مولانا فضل الرحمان صاحب کا سیکٹر فور ائیرپورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی میں خطاب

قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمان صاحب کا سیکٹر فور ائیرپورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی میں خطاب

10 فروری 2026 

نحمدہ و نصلی علی رسوله الکریم اما بعد 

امیر جمعیت علماء اسلام کشمیر جناب مولانا سعید یوسف خان صاحب، ان کی مجلس عاملہ کے تمام معزز اراکین، اس اجتماع میں موجود جموں و کشمیر جمعیت علماء کے تمام ذمہ داران، میرے بزرگ، میرے بھائی! میں سب سے پہلے جمعیت علماء اسلام جموں و کشمیر کی رکن سازی اور تنظیم سازی کے مراحل کی تکمیل پر اور مرکزی مجلس عاملہ کی تشکیل پر تمام دوستوں کو ساتھیوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ان تمام ساتھیوں کو جمعیت علماء اسلام کے نصب العین اور اس کے اغراض و مقاصد کے لیے مخلصانہ جدوجہد اور کاوشوں کی توفیق عطاء فرمائے۔

میرے محترم دوستو، جب 1919 میں جمعیت علماء کا قیام برصغیر کی سطح پر عمل میں لایا گیا، حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ اس کے پہلے صدر بنے، تو اس جماعت کے قیام کی ضرورت کو بیان کیا گیا ہے کہ دین اسلام انسان کی رہنمائی کرتا ہے انفرادی زندگی میں بھی اور اجتماعی زندگی میں بھی، لیکن انفرادی زندگی میں شریعت کے حوالے سے رہنمائی کے لیے ایک فرد عالم کی رائے بھی کافی ہو جاتی ہے، کسی کو نماز کا مسئلہ در پیش ہو گیا، کسی کو روزے کا مسئلہ، زکوۃ کا مسئلہ، نکاح طلاق کا مسئلہ، میراث کا مسئلہ، تو ہم اپنے مدرسے کے دار الافتاء میں جاتے ہیں، مفتی صاحب سے رجوع کرتے ہیں، اپنے محلے کے امام کے پاس جاتے ہیں، گاؤں کے امام کے پاس جاتے ہیں اور وہ اس مسئلے پر جو رہنمائی فرما دے ہم اپنے لیے کافی سمجھتے ہیں۔ مفتی صاحب نے ہمیں مسئلہ بتا دیا، لیکن اس مسئلے کا تعلق ملی، قومی اور اجتماعی زندگی سے ہو اس میں ایک فرد عالم کی رائے حجت نہیں ہوتی، اس کے لیے علماء کے اجتماعی رائے کی ضرورت ہے۔ تو ایک جماعت بنائی جائے، جس میں علمائے کرام بیٹھے، اس کا ایک شورائی نظام ہونا چاہیے اور اس شورائی نظام کے تحت علماء مسائل کو پرکھیں، اس پر بحث کریں اور جب کسی نتیجے پر پہنچے تو اس کو قوم کے سامنے پیش کریں، تاکہ قوم کو رہنمائی کے لیے راستہ مل سکے۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب مجھے کوئی نیا مسئلہ درپیش ہوتا تو میں قرآن کریم میں اس کا حل تلاش کرتا، کامیابی نہ ہوتی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ میں اس کا حل تلاش کرتا، اگر وہاں بھی مجھے کامیابی نہ ملتی تو میں عابدین زاہدین اور اہل الرائے کو اکٹھا کرتا، ان سے اس مسئلے پر رائے لیتا اور جب ایک رائے قائم ہو جاتی تو پھر میں اس کے مطابق حکم صادر کرتا۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی یہی روایت ہے اس اضافے کے ساتھ کہ پھر میں اس کا حل حضرت ابوبکر صدیق کی خلافت میں تلاش کرتا، اگر مجھے کامیابی نہ ملتی تو میں عابدین و زاہدین و اہل الرائے کو اکٹھا کرتا اور وہ جس رائے پر اتفاق کر لیتے ہیں اس کے مطابق عمل کرتا۔

حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی یہی روایت ہے اس اضافے کے ساتھ، کہ میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی میں اس کا حل تلاش کرتا ہے، اگر مجھے کامیابی نہ ہوتی تو پھر میں عابدین و زاہدین اور اہل الرائے کو جمع کرتا اور ان کی رائے لیتا۔

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے براہ راست فرمایا کہ "اپنی ذاتی رائے پر فیصلے نہ دیا کرو"۔ اس سنت کو سامنے رکھتے ہوئے ہمارے اکابر علماء نے برصغیر میں جمعیت علماء کے نام سے ایک تنظیم قائم کی، جس میں مسلکی امتیاز کے بغیر پورے برصغیر سے علماء کرام بلائے گئے، گزشتہ سالوں میں جب جمعیت علماء کا صد سالہ منایا گیا تو ہمارے ساتھیوں نے محنت کی، کوشش کی اور ایک چھوٹا سا کتابچہ چھاپا، اس کا عنوان تھا مؤسسین جمعیت، ان تمام علماء کو تلاش کیا، ان کے نام تلاش کیے، کہ کون ابتدائی جلسے میں موجود تھے کہ جنہوں نے اس جماعت کی بنیاد رکھی۔ ان ناموں سے اندازہ لگتا ہے کہ مختلف مکاتب فکر سے وابستہ علماء کرام تھے۔ اور پھر یہ جماعت چلی، خلافت کی تحریک چلائی، آزادی کی تحریک چلائی، اس کو دوام دیا۔ حضرت شیخ الہند جب مالٹا سے واپس تشریف لائے، تو اپنی زندگی کا سال بھی پورا نہیں کر سکے، ایک جلسے کی صدارت کی، بنیاد ڈال دی اور پھر مفتی اعظم ہند حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب رحمہ اللہ وہ صدر بنے، جن کو جمعیت علماء کا صدر اول کہا جاتا ہے۔ اور آپ کو عجیب بات بتاؤں کہ حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی کی طرف صدارت کیسے منتقل ہوئی؟ ایک فیصلہ ہوا اور حضرت شیخ الاسلام کی رائے کی تائید کی شوریٰ نے اور حضرت مفتی اعظم کی رائے نہیں تھی وہ، تو حضرت مفتی اعظم نے جماعت سے کہا کہ جو فیصلہ ہوا ہے چوں کہ وہ میری رائے نہیں ہے اس فیصلے کو عملی جامہ پہنانا اور اس فیصلے پر عمل درآمد کا حق ادا کرنا، کہیں اس میں مجھ سے کوتاہی نہ ہو جائے اور چونکہ یہ حضرت مدنی کی رائے کے مطابق ہے تو وہی اس فیصلوں کا حق ادا کر سکتے ہیں لہذا صدارت ان کی طرف منتقل کر دی۔

سو آپ اندازہ لگائیں کہ ان اکابر سے ہمیں نظریہ بھی ملا، ان اکابر سے ہمیں اس نظریے کے لیے کام کرنے کا منہج اور رویہ بھی ملا اور پھر اس مقصد کے لیے اپنی ذات کی نفی کرنا یہ درس دیتا ہے۔ اب ہم نے تو آج کل سیاست کو دنیا داری سمجھ لیا ہے، اقتدار تک پہنچو، دولت کماؤ، جھوٹ کے ساتھ، دھوکے کے ساتھ، چالاکی کے ساتھ، دھاندلی کے ساتھ اور کسی طرح کرسی تک پہنچ جاؤ، اس کو بڑا زبردست سیاست دان کہا جاتا ہے۔ اسی لیے تو آپ علماء کو جگہ جگہ اپنے ماحول میں اس بات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ مولوی صاحب آپ تو بڑے شریف انسان ہے آپ سیاست کیوں کرتے ہیں، یعنی یہ سیاست یہ شریف لوگوں کا کام نہیں رہا، یہ اب قماش کے لوگوں کا کام رہ گیا ہے۔ لیکن آپ علماء کرام ہیں، آپ کا تعلق علماء کرام کے ساتھ ہے، سیاست انبیاء کی وراثت ہے، یہ انبیاء کا وظیفہ ہے، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛

كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ، كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ، وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي، وَسَتَكُونُ خُلَفَاءُ فَتَكْثُرُ۔

 بنی اسرائیل کی سیاست ان کے انبیاء کیا کرتے ہیں یعنی ان کے ملکی، قومی، ملی، اجتماعی زندگی کی تدبیر، اس کا انتظام انبیاء کرام کے ہاتھ میں تھا۔ تو قومی اور ملی زندگی کے تدبیر و انتظام کا نام یہ ہے سیاست، تاریخ اسلام کی 500 سے زیادہ کتابیں ہمارے اکابر و اسلاف نے سیاست کے موضوع پہ لکھی ہے اور ہم جو آج کل پڑھتے ہیں کتاب الطہارت سے آگے نہیں جاتے اور پھر مختلف آئمہ کرام نے سیاست کی تعریفات کی ہے لیکن جو جامع تعریف ہے سیاست کی، وہ ہے القيامُ بشيءٍ ما يُصلِحُ، کسی چیز کا اس طرح وجود پذیر ہونا کہ جو اصلاح کا ذریعہ بنے۔

تو یہ کھلا میدان ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سیاست کا تذکرہ کیا ہے اور یہ جو ہمارے ہاں ماحول میں، مذہبی ماحول میں خاص طور پر کہا جاتا ہے ختم نبوت کا مسئلہ سیاست سے بالاتر ہے، اللہ کے بندوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اپنے ختم نبوت کا تذکرہ سیاست کے ذیل میں کیا ہے، كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ اور آخر میں فرمایا؛ ولَا نَبِيَّ بَعْدِي، وَسَتَكُونُ خُلَفَاءُ، اب اگر علماء کرام آج کے دور میں ہر مجلس میں، ہر تقریر میں، کہتے ہیں کہ العلماء ورثۃ الانبیاء، علماء انبیاء کے وارث ہیں، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مصلہ پر علماء کے بغیر کوئی نہیں کھڑا ہو سکتا، منبر رسول پر علماء کے علاوہ کوئی خطبہ نہیں دے سکتا، تو یہاں تک کیوں محدود ہے، مسند سیاست پر علماء کے علاوہ دوسرا کون مستحق ہو سکتا ہے، وہاں بھی تو انبیاء کی وراثت ہے۔ تو اگر آپ حضرات نے جمعیت علماء کو سمجھنا ہے اس گہرے انداز کے ساتھ، عقیدے کے طور پر آپ کو سمجھنا ہوگا۔ الیکشن میں ٹکٹ مل گیا تو ٹھیک ورنہ پھر جماعت چھوڑ دی، کوئی نوکری مل گئی تو ٹھیک ہے ورنہ جماعت چھوڑ دی، کوئی مفاد مل گیا تو راضی ورنہ ناراض، اب آپ بتائیں چار طرح کا کفر ہے شرک، یہودیت، نصرانیت اور منافقت، رسول اللہ کے زمانے میں یہ چار طرح کے کافر تھے، اب ہمارے ماحول میں نہ کوئی مشرک ہوتا ہے، نہ کوئی یہودی ہے، نہ کوئی نصرانی ہے، نہ کوئی منافق ہے، لیکن ان کی جو بری عادتیں ہیں وہ ہم میں آجاتی ہیں، ان کی خصلتیں ہمارے اندر آجاتی ہیں۔

تو ہمیں یہ مد نظر رکھنا چاہیے کہ قرآن کریم بھی مخلص کارکن کا ذکر کرتا ہے اور دنیا دار مفاد پرست کا ذکر کرتا ہے اور دونوں میں فرق کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی دونوں کے درمیان فرق واضح کرتے ہیں،

تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ، وَعَبْدُ الدِّرْهَمِ، وَعَبْدُ الْخَمِيصَةِ، إِنْ أُعْطِيَ رَضِيَ، وَإِنْ لَمْ يُعْطَ سَخِطَ.

قرآن بھی کہتا ہے کچھ دنیا کا مفاد مل جائے تو راضی، ورنہ پھر ناراض ہو جاتے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ؛ یہ ہلاک ہوگئے، منہ کے بل گرے، پاؤں میں ایسا کانٹا چبھا جو نہ نکلا، اگر اسے کچھ مل جائے مال غنیمت میں سے اچھا حصہ مل گیا تو پھر راضی، ورنہ اس کے بغیر سے ناراض۔

تو آج کی دنیا میں ہم نے اگر سمجھنا ہے تو پھر ایک مفاد پرست طبقے کو سمجھنا ہے کہ اس کے اندر عادات یہی ہوتی ہے۔ حالانکہ وہ کلمہ گو بھی ہوتا ہے، نماز بھی پڑھتا ہے، مسلمان بھی ہوتا ہے، خاندانی طور پر وہ مسلمان ہی کہلاتا ہے۔ ہمارے سیاستدان بھی ہم سے یہی کہتے ہیں نا کہ بھئی ہم بھی تو نماز پڑھتے ہیں، ہم بھی تو روزہ رکھتے ہیں، بابا ہمیں نہ آپ کے نماز پہ اعتراض ہے، نہ کلمے پہ اعتراض ہے، نہ روزے پہ اعتراض ہے، ملک کو جو آپ قانون دے رہے ہیں وہ کیا ہے؟ ملک کو جو آپ نظام دے رہے ہیں وہ کیا ہے؟ اور اس کے مقابلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛

طُوبَىٰ لِعَبْدٍ آخِذٍ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَشْعَثَ رَأْسُهُ، مُغْبَرَّةٌ قَدَمَاهُ، إِنْ كَانَ فِي الْحِرَاسَةِ كَانَ فِي الْحِرَاسَةِ، وَإِنْ كَانَ فِي السَّاقَةِ كَانَ فِي السَّاقَةِ، إِنِ اسْتَأْذَنَ لَمْ يُؤْذَنْ لَهُ، وَإِنْ شَفَعَ لَمْ يُشَفَّعْ.

اس بندے کے لیے بشارت ہے جس نے گھوڑے کے باگ پکڑے ہوئے میدان میں اترنے کے لیے تیار کھڑا ہے، گمنام سپاہی ہے، اسے اپنی ذات پہ نظر ہی نہیں ہے، سر پراگندہ، پاؤں گرد سے اٹے ہوئے اور اگر اس کو ڈیوٹی دی جائے کہ تم نے چوکیداری کرنا ہے، چوکیداری کرتا ہے، اگر اسے کہا جائے کہ تم قافلے کے پیچھے پیچھے آؤ، اس کے پیچھے پیچھے آؤ، کوئی رہ جائے، سامان رہ جائے، اس کو سنبھالو، یہ وہ ڈیوٹی دیتا ہے۔ بیچارے کی حیثیت جماعت میں یہ ہے کہ اگر وہ چھٹی لیتا ہے تو چھٹی بھی نہیں ملتی اور اگر وہ کسی کی سفارش کرتا ہے، سفارش بھی نہیں سنی جاتی، اندر سے اخلاص سے بھرا، عہدے کی کوئی پرواہ ہے نہ کوئی بڑے نام کی کوئی پرواہ ہے، صرف یہ جانتا ہے کہ میرا مقصد کیسے کامیاب ہوگا۔

اسی لیے میں بھی آپ سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہم جب آپ کے خادم، آپ کے سٹیجوں پہ بیٹھتے ہیں اور آپ جب ضرورت سے زیادہ مبالغہ آمیز تعریفیں ہمارے کرنے شروع کر دیتے ہیں یہ ہماری عاقبت خراب کرنے کے لیے کرتے ہیں، ہمیں اپنا کارکن رہنے دیجیے، اپنا خادم رہنے دیجیے۔ انہی بڑے بڑے القابات نے ہمارا دماغ خراب کر دیا ہے اور یہ چیز دماغ میں آجائے اس کے بعد آپ کی زندگی برباد ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

تو اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے ان مقاصد کے ساتھ وابستہ رکھیں، اس کے لیے نام و نمود کے بغیر، القابات کے بغیر، ہمیں ایک خادم کی حیثیت سے کام کرنے کی اللہ توفیق عطاء فرمائے اور وہ ہمارے خدمات کو قبول فرمائے۔

اب ظاہر ہے ہم پارلیمانی سیاست کرتے ہیں، جہاں قانون سازی ہوتی ہے اور جو قانون قرآن و سنت کے خلاف ہو اس کو اکثریت سے پاس کیا جاتا ہے، جبکہ حلف اٹھایا گیا ہے کہ قرآن و سنت کے تابع قانون سازی ہوگی، آئین کہتا ہے۔ ابھی پارلیمنٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ فضل الرحمان نے قانون کو چیلنج کیا ہے، کیا قانون کو چیلنج کرنا ان کا کوئی سزا نہیں ہے؟ پارلیمنٹ قانون سازی کرتا ہے وہ کہتا ہے میں نہیں مانتا ہوں، میں کون ہوتا ہوں یہ کہنے والا کہ میں قانون کو نہیں مانتا، میں اگر یہ بات کہتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا؛

لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ

 جس کام میں، جس قول میں، جس حکم میں، جس قانون میں اللہ کی نافرمانی ہوگی، میرا پیغمبر مجھے کہتا ہے کہ اس کی اطاعت نہیں کرنی ہے، ماں باپ ہوتے ہیں، قرآن کہتا ہے کہ ماں باپ کی بھی عزت کرنی ہے، ان کا احترام کرنا ہے، کافر بھی کیوں نہ ہو، لیکن اگر وہ اپنے عقیدے کی بات کریں وہاں پر پیروی نہیں کرنا، تو میں بھی ان کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اگر تم قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی کرو گے، میں پھر کہتا ہوں کہ میں اس قانون کو نہیں مانتا، ہم سب نے جس آئین کا حلف اٹھایا ہے اور اس آئین میں جو کچھ لکھا ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ آپ کی قانون سازی غلط ہے اور غلط قانون سازی کی میں پیروی کیوں کروں گا، یہ کہنا کہ اس کی کوئی سزا نہیں ہے اوہ بابا ہم اس سے گزر چکے ہیں جب بات کرتے ہیں، یہ کہنا کہ کوئی قانون کی سزا بھی تو ہوتی ہے، تو قانون حرکت میں آئے اور ایسے لوگوں کو سزا دے ہم قرآن و سنت اور اس کی بالادستی کے لیے جیل تو بہت معمولی چیز ہے، پھانسی بھی بہت معمولی چیز ہے، اس سے آگے بھی اگر کوئی سزا ہے تو ان شاءاللہ ہم خندہ پیشانی کے ساتھ قبول کریں گے قرآن و سنت کے مقابلے میں، السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ، یہ انبیاء کی سنت ہے اگر ہم انبیاء کے وارث ہیں تو پھر الانبیاء اشد بلاء، سب سے زیادہ آزمائشیں انبیاء پر آئے، اس کے بعد اگر کوئی ان کو وارث اپنے آپ کو کہتا ہے تو پھر آزمائشوں کے لیے کو تیار رہنا چاہیے، کوئی ایسا مسئلہ نہیں، لیکن ہمارا موقف واضح ہے عام مسلمان کو ہم دعوت دینا چاہیں گے کہ ایسے قوانین کی پیروی مت کرو، اس قانون کی پیروی کرو جو قانون اللہ کا دیا ہوا ہے، اب یہ کہنا کہ جی آپ کون ہوتے ہیں کہ یہ شریعت کے خلاف ہے، ہاں مجھے اس کا بھی دعویٰ نہیں ہے، لیکن جب سے آئین بنا ہے اس وقت اسلامی نظریاتی کونسل بنی ہے، وہاں لے جاؤ، تمام علماء کرام ہر مکتب فکر کے بیٹھے ہوئے ہیں، جج صاحبان بیٹھے ہیں، وکلاء صاحبان بیٹھے ہیں، وہ حوالہ جات کے ذریعے، دلیل کی بنیاد پر جانچ لے اس کو، اگر وہ کہتے ہیں کہ قرآن و سنت کے مطابق ہے تو ٹھیک اور اگر وہ مسترد کر دے تو پھر۔

تو ایسی باتوں کو صرف یہ کہنا کہ جی یہ تو جذباتی ہو گیا ہے، غصہ ہو گیا ہے، فضل الرحمان تو غصے کی بات نہیں کرتا، کوئی غصہ نہیں ہے، لیکن جتنی تمہاری برائی ہوگی اس برائی کے حجم کے مطابق رد عمل آئے گا، تو ہمارے رد عمل پر بحث نہ کیا کرو، اپنے عمل پر بحث کرو، تم ہاتھی کے برابر تمہارا برا عمل ہوگا تو اس کے برابر ردعمل آئے گا۔

اگر یہ بات سمجھ لی تو جمعیت علماء بھی سمجھ میں آ جائے گی، جمعیت علماء کی سیاست بھی سمجھ میں آ جائے گی، اس کا نصب العین بھی سمجھ میں آ جائے گا اور تب جا کر پھر آپ اپنے اس حلف کا تقاضا پورا کر سکے گے۔ اللہ تعالی ہمیں توفیق عطاء فرمائے۔

وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔

‎ضبط تحریر: #سہیل_سہراب

‎ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز 

‎#teamJUIswat



0/Post a Comment/Comments