مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے اہم گفتگو

قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے اہم گفتگو

23 جنوری 2026

پہلی بات تو یہ ہے کہ امت مسلمہ بشمول پاکستان کے، ٹرمپ کے دباو میں اسرائیل کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں اور خطہ پر اور فلسطین پر عرب دنیا پر اسرائیل کی گرفت کو مضبوط بنانے کیلئے یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ نام تو یہ ہے کہ یہ امن کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں، لیکن جس لب و لہجے میں اس بورڈ کی کاروائی کا ٹرمپ آغاز کر رہے ہیں، جن دھمکیوں کے ساتھ یہ خود بتا رہا ہے کہ ان کے عزائم کیا ہے۔ حماس کو غیر مسلح کرنا یہ در حقیقت فلسطینیوں کے قوت مزاحمت کو ختم کرنے کا ایک منصوبہ ہے۔ جبکہ وہ اپنی سرزمین کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اسلامی دنیا نے اس حوالے سے جو کردار ادا کیا ہے ہر چند کہ وہ کہیں کہ ہم تو قیام امن کے لیے، فلسطینیوں کی بحالی کے لیے، فلسطین کی تعمیر و ترقی کے لیے، وہاں لوگوں کی زندگی کی بحالی کے لیے لیکن ان سب کو ٹرمپ کے ایجنڈے پہ آگے بڑھنا ہوگا۔ جو خود امت مسلمہ کے لیے خطرے کا باعث بنے گا۔ میں عرب دنیا کے بارے میں بھی واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اسرائیل امریکہ کی اس تمام کاؤشوں کے نتیجے میں اسرائیل کی توسیع کا پہلا نشانہ عرب ممالک بنیں گے۔ اسلامی دنیا اپنے پاؤں پر کیوں کلہاڑی مار رہی ہے، اپنے گردن پر اپنے ہاتھ سے خنجر رکھی ہوئی ہے اور اگر امریکہ کل ایران پر حملہ کرتا ہے، تو لبنان میں اسرائیل داخل ہو چکا ہے، شام ان کے حملوں کے زد میں ہے، عراق پہلے سے امریکہ کے زیر اثر ہے اور اگر ایران میں بھی یہ صورتحال بنتی ہے تو اسرائیل پاکستان کی دہلیز پر آکے کھڑا ہو جائے گا۔

یہ لوگ صرف برستی بارش کو دیکھتے ہیں کیوں اس صلاحیت سے محروم ہیں کہ وہ دور بادلوں میں آنے والے طوفان کو تاڑ لیں، ہمیں اس بات کے تشویش ہے۔ کسی سے ذاتی جنگ نہیں ہے۔ جو شکایتیں ہمیں عمران خان سے تھی آج کی حکومت عمران خان سے دو چار قدم آگے چلی گئی ہے، اس کا معنی یہ ہے کہ یہ حکومتوں کا پھر ایجنڈا نہیں ہے، یہ اسٹیبلشمنٹ کا ایجنڈا ہے، اور اسے نہ ہم پاکستان کے مفاد میں سمجھتے ہیں اور نہ امت مسلمہ کے مفاد میں سمجھتے ہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ جو قانون سازیاں ہو رہی ہیں، یہ قانون سازی شریعت کے خلاف ہے اور جب شریعت کے خلاف ہے اس کا معنی یہ آئین کے خلاف ہے، آئین کے خلاف کوئی قانون ہمیں قابل قبول نہیں ہے۔ ایوب خان کے زمانے میں عائلی قانون پاس ہوئے تھے ہم نے تسلیم نہیں کیا تھا، ہم نے اس کو دلائل سے رد کیا تھا، لیکن ہمیں دلائل سے مطمئن کرنے کی بجائے اس نے آمرانہ قوت کے ساتھ اپنی بنائی ہوئی اسمبلی سے پاس کرا دیا، آج بھی جو قوانین ہو رہے ہیں یہ وہ اسی عائلی قوانین میں ترامیم ہیں اور وہی تسلسل ہے۔ سو آج بھی وہ ہمیں قابل قبول نہیں ہے۔

جنرل مشرف نے حقوق خواتین کے نام پر آئین میں ترمیم کی، جس میں انہوں نے زنا کے راستے کھولے، زانی کو سزا دینے کے لئے قانونی پروسیجر کو مشکل بنایا اور آج جائز نکاح کے لئے مشکلات پیدا کی جارہی ہیں، یعنی حرام زنا اس کے لئے سہولتیں ہے اور جائز نکاح اس کے لئے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں کیا یہ ایک اسلامی ریاست کا تصور ہے؟ حکمرانوں نے پاکستان کی اسلامی ریاست کیا چہرہ مسخ کر کے رکھ دیا ہے۔ تو ہم تو نظریاتی لوگ ہیں اور آئین و قانون کے دائرے میں جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں، حکمرانوں کے مسلسل ان رویوں کے نتیجے میں جمہوریت اپنا مقدمہ ہار رہا ہے اور عالمی برادری کو بھی اور مغربی دنیا کو بھی جمہوریت سے اب کوئی دلچسپی نہیں رہی ہے۔ وہ صرف طاقت پر ایمان رکھتے ہیں اور دنیا کے سرمائے پر اپنے ارتکاز کی جنگ لڑ رہے ہیں اور عوام کی رائے ان کی نزدیک اہم نہیں ہے اب وہ عسکری قوت سے مقاصد حاصل کرتے ہیں۔ جو افغانستان میں ہوا، جو وینزویلا میں ہوا، جو فلسطین میں ہو رہا ہے یہ سب امریکہ اور مغربی دنیا کی جمہوریت سے دستبرداری اور سرمایہ دارانہ نظام کو طاقت اور عسکریت کے ذریعے سے دنیا پر مسلط کرنے کی جنگ ہے۔

تیسری بات میں کرنا چاہتا ہوں اس وقت تیراہ میں آپریشن شروع ہے، عام لوگوں کو گھروں سے نکلنے اور انخلاء پر مجبور کیا جا رہا ہے اور اس وقت برف باری ہو رہی ہے وہاں پہ، وہاں کے صحرائیں، میدان، وہاں کے پہاڑ اور سارے قافلیں اس وقت وہ برف میں دبے ہوئے ہیں، کوئی ریسکیو نہیں ہے وہاں پر اس وقت، حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ ریاست ہے ان کے پاس وسائل ہیں اور عوام کو مشکلات میں مبتلا کر کے اور ان کو گھروں سے باہر دھکیل کے، بچے ہیں، عورتیں ہیں، بوڑھے ہیں، دربدر ہیں۔ اور اس آبادی کیلئے کچھ بھی تو نہیں کیا جا رہا ابھی تک، تو یہ ایک بڑا انسانی مسئلہ ہے اس علاقے کا اور ویسے تو پورا قبائل ہمارا جو ہے اس وقت بدامنی کے زد میں ہے لیکن یہاں تو ایک طرف بدامنی، ایک طرف فوج کے آپریشن، ایک طرف لوگوں کا انخلاء، دوسری طرف برف باری، ان سارے مشکلات سے یہ تیراہ کے عوام جو ہیں وہ دوچار ہیں اور ان کی جان خلاصی کیلئے اور ان کو ریلیف دلانے کیلئے کسی قسم کا کوئی اقدامات ہمیں نظر نہیں آرہے ہیں۔

سوال و جواب 

صحافی: مولانا صاحب چین کے حوالے سے کیا آپ دیکھتے ہیں ہم امریکہ کے فل فلیج ان کے بلاک میں ہر چیز میں شامل ہو رہے ہیں کیا آپ نہیں سمجھتے کہ اس سے چین سے ہمارے تعلقات وہ شدید متاثر ہوں گے ؟

مولانا صاحب: دیکھئے جب عمران خان کی حکومت میں سی پیک رکا تھا تو وہ عمران خان سے ناراض تھا اور ہم سے امید وابستہ کیے ہوئے تھا، آج جب پی ڈی ایم کی جماعتوں کی حکومت بنی تو بھی ڈیڑھ سال، سولہ مہینے ہم نے پہلے حکومت کی، ابھی ہم دو سال پھر اور پورے کر رہے ہیں، جہاں سی پیک رکا تھا آج بھی وہی پہ ایک انچ آگے نہیں بڑھا، یہاں پر جتنے منصوبے تھے، بجلی گھر بننے تھے اور بجلی کی کھپت میں اضافہ کا ایک بہت بڑا منصوبہ تو جو چین کی یہاں انویسمنٹ تھی اب وہ پورے ملک سے مایوسی ہو گئے ہیں اور ستر سال کی جو دوستی تھی آج ہم نے کس کی بھینٹ چڑھا دیا اس کو، وہ خود بھی یہ بات پوچھ رہے ہیں کہ ہمارے ساتھ کیا کیا پاکستان نے، جن کے دوستی پر ہم فخر کرتے تھے، جن کی دوستی پر ہم ناز کرتے تھے، جس ملک کی دوستی کو وہ ہر قسم کی شک و شبہ سے بالاتر سمجھتے تھے، جس ملک کی دوستی کو وہ ہر امتحان پر پوری اترتے دیکھ رہے تھے، آج اس ملک سے وہ مایوس ہو گئے ہیں۔ سو انڈیا سے بھی ہماری دشمنی، چین بھی ہم سے مایوس، افغانستان سے بھی ہماری لڑائی، ایران سے بھی ہماری سرد مہری تعلقات میں، خطے میں پاکستان ڈوب رہا ہے، دشمنوں کے نرغے میں آ رہا ہے، یہ ہے ان عقلمندوں کی خارجہ پالیسی، یہ بلکل خارجہ پالیسی کے اصولوں سے ناواقف ہیں، ان کو طریقہ ہی نہیں آتا کہ ملکیں کیسی چلائی جاتی ہیں اور جب آپ اپنے عقل سے، سیاسی عقل سے نہیں سوچیں گے اور صرف عسکری عقل جو ہے وہاں پر ہر جگہ ایمپلیمنٹ ہوگا تو پھر یہی حالات ہوں گے کہ ہر جگہ آپ کو جنگ سے وابستہ کر دیں گے، سو ہر طرف جنگ اور جنگ یہ کیا ملک کی مفاد میں ہیں؟ ہماری معیشت گر رہی ہے، ہمارے پاس تجارت کا ایک ہی راستہ ہے افغانستان، انڈیا پہلے سے ہمارا تجارتی راستہ نہیں ہے وہ بھی ہم نے پہلے بند کر دیا اپنے اوپر، چین کے تجارتی راستہ کو ہم نے اپنی نااہلی سے بند کر دیا، ایران کا راستہ بہت دور پڑتا ہے تاجروں کو وسطی ایشیا تک رسائی کیلئے۔

سو اس اعتبار سے آج پاکستان کا پورا نوجوان ملک سے باہر جا رہا ہے، کاروباری طبقہ اپنا پیسہ باہر لے کے جا رہا ہے، ملک کے اندر ہماری انویسمنٹ نہ ہونے کے برابر ہوتی جا رہی ہے۔ ان حالات میں بڑے افسر جو ہیں وہ تو صرف اپنی کمائی کا سوچتے ہیں، کوئی کاروباری آدمی جب پیسہ کمانے والا ہو وہ بیچارہ اطمینان سے کاروبار نہیں کرسکتا، وہ اپنے پیسے کو محفوظ نہیں دیکھ رہا ہے اور گدھ کی طرح ان کے اوپر نظرے رکھی ہوئے ہیں کہ ہم کب جھپٹیں ان کے پیسے کے اوپر، تو یہ صورتحال جب یہاں ہوگی تو نہ ہماری خارجہ پالیسی ٹھیک ہوگی، نہ ہماری تجارت ٹھیک ہوگی، نہ ہماری معشیت ٹھیک ہوگی۔

صحافی: مولانا صاحب یہ جو مریدکے میں تحریک لبیک پاکستان نے بھی فلسطین غزہ والے معاملے کو لے کر آگے آئے تھے جس طرح ان پر ریاستی تشدد کرکے ان کو شہید کر دیا گیا، اب بورڈ آف پیس میں پاکستان چلا گیا ہے، ٹرمپ کے ہاتھ پر ہم نے بیعت کر لی ہے، نیتن یاہو کے ساتھ بیٹھیں گے، کیا یہ ماڈرن ٹائپ کا اسرائیل کو ایکسپٹ کرنا ہے اور کیا اب کوئی اور جماعت ہمت کرے گی سڑکوں پر آنے کے لئے؟

مولانا صاحب: میں نے ایک جملہ کہا اس کو دوبارہ دہرا دیتا ہوں جی، کہ ہمیں عمران خان سے شکایت تھی یعنی یہ منصوبہ آج کا نہیں ہے یہ پہلے سے ہے، اس وقت بھی قوم میدان میں آئی، آج اس نئی حکومت نے عمران خان سے دو چار قدم آگے بڑھ کر اسرائیل کو تسلیم کرنے کی طرف پیش رفت کی ہے، سو ہمیں ازسر نو پوری توانائی کے ساتھ اس کو بریک لگانی ہوگی اور پوری قوم تیار رہے اس کے لئے، ہم نظریات پر سودا کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

صحافی: مولانا صاحب آپ عمران خان کو یہودی ایجنٹ کہا کرتے تھے تو ابھی تو اس موجودہ گفتگو میں شاید وہ فیض پچھلے پر رہ گیا ہے، یہ تو اس سے بھی آگے چلے گئے ہیں آپ کے مطابق، تو یہ ان سے بڑے یہودی ایجنٹ ہوئے پھر ؟

مولانا صاحب: اب الفاظ کو دوبارہ دوہرانے کی ضرورت نہیں ہے میرے خیال میں، لیکن وہ ایجنڈا جو ہے اس میں میں سمجھتا ہوں کہ یہ حکمران اس سے دو قدم آگے چلے گئے ہیں۔

صحافی: مولانا صاحب یہ بتائیں کہ آئین کے مطابق آپ نے اپنی سپیچ میں بھی کہا کہ اسلام کی منافی قانون سازی ہو ہی نہیں سکتی، آئین نے اس پر قدغن لگا دیا، پابندی لگا دی ہے، اگرچہ چار قوانین منظور ہو گئے ہیں یہ بالغ اور اٹھارہ سال کی عمر، ابتدائی طور پر علماء کرام سے آپ جو ہے یہ ظاہر ہے لوگوں نے تو آنا ہے، نکاح کے لیے آنا ہے، ہو سکتا ہے کہ کوئی آپ کے پاس بھی آجائے، کہ ہمارے بیٹے کا نکاح پڑھا دیں۔

مولانا صاحب: میرے پاس آئے، اگر کوئی مولوی ڈرتا ہے میرے پاس آئے۔

صحافی: آپ جیل جانے کے لیے تیار ہیں اگر آپ کو گرفتار کیا جاتا ہے؟

مولانا صاحب: بالکل ہم ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں، شریعت کیلئے قربان ہو جائیں گے۔ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

صحافی: آپ تو ہمیشہ آئین و قانون کی بات کرتے ہیں۔

مولانا صاحب: جی بالکل قرآن و سنت کے مطابق، قرآن و سنت کے مطابق، آئین کہتا ہے، میں نہیں کہتا، اگر یہ لوگ اتنی بغاوت کریں گے قرآن و سنت سے، تو پھر ہمیں میدان میں نکلنا ہوگا، ہم جمہوری انداز کے ساتھ مقابلہ کریں گے، پبلک آئے گی، پوری پبلک اس میں شریک ہوگی، اگر جیلوں میں جانا پڑ گیا تو ہمارے لیے کوئی مسئلہ نہیں۔ اور میں آپ لوگوں سے کہوں گا کہ میرے رہائی کا مطالبہ بھی نہیں کرنا ہے۔

صحافی: .......

مولانا صاحب: ہم نے نوکری کرنی ہے ہم نے ایک سپریم ادارے کے طور پر ملک پر حکومت نہیں کرنی بلکہ ہم نے نوکری کرنی ہے۔ سو یہ ایوان جو ہے اور یہ حکمران یہ نوکر کا کردار ادا کر رہے ہیں، یہ حکمران کا کردار ادا نہیں کر رہے ہیں۔

صحافی: انہوں نے کہا پاکستان کی اسرائیل پالیسی بالکل تبدیل نہیں ہوئی، ہمارا موقف وہی کا وہی ہے۔

مولانا صاحب: حضرت جس وقت ایسے شخص کو جس کو عالمِ عدالت انصاف مجرم قرار دے چکی ہے، وہ انسانی نسل کشی کا مجرم ہے، کیا پاکستان کا فرض نہیں تھا کہ وہ کہتا ہے کہ جب تک یہ بیٹھا ہے ہم نہیں بیٹھیں گے۔

دوسرا یہ ہے کہ جن باتوں کا ہمارے بھائی نے حوالہ دیا وہ سب کچھ ہماری سپورٹ کے ساتھ وہ کر سکے تھے، وہ کریڈٹ خود اپنے لئے نہ لیں۔ مجھے پتہ ہے کہ ایٹمی دھماکے کے وقت وہ کتنے مضطرب تھے، ان کو ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی، ان کے منسٹر میرے پاس آئے اور کہا کہ ہم اس پوزیشن میں نہیں ہیں اور ہم نے کہا نہیں ہمت کرو، جب یہاں پر دھرنا ہوا پارلیمنٹ کے سامنے تو یہ تو استعفے دے رہے تھے تو ہم نے کہا ڈٹ جاؤ، تو مسلم لیگ جب بھی کسی محاذ پہ مضبوطی سے کھڑی ہے ہماری سپورٹ کے ساتھ کھڑی ہے، ورنہ ہم سب کچھ جانتے ہیں۔

صحافی: مولانا صاحب کیا آپ سمجھتے ہیں کہ مذہبی جماعتیں اس پوزیشن میں ہیں کہ صحیح سمت کی طرف کسی بھی پیشرفت میں وہ احتجاج کریں گے یا کیا لائحہ عمل ہو سکتا ہے اور اس وقت ملک میں مذہبی جماعتوں کا پاور کیا ہے؟ کیا مذہبی جماعتوں کی طرف سے اس معاملے میں مشترکہ لائحہ عمل آ سکتا ہے ؟

مولانا صاحب: سب کا موقف ایک آیا ہوا ہے نا، اب یہ جو مدح سرا قسم کے ان کو بلاکے وہ سمجھتے ہیں کہ شاید مذہبی طبقہ ہمارے ساتھ ہے، یہ پبلک کے نمائندے نہیں ہے، یہ تو مراعات کے خواہش میں آ جاتے ہیں، ہمیں بعض شخصیات سے تعلقات بھی ہیں، ہمیں ان کا احترام بھی ہے، لیکن جب بھی ان کو بلائیں گے وہ کہیں گے سر جس طرح آپ کر رہے ہیں ٹھیک کر رہے ہیں۔ انہوں نے وفاق المدارس کو کیوں نہیں بلایا؟ جمعیۃ علماء اسلام کو کیوں نہیں بلایا؟ ان کے سامنے ذرا ایجنڈا پیش تو کریں نا، تو اس قسم کی چیزیں جو ہیں وہ سارے ہم جانتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے، کیا نہیں ہو رہا، لیکن ہم حضرت ملک کے خیرخواہ ہیں اور ملک کی خیرخواہی میں سب کچھ ہم کر رہے ہیں۔ پاکستان کی دفاعی قوت جب ملک کیلئے دفاع کرتی ہے تو ہم اس کے پشت پر کھڑے ہو جاتے ہیں کہ یہ ہماری قوت ہے، ہم نے کبھی ان کی حوصلہ شکنی تو نہیں کی، لیکن وہ ہے کہ ہمارے ہر قدم پر ہمارے سامنے رکاوٹ بن جاتے ہیں، تو ذرا راستہ نکالیں، کوئی طریقہ نکالیں۔

صحافی: مولانا صاحب پارلیمنٹ کی تو یوٹیوب پر بھی آواز بند کر دی گئی ہے، تو یہ تو آزادی اظہار کے حوالے سے بالکل اس کو قدغن لگا دی گئی ہے۔

مولانا صاحب: تو کہاں ہے جمہوریت ہے ہی نہیں، نمائش ہے۔ تو بعض دفعہ نمائش بھی ان کے اوپر وبال بن جاتی ہے تو پھر اس کو بھی بند کرتی ہے۔

ضبط تحریر: #سہیل_سہراب

‎ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز 

‎#teamJUIswat


0/Post a Comment/Comments