مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماوں کی مشترکہ پریس کانفرنس

قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماوں کی مشترکہ پریس کانفرنس

06 فروری 2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمده و نصلی على رسولہ الكریم

میں جناب محمود خان صاحب کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہم آٹھ فروری کو ان کے پہیہ جام یا شٹرڈاون اپیل کو سپورٹ کرتے ہیں اور ہماری جماعت نے اگر کوئی جلسہ یا جلوس رکھا ہے ہم ان کو منسوخ کر دیں گے یا اگر منسوخ نہ ہو سکا تو ہم ایسے وقت پہ کریں گے کہ جس سے ان کے پہیہ جام یا شٹرڈاون کے اوپر کوئی اثر نہ پڑے۔ تو ہم اپنے پروگراموں کو بھی ان کے اعلان کے مطابق اس میں مرج کریں گے۔

ہمارا مطالبہ بلکل ایک ہے، ہمارا مؤقف ایک ہے، آٹھ فروری کو دھاندلی ہوئی ہے اور اس دھاندلی کے خلاف پہلے دن سے ہم اپوزیشن میں بیٹھے ہیں اور ہم سب کا ایک ہی مؤقف ہے۔ آج تک بھی رویے تبدیل نہیں ہوئے، یعنی اس کے بعد اگر ضمنی الیکشن ہوئے ہیں اس میں بھی اسٹیبلیٹمنٹ کے رویے تبدیل نہیں ہوئے، آج تک اگر اپوزیشن کے اپیلیں جو ہیں وہ عدالتوں میں ہیں یا ٹریبونل میں ہیں ایک اپیل کو بھی حرکت نہیں دی جا رہی اور اگر کسی کو حرکت دی جا رہی ہے تو نتیجہ وہی جو انتخابات کا تھا۔

تو اس حوالے سے ہم اپنے مطالبے پہ قائم بھی ہیں اور اس مطالبے پہ ہمارا مؤقف بھی ایک ہے، ہم آٹھ فروری دو ہزار چوبیس کے الیکشن کو جس طرح اس دن ہم نے مسترد کیا تھا آج بھی ہم اسی مؤقف پہ قائم ہیں، ہم اس کو مسترد کرتے ہیں اور نئے الیکشن کا ہم مطالبہ کرتے ہیں عام انتخابات کا، دوسرا یہ کہ آج جو پنڈی میں واقعہ ہوا ہے پنڈی اسلام آباد کے ایک امام بارگاہ میں اور جس میں شاید پچاس سے زیادہ لوگ اس وقت تک جان بحق ہو چکے ہیں، تو اس واقعہ پہ ہم شدید افسوس کا بھی اظہار کرتے ہیں، اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور ان کے جو شہداء ہیں، ان کے جو زخمی ہیں، جو متاثرہ لوگ ہیں، ان سے اپنی بھرپور ہمدردی اور مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور یہ بھی ضرور کہتے ہیں کہ حکومت کی امن آمان کے قیام یا پبلک کو امن آمان دینا یہ اس کا فیلئر ہے اور اس کی ناکامی ہے اور اسے اپنی ناکامی کا اعتراف کرنا چاہیے کہ ہم ملک میں لوگوں کو امن نہیں دے سکے، ہم تو رو رہے تھے کہ کے پی میں یہ صورتحال ہے یا بلوچستان میں یہ صورتحال ہے اور پوری ریاست بے بس ہو چکی ہے اور ہم یہ کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ ریاست کمزور ہو، ریاست کو ہم طاقت ور دیکھنا چاہتے ہیں، یہ ملک کی ایک دفاع ہے لیکن بہرحال جس برے حالات کے ساتھ کئی دہائیوں سے ہمارے عوام گزر رہے ہیں، پبلک گزر رہی ہے، متاثر ہے، وہ ابھی تک اس میں کوئی فرق نہیں آیا اور مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کا معاملہ ہے۔

تو یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ جس پر ہمارا مؤقف ایک ہے اور آج کے واقعے پر ہم اپنے افسوس کا بھی اظہار کرتے ہیں، مذمت بھی کرتے ہیں اور متاثرہ لوگوں کے ساتھ یکجہتی اور ہمدردی کا بھی اظہار کرتے ہیں۔

سوال و جواب

صحافی: تو ابھی سیکیورٹی فیلئر دوبارہ شروع ہو گئے، اسلام آباد میں بہت بڑا واقعہ ہو گیا، اب ہمیں کیا میژر لینے ہیں کیونکہ یہ تو شہر اقتدار تک دہشت گردی پہنچ گئی ہے؟

مولانا صاحب: دیکھیے کہیں پر بھی کوئی شہری اپنے آپ کو محفوظ تصور نہیں کر رہا ہے، میں اسلام آباد میں ہوں یا میں ڈیرہ اسماعیل خان میں ہوں یا میں اپنے گاؤں میں ہوں، یا محمود خان یہاں ہے یا محمود خان وہاں چمن میں ہیں یا گولستان میں ہیں سب لوگ اپنے اپنے شہروں میں بس اللہ ہی سہارا ہے اور کسی قسم کی کوئی امن امان کی کوئی صورت حال اچھی نہیں ہے۔ تو اس بات پر تو ہم نے بار بار پارلیمنٹ میں بہت زور دیا ہے کہ بھئی ملک جا رہا ہے، حالات اس حد تک خراب ہو چکے ہیں کہ ملک کو بچانے کیلئے طاقت کا استعمال اس کی کیا ضرورت ہے، ملک تو رضامندی کے ساتھ اور قومی یکجہتی کے ساتھ زندہ رہتے ہیں، طاقت کی بنیاد پر ملکوں کو کب تک آپ زندہ رکھیں گے، کب تک آپ ان کو ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ رکھیں گے۔

تو بنیادی چیز یہی ہے کہ ہم سیاسی طور پر حالات کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں اور حکومتی پالیسیاں، یہاں تک کہ حکومت کی طرف سے جو قانون سازیاں ہیں اس سے جمہوریت اپنا مقدمہ ہار رہا ہے اور مسلح قوتیں جو اپنا موقف اٹھا رہی ہیں اس کو پذیرائی مل رہی ہے۔ آپ طاقت کے ذریعے کب تک ان چیزوں کو کنٹرول کریں گے، فطری زندگی ہمیں دیجیے قوم کو ایک فطری زندگی دیجیے تاکہ وہ کاروبار، زندگی ملک میں جما سکیں، ملک کو ہم بہتر رخ پر چلا سکیں، ہم اس کے لئے فکر مند ہیں، کوئی ہمارا کسی کے ساتھ اقتدار کا جنگ نہیں ہے، وہ عوام کی مرضی ہے وہ کیا فیصلے کرتی ہے اور کس کو اقتدار دیتی ہے۔ لیکن پبلک کسی اور کو اور حکمران کوئی اور، یہ روش ملک کے لئے کبھی مفید نہیں ہوتا۔

صحافی: مولانا صاحب آپ نے نئے الیکشن کا مطالبہ کیا، کیا یہ وقت نئے الیکشن کا متحمل ہے؟

مولانا صاحب: ہمیشہ جب بھی آپ دھاندلی کے بعد کہتے ہیں کہ نئے الیکشن کراؤ تو جواب یہی کہ کیا یہ حالات مناسب ہیں، تو حالات کی مناسبت کا فیصلہ کون کرے گا، میرے خیال میں جب ہم الیکشن لڑ رہے تھے تو دہشت گردی تو تھی، جب ہم الیکشن لڑ رہے تھے تو ہمارے علاقوں میں مسلح گروہ گھوم رہے تھے، انہوں نے ہمارے الیکشنوں کو اور پولنگ سٹیشنوں کو روکا، لیکن اس کے باوجود الیکشن ہوئے۔ لیکن اگر ملک کے اندر بے قراری ہے اور ملک کے اندر پراگندگی ہے، اس کا فائدہ یوں اٹھایا جائے کہ پھر نتیجے آپ مرتب کریں اور عوام کے فیصلے کو کوئی لحاظ نہ ہو تو یہ تو صحیح طریقہ نہیں ہے۔

ضبط تحریر: #سہیل_سہراب

‎ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز 

‎#teamJUIswat

0/Post a Comment/Comments