قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا قومی اسمبلی میں ولولہ انگیز خطاب

قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا قومی اسمبلی میں ولولہ انگیز خطاب

22 جنوری 2026

بسم الله الرحمن الرحيم. نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم اما بعد 

سب سے پہلے تو میں محمود خان اچکزئی صاحب کو لیڈر آف اپوزیشن بننے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، یقیناً ان کا ایک طویل سیاسی تجربہ ہے ایک لمبے عرصے سے وہ پارلیمنٹرین رہے ہیں اور ملکی سیاست پر ان کی ہمیشہ گہری نظر رہتی ہے، انہوں نے اپنی ابتدائی تقریر میں جس مثبت پہلوؤں کی طرف توجہ دلائی ہے میرے خیال میں ہم انہی خطوط پر اپنی حکمت عملی بنائیں اور ملکی معاملات میں مشاورت، مشارکت، مفاہمت کی روش کو اپنائیں تو ہم بہت سے الجھے مسائل سے نکل سکتے ہیں اور پاکستان کو ایک خوشحال مستقبل دکھا سکتے ہیں۔

جناب اسپیکر! مسائل تو بہت ہیں کہاں سے آغاز کیا جائے، یہ ہمیشہ ایک مشکل مسئلہ رہا ہے خاص طور پر میری لئے، لیکن آج ہم جس بات کو سب سے زیادہ اہمیت دے سکتے ہیں اور ترجیحی بنیادوں پر اسے اولیت دے سکتے ہیں وہ ٹرمپ صاحب کی طرف سے بورڈ آف پیس کا قیام اور پھر اس بورڈ میں پاکستان کی شمولیت اس حوالے سے گفتگو کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔

جناب اسپیکر! قیام پاکستان کے ایک سال بعد اسرائیل وجود میں آیا، جو در حقیقت انیس سو سترہ کے برطانیہ کے وزیر خارجہ دارفور کے معاہدے کے تحت وجود میں آیا جو نوابادیاتی نظام کے تسلسل کی ایک علامت تھا اور بالآخر فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل کی ریاست قائم کر دی گئی۔ میں اس سے قبل بھی اسی فلور پہ اس وقت کے جو لیگ آف نیشنز کے تحت قائم کی گئی کمیٹی، کہ جنہوں نے یورپ کے اندر یہودیوں کی دربدری کی حوالے سے رپورٹ بیان کی ہے اس میں بھی انہوں نے صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ ان کو فلسطین میں آباد نہ کیا جائے، انہوں نے بھی یہ کہا ہے کہ یہ خطہ اقتصادی لحاظ سے کمزور ہے، اس پر مزید آبادی کا بوجھ نہ ڈالا جائے، اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ علاقہ اوور پاپولیٹڈ ہے مذید یہاں پر لوگوں کی آبادکاری مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔ لیکن ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت انہوں نے عربوں کے پیٹھ میں اسرائیل کی صورت میں ایک ایسا خنجر گھونپا جس سے آج بھی پیپ رس رہا ہے، عرب زخمی ہیں، مسلمان بھائی زخمی ہیں، بیت المقدس ان کا اور ہمارا قبلہ اول ان کے قبضے میں ہیں۔ اور ایسے حالات میں آج جب ٹرمپ صاحب ایک بورڈ آف پیس بنا رہے ہیں اور ان کی مرضی ہے وہ کس کو اس میں شامل کریں اور خود اس کا چیئرمین رہے اور اس سے ہم وہاں پر امن، استحکام، معیشت، فلسطینیوں کی بہتری، اس کے امید وابستہ کریں تو پھر میر کا وہ شعر کہ

میر کیا سادہ ہیں، بیمار ہوئے جس کے سبب

اسی عطّار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں

ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کا چیئرمین میں خود ہوں گا، اس کی کمانڈ میرے ہاتھ میں ہوگی اور یہ بھی واضح ہے کہ اسرائیل نے اگر ستر ہزار سے زیادہ فلسطینی مسلمانوں کو شہید کیا ہے جو عام شہری ہیں، مسلح لوگ نہیں، جس میں اکثریت بچوں کی ہے اور خواتین کی ہے۔ ایک سال ڈیڑھ سال کے اندر ستر ہزار لاشیں اگر کسی قوم نے دیکھی ہے تو وہ فلسطینی قوم ہے، ایک لاکھ سے زیادہ فلسطینی بھوک اور بیماری کے سبب شہید ہو چکے ہیں، ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں، جو کرب وہاں پر گزرا ہے کیا کسی مسلمان کو اس بات کا احساس ہے۔ ہمارا وہ ایمانی رشتہ کہاں چلا گیا ہے جس کے بارے میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَثَلُ المُؤْمِنينَ في تَوَادِّهِمْ وَتَعَاطُفِهمْ وتَرَاحُمهمْ كمَثَلُ الجَسَدِ الواحد إذ اشْتَكَى عَيْنُهُ اشْتَكَى كُلُّهُ وإذ اشْتَكَى رَأْسُهُ اشْتَكَى كُلُّهُ وإِذَا اشْتَكَى عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الجَسَدِ بِالسَّهَرِ والحُمَّ

کہ ایمان والوں کی مثال ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی کرنے میں، ایک دوسرے پر مہربان ہونے میں، ایک دوسرے کے ساتھ دوستی کرنے میں ایسی ہے جیسے ایک جسم، کہ اگر اس کے سر پہ درد ہے تو پورا جسم بے قرار، اگر اس کی آنکھ میں درد ہے پورا جسم بے قرار، اگر جسم کے کسی حصے میں درد مچل رہا ہے ساری رات جاگتے گزارتا ہے اور بخار میں گزارتا ہے۔ کیا آج امت مسلمہ اپنے آقائے نامدار جس کا نام لے کر ہم دنیا میں جی رہے ہیں کیا ان کی ان ارشادات کا مصداق ہے؟ کیا ہم نے اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ اس ہمدردی کا اظہار کیا جس کے وہ مستحق تھے؟

جناب اسپیکر! ہماری پالیسیاں یہاں پر بنتی ہیں بین الاقوامی دباؤ کے تحت، ہم نے اپنی خارجہ پالیسی کبھی اپنے مفادات کے گرد نہیں بنائی، بانی پاکستان نے جس کے قد آدم تصویر کی نیچے آپ بیٹھے ہیں، پورا ایوان بیٹھا ہے، انہوں نے اسرائیل کے قیام کے حوالے سے دو تاریخی اقدامات کیے ہیں کیوں قوم کے سامنے ہائی لائٹ نہیں کیا جا رہا اسے؟ سن انیس سو چالیس کی قرارداد جس کو ہم تاسیس پاکستان کی بنیاد قرار دیتے ہیں، سن انیس سو چالیس کی قرارداد میں اسرائیلی بستیوں کا قیام، فلسطینی علاقے میں ان کی آبادکاری، اس کی صراحت کے ساتھ مذمت کی گئی ہے اور عہد کیا گیا ہے کہ ہم فلسطینیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے اور جب اڑتالیس میں وجود میں آیا تو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے اس کو ایک ناجائز ریاست سے تعبیر کیا۔ آج ہم جو کچھ کر رہے ہیں، ہماری حکومت جو کچھ کر رہی ہے، کچھ لمحوں کے لیے سوچا ہے کہ ہم بانی پاکستان کے تصورات اور ان کے نظریات جو اسرائیل کے حوالے سے ہیں اس 

سے کوئی مناسبت بھی رکھتے ہیں، پیروی تو دور کی بات ہے۔

جناب اسپیکر! آج ہم اپنی تاریخ بھول بیٹھے ہیں، کوئی قدر و قیمت نہیں کہ اس وطن عزیز کی آزادی کیلئے دو سو سال تک اس برصغیر کے باسیوں نے قربانیاں دیں، پچاس ہزار علماء کرام کو پھانسیوں پہ لٹکایا گیا، توپوں سے اڑایا گیا اور ایک انگریز کہتا ہے کہ جب ہم ان کو توپوں سے اڑا رہے تھے تو ایک ایک سے ہم تنہائی میں پوچھتے تھے کہ صرف اتنا کہہ دو کہ میرا اس آزادی کی تحریک سے تعلق نہیں تھا آپ کی زندگی بچ جائے گی، کہتا ہے پچاس ہزار لوگوں کو ہم نے اڑا دیا لیکن ایک بھی ایسا بندہ نہیں تھا جس نے کہا ہو کہ میرا اس تحریک سے تعلق نہیں تھا۔ ان جذبوں سے آج ہم یہاں بیٹھے ہوئے ہیں، اس تاریخ سے گزر کر آج ہم یہاں بیٹھے ہوئے ہیں اور اس ساری صورتحال کا ادراک اگر بانی پاکستان کو تھا تو بانی پاکستان کے نام پر روٹیاں اور ٹکڑے کمانے والے آج یہ حکمران ان کے اس ارشادات اور نظریات کو کیوں فالو نہیں کرتے؟ ایک لمحہ کے لیے بھی سوچا ہے، ذرا اپنی ایمان کو ٹٹولو، کیا ہمارے دلوں میں وہ ایمان اب موجود ہے، نام کے مسلمان بنے بیٹھے ہیں ہم لوگ، آج ہم بڑی خوشی سے جا رہے ہیں دعوت دی گئی ہے ہمیں، ان کے دعوت کو ہم قبول کر رہے ہیں، ہم کیا کہیں گے، یہی کہیں گے نا کہ فلسطینیوں کی زندگی، وہاں پر استحکام، وہاں کی معیشت، انسانوں کے امن کو مستحکم کرنا یہی الفاظ کہیں گے نا قوم کو مطمئن کرنے کیلئے، کیا یہ الفاظ جو کچھ ہوا اور جن کے ہاتھوں ہوا اور انہی کے ہاتھوں سے پھر یہ امید وابستہ کرنا، یہ اپنے آپ کو خود جاہل بنانے کی کوشش ہے، دانستہ طور پر اپنے آپ کو جیسے ہم سادہ لوگ ہیں اور ہم بڑے خلوص کے ساتھ جا رہے ہیں اور نیک نیتی کے ساتھ جا رہے ہیں، اگر آپ نے پچیس کروڑ پاکستانیوں کی نمائندگی کرنی ہے وہاں پہ، کیا اس ایوان کا جسے میں عوام کا نمائندہ نہیں سمجھتا، لیکن پھر بھی ایک ایوان ہے جو دعویٰ ہے کہ یہ عوام کے نمائندے ہیں آپ نے یہ تکلف برداشت کیا کہ ایک لمحے کیلئے اپنے ایوان کو اعتماد میں لے، حکومت کے اراکین کا بھی حق ہے، اپوزیشن کے اراکین کا بھی حق ہے کہ وہ معلوم کریں اور حکومت کا فرض ہے کہ وہ ہمیں بتائیں کہ اس کے پیچھے کیا حکمت عملی ہے اور کیا مصلحت، یہاں تو سیٹیں ہی خالی ہیں، کوئی وزیر نظر نہیں آرہا، ماشاءاللہ چوہدری صاحب ہیں، پوری حکومت کے نمائندے ہیں، رانا صاحب بھی تشریف فرما ہے، ہمارے بزرگ بھی ہیں سارے، لیکن بہرحال مسئلہ سنجیدہ ہے کہ ایوان کو کوئی اہمیت نہیں دی جارہی اور مکمل سیٹیں اس وقت ایوان کی خالی ہیں، ایوان کو اعتماد میں نہیں لیا جارہا، ایوان تو چلو آپ اعتماد میں نہ لیں کیا آپ نے جب یہ فیصلہ کیا اس فیصلے کو کابینہ کے سامنے پیش کیا ہے؟ کابینہ کے سامنے پیش نہیں کیا آپ نے، جو آپ کی ایکزیکٹیو باڈی ہے۔ اس طرح قوم کو بے خبر رکھنا، حضرت اس ایوان میں جب شملہ معاہدہ کرنے کے لئے جناب ذوالفقار علی بھٹو جارہے تھے تو بھرے ایوان میں انہوں نے ایوان کو اعتماد میں لیا، حزب اختلاف کے لوگوں نے دل کھول کر ان کو اعتماد دیا، کوئی اختلاف کی بات نہیں کی ان سے، نوے ہزار ہمارے لوگ قیدی تھے، ملک ٹوٹ چکا تھا، حالات کی بحالی کا تقاضا تھا، لیکن کیا آج بھی وہی صورتحال ہے کہ فلسطین جیسے انتہائی حساس، نازک مسئلہ قبلہ اول کا بڑا انتہائی نازک مسئلہ جس کا تعلق امت مسلمہ کے دلوں کے ساتھ ہے کیا اس مسئلے پر قوم کو اعتماد میں لینے کی کوئی ضرورت نہیں ؟

جناب اسپیکر! بورڈ آف پیس بنایا گیا ہے مجلس الامن، پہلے تو اس پر بھی ذرا ہمیں بات کر لینے چاہیے کہ یہ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے ہوتے ہوئے ایک متوازی ادارے کی حیثیت نہیں رکھتا، کہاں گئے بین الاقوامی ادارے جن کے اس حوالے سے ذمہ داریاں تھی، آج نئے عنوانوں کے ساتھ جہاں جاتے ہیں امن کے نام پر، افغانستان میں آئے امن کے نام پر، بیس سال بمباریاں کر کر کے انہوں نے پورے افغانستان کو کھنڈر بنا دیا، عراق میں داخل ہوئے پورے عراق کو کھنڈر بنا دیا، وہاں بھی امن کے لئے آئے تھے۔ لیبیا میں داخل ہوئے لیبیا کو اجاڑ کر کے رکھ دیا۔ آج تک کسی سے سنبھلا نہیں جا رہا، مختلف علاقوں میں مختلف لارڈز اور وہاں کے مختلف گروپوں کی حکومتیں ہیں، ہر ایک اپنا الگ الگ ٹیکس وصول کر رہا ہے، اور اپنے ملک میں جا رہے ہیں وہاں پر غزہ میں، فلسطینیوں کو امن دینے، وہاں معاشی استحکام دینے اور اپنے ملک کا کیا حال ہے؟ اپنے ملک میں پچیس سال سے خون ریزی ہو رہی ہے، اس سے پیچھے بھی اس کی تاریخ ہے۔ ہمارے پورے اضلاع کے اضلاع، جناب اسپیکر آپ کی توجہ چاہتا ہوں، آپ کے نوٹس میں ہونا چاہیے اور ایوان کے نوٹس میں ہونا چاہیے، فیصل آباد میں امن ہے، لاہور میں امن ہے، ساہیوال میں امن ہے، کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن چونکہ وہاں امن ہے ان کو احساس نہیں کہ ہم کس حالت میں وہاں زندگی گزار رہے ہیں۔ میرے اضلاع کے اضلاع اس وقت مسلح گروپوں کے حوالے ہیں۔ ٹیکس وہ وصول کر رہے ہیں، انتظامیہ نظر نہیں آرہی، ہماری فوج جو امن کے قیام کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں اپنی پوسٹیں خالی کر کے ان کے حوالے کر رہے ہیں، جس ضلع میں، میں رہتا ہوں اس ضلع کے ساتھ اسی ڈویژن میں ٹانک کا علاقہ ہے، لکی مروت کا علاقہ ہے، بنوں کا علاقہ ہے، وہاں پر کوئی حکومت موجود نہیں ہے اور میں اس فلور پر ذمہ دار کی حیثیت سے بات کر رہا ہوں، اس کو خواہ مخواہ ایک تقریر نہ سمجھیں، میں کوئی خطابت نہیں کر رہا ہوں، میں آپ کو زمینی حقائق سے آگاہ کر رہا ہوں، جہاں میں رہتا ہوں اس کے دونوں طرف پہاڑ ہیں، دونوں پہاڑوں میں قبضہ مسلح گروہوں کا ہے، رات کو آتے ہیں دکانوں سے سودے لیتے ہیں چلے جاتے ہیں، کوئی ٹھیکے دار کنسٹرکٹر وہاں کام نہیں کر سکتا جب تک کہ آپ ان کو ٹیکس نہیں دیں گے۔ ہم جب یہاں سے بجٹ پاس کرتے ہیں تو مجھے یہ اب یقین ہو رہا ہے کہ ہم جب یہاں سے بجٹ پاس کرتے ہیں تو اس بجٹ میں ہم دس فیصد ان کا حصہ رکھ کر پاس کرتے ہیں اور جونہی یہاں سے پیسہ فیلڈ میں جاتا ہے وہ اپنا دس فیصد حصہ وصول کر کے چلے جاتے ہیں، کوئی رکاوٹ ان کے لئے نہیں ہے۔ تمام سرکاری آفیسر زندہ رہنے کے لئے ان کو ماہانہ بھتے دیتے ہیں۔ تمام کاروباری طبقہ وہاں کے خوانین وہ ان لوگوں کو بھتہ دے کر زندگی گزار رہے ہیں۔ آپ نے اتنا آسان سمجھ لیا ہے؛ تو درون نے در چِھک دی کہ بیرون کھانا آئے۔ اپنے ملک کا یہ حال، جا رہے ہو وہاں غزہ میں ان کے ظلم میں شریک ہو رہے ہو، فلسطینی شاید اتنی واضح بات نہ کر سکے وہ بہت مجبور حالت میں ہیں۔ لیکن ہمیں کہیں جا کر بات کرنی پڑتی ہے کہ پالیسیاں تو ٹھیک رکھو، کشمیر تو رہا نہیں وہ تو ہم دے چکے ہیں، ستر سال ہم نے ان کے خون پر، ان کے عزتوں پر، ان کے ناموس پر، اپنی بہنوں کے ناموس پر ہم نے سیاست کی اور آج خاموش ہو کر ہم نے چھوڑ دیا ہے۔ کیا اس کی تحقیق نہیں ہونی چاہیے ؟ اس کے پس پردہ محرکات کو ہمیں آگے نہیں لانا چاہیے؟ بنگال چلا گیا کچھ پتہ نہیں کیوں، کشمیر چلا گیا کچھ پتہ نہیں کیوں اور جناب اسپیکر! ناراض نہ ہو، میں پاکستانی ہوں، پاکستان کا وفادار ہوں، یہاں پر بار بار وفاداری کا حلف اٹھا چکا ہوں، میں اپنے حلف پر قائم ہوں، لیکن جس خطے پر جس خطے پر پینتالیس سال سے خون بہہ رہا ہو یعنی نصف صدی اس خاص علاقے میں خون بہہ رہا ہو، وہ قیام امن، استحکام کا تقاضا نہیں کرتا وہ کسی نئی جغرافیائی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔

تو بتا دو کیا ارادے ہیں اس ملک کے لئے؟ کیا ارادے ہیں ہمارے لئے؟ کیا ارادے ہیں پشتونوں کے لئے؟ کیا ارادے ہیں بلوچوں کے لئے؟ کیا ارادے ہیں ان دو صوبوں کے لئے؟ ہمیں واضح کر دیا جائے۔ صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں، کچھ تو ہمیں واضح کرو اندھیروں میں رکھا ہوا ہے ہم لوگوں کو، کچھ ہمیں اپنا مستقبل نظر نہیں آ رہا، ہم کس حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ سب بچے ہمارے ہیں، میرے گھر کے لوگوں تک محفوظ نہیں رہے، میرے بچوں تک محفوظ نہیں رہے، سرکاری ملازمین اٹھا لیے جاتے ہیں کچھ پتہ نہیں، اور ایک کے ہاتھ سے چھوٹتے ہیں تو دوسرے تیار بیٹھے ہیں وہ گرفتار کر لیتے ہیں۔ فوج سے چھوٹتے ہیں تو ادھر گرفتار، ادھر سے چھوٹتے ہیں تو فوج گرفتار، کیا زندگی ہماری بنا رکھی ہے اور جا رہے ہیں وہاں غزہ پیس بورڈ میں شرکت کیلئے تاکہ ٹرمپ کی آشیرباد حاصل کی جا سکے، یہ ہے ہماری آزادی یہ ہے ہماری حریت، ذرا اپنے کتاب کے صفحات کا مطالعہ کیجئے کہاں ہم کھڑے ہیں۔ اور پھر جناب اسپیکر! اس بورڈ آف پیس کا رکن، اس قصاب کو، نیتن یاہو اس کا رکن بنایا گیا ہے، اسرائیل اس کا رکن ہے جس کے ہاتھوں یہ قتل عام ہوا اور آئندہ ہم اس خطے میں وہ اپنے رائے ظاہر کر چکے ہیں اور ایک سال ہو گیا ہے ٹرمپ کے امن فارمولے کا اور آج بھی وہاں بمباریاں ہو رہی ہیں، آج بھی بمباریاں رکی نہیں ہیں ان کی، جو اس وقت بھی عام شہریوں پر بمباریاں کر رہا ہے وہ بھی آج بورڈ آف پیس کا رکن بن رہا ہے۔

تو نیتن یاہو بھی اس مجلس میں بیٹھے ہوں گے اور جناب شہباز شریف صاحب بھی بیٹھے ہوں گے شانہ بشانہ اور اس خطے کے امن کیلئے سوچ رہے ہوں گے کہ یورپی ممالک میں جہاں پبلک نے مظاہرے کیے، جہاں ان کو احساس ہے کہ ہماری عوام اس پالیسی کے حق میں نہیں ہیں وہ تو اس بورڈ میں جانے سے انکار کر رہے ہیں، ہمارے ملک میں ان سے بڑے مظاہرے ہوئے ہیں، میں نے لیڈ کیے ہیں مجھے پتہ ہے کہ پاکستان کی عوام اس موضوع پر کس طرح میدان میں آئی ہے، لیکن خدا جانے ہم کیا سوچ رہے ہیں اس حوالے سے۔

تو اس اعتبار سے ہمیں سوچنا ہوگا، جناب اسپیکر کدھر ہے ہماری جمہوریت؟ اب تو صرف پاکستان نہیں، دنیا کے نظام میں تبدیلی آ رہی ہے، مغرب جمہوریت کی بات کرتا تھا لیکن جمہوریت کے پردے میں ایک جابر قسم کا سرمایہ دارانہ نظام چھپا تھا، مشرق کیمونیزم کی بات کرتا تھا لیکن اس کیمونیزم کے فلسفے کے پیچھے ایک آمریت کی برائی بھی چھپی ہوئی تھی، آج مغربی دنیا کا جمہوریت بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور آمریت ننگی ہو کر سامنے آ رہی ہے اور مشرقی دنیا کا کیمونیزم بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور آمریت ننگی ہو کر سامنے آ رہی ہے۔ اب دنیا میں آمرانہ نظام اور سرمایہ دارانہ نظام اور اس کے پیچھے عسکری قوت یہ مل کر دنیا میں حکومت کرے گی جمہوریت کا خاتمہ پوری دنیا میں ہو چکا ہے۔

وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو گھر میں جا کر گرفتار کر لیا، اس کو گرفتاری کا نام دیا گیا ہے، اغوا کیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کو اغوا کیا گیا ہے۔ اب ٹرمپ جیسا اغواکار جو ایک ملک کے سربراہ کو اس کے گھر سے اُٹھا لیتا ہے، روس اس وقت یوکرین میں ہے، نہ معلوم آنے والے وقت میں کیا ہو رہا ہے دنیا کے اندر، ہمیں بھی سوچنا چاہیے۔ ہمارے ہاں بھی جمہوریت ختم ہو گئی ہے۔ ہمارے ہاں بھی دولت اور سرمایہ کی جنگ شروع ہو گئی ہے۔ ہمارے ہاں بھی آمریت، عسکری قوت، سرمایہ داریت یہ مل کر اب اپنا رول ادا کر رہے ہیں۔ پتہ نہیں ہم یہ جو اپوزیشن میں بیٹھے ہوئے لوگ ہیں جو جمہوریت کی بات کرتے ہیں بچا سکیں گے یا نہیں، ہم نے قسم کھا رکھی ہے کہ وہ پارلیمنٹ جس نے آئین پاس کیا، جس نے آئین پاس کرتے ہوئے اس پہ عہد و پیمان کیا کہ اس پارلیمنٹ میں کوئی قانون سازی قرآن و سنت کے خلاف نہیں ہوگی، ہر قانون سازی قرآن و سنت کے تابع ہوگی، قرارداد مقاصد ہمارے آئین کا حصہ ہے، ہمارے ہاں جو قانون سازیاں ہیں ماضی میں، کیا تعلق ہے ان کا اسلام کے ساتھ؟ اور یہی فلور پر مجھے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ جناب اسحاق ڈار صاحب نے جواب دیا کہ ہم بھی اللہ اور رسول کو مانتے ہیں، آپ ہمیں بتائیں کیا ہم سے غلطی ہوئی ہے؟

اب اس ساری صورتحال میں جناب اسپیکر! نہ ہمارے ہاں آئین کی کوئی حیثیت رہ گئی ہے، حکومت جب چاہے مرضی ہے اس کی قرآن و سنت کے بالکل منافی حرام قانون سازی کرے، کہتے ہیں ہماری جمہوری حق ہے، جمہوری حق ہے قانون سازی کے حوالے سے، لیکن آپ پابند بھی ہیں آپ کی جمہوریت اتنی آزاد نہیں کہ وہ حلال کو حرام قرار دے اور حرام کو حلال قرار دے۔ یہ مغربی جمہوریت ہے۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں جب آئین بنا تو سب کو اطمینان دیا گیا، چھوٹے صوبوں کو بھی، بڑے صوبوں کو بھی برابر رکھا گیا، لیفٹ رائٹ اور سنٹرلسٹ سب کو برابر رکھ کر آئین بنایا گیا اور اسی وجہ سے وہ ایک متفقہ آئین ہے۔ لیکن ایک سال کے اندر اندر آئین کے اندر دو ترامیم آنا اور صرف اتھارٹی حاصل کرنی کی جنگ ہے، پارلیمنٹ کے اختیارات کو عوام کے اختیار کو کمزور کر کے محض اپنی اتھارٹی اور گرفت کو مضبوط کرنی کی جنگ آپ ہمارے آئین پارلیمنٹ میں لڑ رہے ہیں۔ ہمیں بے بس کر رہے ہیں۔

تو ہمارے اس وقت جو نظام چل رہا ہے حضرت یہ صرف غیر جمہوری نہیں ہے بلکہ ایک بے بس نظام ہے۔ جو ایک جمہور کے تحت نہیں جبر کے تحت چل رہا ہے۔ اگر دو تہائی اکثریت 27ویں ترمیم میں بنائی گئی یہ صرف جعلی نہیں بلکہ جبری اکثریت تھی، اور آپ نے جو قانون سازیاں کی جو 26 ویں ترمیم میں آپ نے قانون سازیاں کی ہیں یا ہمارے ترامیم اس میں شامل کی ہیں ایک سال ہو گیا ہے، آپ نے ترمیم کی کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے سفارشات بحث کے لیے ایوان میں پیش کیے جائیں گے ایک بھی سفارش بحث کے لیے اج تک پیش نہیں ہو سکی، سود کا خاتمہ ہوگا یکم جنوری 2028 سے، کسی شعبے میں ہمیں کچھ تبدیلی اس حوالے سے نظر نہیں ارہی ہے۔ 18 سال سے کم عمر کی شادی کو زنا بالجبر قرار دینا انا للہ وانا الیہ راجعون، عجیب تصور ہے کہ جنرل مشرف کے زمانے میں یہاں حقوق نسواں کے نام پر ایک قانون پاس ہوا جس میں زنا کے لیے سہولیات مہیا کی گئی اور جائز نکاح کے لیے ان آپ مشکلات پیدا کر رہے ہیں اور پتہ نہیں یہ الفاظ اور اصطلاحات جاہلانہ قسم کے کہاں سے وارد ہو کر آپ اس کو پاکستان کے آئین اور قانون کا حصہ بنا لیتے ہیں۔

تو یہ وہ ساری چیزیں ہیں کہ جس سے نہ میرے ملک کا ائین رہے گا نہ میرے ملک کا قانون رہے گا نہ میرے ملک کی جمہوریت رہے گی نہ میرے ملک کا مذہب رہے گا اور طفل تسلیوں سے اب کام نہیں بنے گا۔ سب خطیب لوگ ہیں، اچھی گفتگو کر لیتے ہیں، شاید یہ کوشش کریں کہ اچھے الفاظ کے ساتھ وہ ہمیں مطمئن کرنے کی کوشش کریں، لیکن مطمئن نہیں کر سکتے اور اب پھر فروری آرہا ہے اور آٹھ فروری بھی آرہا ہے، ہم نے تاریخ میں کئی سیاہ دن دیکھے ہیں لیکن اب ہمیں آٹھ فروری بھی بطور ایک سیاہ دن کے منانا ہوگا، جو کچھ جو کچھ عوام کی ووٹ کے ساتھ کیا گیا شاید پاکستان کی تاریخ میں ایسا ظلم کہیں نہیں ہوا ہوگا۔ یہ تو ہم ہیں کہ ہم زیادہ معاملات کو خراب نہیں کرنا چاہتے، ہم کہتے ہیں اصلاح کی طرف جائے، مفاہمت کے رنگ میں ہم آگے کی طرف جائیں، لیکن ہماری مفاہمت کی تمام خواہشات روندی جا رہی ہیں، اس لیے ہمیں ان تمام چیزوں پہ غور کرنا ہوگا، ان قانون سازیوں کو واپس کرنا ہوگا، اس ستائیس ویں ترمیم میں جو استثناء حاصل کی گئی ہے، جو مراعات تاحیات حاصل کی گئی ہے ان کو واپس کرنا ہوگا، نہ جمہوریت میں اس کا کوئی جواز ہے، نہ اسلام میں اس کا کوئی جواز ہے اور نہ اخلاقی طور پر اس کا کوئی جواز ہے۔ ہم یہ چیزیں اس ملک کے اندر کیسے برداشت کریں؟

تو یہ سب چیزوں کو ایڈریس کرنا ہوگا اور آج میں بڑی وضاحت کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ بورڈ آف پیس امریکہ کی قیادت میں اور اس میں یا نیتن یاہو کی شمولیت وہ کسی قیمت میں پاکستان کو قبول نہیں ہونا چاہیے اور ہمیں واضح طور پر انکار کر دینا چاہیے کہ ٹرمپ کی چیئرمین شپ میں اور نیتن یاہو کی موجودگی میں اس بورڈ اف پیس کی کوئی افادیت نہیں ہے اور ہم اس کو مسترد کرتے ہیں۔

بہت بہت شکریہ

ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض

‎ممبرز ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز 

‎#teamJUIswat



0/Post a Comment/Comments