مولانا فضل الرحمن صاحب کا راؤ عبدالقیوم کے بھائی کی وفات پر تعزیت اور مقامی میڈیا نمائندوں سے مختصر گفتگو

قائدِ جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب کا جمعیۃ علماء اسلام سرگودھا کے امیر راؤ عبدالقیوم کی رہائش گاہ آمد، بھائی کی وفات پر تعزیت اور مقامی میڈیا نمائندوں سے مختصر گفتگو

13 جنوری 2026

میرے دوستو اور بھائیو!

ہمارے بہت ہی پیارے بھائی مولانا جاوید نعمانی صاحب اس دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں، اور یقیناً ہمارے راؤ عبد القیوم صاحب اور اس کے خاندان کا بہت بڑا نقصان ہے اور یہ صرف ان کا نقصان نہیں بلکہ یہ ان کے پورے حلقہ احباب ان کی برادری ان کی جماعت کا نقصان ہے۔ ایک اچھے ساتھی ہم سے بچھڑ گیا ہے۔ لیکن قدرت کو ایک قانون ہے اور نہ دنیا میں کوئی اپنے آنے کو روک نہیں سکتا اور جب دنیا سے کوئی جاتا ہے تو وہ اپنے جانے کو روک نہیں سکتا۔ یہ سب اللہ کے اختیار میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے ہاں بلا لیا ہے۔

انہوں نے یہاں تحریکوں میں جس جرات اور بہادری کے ساتھ ہمارا ساتھ دیا اور جس وفاداری کے ساتھ وہ ہمارے شانہ بشانہ چلے اور جب تک ان میں سکت تھی اور جب تک وہ چل سکتے تھے میں نے بذات خود ان کی خدمات کا ان کی وفاداری کا ان کی نظریاتی وفاداری کا مشاہدہ کیا ہے اور آج ہم ان کے خدمات کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔

حضرت راؤ عبد القیوم صاحب نے ماشاءاللہ اپنے بزرگوں کی اپنے خاندان کی جماعتی وابستگی اور اس حوالے سے اس مشن کو سنبھالا ہے اور آپ احباب آپ دوست ہم سب شانہ بشانہ اس ایک ہی مشن سے وابستہ ہیں اور جو دنیا سے چلے جاتے ہیں وہ اپنے مشن زندہ لوگوں کے حوالے کر دیتے ہیں، ایک امانت کے طور پر ان کے حوالہ کر دیتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ان شاءاللہ العزیز ہم ان مشن کو اور آگے بڑھائیں گے، پوری ہمت کے ساتھ آگے بڑھائیں گے اور اللہ رب العزت جمعیۃ علماء اسلام کو اس کے نظریے اور عقیدے کو اس کے نصب العین کو مذید فروغ عطاء فرمائے اور ہمیں اس راہ میں اللہ رب العزت قبول فرما لے۔

میں ایک دفعہ پھر آپ تمام حضرات سے، یہاں کے تمام ان کے متعلقین سے تعزیت کا اظہار کرتا ہوں، ان کے خاندان سے تعزیت کا اظہار کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کو جوار رحمت میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے، ان کے قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے اور ان کو اپنے نیک اسلاف کے ساتھ شانہ بشانہ جنت میں جگہ نصیب فرمائے۔

وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔

نصیر احمد احرار صاحب: کوئی ساتھی سوال کرنا چاہے تو کر سکتے ہیں۔

صحافی: جی مولانا صاحب! پی ٹی آئی جو ہے محمود اچکزئی کو اپنا اپوزیشن لیڈر تعینات کرنا چاہ رہے ہیں، اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟

مولانا صاحب: یہ ان کا اختیار ہے وہ جس کو چاہے بنا سکتے ہیں۔

صحافی: مولانا صاحب، وزیراعلی خیبرپختونخوا پنجاب اور سندھ کے دورے پر ہے ان کو پورا پروٹوکول نہیں ملا، آپ اس حوالے سے کیا کہتے ہیں کیوں کہ جمہوریت تو سب کو اختیار دیتی ہے کہ اپنا حق بیان کر سکے۔

مولانا صاحب: وہ آپ کی پنجابی میں کہتے ہیں کہ "“کج شہر دے لوگ ظالم سن ، کجھ سانوں وی مرندا شوق وی سی"۔

صحافی: مولانا صاحب! نون لیگ اور پیپلز پارٹی کب تک اکھٹے رہ سکیں گے ؟

مولانا صاحب: یہ تو ان سے پوچھنے کا سوال ہے، بہرحال آپس میں گرتے پڑتے چل رہے ہیں۔ 

صحافی: جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ ہم ریفرنڈم کریں گے، تو آپ اس حوالے سے کیا کہتے ہیں ؟

مولانا صاحب: ہمارے ساتھ اس حوالے سے رابطہ نہیں ہے، کچھ معلوم نہیں کہ ان کا کیا فلسفہ ہے۔ کوئی رابطہ ہوگا تو اس کے بعد ہی بات کرسکیں گے۔

صحافی: حکومت بلدیاتی الیکشن سے کترا رہی ہے اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟

مولانا صاحب: میرے خیال میں بلدیاتی الیکشن آئین کا تقاضا ہے وہ تو کرنے ہی ہوں گے ۔

صحافی: حکومت کے جو موجودہ حالات جا رہے ہیں اس بارے میں کیا کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کو سامنے آنے دیں گے؟

مولانا صاحب: پی ٹی آئی سامنے آئے گی یا نہیں، لیکن جمعیۃ علماء اسلام سامنے آئے گی ان شاءاللہ 

بہت بہت شکریہ 

ضبط تحریر: #سہیل_سہراب

‎ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز 

‎#teamJUIswat 


0/Post a Comment/Comments