قائد جمعیۃ علماء اسلام پاکستان حضرت مولانا فضل الرحمان صاحب کا جوہانسبرگ ساؤتھ افریقہ میں علماء سے خطاب
31 جنوری 2026
خطبہ مسنونہ کے بعد
اور یہاں پر آپ حضرات کی طرف سے جو محبت ملی اور ہماری حوصلہ افزائی ہوئی یقیناً یہ نہ بھولنے والا ایک ایسا معاملہ ہے کہ میں خود بھی اپنے آپ کو آپ کی ماحول میں موجود ہونے کو سعادت سمجھتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کی اس محبت کو قبول فرمائے۔
یہ بہرحال علماء کا اجتماع ہے اور جہاں جہاں پر امت مسلمہ موجود ہے وہاں وہاں پر اسلام کی خدمت کے لئے اللہ نے اپنے بندوں کو چُنا ہے۔ افریقہ ہو، یورپ ہو، عرب دنیا ہو، ایشیا ہو، جہاں جہاں ہم جاتے ہیں وہاں ادارے قائم ہیں، وہاں علماء موجود ہیں، وہاں دین کی خدمت کرنے والے لوگ موجود ہیں، یہی وہ چیز ہے کہ اللہ رب العزت نے فرمایا؛
إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ،
دین کو نازل بھی ہم نے کیا اور حفاظت بھی ہم ہی کرتے ہیں۔ کیونکہ دنیا میں جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ تحت الاسباب ہوتا ہے۔
تو علماء کی موجودگی، مدارس کی موجودگی، مساجد کی موجودگی، یہ در حقیقت وہ اسباب ہیں کہ جن اسباب کے تحت اللہ تعالیٰ اِس دین کی حفاظت کرتا ہے۔ تو یہ اللہ رب العزت کا ہم سب پر احسان ہے کہ ہمیں دین کی خدمت کرنے والوں سے نسبت عطاء کی، میں تو خود کو ایک طالب علم سمجھتا ہوں، علماء کا ایک خادم اپنے آپ کو سمجھتا ہوں، جو تعریف و توصیف آج کل سٹیجوں پر ہوتی ہے خود کو کبھی بھی اس کا نہ مستحق سمجھتا ہوں، نہ خود کو اس مقام پر سمجھتا ہوں لیکن آپ لوگوں کی محبت ہے اور وہ محبت ظاہر ہے کہ ایک دینی اور اسلامی رشتے کی بنیاد پر ہے۔
تو اللہ تعالی نے انسان کو تمام جانداروں کے مقابلے میں جہاں بہت سی خصوصیتوں کے ساتھ نوازا ہے وہاں دو خصوصیتیں امتیازی ہیں ایک خصوصیت عقل کی، کہ اللہ تعالی نے انسان کو جو عقل عطاء کیا ہے وہ کسی دوسرے مخلوق کو جاندار کو نہیں دیا اور دوسری چیز جو اللہ رب العزت نے انسان کو عطاء کی ہے وہ زبان کے اندر قوت گویائی ہے، اسپیکنگ پاؤر آف دی ٹنگ، سو ایک عقل اور ایک گویائی کی قوت کہ ایک سے انسان سمجھتا ہے اور دوسرے سے انسان دوسرے کو سمجھاتا ہے۔ ایک حصول علم کا ذریعہ ہے اور دوسرا، دوسروں کو دین کی تعلیم دینے کا ذریعہ ہے۔ اب جب عقل کے ذریعے سے علم حاصل ہوگا اور یہ نعمت ہمیں اللہ نے عطاء کی ہے تو ظاہر ہے کہ اللہ تعالی کا اولین منش وہ یہی ہوگا کہ اللہ کی بات کو ہم سمجھیں اور پھر وہ اللہ کی بات جب ہم سمجھ لے تو وہ دوسروں تک پہنچائے اور وہ وحی کو سمجھنا، وحی چاہے قرآن کی صورت میں ہو اور چاہے جنابِ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کی صورت میں ہو اور جب یہ سمجھ میں آجائے تو پھر یہ ضروری ہے کہ دوسروں تک پہنچائے،
يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ،
حضورﷺ کو اللہ تعالی حکم دیتے ہیں کہ جو چیز بھی میری طرف سے تیرے اوپر نازل ہوئی اسے پہنچاؤ، اب پیغمبر ﷺ کے لئے اتنا کافی کہ اللہ نے حکم دے دیا بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ، لیکن یہ اتنی عظیم امانت ہے، اتنی عظیم امانت ہے کہ اللہ تعالی اس امانت کی اہمیت، اس کی فرضیت اور اس کے وجوب کا احساس دلاتے ہیں اور پھر فرماتے ہیں اگر آپ نے میرے نازل کردہ دین کو لوگوں تک نہ پہنچایا، اس میں کوتاہی کی تو مقصد رسالت ہی فوت ہو جائے گا۔ اب رسول اللہ ﷺ کے اندر اس ذمہ داری کی فرضیت، اس کی اہمیت، اس کا وجوب پوری طرح رچ بس گیا۔ لیکن جب آپ دین کی بات کریں گے تو مشکلات آئیں گے، رکاوٹیں آئیں گے، طاقتور لوگ ان کی طرف سے آزمائشیں آئیں گے، جان کو خطرہ ہوگا اور اسی راستے میں کتنے انبیاء شہید ہوئے، سب سے زیادہ آزمائش انبیاء پر آئیں ہیں، انبیاء کے بارے میں فرمایا اشد بلاء، سب سے زیادہ آزمائش انبیاء پر آئیں ہیں۔ ثم الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ اب ظاہر ہے کہ جب علماء کرام انبیاء کے وارث ہوں اور جو انبیاء کا وظیفہ اور فریضہ تھا اس کو سر انجام دینے کے لئے میدان میں نکلیں گے تو ان کے لئے بھی آزمائشیں آئیں گی، جان کو خطرہ ہے، دشمن طاقتور ہے تو جب میری زندگی کو خطرہ ہوگا تو پھر ظاہر ہے کہ اللہ کے یہ دین لوگوں تک پہنچانے میں کمزوری کا احتمال بہت ہوگا، اس احتمال کو سامنے رکھتے ہوئے اللہ نے تسلی دی وَاللَّهُ يَعْصِمُكُ مِنَ الْنَّاسِ، آپ اس ذمہ داری کو پورا کریں جیسے میرا حکم ہے اس کے مطابق کریں، اور یہ کہ دشمن طاقتور ہے، حکمران طاقتور ہے اور وہ آزمائشیں اور ابتلاع میں تمہیں ڈال دے گا، تیری زندگی خطرہ میں پڑ جائے گی تو پھر بے فکر رہو وَاللَّهُ يَعْصِمُكُ مِنَ الْنَّاسِ، لوگوں سے اللہ تمہارے حفاظت کرے گا، اب حفاظت کی زمہ داری بھی اللہ نے اٹھا لی۔
لیکن ایک اور چیز سامنے آتی ہے کہ میں، یارب تیرے حکم کو بھی سمجھ رہا ہوں، اس کی فرضیت اور اہمیت کو بھی سمجھ رہا ہوں، یہ بھی مجھے معلوم ہو گیا کہ جتنے آزمائشیں آئیں میری حفاظت تو کرے گا، اب مجھے کوئی پرواہ نہیں، لیکن ساری خدمت کرتے زندگی بھر میں گزار لوں اور لوگ قبول نہ کریں تو، تو یہ بھی احساس ہے۔ اب یہ احساس اگر دل میں آگیا تو احتمال ہے کہ اللہ کے اس حکم کو اور اس فرض کو ادا کرنے میں کوتاہی ہو جائے۔ تو اللہ رب العزت نے دو مہربانیاں امت پہ کی ہے دو مہربانیاں، ایک تو یہ کہ جتنا کچھ کرنا ہے وہ استطاعت کے دائرے کے اندر کرنا ہے، جتنا تیرا بس چلتا ہے جتنی تیری قدرت ہے اس کے اندر کام کرنا اس کی ذمہ داری ہے، اس سے زیادہ نہیں؛
لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا
اور دوسرا یہ کہ اس محنت اور کوشش کے نتیجے میں اگر کوئی قبول نہیں کر رہا تو یہ تیری زمہ داری نہیں، تو فرمایا؛
يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ۚ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ، دلوں میں ڈالنا، یہ اللہ کہتا ہے میرا کام ہے، آپ محنت کرتے جائیں ایسے انبیاء آئے جن کو ایک امتی بھی نہیں ملا، ایسے انبیاء آئے جن کو صرف ایک امتی ملا، ایسے انبیاء بھی آئے جن کو دو تین ملے، چھوٹی سی جماعت ملی اور دعوت کا عرصہ ہزار سال تک ہے، نو سو سال تک ہے، قبول کرنے والے تھوڑے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ ذمہ داری آپ سے اٹھائی، آپ نے محنت کرنی ہے، حفاظت اللہ نے کرنی ہے، نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے،
إِنَّ قُلُوبَ بَنِي آدَمَ بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمٰنِ، يُقَلِّبُهَا كَيْفَ يَشَاءُ،
انسان کا دل اللہ کے دو انگلیوں کے بیچ میں ہے جدھر چاہے پلٹ دے اس کو، تو ہدایت کی طرف دل کو پلٹنا، زندگی کو تبدیل کرنا یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے، آپ نے دین پہنچانا ہے اور اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اس دین کو امانت کہا؛
إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَن يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنسَانُ،
یہ امانت ہے جو ہم نے آسمانوں کے سامنے پیش کی، زمین کے سامنے پیش کی، پہاڑوں کے سامنے پیش کی، انہوں نے انکار کر دیا کہ ہم نہیں اٹھا سکتے اور انسان نے اٹھا لیا اور بجائے اس کی کہ حَمَلَهَا الْإِنسَانُ اب بظاہر تو انسان کی تعریف ہونی چاہیے لیکن اللہ نے کہہ دیا اِنَّهُ کَانَ ظَلُومًا جَهُولًا انسان ظلوم بھی ہے اور انسان جہول بھی ہے، لیکن یہ الفاظ اگرچہ بظاہر تو غم کے ہیں لیکن حقیقتاً مدح ہے، ظلوم ہمیشہ اس کو کہا جاتا ہے جس کے اندر عدل کی استعداد ہو اور جہول ہمیشہ اس کو کہا جاتا ہے کہ جس کے اندر علم کا استعداد ہو چنانچہ آسمانوں میں یہ چیز اللہ نے رکھی نہیں ہے کہ اس نے عالم بننا ہے تو کبھی کسی نے آسمان کو نہیں کہا پہاڑ کو نہیں کہا کہ اوئے بڑے جاہل ہو تم تو، اوئے بڑے ظالم ہو تم تو، اس لیے کہ اس کے اندر تو استعداد ہی نہیں، وہ کیسے اٹھائے گا یہ بات، اور انسان کے اندر اللہ تعالی نے یہ استعداد رکھ دی کہ وہ اپنے اندر عدل کی صفت بھی پیدا کر سکتا ہے اور اپنے اندر علم کی صفت بھی پیدا کر سکتا ہے لیکن چونکہ ابھی تک انسان کے اندر کچھ ہے نہیں، ظرف خالی ہے تو جب ظرف خالی ہوگا تو ظرف اپنے نام سے پکارا جاتا ہے لیکن جب ظرف میں مضروف آ جاتا ہے تو پھر مضروف کے نام سے بکارا جاتا ہے۔ گلاس ہے، خالی گلاس ہے تو ہم کہیں گے یہ گلاس لے او، یہ گلاس لیجئے، لیکن اگر آپ نے اس میں پانی ڈال دیا تو پھر گلاس نہیں کہیں گے یہ پانی لیجئے، یہ شربت لیجئے، یہ جوس لیجئے، پیالہ ہے، خالی ہے تو پیالہ ہے، لیکن آپ نے اس میں چائے بھر دی تو آپ کہتے ہیں چائے لیجئے، سبز چائے لیجئے، کالی چائے لیجئے۔ تو پھر مضروف کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ظلوم و جہول کہہ دیا تو یہ خالی ظرف ہے تو ظرف کے نام سے پکارا جاتا ہے لیکن اس میں مضروف ڈالنے کی صلاحیت موجود ہے اور وہ مضروف عدل بھی ہے اور علم بھی۔
اب علم ایک تو عام علم ہے جو ساری انسانیت کو حاصل ہوتا ہے، ضروری نہیں کہ وہ ذریعہ ہدایت بنے، ضروری نہیں کہ وہ ذریعہ عبادت بنے اور وہ ہے وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا، ساری کائنات کی چیزوں کا علم اللہ نے انسان کو عطاء کی اور اسماء سے مراد چیزوں کا نام لیکن محض نام اس کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہے اس نام سے مراد اس نام کے اندر تمام جو اس کے معانی ہیں جو اس کے لوازمات ہیں ان سب کے چیزیں ساتھ آپ کو بتا دیا یہ لوہا ہے، لوہا کس کام آتا ہے، یہ بجلی کی تار ہے، یہ تار کس کام آتا ہے، اگر یہ ننگی ہو تو ہاتھ مت لگانا ورنہ یہ نقصان کرتا ہے، اس کے فائدے کے حدود کا تعین کرنا، اس کے نقصان کے حدود کا تعین کرنا، فائدے کے حصول کے طریقے بتانا، نقصانات سے بچنے کے طریقے بتانا، یہ ساری چیزیں وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ لیکن جب آدم کو ساری چیزیں بتا دی تو اس کا معنی یہ ہے کہ بنی آدم کے اندر اللہ نے سب چیزوں کا علم حاصل کرنے کے صلاحیت اور اس کی استعداد رکھ دیا اور ہر انسان دنیا میں، اج سائنس ہے، نئی ایجادات ہیں، تخلیقات ہیں، دنیا آگے بڑھ رہی ہے اور یہ جو آج ڈیجیٹل دنیا آگئی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ انسان کہاں تک پہنچ چکا ہے، سیٹیلائٹ کیا ہے، آسمانوں تک اور ستاروں تک پہنچنا، یہ ساری چیزیں انسان نے حاصل کرلی ہے لیکن یہ علم ہے اور جو مسلمانوں کے لئے مؤمنین کے لئے خصوصی علم ہے امتیازی علم ہے وہ ہے الْرَحْمَنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنِ وہ قرآن ہے جو
کامیابیوں کا اور اخروی کامیابیوں کا اور نجات کا ذریعہ بنتا ہے۔
تو پورے دنیا میں آپ جتنے علوم حاصل کرتے ہیں اس علوم کا تعین قرآن کرتا ہے اس میں حلال کیا ہے، اس میں حرام کیا ہے، اس کو کرنا جائز ہے، اس کو کرنا جائز نہیں ہے۔ سب چیزیں جو ہیں اللہ تعالیٰ اس قرآن کے ذریعے ہمیں احکامات دیتے ہیں تو ایک علم ہے اور ایک اس علم کی سمت کا تعین ہے، علم عام ہے ساری انسانیت علم حاصل کر رہی ہے، لیکن اس کے ہدایت اور آخروی نجات کیلئے سمت کا تعین قرآن کریم کا ہے اور اس کے سب سے پہلے شارع وہ جناب رسول اللہ ﷺ ہے۔
تو اس نعمت سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نوازا ہے۔ یہ وہ نعمت ہے جس کے ذریعے ہمارے مدارس قائم ہے، جس میں مدارس کے اندر محنت ہو رہی ہے لوگوں کو اس طرف متوجہ کیا جا رہا ہے تاکہ وہ دنیا اپنے رہنے کے طریقے بھی سمجھے اور آخرت کی کامیابی کا راز بھی سمجھے۔
تو ہر جگہ اللہ تعالیٰ نے اپنی دین کے حاکمیت اپنے اپنے طریقوں سے کر لیا، حنفی لوگ ہیں تو وہ اپنے طریقوں سے کرتے ہیں اور حنفیت بھی ایک طریقے سے نہیں ہے افریقہ کا جو حنفی ہوگا وہ اور طریقے سے فقہ حنفی کو سمجھے گا، ایشیا والا ہوگا تو اور طریقے سے، کہیں پر امام شافی کی فقہ جو ہے وہ کام آ رہی ہے وہ بہتر ہے کہیں پر امام مالک کی فقہ، کہیں پر امام احمد حنبل کی فقہ اور پھر مجتہدین ہیں فقہاء ہیں ان کے علوم جہاں جہاں پہنچے ہیں۔
تو ہمیں اللہ نے اس کا وارث بنا دیا ہے العلماء ورثۃ الانبیاء، انبیاء آپ کے لیے سمت کا تعین کیا کہ کس رخ پہ آپ نے جانا ہے، اس کو استعمال کیسے کرنا ہے۔
تو یہ ساری چیزیں اللہ طرف سے ہمیں عطاء کی گئی ہیں اور اسی کو سامنے رکھتے ہوئے ہم نے دین کو آگے پہنچانا ہے، تو عام آدمی تک پہنچنا اس کے لئے بھی ہمارے اکابر کی محنت ہے، خواص تک علم کو پہنچانا، نئی نسلوں تک منتقل کرنا، قیامت تک یہ سلسلہ چلنا اور اس کے انتظام کرنا یہ ہمارے اکابر علمائے کرام کی محنت ہے اور اس محنت کے نتیجے میں اللہ نے ہمیں اور آپ کو اس سلسلے پر پہنچایا اور یہی وہ بھائی چارہ ہے جس کے تحت ہم اکھٹے بیٹھے ہیں اور ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، ہر ایک انسان دوسرے کی درد کو محسوس کرتے ہیں اور اگر ہم درد کو محسوس نہیں کرتے تو اس کا معنی یہ ہے کہ ایمان کا رشتہ کمزور ہے اگر ایمانی رشتہ کمزور ہو جاتا ہے، تو ان رشتوں کو ہمیں مظبوط کرنا ہے اور اس سلسلے میں ہمارے اگابر نے جو محنتیں کی ہیں چاہے وہ شریعت کے میدان میں کی ہیں، اور وہ طریقت کے میدان میں کی ہیں، چاہے وہ سیاست کے میدان میں کی ہیں یہ سب آپ کی اور ہماری رہنمائی کے لیے ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس کو سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائے اور ان تعلیمات کے مطابق اللہ تعالیٰ ہمیں زندگی گزارنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ میں آپ کا بے حد شکر گزار ہوں آپ نے بہت میری عزت افزائی کی ہے اور یہاں پر آکر آپ نے جو محبت دی ہے تو نہیں محسوس ہوتا کہ میں کسی اور ملک میں ہوں، اتنا مانوس ماحول آپ نے عطاء کیا ہے، اللہ آپ کو اس کا اجر عطاء فرمائے ۔
وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض
ممبرز ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
#teamJUIswat

.jpeg)
ایک تبصرہ شائع کریں