قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب

قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب

23 جنوری 2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمده و نصلی على رسولہ الکریم

جناب اسپیکر! آج ایسا مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ آپ کچھ دباؤ میں ہیں اور نارمل موڈ میں نہیں ہیں۔ تو اس ایوان کی کارروائی میں آپ کے موڈ کا بھی بڑا رول ہوتا ہے، کچھ تھوڑا سا اپنے آپ کو نارملائز بھی کیا جائے، نیوٹرلائز بھی کر لیں اپنے آپ کو تو پھر ان شاءاللہ ہم اپنی بات کو بڑے اچھے طریقے سے ڈیلیور کر سکیں گے۔

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی گفتگو:

مولانا صاحب یہ وہ کرسی ہے جہاں نہ حکومت خوش ہوتی ہے نہ اپوزیشن خوش ہوتی ہے۔ تو یہ سب سے مشکل کرسی ہے اور دباؤ میں تو میں ہر وقت ہی رہتا ہوں کہ ان کو بھی بچانا ہے، ان کو بھی بچانا ہے، ان کو بھی موقع دینا ہے، ان کو بھی موقع دینا ہے۔ مگر میں اس دباؤ میں نہیں آتا جو زبردستی کرانے کے لئے یہاں کر کے لیا جاتا ہے۔ جی شکریہ

مولانا صاحب اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے:

بات زبردستی کی نہیں ہے ایک رکن ایوان کی حیثیت سے گفتگو کا اور اپنی بات کرنے کے حق کی ہے، سو وہ ہمارا حق ہے۔

قانون سازی ہوئی اور اس قانون سازی پر اسی فلور پر ہم اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں، ہم نے اس قانون سازی کو قرآن و سنت کے منافی اور آئین کے منافی تصور کیا ہے اور اگر ہم نے آپ سے یہ کہا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل موجود ہے جہاں شریعت انوال ہو وہاں کم از کم یہ چیزیں وہاں بھیج دی جائیں تاکہ وہاں سے واضح طور پر رائے آ جائے، کہ علماء کرام کیا کہتے ہیں، مذہبی لوگ کیا کہتے ہیں، اس میں آئینی ماہرین بھی ہیں، قانونی ماہرین بھی ہیں، تمام مکاتب فکر کی نمائندگی ہے، لیکن اس طرح آپ نظرانداز کر کے اور پھر قانون کی پیچھے لکھا ہوتا ہے کہ ہم اقوام متحدہ، کبھی ایف اے ٹی ایف، کبھی آئی ایم ایف اور ان کے منشور اور فلاں کے تقاضوں کے مطابق قانون سازی کر رہے ہیں۔ ہم نے تو اس آئین کا حلف اٹھایا ہے، ہم نے تو اقوام متحدہ کے منشور کا حلف نہیں اٹھایا ہے۔

تو اس حوالے سے یا تو لفظ اسلامی جمہوریہ سے اسلامی کاٹ دیں تو پھر جمہوریہ کہتے رہے، ایک سیکولر نظام ہے، سیکولر ملک ہے، اس میں قرآن و حدیث کی کوئی حیثیت نہیں ہے، جو شخص جیسے چاہے قانون سازی کرے، کس کی پیروی ہو رہی ہے؟ کس ایجنڈے کی پیروی ہو رہی ہے؟ اس پر میں اپنے شدید احتجاج اس ایوان کے فلور پر نوٹ کرا رہا ہوں اور یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ہم ایسے قانون ملک میں چلنے نہیں دیں گے۔ آپ نے جس طرح کے عائلی قوانین بنائے ہیں، جس طرح کے عائلی قوانین میں آپ نے ترمیم کی ہے میں اعلان کرتا ہوں کہ میں سرعام اس کی خلاف ورزی کروں گا اور پندرہ سال اور سولہ سال اور بارہ سال اور دس سال کے جوانوں کے شادیاں کر آؤں گا اور ان میں خود بیٹھوں گا۔ آپ بتائیں گے کہ پھر آپ کس طرح میرا مقابلہ کرتے ہیں میں آپ کی قانون کو چیلنج کرتا ہوں، میں آپ کی قانون سازی کو چیلنج کرتا ہوں، میں آپ کی ذہنیت کو چیلنج کرتا ہوں۔ یہ کیا طریقہ ہے ہمارے ملک میں مسلمان کہلانے والے، یہاں پر آپ کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے فلور پر میری گفتگو کے جواب میں فرمایا؛ کہ ہم بھی تو اللہ اور رسول کو ماننے والے ہیں، اگر آپ کے نظر میں یہ اس کے خلاف ہے تو آپ ترامیم دیں، میں نے ان سے فون پر بات کی اور میں نے کہا کہ آپ نے فوری طور مجھے جواب دیا ہے ذرا اپنے ماحول سے مشورہ کر کے آپ نمائندگی لے لیں، مینڈیٹ لے کر پھر آپ بتائیں ہم ایک کمیٹی بنا کر آپ کے ساتھ بات کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے، اس کے بعد کوئی سوال جواب نہیں ہے۔ یہ ڈنگ ٹپاؤ والی سیاست یہ شاید مناسب نہیں ہے، پاکستان اس طرح کیسے چلے گا؟ آپ تو جمہوریت کو شکست دے رہے ہیں اور جو مسلح گروہ جو بیانیہ لے کر اٹھے ہیں آپ قدم قدم پر ان کو تقویت دے رہے ہیں۔ ہماری توانائیاں یہاں پر کس بات سے ضائع ہو رہی ہے؟ ہم کس چیز کے لئے یہاں آئے ہوئے ہیں؟ ہم نے تو آئین کا حلف اٹھایا ہے، ہم تو جمہوریت کی بات کرتے ہیں، ہم تو پارلیمنٹ کی بات کرتے ہیں، ہم تو ووٹ کی بات کرتے ہیں اور اگر مذہبی دنیا وہ پاکستان کے آئین کی نمائندگی کرتا ہے آپ کے شانہ بشانہ کھڑا ہے، آپ یہاں پر اس قسم کی حرکتیں کر کے جس طرح آئین کو روند رہے ہیں، جس طرح عقیدے کو روند رہے ہیں اور پھر ہماری توانائیوں کو تباہ و برباد کر رہے ہیں، جمہوریت شکست کھا رہی ہے، پوری دنیا میں شکست کھا رہی ہے اور میں نے کل کی گفتگو میں بھی یہ کہا تھا کہ پوری دنیا میں جمہوریت ختم ہو رہی ہے اب یا سرمایہ داریت ہے اور یا آمریت ہے اور وہ راج کر رہی ہے۔

بات ہو رہی ہے بورڈ آف پیس کی مجلس السلام کی، جو مسٹر ٹرمپ کا ایک نظریہ ہے۔ اس نظریہ کا آغاز ان کے بیس نکاتی فارمولے سے ہوا ہے، بیس نکاتی فارمولا امن کے لئے، یہاں پر آپ کے وزیر خارجہ نے بیان دیا اس ہاؤس میں، کہ اس میں تبدیلی آئی ہے اور ہمیں بتائے بغیر تبدیلیاں لائی گئی ہیں، جب ہمارا اس پر اعتراض ہوگیا، فلور پر ہم نے اپنے قوم سے کہا، نمائندگان قوم سے کہا، اس کے بعد پھر آنکھیں بند کر کے وہاں چلے جانا اور ان کے بیس نکات کو قبول کرنے کا کیا تصور پیدا ہو سکتا ہے؟ کہیں کوئی ضمیر، کہیں کوئی ایک خود اعتمادی اپنے اوپر، کبھی اپنے ملک اور قوم پر خود اعتمادی اور آج ہم اس میں جا رہے ہیں۔ آپ مجھے بتائیں کہ کیا ٹرمپ نے نہیں کہا اور کل کی تقریر میں نہیں کہا اکنامک فورم پر کہ اگر حماس غیر مسلح نہیں ہوتا تو ان کا وہی حشر کیا جائے گا جو لبنان میں حزب اللہ کا کیا گیا، تو لبنان میں حزب اللہ پر حملہ اسرائیل نے کیا تھا، یعنی وہ فلسطینیوں کے قوت مزاحمت کو تو ختم کرنا چاہتا ہے اور اسرائیل کی قوت جارحیت کو تقویت دے رہا ہے اور آج تک جتنے معاہدات ہوئے ہیں ان تمام معاہدات کی تاریخ پڑھ لیں اس میں انہوں نے فلسطین کو سکیڑا ہے اور اسرائیل کو سپیس دیا ہے۔ مسلسل سپیس دیا ہے اس کو، ہم ایسے حالات میں، میں آپ سے مخاطب ہوں جناب اسپیکر! میری کوشش یہ ہوتی ہے کہ میں اسپیکر صاحب کو خطاب کروں اور رول بھی یہی ہے۔ تو بنیادی بات یہ ہے کہ جہاں دھمکیاں ہیں اگر ایسا کیا گیا تو میں ایسا کر دوں گا، ان کی ایسی تیسی پھیر دوں گا، تباہ و برباد کر دوں گا، کیا یہ صلح کی آغاز ہے؟ دنیا میں امن قائم کرنا، غزہ میں امن قائم کرنا، فلسطین میں امن قائم کرنا، افغانستان آئے، امن کیلئے آرہے ہیں، بیس سال تک اینٹ سے اینٹ بجا دی اس کی، عراق میں آئے امن قائم کرنے کیلئے آئے ہیں، عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی آپ نے، لیبیا میں آئے ہم امن کیلئے آئے ہیں، لیبیا کو تباہ و برباد کر دیا، منقسم کر دیا۔ آج وہاں کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ اسلامی دنیا کو اس وقت اس نے ٹارگٹ بنایا ہوا ہے اور اگر یہ اسرائیل لبنان سے ہوتا ہوا، شام سے ہوتا ہوا اب ایران پر بھی حملہ ہوگا تو اس کے بعد اسرائیل تفتان پر آپ کی سرحد پر کھڑا ہو جائے گا۔ کبھی سوچا ہے ہم نے، کبھی اس ایوان نے سوچا ہے کہ یہ پیشرفت کہاں ہو رہی ہے، یہ پیشرفت آپ کی سرحدات کی طرف ہو رہی ہے، پاکستان کی سرحدات کی طرف ہو رہی ہے اور میں یاد دلانا چاہتا ہوں ایک بار پھر اس ایوان کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ جب اسرائیل وجود میں آیا تو اس کے پہلے صدر نے جو پہلا خارجہ پالیسی سٹیٹمنٹ لیا اس میں اس نے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی کی اساس ایک نو زائدہ اسلامی ملک کا خاتمہ ہوگا، تو ان کے عزائم اس کے پیدائش کے دن سے آپ کے خلاف واضح ہیں، آپ نے ان کو مغرب کا ناجائز بچہ کہا، اس نے کہا میرا سیاسی زندگی کا آغاز اس مقصد کیلئے ہوگا کہ اس نو زائدہ ملک کا خاتمہ کروں، ان کے ارادے بھی واضح ہیں، آپ کی سوچ بھی واضح ہے۔ اس کے بعد ہم آنکھیں بند کر کے دوڑ جاتے ہیں اور سیاسی قوتوں ایک ہی جگہ پر دوڑ رہے ہوتے ہیں تاکہ ہم کسی طریقے سے اس بت کو راضی کرسکے۔ اللہ کے مقابلے میں آج تم ایک ٹرمپ بت کو راضی کرنے کے لئے لگے ہوئے ہو۔ اس سے بڑا شرک اور نہیں ہوسکتا۔ پاکستان کو اگر بچائے گا تو اللہ کی ذات بچائے گا، اگر پاکستان کو بچائے گا یہ ننانوے صفات اللہ کے ضمانت دیں گے، خدا کی قسم امریکہ نے آپ کے بنگال کو بھی نہیں بچایا اور آج اگر یہ ملک ٹوٹے گا تب بھی آپ کو نہیں بچائے گا۔

کچھ خدا کا خوف کرو ہم کدھر جا رہے ہیں، ایک قوم کی آزادی سلب ہو رہی ہے، ستر ہزار لوگ شہید کر لئے گئے ہیں، ایک لاکھ سے زیادہ بیماری اور بھوک سے مر گئے ہیں، ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں اور اس کے باوجود ہم ایسے صلح کو قبول کر رہے ہیں، ایسے فورم پر جا رہے ہیں جس کا آغاز دھمکیوں سے ہو رہا ہے۔ جس کا آغاز ایک فریق اور اسرائیل، کہتے ہیں اقوام متحدہ میں بھی تو اسرائیل بیٹھا ہے تو پاکستان بھی بیٹھتا ہے، سلامتی کونسل میں بھی تو اسرائیل بیٹھتا ہے تو پاکستان بھی بیٹھتا ہے، اگر یہ دلیل ہے آپ کی، تو پھر آپ مجھے بتائیں کہ 1948 سے لے کر آج تک آپ کے پاسپورٹ پر کیوں لکھا ہوا ہے کہ ساری ویزے رکھ سکتے ہیں سوائے اسرائیل کے، اگر بیٹھنا کسی جگہ پر کسی فورم پر وہ دلیل ہے لیکن آج وہ غزہ کے معاملے میں صرف فریق ہی نہیں، قاتل ہے اور عالمی عدالت انصاف نے اس کو مجرم قرار دیا ہے اور یہ حکم دیا کہ جہاں سے وہ گزرے کسی بھی ملک میں اس کو گرفتار کیا جا سکتا ہے، مگر امریکہ میں بھی اس کو پروٹوکول دیا جا رہا ہے، ٹرمپ بھی اس کو پروٹوکول دے رہا ہے اور ایک قاتل ایک فریق آج وہ صلح کے میز پر بیٹھا ہوگا ثالثی کا کردار ادا کرے گا۔

کوئی ہے خدا کا خوف ان پر، کرو سب کچھ کرو، ہمیں امن چاہیے لیکن امن چاہنے کے بھی راستے ہوتے ہیں۔ ہم قبائلی لوگ ہیں جرگوں کو جانتے ہیں، صلح کی اصولوں کو جانتے ہیں، کس طرح معاملات ہوتے ہیں۔

جناب اسپیکر: پاکستان پر رحم کرو خدا کیلئے، ہندوستان ہمارا دشمن، افغانستان سے ہماری لڑائی، چین ہم سے مایوس، ایران کے ہمارے بارے میں تحفظات، ہم جس جغرافیائی ماحول میں گرے ہوئے ہیں ہر طرف معاشی ترقی ہو رہی ہے ایک پاکستان ہے جو ڈوب رہا ہے۔ کیا کبھی آپ نے اپنے ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کا سوچا ہے؟ کیا آپ نے کبھی اپنے غریب کو سوچا ہے۔ اس حوالے سے ہم جس طرف جا رہے ہیں یہ پاکستان کے مستقبل کی تاریکی کا ایک اقدام ہے، ہم نے پارلیمنٹ سے نہیں پوچھا، آج کم اس کم یہاں ایک قرارداد آنی چاہیے۔

جناب اسپیکر: اگر ہمارے اندر ضمیر ہے میں حکومت سے بھی کہنا چاہتا ہوں آپ بھی پاکستانی ہیں، اپوزیشن سے بھی کہنا چاہتا ہوں ہم سب ایک قوم ہیں کم اس کم ان شرائط کی بنیاد پر بورڈ آف پیس کو پارلیمنٹ آج مسترد کر دے، اگر پرائم منسٹر صاحب گئے ہیں انہوں نے اس ایوان کو اعتماد میں نہیں لیا، انہوں نے اپنی کابینہ کو اعتماد میں نہیں لیا، کیوں چلے گئے ہیں اتنے بڑے مسئلے کے اوپر، آخر ایک لاکھ لوگ شہید ہوئے ہیں، دربدر ہوگئے ہیں، گھروں سے نکل چکے ہیں، ہمارا کیا مقام رہ گیا ہے دنیا کے اندر۔ 

سو اس حوالے سے ہمارے بہت تحفظات ہیں اور اگر اس قسم کی فورم پر ہمارا ملک بیٹھتا ہے، میں آپ کی اس حکومت کو جعلی بھی کہہ چکا ہوں، آپ کی اکثریت کو جبری بھی کہہ چکا ہوں اور جعلی اور جبری نظام کے خلاف اپنے جہاد کو جاری رکھنا یہ ہمارا قومی فریضہ ہوگا، دینی فریضہ ہوگا۔ اور ان شاءاللہ العزیز یہ جنگ جاری رہے گی، آپ نہیں جیت سکیں گے یہ جنگ، اللہ تعالی ہماری مدد فرمائے۔ لیکن آپ ذرا مہربانی کریں ایوان سے کہیں کہ اس طرز عمل کو مسترد کر دیں اور آئیں ایوان سے مشورہ کریں، ملک سے مشورہ کریں، عوام کی نمائندوں سے مشورہ کریں، اپنی کابینہ سے کم از کم مشورہ کریں اور قانون سازی جہاں پر شریعت انوال ہو کم از کم اسلامی نظریاتی کونسل میں بھیج دے، اس طرح نہیں ہوگا۔ اس طرح آپ ہمیں ہانکتے رہیں گے، ہم معزز انسان ہیں الحمدللہ، ہم معزز قوم ہیں، آزادی ہماری تاریخ ہے اس کے لئے قربانی ہماری تاریخ ہے۔

بہت بہت شکریہ

ضبط تحریر: #سہیل_سہراب

‎ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز 

‎#teamJUIswat


0/Post a Comment/Comments