مولانا صاحب کا مولانا فضل الرحیم اشرفی کی وفات پر تعزیتی ریفرنس اور دستاربندی کی تقریب سے خطاب

قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا مہتمم جامعہ اشرفیہ مولانا فضل الرحیم اشرفی کی وفات پر تعزیتی ریفرنس اور دستاربندی کی تقریب سے خطاب

11 جنوری 2026

الحمدللہ، الحمدللہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی لاسیما علی سید الرسل و خاتم الانبیاء وعلی آلہ وصحبہ ومن بھدیھم اھتدی۔ أَمَّا بَعْدُ. فأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا ۗ وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ۔ صدق الله العظيم 

حضرت الشیخ مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ، حضرت مولانا زبیر صاحب دامت برکاتہم العالیہ، جامعہ اشرفیہ کے علمی خانوادے کے یہاں پر موجود تمام فرزندان، تمام برادران، سٹیج پر موجود علماء کرام، فضلاء عظام، طلباء عزیز، میرے بزرگو، دوستو اور بھائیو!

ہمارے عزیز مولانا زبیر صاحب نے فون پر مجھے دعوت دی کہ یہاں پر جو ختمِ بخاری کی تقریب ہوگی تو آپ اس میں شامل ہوں، میں نے اُن کی دعوت قبول کی اور اُنہوں نے بھی بڑی خوشی کا اظہار کیا۔ میں نے حضرت مولانا فضل الرحیم صاحب رحمہ اللہ کی صحت کے بارے میں پوچھا تو اُن کا جواب بھی اطمینان بخش تھا، پانچ سے دس منٹ کے درمیان اُن کی رحلت کی اطلاع آئی تو طبیعت پر ظاہر ہے اثر بھی ہوا، وہ جو کچھ لمحے پہلے دعوت کے اندر خوشی کے احساسات تھے وہ غم و اندوح میں بدل گئے اور یہ انسانی فطرت بھی ہے تقاضائے بشریت بھی ہے میں نے اُن کو بیسیوں اجتماعات میں اجلاسات میں گفتگو کرتے ہوئے تلاوتِ کلامِ پاک کرتے ہوئے سُنا بھی، اُن کے ہم مجلس ہونے کی مجھے سعادت بھی ہوئی، میں نے اُن کو نہایت شفیق پایا، میں نے اُن کو نہایت خلیق پایا اور جہاں وہ چلے گئے ہیں مجھے اللہ کی رحمت سے امید ہے کہ وہاں بھی ہم اُن کو عتیق پائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اُن کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے اور اُن کی قبر کو اللہ جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ بنا دے۔

جو کچھ حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے فرمایا، اُن کی نصائح بھری تقریر اور اُن سے قبل دوسرے علماء کرام اور بالخصوص مولانا محمد حنیف جالندھری صاحب نے اِس مجلس کی مناسبت سے جتنا کچھ ارشاد فرمایا ہے اُس پر مزید اضافہ کرنے کی نہ تو ضرورت ہے اور نہ میرے اندر اُس کی استطاعت ہے۔

ایک اللہ کا عمومی انعام کہ اُس نے انسان کو، بنی آدم کو علم کی نعمت سے نوازا ہے، انسان کو ادراک کی قوت عطاء کی ہے، لیکن پورے کائنات کے تمام اشیاء کا ادراک اور حصول علم کی جو قوت اللہ نے حضرت انسان کو عطاء کی ہے وہاں امت مسلمہ کو خصوصی امتیاز کے ساتھ قرآن کی علم سے نوازا ہے۔ وحی کے ذریعے انسان کی رہنمائی کی ہے۔ ہر چند کے عقل بہت بڑی نعمت ہے اور عقل نے انسان کو ترقیوں کے بام عروج تک پہنچایا ہے اور اب بھی وہ ترقی کے منازل کو طے کر رہا ہے۔ تو عقل بہت بڑی نعمت ہے۔ تمام حیوانات کے مقابلے میں اگر انسان کو ممتاز بنایا ہے تو عقل کے ذریعے سے بنایا ہے، لیکن بہت بڑے رہنما ہونے کے باوجود رہنمائی کیلئے کافی نہیں، عقل معطل ہو جاتی ہے، خطا و انحراف کا شکار ہو جاتا ہے۔ تو اللہ نے پھر اس سے بڑھ کر آگے جا کر وحی کے نعمت سے انسان کو نوازا، جس میں نہ تعطل ہے، نہ خطا و انحراف کا کوئی امکان موجود ہے۔ لیکن جس طرح حضرت شیخ نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا کہ ہمارے دینی مدارس کی ایک خصوصیت ہے کہ یہاں پر وحی اور علوم نبویہ کا تحفظ ہوتا ہے۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جگہ تو فرماتے ہیں: اِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا، میں استاد بنا کر بھیجا گیا ہوں، معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں اور دوسری جگہ ارشاد فرماتے ہیں: بُعِثْتُ لِعُطَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ، میں بلند اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہوں۔ یعنی ایک حیثیت میں وہ معلم اور دوسری حیثیت میں وہ مربی، تو ہمارے مدارس میں جو علوم وحی کے رہنمائی میں عطاء کیے جاتے ہیں وہاں تعلیم بھی ہے اور جس طرح کی تعلیم دی جاتی ہے طالب علم کو اسی طرح کی عملی زندگی اپنانے کے لئے بھی تعلیم دی جاتی ہے۔ آپ کا لباس کیسا ہونا چاہیے، آپ کا اُٹھنا بیٹھنا کیسا ہونا چاہیے، کھانا پینا کیسے ہونا چاہیے، ایک دوسرے کے ساتھ معاملات کیسے ہونے چاہیے، سو جس طرح قرآن کی تعلیمات ہیں اور جس طرح جنابِ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات ہیں اس کے مطابق اس کو عملی زندگی میں کھپانا اور اس کی تطبیق کرنا یہ علوم بھی ساتھ ساتھ دیئے جاتے ہیں۔ دوسری دنیا کی دانشگاہوں میں بڑے بڑے علوم پڑھائے جاتے ہیں، لیکن علم کی عملی زندگی میں وہ تطبیق موجود نہیں ہے جو ہمارے دینی مدرسے کے اندر موجود ہے۔

لیکن یاد رکھیں! ایک طالب علم کا تعلق ہمہ وقت تین چیزوں سے ہیں مدرسے سے تعلق، کتاب سے تعلق، استاد سے تعلق، مدرسہ مادرِ علمی ہے، ماں ہے جس کے گود میں ہم آٹھ دس سال گزارتے ہیں اور جس پیار اور محبت کے ساتھ یہ مادرِ علمی ہماری نشونما کرتا ہے اور پھر جس کتاب سے ہمارا تعلق ہے اس میں ہماری نشونما کی غذا ہے اور یہ کتاب اس غذا کا زخیرہ ہے اور استاد ساری رات بیٹھ کر کتابوں کے اس زخیرے سے طالبِ علم کی استطاعت کے مطابق غذا چن چن کر صبح اس کو عطاء کرتا ہے۔ اور تب جا کر ایک کامل انسان بننے کی طرف انسان بڑھتا ہے۔ لیکن یاد رکھیں کہ یہ جو اکتساب فیض ہے مادرِ علمی سے، کتاب سے اور استاد سے، یہ اکتساب فیض تبھی ہو سکتا ہے اگر ان تینوں کے ساتھ علاقہ ادب کا ہو، ادب کی یہ تعلیم دوسری دانش گاہوں میں نہیں ملتی جتنے ہمارے مدارس میں ملتی ہے استاد کو جس قدر و منزلت کے ساتھ دیکھا جاتا ہے وہ شائد دوسری دانش گاہوں میں نہ ہو۔

زمانے بدلتے رہتے ہیں ہر طرف سوسائٹی میں جو نئی نئی روایات، رواج پاتی ہیں، نئے نئے اخلاق رواج پاتے ہیں وہ اثر انداز بھی ہوتی ہیں۔ کچھ نسلوں کے بعد معاشرے کی روایات ہی تبدیل ہو جاتی ہے اور پھر نوجوان کیا سوچتا ہے آج کی دنیا میں نوجوان کو جو ذہن دیا جا رہا ہے بزرگوں سے رشتہ توڑو، پس وہ گزر گئے، دنیا میں رہ کر جو کرنا تک کر گئے، اب مستقبل ہمارا ہے، اب ہم نے سوچنا ہے، اب ہم نے فیصلہ کرنا ہے، نہ والدین کی کوئی حیثیت، نہ آباؤ اجداد کی کوئی حیثیت، نہ استادوں کی کوئی حیثیت، نہ سند کی کوئی حیثیت، نہ اکابر و اسلاف کی کوئی حیثیت، اب ہم نوجوان ہیں ہم نے اپنے مستقبل خود بنانا ہے۔ یہ اپنے اکابر و اسلاف سے رشتہ توڑنا یہ مغربی تہذیب کی بنیاد ہے اور ان روایات کو ہمارے ملکوں کے اندر ہماری حکومتوں نے اپنے سکولوں میں رائج کیا ہوا ہے، اپنے تعلیم گاہوں میں رائج کیا ہوا ہے، سو اپنے منہج پہ قائم رہنا ہے۔ یہ جو ہمارے ہاں سند کا سلسلہ ہے یہ ان روایات کی بقاء ہے، ان اخلاق کی بقاء ہے، ان آداب کی بقاء ہے، اسلاف سے رشتہ ہے۔ تو ہمارے ہاں اگر شریعت پڑھائی جاتی ہے تو اس کی بھی سند ہے، اگر ہمارے ہاں طریقت ہے، شریعت پر چلنے کا اسلوب بتایا جاتا ہے اس کی بھی سند ہوتی ہے، ہمارے ہاں اگر سیاست ہے تو سیاست شرعیہ اس کی بھی سند ہے اور سارے سلسلے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتے ہیں۔

سو اس اعتبار سے اپنی تاریخ پر اعتماد کرنا ہے، اپنے اکابر و اسلاف پر اعتماد کرنا ہے، ان کے منہج کو اپنانا ہے اور ہمارے اکابر کا جو منہج ہے یا ہمارے مدارس کا جو منہج ہے اس کی اساس وہ اعتدال ہے۔ ہمارے اکابر نے جذبات پہ آ کر کسی کی تکفیر نہیں کی، فتوے نہیں جاڑے، کسی کا قول کسی کا عمل اگر ان کے سامنے آیا ہے مختلف اطراف سے کفر اور شرک کے فتوے لگے ہیں، لیکن میرے بزرگوں نے بیٹھ کر سوچا ہے کہ اس قول میں اور اس عمل میں اگر نناوے فیصد جہات تکفیر کے ہیں لیکن ایک فیصد تاویل کے ذریعے اس میں امکان ہے ایمان کا، تو پھر کفر کا فتوہ لگانے سے احتراز کیا ہے۔

تو اعتدال کمال ہے اگر اعتدال نہیں تو پھر یا افراط ہے یا تفریط ہے اور دونوں نقص ہیں۔ تو اس منہج کو اپنانا اور اس منہج کو اپنا کر ان مدارس کی حفاظت کرنا، ان اداروں کی حفاظت کرنا، ان کتابوں کی حفاظت کرنا، ان کے علوم کی حفاظت کرنا، ان سلسلوں کو باقی و ساری رکھنا، یہ ہے وہ آزمائش جو آج ہمارے حلقے پر اور ہمارے علماء پر آئی ہے اور اس آزمائش کو ان شاءاللہ استقامت کے ساتھ کرنا سامنا کرنا ہے۔ مشکل وہاں پیش آتی ہے جب حق کے خلاف حکمران کی قوت باطلہ وہ حرکت میں آتے ہیں۔ تو باطل کا فرد کامل خارج میں حکمران ہوتا ہے اور جب فرد کامل حکمران ہے تو باطل کے اس فرد کامل کے مقابلے میں حق کو آپ اسی پیمانے پر فرد کامل تصور کریں گے اور اس کے مقابلے میں جو آواز ہوگی وہی حق کی آواز تصور کی جائے گی۔ تو وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ اس کے معیار کو اس کے مقام کو ہمیں سمجھنا ہوگا، کیونکہ آگے اللہ خود فرماتے ہیں: وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ یہ صبر اور آزمائش اور استقلال استقامت اور استحکام اس کی ضرورت تب پڑتی ہے جب بہت بڑی قوت وہ ڈنڈا اٹھا کر آپ کی خلاف پڑتی ہے۔ یہ آزمائش کی دن ہوتے ہیں، یہ تکلیف کی دن ہوتے ہیں اور جس طرح ہمارے اکابر نے آزمائشوں کو برداشت کیا کیا، کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ میرے اکابر نے کن آزمائشوں سے گزر کر آپ تک یہ امانت پہنچائی ہے، حضرتِ نانوتوی جن آزمائشوں سے گزرے، حضرتِ گنگوہی جن آزمائشوں سے گزرے، امداد اللہ مہاجر مکی جن آزمائشوں سے گزرے، زامن شہید جن آزمائشوں سے گزرے، حضرتِ شیخ الہند جن آزمائشوں سے گزرے، اُن کے شاگرد جن آزمائشوں سے گزرے اور آزمائشوں سے گزر کر وہ امانت آپ کے حوالے آج کی ہے۔ تو اس دین کی بقاء یہ آسائشوں میں نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ ہماری کمزوریوں کو دیکھ رہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے کمزور سمجھ کر ہماری رعایت بھی کر رہا ہے کہ اُس درجے کی آزمائشیں ہمارے پر نہیں آئیں جو آزمائشیں ہمارے اکابر پر گزری ہیں۔

تو اب آپ کو پگڑیاں پہنا دی گئی ہیں، ہمارے حضرت شیخ مولانا عبد الحق صاحب رحمہ اللہ جب آخری حدیث پڑھاتے تھے تو کچھ نصیحتیں بھی کرتے تھے، تو فرماتے تھے کہ آج پگڑیاں باندھ کر تم سمجھتے ہو کہ اب ہم عالمِ دین بن گئے ہیں، اب ہم علماء بن گئے ہیں، فرمایا نہیں، ابھی تم عالمِ دین نہیں بنے، آٹھ سال یہاں گزار کر اب تمہارے اندر عالمِ دین بننے کا استعداد پیدا ہو گیا ہے۔ اس کے بعد اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ عالم بن جائیں اور علم میں بڑا مقام حاصل کرے تو اب آپ حاصل کر سکتے ہیں۔

تو ہمارے ان اکابر نے جو ہمیں نصیحتیں کی، رہنمائی کی ہے اس کو پلو سے باندھیں اور پلو سے باندھ کے یہاں سے اُٹھیں، چادر رومال چھڑک کر نہ اُٹھا کریں۔ پھر ان شاءاللہ آپ دیکھیں کہ اگلی زندگی میں آپ کو اس کی کیا کیا برکات نظر آتی ہیں، مشاہدات کرتے ہوں گے آپ، تو آپ ہمارے لئے بھی دعا کیا کریں ایک اچھے ماحول میں، روحانی ماحول میں، علمی ماحول میں ہم بیٹھے ہوئے ہیں اور میں تو سمجھتا ہوں مولانا فضل الرحیم صاحب کی کرامات میں سے ہے کہ ان کے جانے کے بعد ہمیں فوری طور پر اس طرح کی ایک روحانی اور علمی ماحول مل گیا ہے جس میں ہم سب اکٹھے ہیں۔ اللہ اس کا ثواب بھی ان کو عطاء فرمائے۔

یہ چند گزارشات آپ کی خدمت میں، میں نے عرض کی ہیں اور اپنے اکابر کو دنیا سے جانے کے بعد زندہ رکھنے کا یہی طریقہ ہے کہ ان کے نصب العین کو اپنایا جائے، اس کو امانت سمجھا جائے، اس کی حفاظت کی جائے۔ تو اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطاء فرمائے۔

وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔

،‎ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض

‎ممبرز ٹیم جےیوآئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز 

‎#teamJUIswat‎

 

0/Post a Comment/Comments