مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا دارالعلوم تعلیم القرآن راجہ بازار راولپنڈی میں طلباء سے خطاب و درس حدیث

قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا دارالعلوم تعلیم القرآن راجہ بازار راولپنڈی میں طلباء سے خطاب و درس حدیث

07 جنوری 2026

الحمدللہ، الحمدللہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی لاسیما علی سید الرسل و خاتم الانبیاء وعلی آلہ وصحبہ ومن بھدیھم اھتدی۔ أَمَّا بَعْدُ. فأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔ وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔ بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَىٰ: ﴿وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ﴾ وَأَنَّ أَعْمَالَ بَنِي آدَمَ وَقَوْلَهُمْ يُوزَنُ. وَقَالَ مُجَاهِدٌ: الْقِسْطَاسُ هُوَ الْعَدْلُ بِالرُّومِيَّةِ، وَيُقَالُ: الْقِسْطُ مَصْدَرُ أَقْسَطَ، وَهُوَ الْعَادِلُ، وَأَمَّا الْقَاسِطُ فَهُوَ الْجَائِرُ. وَبِالسَّنَدِ الْمُتَّصِلِ، قَالَ الإِمَامُ الْهُمَامُ، أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي الْحَدِيثِ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْجُعْفِيُّ الْبُخَارِيُّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَىٰ عَنْهُ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِشْكَابَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عِمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَىٰ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: كَلِمَتَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمٰنِ، خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ، ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ

حضرات علمائے کرام ! میں انتہائی شکرگزار ہوں جانشین شیخ القرآن حضرت مولانا اشرف علی صاحب دامت برکاتہم کا، کہ اُنہوں نے ماضی کی طرح ایک بار پھر نظر شفقت کے ساتھ مجھے دار العلوم تعلیم القرآن میں حاضر ہونے کے لئے دعوت دی اور آپ کے ساتھ اس مبارک مجلس میں بیٹھنے اور کچھ بات کرنے کی سعادت نصیب فرمائی۔

امام بخاری نے صحیح بخاری کا آغاز کتاب الوحی سے کیا ہے اور پہلا باب، باب کیف کان بدء الوحی الى رسول اللہ ﷺ تنبیہ ہے اس بات پر، کہ تشکیل حیات انسانی کا مدار وحی پر ہے لیکن حدیث باب میں پہلی حدیث جو وہ لائے ہیں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا؛ إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوْ إِلَى امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ۔

اب نیت یہ عمل ہے قلب کا، ایک طالب علم کے حیثیت سے اگر میں اخلاص کی تعریف کروں تو اخلاص کہ آپ کے قلب کا ارادہ اور آپ کے قلب کی نیت اور اس نیت پر مبنی عمل وہ ایک ذات کی طرف متوجہ ہو۔ تو قلب کا عمل اور عمل کی تفصیل جب اس میں ہم اللہ کی ذات کی طرف متوجہ ہوں گے اور اس کی رضا مقصود ہوگی تو کتاب کا آغاز جیسے انہوں نے توحید سے کر دیا ہے۔ تاہم بعض شارحین کی رائے یہ ہے کہ کتاب الوحی یہ بمنزلہ مقدمہ کے ہے اور جب مقدمہ مکمل ہوا تو آغاز کتاب الایمان سے کیا اور ایمان بھی عمل ہے قلب کا، زبان تو قلب کے ارادے کے اظہار کا نام ہے۔ تو آغاز بھی کتاب الایمان سے اور کتاب کا اختتام وہ بھی کتاب التوحید سے، ظاہر بات ہے کہ اعمال کی قبولیت کا دار و مدار ایمان پر ہے، عقیدہ توحید پر ہے، اگر توحید کا عقیدہ نہیں، اللہ کی وحدانیت پر ایمان نہیں، تو ان اعمال کا کوئی وزن نہیں۔ تو اس اعتبار سے جب آغاز وحی سے کیا ہے تو یہ صرف اس طرف متوجہ کرنا ہے کہ اشیاء کے ادراک کے مدارج ہیں،

 پہلا درجہ یہ کہ انسان اپنے شعور سے ادراک کرتا ہے جیسے چھوٹا بچہ بعد الولادہ وہ پہلے ماں باپ کو پہچانتا ہے۔ پھر اس کے بعد دوسری چیزوں کو پہچانتا ہے۔ بھوک کا احساس کرتا ہے۔ پیاس کا احساس کرتا ہے۔ خوف کا احساس کرتا ہے۔ خوشی کا احساس کرتا ہے۔ یہ سب چیزوں کا وہ شعور رکھتا ہے لیکن ان تمام چیزوں میں وہ باقی حیوانات سے ممتاز نہیں ہے۔ جب عمر آگے بڑھتی ہے تو پھر ادراک کرتا ہے اشیاء کا حواسِ خمسہ کے ذریعے سے، آنکھ سے دیکھتا ہے، کان سے سنتا ہے، ناک سے سونگتا ہے، زبان سے چکتا ہے، جسم سے چھوتا ہے پتہ لگ جاتا ہے یہ کیا چیز ہے، نرم ہے، ٹھوس ہے، اس میں بھی وہ باقی حیوانات سے ممتاز نہیں ہے۔ انسان کو اگر باقی حیوانات سے کوئی چیز ممتاز کرتی ہے تو وہ ہے عقل، اور عقل بہت بڑی نعمت ہے۔ عقل کے ذریعے وہ کائنات کے تمام علوم حاصل کرتا ہے اور یہ خاصہ مسلمانوں کا نہیں، مؤمنین کا نہیں، انسانیت کا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ نے تمام چیزوں کا علم عطا کیا وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسمَاءَ كُلَّهَا، جب حضرت آدم کو اللہ نے سب چیزوں کا علم دے دیا تو اس کا معنی یہ ہوا کہ بنی آدم کے اندر سب چیزوں کا علم حاصل کرنے کا استعداد پیدا ہوگیا۔ سو انسان ہے کہ ابھی کائنات کو تلاش کر رہا ہے، ایجادات کر رہا ہے، سائنسی تحقیق کر رہا ہے، انکشافات کر رہا ہے اور بڑھتا جا رہا ہے۔ ہاں مسلمانوں کے لئے، مؤمنین کے لئے اللہ نے جو خصوصی انعام عطاء کیا ہے وہ قرآن کا علم ہے، الرحمن علم القرآن، تو یہ وحی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری حیات طیبہ، آپ کا ہر قول، آپ کا ہر عمل یہ سب قرآن کی تشریح ہیں۔ یہ بھی وحی ہے۔ وحی کا علم اللہ نے اس لئے عطاء کیا کہ عقل اگرچہ بہت بڑی نعمت ہے، دنیا کی کوئی نعمت اس عقل کا مقابلہ نہیں کر سکتی، لیکن رہنمائی کے لئے کافی نہیں ہے۔ عقل خطا و انحراف بھی آجاتا ہے وہاں معطل بھی ہو جاتا ہے، محبت غالب آجائے عقل معطل، غضب غالب آجائے عقل معطل، شہوت غالب آجائے عقل معطل، حرص غالب آجائے عقل معطل، تو ایک اور رہنمائی عطاء کی ہمیں اللہ نے وحی کی جس پہ خطا و انحراف کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اور اس کے مثال آپ یوں بھی لیں کہ انسان کی بینائی ہے مکمل بینائی، کوئی کمزوری اس کی بینائی میں نہیں ہے۔ لیکن اگر خارجی روشنی اس کو مہیا نہیں آدھی رات، اندھیری رات، بند کمرہ، کوئی بلب نہیں، کوئی لالٹین نہیں، کوئی شمع نہیں، کسی قسم کی کوئی خارجی روشنی موجود نہیں تو باوجود اس کے کی کامل و مکمل بینائی ہے تب بھی اس کو کچھ نظر نہیں آتا، اسی طریقے سے اگر عقل کو وحی کی رہنمائی حاصل نہ ہو تو عقل اندھیروں میں چلا جاتا ہے، عقل پسل جاتی ہے۔ تو کتنا بڑا احسان ہے کہ اللہ نے انسانیت کی رہنمائی کے لئے اور مسلمانوں کی رہنمائی کے لئے قرآن اتارا، انبیاء اتارے، وحی اتاری، اور اس کی اہمیت صرف علماء کرام ہی جانتے ہیں، حکمران نہیں جانتے، پوری دنیا کے حکمرانی امریکہ کے ہاتھ میں اس کے بادشاہ کے ہاتھ میں لیکن ایمان کی نعمت اور اس ہدایت سے وہ محروم ہے اور ایک فقیر و غریب آدمی جس کو صبح و شام کھانے پینے کا انتظام بھی نہیں، گھر بھی نہیں، لیکن ایمان کی نعمت کی دولت سے اللہ نے اس کو نوازا ہے، بہت بڑی نعمت اللہ نے انسان کو عطاء کی ہے۔ تو ہم یہی حکمرانوں سے کہنا چاہتے ہیں کہ یہ مدرسے یہ اس نعمت کی حفاظت کر رہے ہیں۔

 میرے محترم دوستو! اب کتاب کی ابتدا انما الاعمال بالنیات تو یہ ساری دو جلدوں کی کتاب یہ اعمال کا لائحہ عمل ہے، پوری دنیوی زندگی کا لائحہ عمل ہے اور آخر میں پھر جا کر کہا کتاب التوحید و الرد على الجہمیہ، کتاب الایمان میں ایمانیات کا ایجابی پہلو ہے اور کتاب التوحید و الرد على الجہمیہ اس میں اس کا منفی پہلو ہے، ابتداء میں بیان یہ ہے کہ آپ کے اندر یہ عقیدہ ہو، یہ عقیدہ ہو، یہ عقیدہ ہو، تو آپ مؤمن ہیں اور آخر میں یہ بتاتے ہیں کہ اگر آپ کے اندر عقیدہ میں یہ فساد آگیا، یہ فساد آگیا، یہ فساد آگیا، آپ کا ایمان جاتا رہتا ہے۔

اب ظاہر ہے کہ دنیا جو ہے یہ عمل کی جگہ ہے ولا حساب اور آخرت حساب کی جگہ ہے ولا عمل، تو زندگی کے تمام اعمال بتانے کے بعد اب امام بخاری فرماتے ہیں کہ یہ اس کا حساب کتاب بھی ہوگا، ہم رکھیں گے ترازو عدل کے قیامت کے روز موازین یا تو میزان کی جمع ہے، اب بہت سے ترازو ہیں یا ایک ترازو ہے، موازین کا جمع کا صیغہ تو اشارہ کرتا ہے کہ ترازو متعدد ہیں بہ اعتبار اشخاص کے، بہ اعتبار اعمال کے، بہ اعتبار اقوال کے تعدد ہے اس میں، لیکن بعض روایات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ترازو ایک ہے اتنا بڑا ہے کہ ساری کائنات اس میں سما سکتی ہے۔ تو پھر یہاں پر جمع کا صیغہ تفخیم کے لئے ہے جیسے وَكَذَّبَتْ قَوْمُ نُوحٍ لِلْمُرْسَلِينَ، اب پیغمبر تو ایک نوح تھا لیکن قوم نے مرسلین کو جھٹلایا، تو ایک حضرت نوح کو مرسلین کی صفحہ سے یاد کیا یہ جمع کا صیغہ تفخیم کے لئے ہے تو یہاں پر بھی موازین تفخیم کے لئے ہو جائے گا۔ تو موازین جمع ہے میزان کی، جیسے مواعید جمع ہے میعاد کی اور یہ موازین جمع ہے موزون کی، جیسے مشاہیر جمع ہے مشہور کی؛

فَاَمَّا مَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِیۡنُہٗ، فَہُوَ فِیۡ عِیۡشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ، وَ اَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِیۡنُہٗ، فَاُمُّہٗ ہَاوِیَۃٌ، وَلَا تُخْسِرُ الْمِيزَانِ اِلَّا تَنْقُسُ الْمَوْزُونِ وَنَضَعُ الْمَوَازِینَ لِلْقِسْطَةِ۔ اب قسط صفت ہے موازین کی اور ہم نے نحو کی کتاب میں اصول یہ پڑھا تھا کہ موصوف اور صفت کے درمیان مناسبت ہوگی، تو یہاں پر موصوف جمع ہے اور صفت مفرد ہے تو ہم مضاف مقدر نکالیں گے؛

وَنَضَعُ الْمَوَازِینَ ذوات لِلْقِسْطَةِ تو موصوف بھی جمع اور صفت بھی جمع اور یا یہ کہ موصوف صفت، اور یا پھر قسط مصدر ہے اور مصدر میں مفرد تثنیہ اور جمع برابر ہوتے ہیں۔ میزان قسط، میزانان قسط، موازین قسط۔، تو اس اعتبار سے پھر قسط مفرد ہو کر بھی موازین کی صفت بن سکتا ہے۔ لیوم القیامة قیامت کے روز یا تو لام زائد ہے وَنَضَعُ الْمَوَازِینَ لِلْقِسْطَةِ یوم القیامة یا  لام تعلیل کی لیے ہے وَنَضَعُ الْمَوَازِینَ لِلْقِسْطَةِ لِحِسَابِ یوم القیامة یا  لام توقیت کی لیے ہے وَنَضَعُ الْمَوَازِینَ لِلْقِسْطَةِ لِوقت یوم القیامة۔ تو اس اعتبار سے عبارت صحیح ہو جاتی ہے وَنضَعُ الْمَوَازِینَ لِلْقِسْطَةِ لِلْقِيَامَة وَأَنَّ أَعْمَالَ بَنِي آدَمَ وَقَوْلَهُمْ يُوزَن اب یہ قول ہے امام بخاری کا، امام بخاری اس قول سے معتزلہ پر رد کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ اقوال و اعمال یہ اعراض ہیں وَالْإِعْرَاضُ لَا يُوزَنُ، اعراض کا وزن نہیں ہوا کرتا۔

تو آج تو بدیہی طور پر دنیا جہان کے اعراض تولے جا رہے ہیں، بخار تولہ جا رہا ہے، گرمی تولی جا رہی ہے، سردی تولی جا رہی ہے، رفتار تولی جا رہی ہے، یہ سب اعراض ہیں۔ تو معتزلہ کا عقیدہ بداہتاً باطل ہے۔ لیکن امام صاحب نے اسی وقت عنوان قائم کریئے وَأَنَّ اعمَالَ بَنِ آدَمُ وَقَوْلَهُمْ يُوزن اور یہ اعمال کو اجساد بنا دیا جائے گا جب اجساد کی صورت میں اللہ تعالیٰ اس کو مجسد کر دے گا، مجسم بنا دے گا تو سوال ہی ختم ہو جائے گا۔ اب اس باب کے تحت امام بخاری جو حدیث لارہے ہیں حدیث باب، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ كَلِمَتَانِ، كَلِمَتَانِ بمعنی کلامان اور کلام کی تعبیر کلمہ سے ہوتی ہے، كَلِمَةٌ طَيِّبَةٌ كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ، كَلِمَةٌ خَبِيثَةٌ، جیسے عرب لوگ بھی آج کل جب مقرر کو بلاتے ہیں،  الان الشیخ الفلان الفلان یلقی علیکم کلمۃً، تو کلمہ سے مراد تقریر ہے پوری، بیان ہے پورا، تو كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ، اور خود کلمہ نہیں بلکہ ان کلمات کا قائل جب ان کو پڑھے گا تو خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ، زبان پر ہلکے ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ میزان میں بھاری، مناسبت ہے ترجمۃ الباب کے ساتھ، ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ میزان میں بھاری ہیں سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ، دو کلمے ہیں اور جو آدمی پڑھ لیتا ہے تمام اعمال پر غالب آجاتے ہیں، وزن میں اتنے بھاری ہیں۔ تو اگر دن میں سو دفعہ آپ پڑھ لیا کریں تو اس کو وظیفہ بنا لو، اب قرآن کے علوم، حدیث کے علوم، ان کی حفاظت جس طرح ہمارے دینی مدارس میں ہوتی ہے، ان کو علم سے کیوں دشمنی ہے؟ 

مدرسوں کو اپنے قبضے میں لینے کی خواہش کیوں ہے؟ پی آئی اے کو تو نجی ملکیت میں بیچ رہے ہو اور مدرسے جو پہلے سے نجی ادارے ہیں، این جی اوز ہیں جو طالب علموں کو پڑھاتے بھی ہیں، کھلاتے بھی ہیں، پلاتے بھی ہیں، کمرہ بھی دیتے ہیں، بجلی بھی دیتے ہیں، گیس بھی مفت، پانی بھی مفت، کتاب بھی مفت، اس سے بڑھ کر رفاہی ادارہ اور کون سا ہو سکتا ہے۔ اور میں اپنے حکمرانوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ علامہ شبیر احمد عثمانی جو علم کا سمندر حضرت شیخ الہند کے ترجمہ کا شارح انگریز نے اس کو اپنی کتاب میں انپڑھ لکھا تھا، کیونکہ پرائمری سکول میں داخل نہیں ہوا تھا۔ تم اس انگریز کی نقش قدم پہ چل رہے ہو، ان کے نزدیک بھی دین کا علم، علم نہیں تھا اور آپ کی نظر میں بھی دین کا علم، علم نہیں ہے۔

تو یہ ایک جدوجہد ہے اس راستے میں ہم نے استقامت دکھانی ہے اور ہم نے ان کو بتانا ہے کہ مدرسہ اور علماء ان کی پشت پر برصغیر کی ڈھائی سو سالہ تاریخ موجود ہے اور وہ قربانیوں کی تاریخ ہے، ہم اپنی تاریخ بھولے نہیں ہیں اور ہمیں آزماؤ بھی نہیں، ورنہ ہم تمہارے لئے ان سے بڑھ کر آزمائش بن جائیں گے۔ پھر مسئلہ آپ کے لئے مشکل ہوگا ہمارے لئے کوئی مشکل نہیں ہے۔

تو قرآن کے علوم اور حدیث کے علوم اس کی حفاظت اس مدرسے میں ہے اور جب مدرسہ اس کا محافظ ہوگا تو پھر ہم مدرسہ آپ کے ہاتھ میں نہیں جانے دیں گے۔ کیونکہ ہم حکمرانوں پر اور ان کی اداروں پر اعتماد نہیں کرتے۔ ان کے دلوں میں نہ اس علوم کی قدر منزلت ہے اور نہ ہی وہ اس کی محافظ بن سکتے ہیں، جو پہلے سے علمی ادارے تھے اور ان کے ہاتھ میں گئے ہیں ان کی مدرسہ اور علم کی حیثت ختم ہو گئی ہے۔ تجربہ بتا رہا ہے۔

تو ان شاءاللہ مدارس کی حفاظت ہوگی اور تمام علماء اکرام تمام مکاتب فکر اس پر متفق ہے ان شاءاللہ العزیز، لیکن اتنا ضرور ہم کہنا چاہتے ہیں کہ ہم نے ہمیشہ مکالمے کا راستہ لیا ہے، مذاکرات کا راستہ لیا ہے، مذاکرات سے مسائل کو حل کیا ہے، آپ کے ساتھ معاہدات ہوئے ہیں، ان معاہدات کی بنیاد پر قانون سازی ہوئی ہے اس قانون پر عمل کرو،، تاکہ یہ تاثر تو ہمیں نہ ملے کہ آپ ہمیں دھوکہ دے رہے ہیں حالانکہ ایسے لوگوں کی عادت ہوتی ہے دھوکہ دینے کی، لیکن دھوکے نہیں چلیں گے۔

تو ان شاءاللہ العزیز زندگی رہی تو حاضری ہوتی رہے گی، اگر اتنے نعروں کی جگہ تھوڑا سا عملی کام کرتے تو پنجاب میں آپ کے علاؤہ کوئی نہیں جیت سکتا تھا، مسئلہ یہ ہے کہ آپ نعروں میں وقت ضائع کر دیتے ہیں، نمائش پہ وقت ضائع کرتے ہیں کام نہیں کرتے، قوم تک نہیں پہنچتے، محلے تک نہیں پہنچتے، عام آدمی جو شعور نہیں دے رہے اور سیاست ایسی چیز بن گئی ہے جیسے کوئی بری بات ہو۔ تو بتاؤ لوگوں کو کہ سیاست انبیاء کی وراثت ہے، اور اگر وراث ہیں تو انبیاء کے مصلے کے وارث بھی ہم ہے، اس کے منبر کے وارث بھی ہم ہیں۔ اور ان کی مسند کے وارث بھی ہم ہیں۔ 

وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔

‎ضبط تحریر: #سہیل_سہراب، #محمدریاض 

‎ممبرز ٹیم جےیوآئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز 

‎#teamJUIswat

0/Post a Comment/Comments