کشمیر کمیٹی: ایک متحرک دور سے خاموشی تک۔ تحریر: ہلال احمد دانش

کشمیر کمیٹی: ایک متحرک دور سے خاموشی تک

تحریر: ہلال احمد دانش

جب کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمان تھے، تب پوری قوم کے دلوں میں ایک ہی سوال گونجتا تھا کہ"کشمیر کمیٹی کا چیئرمین کہاں ہے؟"

یہ سوال محض کسی منصب کی موجودگی کے بارے میں نہیں تھا، بلکہ ایک فعال کردار، ایک توانا آواز اور کشمیری عوام کے حق میں عملی جدوجہد کی علامت تھا۔ ہر ظلم، ہر بحران اور ہر مظلوم کشمیری کی آہ میں یہی سوال ایک اجتماعی بے چینی کی صورت گونجتا تھا۔

مولانا فضل الرحمان کا دور: ایک متحرک اور مؤثر مرحلہ

مولانا فضل الرحمان نے کشمیر کمیٹی کو محض ایک رسمی پارلیمانی ادارہ نہیں رہنے دیا، بلکہ اسے ایک زندہ، متحرک اور عالمی سطح پر مؤثر فورم میں تبدیل کیا۔ کمیٹی کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد ہوتے، کشمیری قیادت اور مہاجر کشمیریوں کی آراء کو اہمیت دی جاتی، جامع رپورٹس پارلیمنٹ میں پیش کی جاتیں، اور حکومت پر یہ دباؤ برقرار رکھا جاتا کہ کشمیر پالیسی محض بیانات تک محدود نہ رہے۔

مولانا فضل الرحمان نے مسئلہ کشمیر کو پاکستان اور بھا رت کے درمیان ایک علاقائی تنازع کے بجائے انسانی حقوق اور مسلم دنیا کے اجتماعی ضمیر کا مسئلہ بنا کر پیش کیا۔ انہوں نے یورپی یونین، برطانیہ، ایران، ترکی، سعودی عرب، افغا نستان اور دیگر ممالک میں پارلیمنٹیرینز، مذہبی رہنماؤں اور تھنک ٹینکس سے ملاقاتیں کیں، جبکہ او آئی سی اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر مسئلہ کشمیر کو مسلسل اجاگر کیا۔

یہ وہ دور تھا جب کشمیر کمیٹی واقعی بولتی تھی، سنتی تھی اور مؤثر انداز میں آواز اٹھاتی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب منصب نہیں، بلکہ کردار بولتا تھا۔

جماعتی قیادت اور اداروں کی اہمیت

یہ ایک حقیقت ہے کہ جن اداروں کی ذمہ داری جمعیت علمائے اسلام کی قیادت کے سپرد رہی، وہ ادارے عوامی سطح پر غیر معمولی توجہ اور اہمیت حاصل کرتے رہے۔ چاہے وہ کشمیر کمیٹی ہو، مذہبی امور کی وزارت ہو، یا دیگر منصب، مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں یہ ادارے محض فائلوں تک محدود نہیں رہے بلکہ قوم کے احساسات اور ترجیحات کی نمائندگی کرتے نظر آئے۔

یہی وجہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان سے پہلے بھی کشمیر کمیٹی موجود تھی اور آج بھی موجود ہے، مگر نہ پہلے عوام کو چیئرمین کا علم تھا اور نہ آج اکثریت جانتی ہے کہ اس کی قیادت کس کے پاس ہے۔

تحریک انصاف کا دور، کشمیر کمیٹی کی غیر فعالیت

2018 میں تحریک انصاف کی حکومت کے قیام کے بعد کشمیر کمیٹی بتدریج غیر فعال ہوتی چلی گئی۔ اجلاس محدود ہو گئے، کشمیری قیادت کو سننے کا عمل کمزور پڑ گیا، پارلیمنٹ میں رپورٹس پیش ہونا تقریباً ختم ہو گیا، اور عوامی سطح پر کشمیر کمیٹی کی آواز مدھم پڑ گئی۔ وہ سوال جو کبھی ہر دل میں گونجتا تھا، آہستہ آہستہ خاموش ہو گیا۔

یہ صورتِ حال اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ اداروں کی مؤثریت محض منصب سے نہیں، بلکہ قیادت کے کردار سے جڑی ہوتی ہے۔

بعد ازاں قیادت: فعالیت میں نمایاں کمی

مولانا فضل الرحمان کے بعد کشمیر کمیٹی کی قیادت شہریار خان آفریدی (2018–2021) اور بعد ازاں رانا تنویر حسین کے پاس آئی، تاہم اس دوران کمیٹی کی عملی سرگرمیوں اور عوامی اثر میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔

مسئلہ کشمیر، جو ایک وقت میں پارلیمانی اور سفارتی سطح پر مسلسل زیرِ بحث رہتا تھا، پس منظر میں چلا گیا۔

یہ تقابلی جائزہ واضح کرتا ہے کہ ادارے صرف عہدوں سے نہیں چلتے، بلکہ مؤثر قیادت اور واضح وژن کے محتاج ہوتے ہیں۔

کشمیر: محض جغرافیہ نہیں، ایک نظریاتی مسئلہ

مولانا فضل الرحمان نے مظفرآباد میں مسئلہ کشمیر پر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا: کہ "کشمیر کوئی ترنوالہ نہیں کہ آپ آسانی سے نگل سکیں۔ کشمیر ایک نظریاتی مسئلہ ہے، کشمیری قوم کا مسئلہ ہے۔"

یہی وہ نکتہ ہے جسے وقت گزرنے کے ساتھ پاکستان کی سیاسی ترجیحات میں پسِ پشت ڈال دیا گیا۔ کشمیر محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں، بلکہ تاریخ، نظریہ، شناخت اور قومیت کا سوال ہے۔

منصب نہیں، کردار بولتا ہے

مولانا فضل الرحمان نے کشمیر کمیٹی کو ایک ایسا فورم بنایا جو پارلیمانی، عوامی اور بین الاقوامی سطح پر کشمیریوں کی آواز بن کر سامنے آیا۔ بعد کے ادوار میں، چاہے قیادت کسی بھی حکومت کے پاس رہی، کشمیر کمیٹی آج بھی بڑی حد تک برائے نام فعال نظر آتی ہے۔ ادارے قوانین اور عہدوں سے نہیں، بلکہ کردار، جرات اور قیادت سے زندہ رہتے ہیں۔ جب کردار ہوتا ہے تو منصب بولتا ہے، اور جب کردار کمزور پڑ جائے تو منصب بھی خاموش ہو جاتا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے منصب کو کردار کے ذریعے زندہ رکھا،

کشمیری عوام کی آواز کو عالمی ضمیر سے جوڑا، اور مسئلہ کشمیر کو زندہ رکھا، پارلیمنٹ میں بھی، عوام میں بھی، اور عالمی سطح پر بھی۔ 


0/Post a Comment/Comments