، چاہے پالیسی میں تسلسل آرہا ہے کوئی فرق نہیں آرہا ہے، بھئی اپنی کرسیوں پہ لڑو اس کی کچھ مجھے بھی فائدہ ملنا چاہے نا اس کا، ہمیں تو اس کا کچھ فائدہ نہیں مل رہا۔

تو یہ باتیں اگر ہم کہہ رہے ہیں کسی کے دشمنی میں نہیں کہہ رہے، اصلاح احوال کے لئے کہہ رہے ہیں، اپنے نوجوانوں کی تربیت کرنا، اپنے پبلک کی تربیت کرنا، اپنے کارکن کی تربیت کرنا، اس کو ایک صحیح رخ دینا، اس سے کچھ سبق سیکھیں، میں سبق سیکھتا ہوں، جتنا جھوٹ میرے بارے میں بولا گیا ہے، جتنی تنقید میرے اوپر ہوتی ہے، میں جواب نہیں دیتا ہوں۔ میں اس میں اپنی کمزوری ڈھونڈ رہا ہوں یہ جو میرے بارے میں کچھ کہا جا رہا ہے کہیں کوئی ایسی بات ہے کہ واقعتاً یہ کمزوری میرے بیچ میں ہو تو میں اپنی اصلاح کروں اور اگر میرے اندر وہ کمزوری نہیں ہے اور تم نے جھوٹ بولا ہے اللہ پہ چھوڑتا ہوں، وہ بہتر بدلہ لینے والا ہے۔

تو اللہ تعالیٰ ہمارے اس ملک کی حفاظت فرمائے، ہم اس ملک کے سپاہی ہیں، اس کے لئے ایک اچھا خیر خواہانہ نظام رکھتے ہیں، اللہ کے دی ہوئی نظام کے روشنی میں کہ وہی ہمارا خالق ہے، قرآن و سنت پر مبنی ایک نظام معیشت، نظام شریعت اور ایک ایسا نظام جس میں انسانی حقوق کے تحفظ کی ضمانت ہو، وہ ہم اس حوالے سے پیش کرنا چاہتے ہیں اگر آپ جمہوریت کی بات کرتے ہیں عوام کے ووٹ کی بات کرتے ہیں ہم اس کی بھی اصلاح کریں گے اور اس کے بیچ میں ہم ان کو قرآن سنت کو پابند کرانے کی بات کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ہماری رہنمائی فرمائے۔

وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔

،‎ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض

‎ممبرز ٹیم جےیوآئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز 

‎#teamJUIswat

0/Post a Comment/Comments