قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب اور جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن صاحب کی ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس
13 فروری 2026
بسم اللہ الرحمن الرحیم، نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
میں حافظ نعیم الرحمن صاحب امیر جماعت اسلامی کی تشریف آوری پر ان کو اور ان کے ہمراہ پورے وفد کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتا ہوں اور انہوں نے ہمیں عزت بخشی ہے اور وہ تشریف لائیں ہیں۔ میں چاہوں گا کہ ہم نے جو مشاورت کی ہے، کچھ امور پر جو ہم نے گفتگو کی ہے، تو اس حوالے سے وہ میڈیا کو آگاہ کرے۔
حافظ نعیم الرحمٰن صاحب کی گفتگو کے بعد
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بالکل میں ان ڈورس کرتا ہوں حافظ نعیم الرحمٰن صاحب کی پوری گفتگو کو اور ان کے تمام نکات کو، انیس فروری کو ٹرمپ کے بنائے ہوئے بورڈ آف پیس کا اجلاس ہونے جا رہا ہے تو ایک تو ہم اس پر اتفاق کر رہے ہیں کہ یہ اقوام متحدہ کو بائی پاس کرنے کا ایک عمل ہے اور یہ اس کا متوازی دنیا کو ایک نئے نظام دینے کی کوشش ہے، جو عالمی ادارے کی اہمیت کو ختم کر رہا ہے، اس کی افادیت کو چیلنج کر رہا ہے اور پھر ہماری حکومت پارلیمنٹ کے فلور پر کہہ چکی ہے کہ بیس نکات میں اور اس ایجنڈے میں تبدیلی لائی گئی تھی اس کے ایجنڈے پر اعتراض کرنے کے باوجود اس فورم پر جانا اور اس میں شریک ہونا یہ کسی بھی قیمت پر سفارتی حوالے سے جائز عمل نہیں ہوسکتا۔ اسی طریقے سے اگر نیتن یاہو جو غاصب بھی ہے، قاتل بھی ہے، سفاک بھی ہے اور گزشتہ دو تین سالوں میں ستر ہزار فلسطینیوں کو شہید کیا گیا، ان کا خون بہایا گیا، ڈیڑھ لاکھ سے زائد لوگوں کو بے گھر کر دیا گیا اور ہرچند کہ وہاں پر نام تو قیام امن کا ہے اور حکمران بھی کہتے ہیں کہ ہم تو امن، سو امن آج آپ کو یاد آ گیا جب ان پر سب کچھ گزر چکا ہے، جب وہ کھنڈر بن گئے ہیں، جب ان کی لاشیں جو ہیں وہ ملبے تلے دبی ہوئی ہیں ابھی تک، جہاں کے بچوں کو جہاں کے ماؤں بہنوں کو، جہاں کے بزرگوں کو جنازے تک نصیب نہ ہو سکے، آج ہم اس سفاک کے ساتھ جا کر کہتے ہیں کہ ہم امن کے لیے جا رہے ہیں۔ آپ نے ان کا کوئی ہاتھ نہیں روکا، اور اسلامی برادری سے بھی ہم اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان حالات میں ملی غیرت کا مظاہرہ کریں، امت کے ضمیر کا احترام کریں، اور کسی طریقے سے بھی اسلامی دنیا کو اس میں شرکت نہیں کرنی چاہیے۔
جس طرح اقوام متحدہ میں نیتن یاہو کی تقریر پر سب نے بائیکاٹ کیا اور ہاؤس چھوڑ کے چلے گئے، ہمیں آج مزید تقویت پیدا کرنی ہے اور اس سوچ میں تقویت پیدا کرنی ہے اور اس کے لیے عملی اقدامات ہم نے اس طرح اٹھانے ہیں کہ جس سے مسلمانوں کے ساتھ اور ایک مسلمان قوم کے ساتھ، فلسطینیوں کے ساتھ اس طرح کا مذاق عالمی سطح پر نہ کر سکے، عالمی قوتیں مذاق کر رہے ہیں، ہمارے خون کا مذاق کر رہے ہیں، ہمارے لاشوں کا مذاق کر رہی ہے اور ہمارے حکمران اس میں شریک ہو رہے ہیں، کتنی بری بات ہے، یہ باتیں ناقابل قبول ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اگر حکمران بضد ہیں کہ ہم نے امریکی غلامی کرنی ہے، تو پھر ہمارا بھی ایک ماضی ہے، ہم نے بھی آزادی، حریت اور حق گوئی کی پھر تاریخ رقم کی ہے، ہم ایک بار پھر اسے دہرانے کے لیے میدان میں نکلنے پر مجبور ہو جائیں گے اور ہرچند کہ آج ہماری پہلی ملاقات ہے اور ہم ابتدائی گفتگو کر رہے ہیں، اور ہم نے آنے والے دنوں میں مستقل طور پر مشاورت کے عمل پر اتفاق کیا ہے، یہ کوئی بعید نہیں ہے کہ ہم ایک صف ہو کر ان اقدامات کے خلاف میدان عمل میں آئیں، اور ایک قومی سطح کا کام کردار ادا کریں۔ میں اعلان کرتا ہوں کہ کہ عید الفطر کے بعد پورے ملک میں ایک عوامی مہم چلائی جائے گی، جمعیت علماء اسلام نے بارہ اپریل کو مردان میں ملین مارچ کا اعلان کر دیا ہے اور اس طرح ہم چاروں صوبوں میں جائیں گے، اور ہم صوبوں کے امن و امان کے حوالے سے بھی ظاہر ہے ان کے حقوق ہیں اور وہاں کے وسائل پر ان کا حق ہے، جب چوری چھپے کوئی بین الاقوامی قوت زبردستی ان کے حق پر قبضہ کرے گا، یا ہمارے کوئی ادارے وہاں کے عوام کے، وہاں کے بچوں کے حقوق پر قبضہ کریں گے، تو ظاہر ہے اس سے رد عمل ابھرے گا، اور ابھی تک عام آدمی کو چھوٹے صوبوں میں ان کے وسائل اور ان کے حقوق کے حوالے سے ہمارے حکمران، ہماری اسٹیبلشمنٹ، ہماری بیوروکریسی وہ مطمئن نہیں کر سکی ہے۔
تو یہ سب چیزیں وہ ہیں کہ جو بدامنی کے لیے عوامل بن رہے ہیں، اور یہ کہ پاکستان ایک دفعہ فلسطینیوں کا قتل عام کر چکا ہے اور فلسطینی وہ بھولا نہیں ہے، کیا ہم دوبارہ جائیں گے؟ کیا ہم وہاں پر اسرائیلی فوج کے ساتھ مل کر کنٹرول سنبھالیں گے؟ اور ہم نے وہاں جنگ لڑنی ہوگی اس لیے کہ ہم نے حماس کو غیر مسلح کرنا ہے، جب آپ حماس کو غیر مسلح کریں گے تو آپ طاقت استعمال کریں گے تو وہ طاقت کس کے خلاف استعمال ہوگی؟ وہ پھر فلسطینی کے خلاف استعمال ہوگی، وہ ایک مسلمان کے خلاف استعمال ہوگی اور اسرائیل کے شانہ بشانہ پاکستان کو کھڑا کرنا ہوگا۔
تو اس حوالے سے کسی قسم کی کوئی ایسی مہلت حکومت کو دینے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ وہ تمام سفارتی اداب، قواعد و ضوابط اور اصولوں کو پامال کر کے عالمی قوتوں کے پروکسی بننے کی کوشش کرے، ہم آزاد ملک ہیں، خودمختار ہیں اور ایک آزاد قوم کی نمائندگی اگر وہ کرنا چاہتے ہیں تو پھر ان کو اپنے اطوار بدلنے ہوں گے اور ان اطوار کے ساتھ ہم پھر حکومت کو چلنے نہیں دیں گے، ہم واضح طور پر اپنا موقف سامنے لا رہے ہیں اور ہم دیگر جماعتوں کے ساتھ بھی جو ہمارے ہم خیال ہیں، ہم فکر ہیں اور ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ پاکستان کی ایک ناکام سفارتی پالیسی کہ انڈیا سے بھی دشمنی، افغانستان کی طرف سے بھی ہم دشمنی، چین بھی ناراض، ایران کے ساتھ بھی تعلقات تحفظات کے دباؤ میں، اور آج امریکہ ایران پر بھی حملہ کرنے کی طرف جا رہا ہے، وہاں براہ راست کارروائی کی باتیں ہو رہی ہیں اور افغانستان میں روس اور چین کی سرمایہ کاری ایک لمحے کے لیے امریکہ کو قبول نہیں ہے۔ اس کے لیے وہ پاکستان کو بطور پراکسی استعمال کرنا چاہتا ہے۔
تو ہمیں اس حوالے سے گرد و پیش کے تعلقات کو دیکھنا ہوگا، سفارتی حوالے سے ہمیں اس کے لیے اپنی پالیسی میں تبدیلیاں لانی ہوں گی، ہم افغانستان کے حکومت سے بھی کہنا چاہتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کے لیے وہ اقدامات کریں، بات چیت کا راستہ اختیار کریں، اور اگر ملک کے اندر ایسے لوگ ہیں کہ جو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لیے کردار ادا کر سکتے ہیں، تو اس کے لیے بھی ہمیں تیار رہنا چاہیے تاکہ ہم خطے میں اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ، کسی اسلامی ملک کے ساتھ کسی قسم کی صورتحال سے دوچار نہ ہوں اور اگر پاکستان میں مسلح گروہوں کی کارروائیاں ہیں اور اس پر کوئی تحفظات ہیں تو ہمیں ایران سے بھی بات کرنی چاہیے، ہمیں افغانستان سے بھی بات کرنی چاہیے، اور مسئلے کا ایک ایسا پائیدار حل ہمیں تلاش کرنا ہوگا کہ ہم ایک مستقل پڑوسی کے طور پر اور پُرامن پڑوسی کے طور پر ایک دوسرے کے ساتھ زندہ رہ سکیں، اور بقائے باہمی کی تصور کی بنیاد پر ہم ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔
سوال و جواب
صحافی: مولانا صاحب یہ بتائیے گا کہ اس وقت جو سب سے بڑا ایشو ہے وہ یقیناً دہشت گردی کے حوالے سے ہے، پاکستان تحریک انصاف بھی اگر صوبائی حکومت ان کی مخالفت کر رہی ہے ایک تو یہ کلیر کر دیں کہ جے یو آئی اور جماعت اسلامی کیا دہشت گردی کے خلاف جو آپریشن ہے اس کی حمایت کرتے ہیں اور دوسرا افغانستان پاکستان کو کوئی گارنٹی دینے کے لیے تیار نہیں ہے کہ وہاں سے اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، تو کیا آپ دونوں ظاہر ہے اثرورسوخ رکھتے ہیں تو کیا اس حوالے سے خود کوئی بطور ثالث کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے؟
مولانا صاحب: دیکھیے مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ہم ہر مسئلے کو آج کی نظر سے دیکھ کر سوال کرتے ہیں، دہشت گردی ہو، مسلح کارروائیاں ہو، امن و امان کا مسئلہ ہو، پاکستان میں تین چار دہائیوں کا ایک لمبا مسئلہ ہے، ہم نے اس طرح کے آپریشن کی مخالفت کی تھی، لیکن یہ بضد تھے کہ ہم نے امن و امان ملک کو دینا ہے، لہٰذا پالیسی خود بنائیں گے، ہم ان کے سامنے رکاوٹ نہیں بنے، اتفاق نہ کرتے ہوئے بھی ہم رکاوٹ نہیں بنے، لیکن اس کے باوجود وہ قوم کو امن نہیں دے سکے ہیں۔ کیا وجوہات ہیں؟ کیا رکاوٹیں ہیں؟ وہ صرف اپنے آپ پر کیوں انحصار کر رہے ہیں؟ وہ پارلیمنٹ کی رائے نہیں لے رہے، وہ سیاست دانوں کی رائے نہیں لے رہے، وہ مذہبی جماعتوں کی رائے نہیں لے رہے اور صرف اپنے اوپر انحصار کرنے کے نتیجے میں آج وہ خطے میں بھی تنہا ہیں اور ملک کے اندر بھی تنہا ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ تو یہ ان کو سوچنا ہوگا کہ وہ اس پالیسی پر کیوں آگے بڑھ رہے ہیں۔
صحافی: مولانا صاحب آپ دونوں ماشاءاللہ بڑی سیاسی مذہبی جماعتیں ہیں، آج آپ کی میٹنگ ہوئی ہے، کیا یہ ایم ایم اے کی طرح ایک نیا اتحاد بننے جا رہے ہیں؟
مولانا صاحب: ہم نے ایک بات واضح کر دی ہے کہ ابھی ہم صرف مشاورت کے عمل کو جاری رکھیں گے، پھر آگے جتنے بھی اس کے بہتر نتائج سامنے آتے رہیں گے اس کو ہم سمیٹتے رہیں گے ان شاء اللہ
صحافی: مولانا صاحب جب سعودی عرب جا رہا ہو بورڈ آف پیس میں اور ترکی بھی جا رہا ہو، تو پاکستان جیسے ملک کے لیے، مطلب آپ کیا سمجھتے ہیں کوئی راستہ بچ جاتا ہے کیونکہ حکومت بھی یہی بات کر رہی ہے کہ اگر سعودی عرب جا رہا ہے، ترکی بھی جا رہا ہے، تو ہمارے پاس بھی آپشن نہیں ہے۔
مولانا صاحب: تو کیا ہم تمام معاملات میں ان کی پیروی کرتے ہیں، کیا ہم ایک آزاد ملک کی حیثیت سے اپنا موقف نہیں رکھتے، ہم نے عالمی دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے دباؤ میں آ کر فیصلے کرنے ہوتے ہیں، پاکستان لیڈنگ پوزیشن میں ہے، ایک قیادت کرنے والا ملک ہے، وہ سعودی عرب کو بھی کنونس کر سکتا ہے اور ترکی کو بھی کنونس کر سکتا ہے اور اس کی رائے تمام اسلامی برادری پر اثر انداز ہو سکتی ہے اگر اس نے ڈٹ کر ایک فیصلہ کیا تو۔
صحافی: مولانا صاحب کیا یہ اچھا نہیں ہے کہ اگر مسلم ممالک کی فوج وہ غزہ یا فلسطین میں اپنے پاؤں جمانے کا موقع مل جائے، بعض اوقات ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام میں بھی بعض ایسے معاہدے کرنے پڑتے ہیں، اگر آپ اس روشنی سے دیکھے کہ ترکی کا اور فلسطین کا ہمیشہ سے پرانا ایک لنک رہا ہے اور اسرائیل نے جو ہے تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ ترک فوجیوں کے بوٹ غزہ کی سرزمین پر نہیں آنے چاہیے اور پاکستان نے بھی کہا ہے کہ اگر ترکی فوج نہیں جائے گی تو پاکستان بھی اپنی فوج نہیں بھیجے گا اگر آپ اس کو بڑے زاویے سے دیکھیں تو کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ پاکستان یا مسلم فوج جو ہے وہ کم از کم غزہ میں موجود تو ہوگی اور یہ کہ مستقبل میں اس کے کوئی دور رس نتائج سامنے آئیں گے؟
مولانا صاحب: نہیں جی، اس کی قیادت بھی امریکہ کے ہاتھ میں ہوگی، کمانڈ بھی امریکہ کے ہاتھ میں ہوگا، فیصلے بھی امریکہ کے ہاتھ میں ہوں گے اور ہم صرف ان کے لیے استعمال ہوں گے، پھر وہاں پر اس وقت ان کی موجودگی میں ان کے پاس، ابھی انکار کی ہمت نہیں ہے تو آگے جا کر کیا کریں گے. لہذا ہمیں بروقت پر ایک صحیح فیصلہ کرنا چاہیے، اگر ہم نے کسی زمانے میں کہا تھا کہ ہم عراق فوج نہیں بھیجیں گے تو ہم آج بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس طریقے سے فوج بناکر غزہ پہ قبضہ کرنا، یہ تو ایسا ہے جیسے کہ ایک بھیڑ کو بھیڑیے کے منہ سے تو نکال لیا لیکن گھر میں لے جا کر اس پر خود اپنا چھرا، تو اس نے کہا میرے لیے کیا فرق ہے، وہاں سے چھڑا لیا خود اکے گلے پر چھرا پھیرنے لگے ہو، تو یہ تو ایسا ہی ہے کہ آپ اسرائیل سے اس کو چھڑانے کے بعد پھر دوبارہ اسرائیل کے حوالے کر دیتے ہیں اور اسی چھری سے ان کو ذبح کرتے ہیں۔ تو میرے خیال میں معاملات میں توازن نہیں ہے اور توازن اس حد تک نہیں ہے کہ پھر ہمیں امت مسلمہ اور پاکستانی قوم کے ضمیر کے مطابق اپنی آواز بھرپور انداز میں بلند کرنی ہوگی۔
بہت شکریہ جی
ضبط تحریر: #سہیل_سہراب
ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
#teamJUIswat

.jpeg)
ایک تبصرہ شائع کریں