اسلام، آئین اور سیاست: شرمیلا فاروقی کے دعوے پر مولانا فضل الرحمٰن کا تاریخی مؤقف۔ تحریر ہلال احمد دانش

اسلام، آئین اور سیاست: شرمیلا فاروقی کے دعوے پر مولانا فضل الرحمٰن کا تاریخی مؤقف

تحریر ہلال احمد دانش

پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں بعض مباحثے ایسے ہیں جو محض وقتی سیاسی شور نہیں ہوتے، بلکہ وہ قوم کے فکری رخ، نظریاتی سمت اور تہذیبی شناخت کا تعین کرتے ہیں۔ کثرتِ ازدواج سے لے کر کم عمری کی شادی تک، یہ مباحثے محض قانون سازی کے سوالات نہیں بلکہ اس بنیادی مسئلے کی علامت ہیں کہ ریاست کا فکری اور آئینی معیار کیا ہونا چاہیے۔

کثرتِ ازدواج کا مسئلہ آج نہیں، بلکہ کئی دہائیوں پہلے قومی اسمبلی کے ایوان میں زیرِ بحث آ چکا تھا۔ اس وقت قومی اسمبلی کے فلور پر ایک خاتون رکن نے یہ مطالبہ پیش کیا کہ اگر مرد کو چار شادیوں کی اجازت ہے تو خواتین کو بھی چار شادیوں کا حق دیا جانا چاہیے۔ بظاہر یہ مطالبہ مساوات کے نام پر پیش کیا گیا، مگر حقیقت میں یہ سوال محض قانونی نہیں بلکہ نظریاتی، تہذیبی اور فکری تھا۔

اسی موقع پر معروف عالمِ دین مولانا غلام غوث ہزارویؒ نے نہایت بصیرت اور سیاسی شعور کے ساتھ جواب دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانون سازی جذباتی نعروں کے تابع نہیں ہو سکتی، بلکہ اسے فطرتِ انسانی، معاشرتی حقائق اور تاریخی تجربات سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر کسی مطالبے کو قانون کا حصہ بنایا جائے تو اس کے نتائج اور مضمرات کا سنجیدہ جائزہ ناگزیر ہے۔

اس بحث کا بنیادی سوال نسب اور ریاستی نظم سے متعلق تھا۔ اگر ایک خاتون کے چار شوہر ہوں تو یہ طے کرنا عملاً ممکن نہیں رہے گا کہ پیدا ہونے والا بچہ کس شوہر سے منسوب ہے، جس سے نسب، وراثت، خاندانی شناخت اور قانونی ذمہ داریوں جیسے بنیادی مسائل پیدا ہوں گے۔ یہ صرف ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ ریاستی، عدالتی اور قانونی بحران کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر ایک مرد کی چار بیویاں ہوں تو ہر بچے کا والد اور والدہ واضح طور پر معلوم ہوتے ہیں، نسب کا تعین ممکن ہوتا ہے اور خاندانی و قانونی نظام کسی ابہام کا شکار نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی قانون اور فطری نظام میں کثرتِ ازدواج کی اجازت مرد کے لیے مخصوص کی گئی ہے، نہ کہ عورت کے لیے۔

یہ بحث دراصل پاکستان کے نظریاتی تشخص اور قانون سازی کے رخ کی علامت تھی۔ ایک طرف وہ فکر تھی جو مغربی تصوراتِ مساوات کو بلا تنقید قبول کرنا چاہتی تھی، اور دوسری طرف وہ سوچ تھی جو قانون کو فطرت، دین اور معاشرتی حقیقت کے ساتھ جوڑ کر دیکھتی تھی۔ یہی وہ نظریاتی محاذ ہے جہاں آج بھی سیاسی و فکری کشمکش جاری ہے۔

وقت گزرا، مگر بحث ختم نہ ہوئی۔ آج یہی کشمکش اٹھارہ سال سے کم عمر شادی کے مسئلے پر ایک نئی صورت میں سامنے آئی ہے۔ قومی اسمبلی کے فلور پر شرمیلا فاروقی کا یہ کہنا کہ کم عمری کی شادی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک فکری مؤقف ہے۔ اس مؤقف میں دراصل یہ تصور پوشیدہ ہے کہ مذہب کو قانون سازی سے الگ رکھا جائے اور سماجی مسائل کو صرف مغربی قانونی پیمانوں پر پرکھا جائے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے نکاح کو محض عمر کی حد سے نہیں بلکہ بلوغت، عقل، ذمہ داری اور فریقین کی رضامندی سے مشروط کیا ہے۔ اس حساس مسئلے کو مذہب سے کاٹ کر صرف قانونی یا سماجی بحث بنا دینا نہ صرف علمی دیانت کے خلاف ہے بلکہ معاشرتی حقائق سے چشم پوشی کے مترادف بھی ہے۔ بچوں کے حقوق اور تحفظ پر بات ضرور ہونی چاہیے، مگر اسلام کو اس سے الگ ثابت کرنے کی کوشش نہ علمی ہے اور نہ ہی انصاف پر مبنی۔

یہ بحث اسی مقام پر جا کر مولانا فضل الرحمٰن کے مؤقف سے جڑ جاتی ہے، جو آج پارلیمان کے اندر اور باہر ایک واضح نظریاتی موقف کے ساتھ سامنے آئے۔ مولانا فضل الرحمٰن کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار حاصل ہے، مگر آئین نے اس اختیار کو قرآن و سنت کے تابع قرار دیا ہے۔ اگر اکثریت کے زور پر کوئی ایسا قانون بنایا جائے جو قرآن و سنت سے متصادم ہو، تو اسے چیلنج کرنا جرم نہیں بلکہ آئینی حق ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن کے نزدیک ریاست کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ کتنے قوانین بناتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کس نظریاتی بنیاد پر قانون سازی کرتی ہے۔ اگر قانون سازی قرآن و سنت کے خلاف ہوگی تو اس کی اطاعت لازم نہیں، کیونکہ اسلامی اصول یہ ہے کہ خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں کی جا سکتی۔

یہاں سوال صرف مذہب اور قانون کا نہیں، بلکہ آئین کی روح کا ہے۔ پاکستان کا آئین واضح طور پر کہتا ہے کہ کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنایا جائے گا۔ اگر یہی آئینی اصول نظر انداز کر دیا جائے، تو پھر پارلیمان کی قانون سازی محض عددی اکثریت کا کھیل بن کر رہ جاتی ہے، نہ کہ نظریاتی ریاست کا اظہار۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس نوعیت کی بحثیں پاکستان میں نئی نہیں۔ ماضی میں بھی جب مذہب اور قانون کو الگ کرنے کی کوشش کی گئی، تو اس کے نتیجے میں معاشرے میں فکری انتشار پیدا ہوا۔ آج بھی صورتِ حال مختلف نہیں۔ ایک طرف وہ فکر ہے جو ریاست کو مغربی ماڈل کے مطابق ڈھالنا چاہتی ہے، اور دوسری طرف وہ نظریہ ہے جو پاکستان کو اس کے آئینی اور اسلامی تشخص کے ساتھ دیکھنا چاہتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں اصل جنگ قانون اور مذہب کے درمیان نہیں، بلکہ تشخص اور سمت کے درمیان ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کم عمری کی شادی یا کثرتِ ازدواج کا قانون کیا ہونا چاہیے، بلکہ سوال یہ ہے کہ قانون سازی کا معیار کیا ہوگا: قرآن و سنت یا مغربی تصورات؟

جب تک اس بنیادی سوال کا جواب طے نہیں ہوگا، پاکستان کی سیاست میں ایسی بحثیں بار بار جنم لیتی رہیں گی۔ کیونکہ یہ محض قانونی تنازع نہیں، بلکہ پاکستان کی روح، اس کے آئین اور اس کی نظریاتی شناخت کا معاملہ ہے۔


0/Post a Comment/Comments