قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا فرخ کھوکھر کی رہائش گاہ پر یوتھ کنونشن اور شمولیتی تقریب سے خطاب
08 فروری 2026
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ۔ صدق اللہ العظیم
گرامی قدر جناب فرخ کھوکھر صاحب، سٹیج پر موجود معزز علماء کرام، معززین، آج کا یہ اجتماع خصوصیت کا حامل اجتماع ہے، فرخ کھوکھر صاحب تو باقاعدہ اپنے ڈیرے پر ایک بڑے اجتماع میں شمولیت کا اعلان کر چکے ہیں اور اس میں بھی میں حاضر ہوا تھا۔ آج ان کے دوست، ان کے رفقاء مختلف اطراف سے ان کے ڈیرے پہ جمع ہیں، اور اجتماعی طور پر اس کنونشن میں وہ جمعیت علماء اسلام میں شمولیت کا اعلان کر رہے ہیں میں اپنی طرف سے اور پوری جماعت کی طرف سے دل کی گہرائیوں سے سب کو خوش آمدید کہتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ آپ کا یہ فیصلہ قافلہ حریت کے عزم کو اور بھی تقویت دے اور آپ کی رفاقت کے ساتھ یہ قافلہ اپنی منزل کو پہنچے۔ تاکہ پاکستان کو ہم اسلام کا قلعہ بناسکے اور امن و آشتی کا گہوارہ بنا سکے۔
میرے محترم دوستو! آج آٹھ فروری ہے اور دو سال پہلے اسی دن ملک میں الیکشن ہوئے اور اس کا جو نتیجہ سامنے ایا ملک بھر میں اس نتیجے کو مسترد کر دیا گیا، اس نتیجے کو جعلی قرار دیا گیا گیا اور آج جو ملک پر حکومت کر رہے ہیں ایک جعلی مینڈیٹ کے ساتھ ملک پر حکومت کر رہے ہیں۔ تو ظاہر ہے کہ جمیعت علماء اسلام ایسی حکومت میں شامل نہیں ہو سکتی اور ہم نے اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا اور اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
میرے محترم دوستو! اگر ہمارا تعلق جمیعت علماء اسلام کے ساتھ ہے تو یہ جماعت محض اقتدار کی جنگ نہیں لڑ رہی، یہ جماعت کسی دنیاوی مفادات کی جنگ نہیں لڑ رہی، اقتدار میں آنا منزل مقصود نہیں ہے کیوں کہ ہمارے ہاں ایک تاثر ہے آپ حکومت میں پہنچ گئے تو جیسے آپ نے منزل پالی۔ جمہوری اور پارلیمانی سیاست میں حکومت میں پہنچ جانا بھی آپ کے سفر کا حصہ ہوتا ہے، منزل پر پہنچنے کا نام نہیں ہوتا۔ حکومت تو آج بھی ہے، بنائی نہیں گئی، کچھ جماعتوں کو آپس میں چپکایا گیا ہے اور کئی جماعتوں پر جو متضاد خیالات کے بھی ہیں ایک دوسرے کے ساتھ چپکے ہوئے اس کو حکومت کا نام دے دیا ہے۔ اس طرح کی حکومتیں تشکیل دینا یہ جمہوریت کا مذاق ہے، سیاست کا مذاق ہے، اکثریت حاصل کر لینا یہ کوئی عیب کی بات نہیں، آپ عوام کے ووٹ سے اکثریت حاصل کریں، ہم خوشی سے آپ کی حکومت کو قبول کریں گے کیوں کہ وہ قوم کا فیصلہ ہوگا اور قوم کو یہ اختیار پاکستان کے آئین نے دیا ہے، قوم کو یہ اختیار قانون نے دیا ہے۔ تو ہماری جنگ نہ ائین کے ساتھ ہے، نہ قانون کے ساتھ ہے ہم تو آئین اور قانون کے رکھوالے ہیں، اگر قوم اپنے اس حق کو استعمال کرتے ہوئے کسی بھی پارٹی کو مینڈیٹ دیتی ہے تو ہمیں قبول کرنے میں کوئی جھجھک نہیں، لیکن ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، ہمارے مشاہدات ہیں کہ کس طرح نتائج تبدیل کیے گئے، کس طرح جھرلو پھیرا گیا، کس طرح انتخابات کے ساتھ مذاق کیا گیا، اور الیکشن کمیشن سمجھتا ہے کہ نتائج تو ہم تیار کرتے ہیں، میں چیلنج کرتا ہوں الیکشن کمیشن کو پورے پاکستان کے ایک حلقے کا نتیجہ بھی معلوم نہیں تھا، نتیجے باہر سے اتے تھے الیکشن کمیشن کے دفتر سے جاری ہوتے تھے۔ ایسا کٹھ پتلی کمیشن شاید دنیا میں کہیں اس کی مثال نہیں ملتی۔
تو آج کا دن، اس حوالے سے اس کا تذکرہ کرنا ضروری تھا تاکہ یہ بات آج کے دن کے نسبت سے ریکارڈ پر رہے کہ جمعیت علماء اسلام آٹھ فروری دو ہزار چوبیس کے انتخابات کو تسلیم نہیں کرتی، ہم نے اس دن بھی مسترد کیا تھا، ہم آج بھی مسترد کرتے ہیں۔
اور پھر میرے محترم دوستو! آئیے اس کی کارکردگی کو بھی دیکھ لیتے ہیں، جمعیت علماء اسلام محض الزام تراشیوں کی سیاست نہیں کیا کرتی، حقائق پر مبنی اختلاف رائے کرتی ہے، ہماری روش میں انتہا پسندی نہیں ہے، ہماری روش میں اعتدال ہے اور دلیل ہے اور اس بنیاد پر ہم قوم کی رہنمائی بھی کر رہے ہیں اور قوم کی نمائندگی بھی کر رہے ہیں۔
میرے محترم دوستو! ساری دنیا کے سامنے ہے کہ فلسطین پہ کیا گزری، غزہ کے مسلمانوں پہ کیا گزری، وہ سرزمین کس کرب سے گزری، آج تک تین سال ہو گئے ان پر اسمان سے آگ کی بارش ہو رہی ہے اور وہ قوم آگ کی اس بارش میں بھسم ہو گئے، شہر کے شہر مٹ چکے ہیں، ستر ہزار سے زیادہ ہمارے مسلمان بھائی شہید ہو چکے ہیں، جو لڑنے والے لوگ نہیں تھے، عام پرامن شہری تھے، بیماریوں کی وجہ سے، بھوک کی وجہ سے ایک لاکھ سے زیادہ لوگ اپنی زندگیاں ہار چکے ہیں، ڈیڑھ لاکھ تک لوگ بے گھر ہیں اور جب سب کچھ ہو گیا اس قدر ایک وحشیانہ صہیونی روش جس کے پشت پر امریکہ ہے، جنگ کی ساری مدد اس نے کی، اس پورے ظلم کے پیچھے امریکہ کے بمبار طیارے، اس کے بم، اس کا بارود، اس کا ڈالر کار فرما ہے جسے دنیا نسل کشی کہتی ہے، اور ہمارا وزیراعظم کہتا ہے کہ ٹرمپ کو امن کا عالمی نوبل انعام ملنا چاہیے۔
بریں عقل و دانش بباید گریست، ایسی عقلمندی پر رونا آتا ہے، جو عقلمندی ہمارے حکمرانوں کو نصیب ہوئی ہے۔خوشامد کی بھی کوئی حد ہوتی ہے، نوکری کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ اگر ہم نے اس روش کو بھانپ کر عمران خان سے اختلاف کیا تھا اور آج آپ اس سے دو قدم آگے جا رہے ہیں، تو اس سے کوئی ہماری ذاتی دشمنی تھی؟ تو اگر آپ دو قدم آگے جائیں گے تو ہم ان سے بھی دو قدم آگے بڑھ کر آپ کا مقابلہ کریں گے۔
میرے محترم دوستو! آج وہی ٹرمپ امن کا فارمولا لے کر ائے ہیں، غزہ کو امن دینے کا اور ہم اس پر اعتبار کر رہے ہیں۔ یورپی ممالک اس کے بورڈ آف پیس کا حصہ نہیں بن رہے اور ہمارے اسلامی دنیا ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر اس کا حصہ بن رہی ہے۔ تو پارلیمنٹ میں، میں نے کہا کہ
میر کیا سادہ ہے بیمار ہوا جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتا ہے
جن کو ہم فلسطینیوں کا قاتل سمجھتے ہیں، جن کے ہاتھوں سے فلسطینیوں کا خون ٹپک رہا ہے، اس کو ہم فلسطین کا علاج ان سے مانگے اور پھر اس امن بورڈ کے اندر نیتن یاہو بھی شامل ہے۔ اب جب انسانیت کا قاتل، مسلمانوں کا قاتل، ایک وحشی وہ بھی اس امن بورڈ کا حصہ ہو، تو شرم آنی چاہیے مسلمان حکمرانوں کو، کہ اس کے ہوتے ہوئے وہاں بیٹھ رہے ہیں۔ ایک عقل مند نے کہا ہر شخص اپنی جگہ پر بیٹھ کر افلاطون بنتا ہے، کیا اقوام متحدہ میں بھی تو ہم اور وہ اکٹھے بیٹھتے ہیں، اگر یہ دلیل ہے تو پھر یہ کہو نا کہ قومی اسمبلی میں بھی تو ہم اور آپ اکٹھے بیٹھتے ہیں اور یہ ریکارڈ پر ہے کہ جب اقوام متحدہ میں نیتن یاہو تقریر کے لیے کھڑا ہوا اور ڈائس پر آیا تو پوری اسلامی دنیا نے بائیکاٹ کیا باہر چلے گئے اور اس کی تقریر سننے سے انکار کر دیا۔ اگر اقوام متحدہ کے فورم پر آپ اس کی تقریر سننے کے لیے تیار نہیں ہے، حتیٰ کہ غیر مسلم دنیا نے بھی بائیکاٹ کیا اور ان کی تقریر نہیں سنی، آج امن بورڈ آف پیس میں آپ اس کو حصہ دار تسلیم کر رہے ہیں۔ اور میاں شہباز شریف صاحب کاغذ پہ دستخط کرتے ہیں اور پھر دنیا کو بھی دکھاتے ہیں کہ میں نے بڑا خوبصورت کام کیا ہے۔ حق یہ تھا کہ آپ چھپ کر یہ چوری کر لیتے، اتنا بڑا جرم پبلک کے سامنے تو نہ کرتے اور پھر آپ یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ چائنہ ہمارا دوست، ستر سال تک ہم ایک لفظ دہراتے رہے کہ چین کی اور ہماری دوستی ہمالیہ سے بلند، بحر الکاہل سے گہری، لوہے سے مضبوط، شہد سے میٹھی اور کیا کیا کچھ ہم کہتے رہے اور اس نے ہم پہ اعتماد کیا، عالمی تجارتی شاہراہ کے لیے اس نے پاکستان کی سرزمین کو چنا، یہاں اس نے پیسہ انویسٹ کیا، ان کو بھی شکایت تھی اور ہمیں بھی تھی کہ عمران خان کے حکومت میں سی پیک منصوبہ روک دیا گیا، میگا پروجیکٹس روک دیے گئے، آج ذرا ان سے بھی تو پوچھ لے نا، ہمارے کنٹینروں پر اکر تقریریں کرنے والے، ذرا ان سے بھی تو ہم پوچھ لیں آپ کے اس دور میں کوئی ایک اینٹ آگے لگی؟ تو پھر کیا فرق ہوا؟ اور پھر یہ کہ چائنہ کی امید تھی کہ ہی ڈی ایم کے لوگ آئیں گے تو پاکستان میں ہمارے سرمایہ کاری کا راستہ کھل جائے گا لیکن روش آج بھی وہی ہے پہلے سے تبدیل نہیں ہوئی۔ تو اب تو وہ پورے پاکستان سے مایوس ہوگئے نا، اور ہمارے حکمرانوں کی خارجہ پالیسی، کامیاب خارجہ پالیسی، مقبول ترین خارجہ پالیسی کہ انڈیا سے بھی جنگ، افغانستان سے بھی جنگ، چین بھی ناراض، ایران بھی ناراض اور اس ماحول میں وہ سمجھتے ہیں ہم پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں، بیڑا غرق کر دیا تم نے پاکستان کا، پاکستانی پوچھنا چاہتا ہے، اپنے ملک کے پالیسی ساز لوگوں سے ہر شہری پوچھنا چاہتا ہے کہ ظاہر شاہ سے لے کر آج کے امارت اسلامیہ تک کیوں پاکستان کے ساتھ نہیں چل سکتے، مختلف لوگ ائے، کمیونسٹوں کی حکومت ائی، جہادیوں کی حکومت ائی، طالبان کی حکومت ائی، جو پرو پاکستانی کہلاتے تھے، کبھی دوسرے پر تنقید کرنے سے پہلے یہ بھی سوچا ہے کہ اٹھہتر سال سے میری افغان پالیسی کیوں ناکام رہی، پاکستان میں دہشت گرد ا رہے ہیں وہاں سے، بھئی آرہے ہیں تو روکو نا، آرہے ہیں تو مارو نا، انہوں نے تو آپ سے کوئی احتجاج نہیں کیا، عجیب بات یہ ہے کہ افغانستان کا ایک انار پاکستان کی طرف نہیں آسکتا، ایک سردہ پاکستان کی طرف نہیں آسکتا، افغانستان کا ایک گرمہ پاکستان کی طرف نہیں آسکتا، اور دہشت گرد آرہے ہیں۔
تو ذرا سوچنا پڑے گا کہ چار دہائیوں سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہمارے مغربی سرحدات پر خیبر پختونخوا سے لے کر بلوچستان تک خون بہہ رہا ہے، کیوں نہیں رکھ رہا؟ پالیسی کون بنا رہا ہے، ایک جنرل آتا ہے کہتے ہیں مذاکرات کرتے ہیں، دوسرا آتا ہے کہتا ہے لڑنا ہے، ارے بابا پالیسی ملک کی ہوتی ہے ایک طرح کی چلتی ہے۔ تو کل کوئی اور جنرل آئے گا تو اس کے بعد پھر پالیسی اور ہو جائے گی۔ تو حکومت تو ہے ہی نہیں، پھر فیصلے جرنیل نے ہی کرنے ہوں گے، تو افغان پالیسی کدھر ہے؟ امن پالیسی کدھر ہے؟ عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے اور جن علاقوں سے میرا تعلق ہے، وہ علاقے وہاں کے لوگ وہاں ایسا محسوس کر رہے ہیں جیسے یہاں پاکستان نہ ہو۔ اب اس کے اثرات ہمارے اسلام آباد راولپنڈی تک بھی پہنچ گئے، یہاں بھی مسجد کے اندر نمازیوں کو تڑپایا گیا، تو اس کا معنی یہ ہے کہ بس کوئی حکومت نہیں ہے، کوئی رٹ ان کی نہیں ہے، بڑی بڑی باتیں تو کرسکتا ہے آدمی، بیان بہت اچھے دے سکتا ہے آدمی، ہمارے لوگوں جیسے بولنے والے، بیانیہ تیار کرنے والے، ایسا بیانیہ تیار کرتے ہیں جیسے کہ پوری دنیا کا مظلوم بھی یہی ہے اور پوری دنیا کے عقلمند بھی یہی ہے۔
کب تک آپ لوگوں کو بہلاتے رہو گے خوبصورت الفاظ کے ساتھ اور خوبصورت جملوں کے ساتھ، تم سے اچھے جملے ہمیں بولنے آتے ہیں، تم سے جرآت کے الفاظ ہمارے پاس ہیں، آپ جرات دکھائیں تو سہی، ہندوستان کے مقابلے میں آپ نے جرات دکھائی، ہم آپ کے ساتھ کھڑے تھے ے۔ لیکن ملک کی داخلہ پالیسی، امن و امان کے حوالے سے کون اعتماد کرے گا ہمارے پر اور کون ہمارے ساتھ تجارت کرے گا؟ آپ کے اپنے ملک کے لوگ باہر جا رہے ہیں، پاکستانی کی محنت بھی اور پاکستانی کا روپیہ بھی باہر انویسٹ ہو رہا ہے۔ پاکستان میں کاروبار ختم ہو رہے ہیں۔
یہ جعلی قسم کی باتیں کہ بین الاقوامی دنیا میں اب ہمارے اقتصاد کی اشارات، کچھ اشارات، پندرہ بیس سال سے ہم اشارات پر گزارا کر رہے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نیچے جا رہے ہیں۔ انڈیا کی معیشت ٹھیک، چائنہ کی معیشت ٹھیک، افغانستان کی معیشت ٹھیک ہے اور اس خطے میں اگر نیچے جا رہا ہے تو صرف پاکستان جا رہا ہے۔ تو کس کو الزام دے؟
تو اس اعتبار سے نہ ہمارا اقتصاد بہتر ہے، نہ ہمارا امن و امان بہتر ہے، ملکی سلامتی داؤ پہ لگی ہوئی ہے اور پارلیمنٹ میں اگر قانون سازی ہوتی ہے تو اس قانون سازی میں بھی طاقتور قوتیں اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے قانون سازی کراتے ہیں، اپنی اتھارٹی کو مظبوط کرنے کی جنگ لڑ رہے ہیں، کوئی پارٹی اس وقت نظریات کی جنگ نہیں لڑ رہی اور اسٹیبلشمنٹ اپنی اتھارٹی کو مضبوط کرنے کی جنگ میں کامیاب ہوتی جا رہی ہے۔
چھبیسویں آئینی ترمیم ہوئی، دو تہائی اکثریت ان کے پاس نہیں تھی، جمیعت علماء اسلام کے ووٹوں سے دو تہائی اکثریت بن رہی تھی، ہم نے ایک مہینہ ایک ہفتہ مذاکرات کیں اور ان مذاکرات کے نتیجے میں حکومت نے جو ڈرافٹ بنایا ہوا تھا، ڈرافٹ ان کا بنایا ہوا تھا ہمارا نہیں تھا، ہم نے چونتیس شقوں سے ان کو دستبردار کرایا اور بائیس شقوں پہ لے ایا اور پھر ہم نے پانچ ترامیم شامل کی، ایک ترمیم یہ کہ یکم دو ہزار اٹھائیس سے ملک کے اندر سود کا خاتمہ کر دیا جائے گا، کیا حکومت بتا سکتی ہے کہ یکم جنوری دو ہزار اٹھائیس تک سود کے خاتمے کے لیے بینکوں میں یا اداروں میں اس پر کوئی کام ہوا ہے، کوئی پیش رفت کی ہے گورنمنٹ نے، اسلامی نظریاتی کونسل کے سفارشات، سن 1973 میں ائین بنا ،1973 میں اسلامی نظریاتی کونسل بنی، آج تک کسی ایک سفارش پر قانون سازی نہیں ہوئی، قانون سازی دور کی بات کسی ایک سفارش پر ایوان میں بحث نہیں ہوئی۔ ہم نے آئینی ترمیم دی کہ حتمی طور پر ان سفارشات کو ایوان میں زیر بحث لایا جائے، طے ہوگیا، ایک سال ہو گیا ہے ایک سفارش ابھی تک وہ ایوان میں نہیں لائے کہ اس کے اوپر بحث کی جاسکے۔ ان نیتوں کے ساتھ آپ مذاکرات کرتے ہیں، ان نیتوں کے ساتھ آپ ائین میں ترامیم کرتے ہیں، تو کون کل آپ پر اعتماد کرے گا، سیاست جچی تلی ہونی چاہیے، سیاسی عمل میں سنجیدگی ہونی چاہیے، جو طے ہو گیا وہ حتمی ہے اور اس کے بعد اس پر عمل درآمد، لیکن جو طے ہوا وہ بھی آپ نے دیکھا کہ حتمی نہیں ہے اور پھر ستائیس ویں ترمیم آگئی، ایک سال کا عرصہ بیچ میں گزرا ہے وہ بھی مکمل نہیں، اس ایک سال میں ایک سال پہلے تمہاری دو تہائی اکثریت جمیعت کے بغیر پوری نہیں ہو رہی تھی ایک سال کے اندر اندر آپ کی اکثریت دو تہائی وہ پوری ہو گئی یہ ایک سال کے اندر کہاں سے فرشتے آ گئے، کوئی نیا الیکشن ہو گیا، کہاں سے آپ کی اکثریت بن گئی، اس کا معنی یہ ہے کہ تم نے ممبران کے ہاتھ مروڑے ہیں، ان کے گردنیں مروڑی ہیں، یہ تو جعلی اکثریت بھی نہیں ہے یہ تو جبری ہے۔ اس طریقے سے ترامیم ہوتی ہے؟ اور صدر مملکت تاحیات اس کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا جاسکے گا۔ اب آصف زرداری ہمارا دوست ہے، کولیگ ہے، قسمت سے صدر مملکت ہے اج کل، تو آپ لوگوں نے ان کو آٹھ سال، دس سال، پندرہ سال کس جرم کی پاداش میں ان کو جیلوں میں رکھا تھا کہ اب وہ تاحیات مستثنیٰ ہوگا اور پھر وہ جو کچھ کرے آپ اس کے خلاف مقدمہ دائر نہیں کر سکتے۔ آپ بھی اس پر صدر بن سکتے ہیں آپ کو بھی مبارک ہو تاحیات آپ کو کچھ نہیں ہوگا۔
جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ تو اپنے آپ کو مستثنیٰ نہیں کر رہے، صحابہ کرام کی جماعت کے سامنے خود کو پیش کرتے ہیں کہ اگر مجھ پر کسی کا حق ہے تو وہ مجھ سے حق کے سکتا ہے، اب کون ہے جو کہے کہ میرا اپ کے اوپر حق ہے، ایک صحابی کھڑا ہوگیا کہ جی میرا اپ کے اوپر حق ہے، کہتے ہیں کیا حق ہے آپ ؟ آپ نے مجھے چھڑی ماری تھی، میں بھی چھڑی کا بدلہ لوں گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا اؤ؛ چھڑی کا بدلہ لو، اب اس صحابی کی نیت میں کچھ اور تھا، کہنے لگا میری پیٹھ تو ننگی تھی، آپ بھی اپنی پیٹھ ننگی کریں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیٹھ ننگی کر دی اور جو ہی ان کی پشت مبارک ان کو نظر ائی جا کر لپکا اور لپٹ گیا اس کے ساتھ اور چومتا رہا، چومتا رہا، کہتے ہیں حضرت میں نے اسی لیے یہ سارا قصہ بنایا تھا میں آپ سے کیسے بدلہ لے سکتا ہوں۔ آپ کی تو چھڑی بھی میرے لیے سعادت ہے۔
تو رسول اللہ تو اپنے آپ کو مستثنیٰ نہیں قرار دے رہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کہ جس کے رعب اور دبدبے سے جس راستے سے وہ گزرتا ہے شیطان نہیں گزرتا وہاں سے اور وہ بڑے اجتماع میں صحابہ کرام سے خود فرماتے ہیں کہ اگر عمر کج روی اختیار کر لے تو تم کیا کرو گے، اب کون ان کے سامنے کھڑا ہو کہ ہم کیا کریں، ایک صحابی پیچھے کھڑا تھا، کھڑا ہو گیا، تلوار کھینچی اور کہا اگر ہم نے آپ کے اندر کوئی کج روی دیکھی تلوار سے سیدھا کر دیں گے اسے، اب لوگ سوچ رہے تھے کہ پتہ نہیں عمر کیا رد عمل دے گا، اتنی بڑی بات اس نے کہہ دی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے جواب دیا؛ اس اللہ کی تعریف کہ جس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں ایسے لوگ بھی پیدا کیے ہیں کہ جو عمر کے کج روی کو تلوار سے سیدھا کرسکتے ہیں۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ خلیفہ بننے کے بعد فرماتے ہیں کہ میں تم میں سے کوئی بہتر آدمی نہیں ہوں، تم سے کوئی بڑا آدمی نہیں ہوں، لیکن مجھے خلیفہ بنایا گیا ہے اب اگر میں صحیح کام کروں تو میری پیروی کرو اور اگر میں غلط کام کرو، مجھے سیدھا کرو۔ ہمارے حکمران ان سے بھی بہت مقدس آگئے، چودہ سو سال کے بعد اب یہ ہم پر منکشف ہوا کہ ہمارے ملک کا حکمران اور طاقتور وہ قانون سے مستثنیٰ ہوگا۔ یہ آٹھ فروری دو ہزار چوبیس کے الیکشن کے نتیجے ہیں یہ اس الیکشن کے نتیجے ہیں۔ جو اپ دیکھ رہے ہیں۔ صرف یہ نہیں کہ حکمرانی ہو رہی ہے اس حکمرانی کے نتیجے میں یہ سب کچھ سامنے ا رہا ہے آپ کے، خارجہ پالیسی ناکام، اقتصادی پالیسی ناکام، تجارتی پالیسی ناکام، قانون سازی میں بددیانتی، قانون سازی میں جھوٹ، اس قسم کی چیزیں آپ ہم پر مسلط کریں گے اور پھر ہم سے توقع رکھیں گے کہ ہم آپ کا تعاون کریں، تعاون کریں گے اچھے کاموں میں، برے کاموں میں ہم آپ کا ساتھ نہیں دے سکتے، ناجائز سفر میں ہم آپ کے ساتھ نہیں ہے۔
تو یہ وہ ساری صورتحال ہے اس وقت، کہ کچھ مختصر نقشہ میں نے اس کا آپ کے سامنے رکھا ہے اور ان شاءاللہ یہ سفر آپ کا اور ہمارا جاری رہے گا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اللہ نے جمیعت علماء اسلام کو بڑے مخلص ساتھی، کارکن نصیب ہیں، اللہ تعالی کا شکر ہے کہ ہمارے کارکن وہ نظریاتی بھی ہیں اور سنجیدہ بھی ہیں۔ یہ گالم گلوچ والے لوگ نہیں ہیں، اور الحمدللہ کہ اللہ تعالی نے جمعیت علماء اسلام کو جو کارکن نصیب کیے ہیں وہ بہادر ہے، ڈرپوک نہیں ہے۔
تو ڈٹ کر حالات کا مقابلہ کرنا ہے، آگے بڑھنا ہے، یہ پاکستان کسی کی جاگیر نہیں ہے، یہ ہمارا ملک ہے اور یہ ہمارا ملک بن کر رہے گا۔ یہ اللہ کے نام پر بنا ہے، اسلام کے نعرے پہ بنا ہے، لا الہ الا اللہ کے نعرے پر قوم نے قربانی دی ہے اور ان شاءاللہ اس نظام کو اس ملک میں برپا کرنے کے لیے اپنا سفر جاری رکھیں گے، اکابر کا بتایا ہوا راستہ نہیں چھوڑیں گے، اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص، توفیق اور استقامت نصیب فرمائے۔
وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
ضبط تحریر: #سہیل_سہراب
ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
#teamJUIswat

.jpeg)
ایک تبصرہ شائع کریں