عجب کرپشن کی غضب کہانی تحریر: سہیل سہراب

عجب کرپشن کی غضب کہانی

تحریر: سہیل سہراب

ممبر ٹیم جےیوآئی سوات / ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹر رائٹرز گروپ 

اگر کسی جماعت نے کرپشن کے خلاف جنگ کو اپنی سیاست کا پرچم بنایا تو وہ پاکستان تحریک انصاف تھی۔ عوام کو ایک ایسے پاکستان کا خواب دکھایا گیا جہاں شفاف حکمرانی، بے خوف احتساب اور بدعنوانی کے مکمل خاتمے کا وعدہ کیا گیا۔ مگر اقتدار کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی یہ خواب رفتہ رفتہ ایک تلخ حقیقت میں بدلنے لگا، جہاں وہی جماعت خود انہی الزامات، تضادات اور مالی بے ضابطگیوں کی زد میں آ گئی جن کے خلاف وہ برسوں صف آرا رہی تھی۔ یہ تحریر انہی بلند و بانگ دعوؤں اور زمینی حقائق کے درمیان موجود گہری خلیج کو بے نقاب کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔

شوگر اسکینڈل (چینی بحران)

2020 میں ملک بھر میں چینی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ سرکاری تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق چند بڑے شوگر مل مالکان کو اربوں روپے کی سبسڈی دی گئی، برآمدات کی اجازت دے کر مصنوعی قلت پیدا کی گئی، اور حیرت انگیز طور پر پی ٹی آئی کے اہم اتحادی، خصوصاً جہانگیر ترین، خود شوگر انڈسٹری سے وابستہ نکلے۔ اس اسکینڈل نے جماعت کے کرپشن فری بیانیے کو شدید دھچکا پہنچایا۔

بی آر ٹی پشاور منصوبہ

پی ٹی آئی کا فلیگ شپ منصوبہ، جس کی ابتدائی لاگت تقریباً 49 ارب روپے تھی، بعد ازاں 70 ارب روپے سے تجاوز کر گئی۔ ناقص تعمیر، بار بار حادثات اور آڈٹ رپورٹس میں مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی نے شفافیت کے دعووں پر سوالات کھڑے کر دیے۔ محتاط اندازوں کے مطابق اس منصوبے میں تقریباً 28 ارب روپے کی کرپشن ہوئی۔

راولپنڈی رنگ روڈ اسکینڈل

زمین کے ریٹس بڑھنے سے قبل روٹ میں تبدیلی کی گئی۔ الزامات کے مطابق بااثر افراد نے اندرونی معلومات استعمال کرتے ہوئے زمینیں خریدیں اور بعد ازاں ان کی قیمتیں کئی گنا بڑھ گئیں۔ سرکاری انکوائری میں بیوروکریسی اور سیاسی شخصیات کے کردار پر سنگین سوالات اٹھے۔

مالم جبہ (سوات) ریزورٹ معاملہ

خیبر پختونخوا حکومت نے بغیر قانونی تقاضے پورے کیے قیمتی سرکاری زمین لیز پر دے دی۔ بعد ازاں عدالت نے معاہدے پر اعتراضات اٹھائے۔ یہ کیس ماحولیات کی پامالی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی ایک نمایاں مثال بنا۔

توشہ خانہ معاملہ

سرکاری تحائف کے غلط استعمال اور فروخت کے الزامات، اثاثوں کی تفصیلات میں تضادات، اور قانونی تنازعات نے پی ٹی آئی قیادت کی ذاتی شفافیت پر بھی سوالات کھڑے کر دیے۔

القادر ٹرسٹ کیس

اس کیس میں الزام سامنے آیا کہ برطانیہ سے واپس آنے والی 190 ملین پاؤنڈ کی رقم، جو قومی خزانے میں جمع ہونی چاہیے تھی، ایک خفیہ معاہدے کے تحت نجی بزنس ٹائیکون کے فائدے کے لیے ایڈجسٹ کی گئی، جس کے بدلے عمران خان اور ان کی اہلیہ کے قائم کردہ ٹرسٹ کو قیمتی زمین حاصل ہوئی۔

ڈرگ فری پشاور اسکینڈل (21 کروڑ روپے)

خیبر پختونخوا حکومت نے پشاور کو منشیات سے پاک بنانے کے دعوے کے تحت “ڈرگ فری پشاور” مہم شروع کی۔ تقریباً 21 کروڑ روپے فنڈز مختص کیے گئے، مگر آڈٹ رپورٹس اور میڈیا تحقیقات کے مطابق یہ رقوم زیادہ تر تشہیری سرگرمیوں پر خرچ ہوئیں، جبکہ بحالی مراکز اور عملی نتائج نہ ہونے کے برابر رہے۔

صوبائی اسمبلی اجلاس ۔۔۔چودہ لاکھ کا چونا

نئے سال کے آغاز پر صوبائی اسمبلی کا اجلاس کورم پورا نہ ہونے کے باعث صرف پانچ منٹ جاری رہا، مگر اس مختصر اجلاس پر قومی خزانے سے چودہ لاکھ روپے خرچ کر دیے گئے۔

2013 چرچ دھماکہ فنڈ

اقلیتوں کے لیے 20 کروڑ روپے کا فنڈ جاری کیا گیا، مگر متاثرین تک ایک روپیہ بھی نہ پہنچ سکا۔

تیمرگرہ میڈیکل کالج ۔۔۔ چار ارب کی کرپشن

تیمرگرہ میڈیکل کالج کے قیام کے لیے اربوں روپے مختص کیے گئے، مگر آڈٹ رپورٹس اور محکمہ صحت کی تحقیقات میں اوور بلنگ، ناقص تعمیر، قواعد کی خلاف ورزی اور غیر شفاف خریداری کے سنگین انکشافات سامنے آئے۔ مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی مجموعی رقم تقریباً چار ارب روپے بتائی جاتی ہے۔ اس کے باوجود طلبہ آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

کوہستان میگا اسکینڈل ۔۔چالیس ارب روپے

کوہستان میں ترقیاتی منصوبوں، تنخواہوں اور ادائیگیوں کے نظام میں طویل عرصے تک بدانتظامی جاری رہی، جو بعد ازاں ایک بڑے مالی اسکینڈل کی صورت میں سامنے آئی۔ جعلی چیکوں، فرضی اکاؤنٹس اور سرکاری اہلکاروں کے نام پر رقوم منتقل کیے جانے کے شواہد ملے۔ صرف ایک کلرک کے اکاؤنٹ سے گیارہ ارب روپے نکلنے کا انکشاف ہوا۔ مجموعی نقصان تقریباً چالیس ارب روپے بتایا جاتا ہے۔

محکمہ صحت ۔۔۔۔ بیس کروڑ ستائیس لاکھ روپے

فرنیچر، اسٹیشنری اور گاڑیوں کے انجن و ٹائروں کی تبدیلی کے نام پر قومی خزانے کو بیس کروڑ ستائیس لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔

پشاور یونیورسٹی

تعلیمی انقلاب کے دعویداروں کی ناقص پالیسیوں کے نتیجے میں پشاور یونیورسٹی کے نو شعبہ جات بند ہو گئے، جبکہ صوبے کی بیس جامعات دیوالیہ پن کے قریب پہنچ چکی ہیں۔

356 چھوٹے پن بجلی منصوبے

پرویز خٹک کے دور میں 356 چھوٹے پن بجلی گھروں کا اعلان کیا گیا، مگر عملی طور پر صرف 37 منصوبے دیر میں مکمل ہوئے، وہ بھی زیادہ تر کاغذات کی حد تک۔

صوبائی اسمبلی اجلاس ۔۔۔ 21 اکتوبر 2025ء

کورم پورا نہ ہونے کے باعث اجلاس چند منٹ جاری رہا، لیکن خزانے سے بارہ لاکھ روپے خرچ ہو گئے۔

صوبائی فنڈ ۔۔۔ 14 اگست 2025ء

یومِ آزادی کے پروگرام کے لیے گلوکاروں کو لاکھوں روپے ادا کیے گئے، مگر بعد میں تقریب منسوخ کر دی گئی۔

سولر منصوبہ ۔۔ چھ سے آٹھ ارب روپے

ہزاروں گھروں اور مساجد میں سولر سسٹم لگانے کے منصوبے میں کروڑوں روپے کی مبینہ خرد برد سامنے آ چکی ہے۔

مزدوروں کے لیے رہائشی منصوبہ

دو ہزار سے زائد فلیٹس کا منصوبہ کئی بار افتتاح کے باوجود آج تک عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔

پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے)

اندازوں کے مطابق اس ادارے میں اتنے کلاس فور ملازمین بھرتی کیے گئے کہ ایک افسر کے لیے 26 کلاس فور ملازمین کام کرتے ہیں، جن میں تقریباً 1100 مالی اور 700 نائب قاصد شامل ہیں۔

رمضان پیکج 2025ء

غریبوں کے لیے دس ارب بیس کروڑ روپے مختص کیے گئے، مگر الزامات کے مطابق یہ رقم زیادہ تر اپنے کارکنوں میں تقسیم کر دی گئی۔

ڈسٹرکٹ ہسپتال تیمرگرہ

سرجیکل گلوز کی خریداری کی آڑ میں چودہ کروڑ روپے کا نقصان قومی خزانے کو پہنچایا گیا۔

سرکاری اسپتالوں کی ادویات

اندازوں کے مطابق دو سو کروڑ روپے کی ادویات صرف کاغذات میں خریدی گئیں، جبکہ عملی طور پر مریض محروم رہے۔

دستانہ اسکینڈل

چار کروڑ پینتیس لاکھ روپے کے دستانے خریدے گئے، مگر تین کروڑ بانوے لاکھ روپے کا کوئی ریکارڈ ہی موجود نہیں۔

کنڈومز اسکینڈل ۔۔۔ 29 جنوری 2024ء

خاندانی منصوبہ بندی کے لیے بارہ لاکھ کنڈومز کاغذات میں خریدے گئے، جن پر دو کروڑ روپے نکلوائے گئے، مگر عملی طور پر ان کا کوئی وجود نہ تھا۔

امریکی امداد

گنڈاپور دورِ حکومت میں دی گئی ایمبولینسوں سے سیٹیں نکال کر باہر فروخت کی گئیں، جن کی مالیت لاکھوں روپے تھی۔

تعلیمی انقلاب کا ایک اور “کارنامہ”

صوبے میں 2032 اسکول آج بھی چار دیواری سے محروم ہیں، 2414 اسکولوں میں بجلی نہیں، جبکہ 1149 اسکول پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔

یہ تمام مثالیں کسی ایک غلط فیصلے یا اتفاقی کوتاہی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم طرزِ حکمرانی کی عکاس ہیں، جہاں احتساب کے نعرے محض تقاریر تک محدود رہے اور عملی طور پر کرپشن، نااہلی اور اقربا پروری نے جڑ پکڑ لی۔ جس جماعت نے کرپشن کے خلاف جنگ کو اپنی پہچان بنایا، وہی جماعت اقتدار میں آ کر انہی روایات کا حصہ بن گئی جن کے خاتمے کا وہ دعویٰ کرتی تھی۔

خیبر پختونخوا، جسے کبھی ماڈل صوبہ کہا جاتا تھا، آج قرضوں، نامکمل منصوبوں اور تباہ حال اداروں کی تصویر بن چکا ہے۔ اقتدار سنبھالتے وقت صوبے پر قرضہ 125 ارب روپے تھا، جو آج بڑھ کر 776 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ آنے والی نسلوں پر رکھا جانے والا ایک بھاری بوجھ ہے۔

اصل المیہ یہ نہیں کہ کرپشن ہوئی، بلکہ یہ ہے کہ آج بھی مؤثر جوابدہی کا نظام موجود نہیں۔ اگر عوام نے سوال نہ کیے اور احتساب کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر نہ دیکھا گیا تو یہ کہانی کسی ایک جماعت تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورا نظام اسی دلدل میں دھنستا چلا جائے گا۔

#teamJUIswat


0/Post a Comment/Comments