قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب کا چارسدہ میں مقامی صحافیوں سے گفتگو

قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب کا چارسدہ میں مقامی صحافیوں سے گفتگو

11 فروری 2026

صحافی: سر! یہ آج کل خیبرپختونخوا کے حالات جو چل رہے ہیں دہشت گردی کے، تو سر آپ کل ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس بھی ہوا تھا، تو صوبائی حکومت کے اس اقدامات جو ہو رہے ہیں اس کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

مولانا صاحب: صوبائی حکومت کا اس میں کوئی اختیار نہیں ہے بھئی، جو فیصلے ہیں وہ اسٹیبلشمنٹ کے ہیں، وفاق کے ہیں اور کچھ قانون سازیاں جو اس سے پہلے ہوئی تھیں اس کے تحت وہ ملک کے کسی حصے میں بھی جا سکتے ہیں۔ تو صوبہ تو اس میں بے اختیار ہے۔

صحافی: سر! یہ بتائیں کہ معاشی استحکام پر آپ ہی کا بیان ہے کہ سیاسی استحکام ضروری ہے، آپ ایک بڑی پارٹی کے بڑے لیڈر ہے اور سینئر سیاستدان ہے، اس مسئلے کے حل کے لیے، سیاسی استحکام کے لیے آپ کے خیال میں آپ کے پاس کیا فارمولہ ہے؟

مولانا صاحب: دیکھیں بنیادی چیز یہ ہے کہ ہمارے پورے سیاسی نظام میں ظاہر ہے کہ ہم پارلیمانی سیاست کرتے ہیں اور پارلیمان عوام کے نمائندہ ہے اگر دھاندلی کے نتیجے میں حکومتیں بنیں گی تو وہ حکومت دعوے بڑے بڑے کرے گی لیکن زمین پر کچھ نہیں ہوگا، تو یہ لوگ ملک میں نہ امن و آمان کے حوالے سے کوئی استحکام لانے کے قابل ہیں، نہ معاشی طور پر کوئی استحکام لانے کے وہ قابل ہیں، پالیسیاں ہی نہیں ہیں ہمارے ملک کے اندر، پالیسی بنے گی تو اس کے تحت عوام کا ایک اعتماد ہوتا ہے، پارلیمنٹ پر ایک اعتماد ہوتا ہے، یہاں تو پارلیمنٹ اور اسمبلیوں پر کوئی اعتماد لوگوں کا نہیں ہے، تو وہ پالیسی بنا ہی نہیں سکتے، تو ہم لوگ یا بھیک مانگ کر گزارہ کر رہے ہیں یا ہم یرغمال ہیں ایف اے ٹی ایف کے، ہم یرغمال ہیں، عالمی مالیاتی اداروں کے، تو اس صورتحال میں پاکستان کے حوالے سے یہ سوچنا کہ ہم معاشی لحاظ سے ترقی کر سکیں گے، آگے بڑھ سکیں گے، ابھی تک تو عام لوگوں کو کچھ نظر نہیں آ رہا ہے۔

 صحافی: مولانا صاحب خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں جو حالات دہشت گردی کے بڑھ رہے ہیں، حالات کا طرف جا رہے ہیں اور آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ہم پاکستان سے الگ تو نہیں ہو رہے ہیں؟ اختر مینگل صاحب نے بھی اس حوالے سے بیان دیا تھا کہ اب بات پوائنٹ آف دوری تک پہنچ گئی ہے، بلوچستان کے حوالے سے انہوں نے یہ بات کہی تھی۔

مولانا صاحب: دیکھیں میں تو اس حوالے سے نہ خود سوچ سکتا ہوں نہ کسی سوچ کی حمایت کر سکتا ہوں کہ ہم پاکستان کی سلامتی کی خلاف کوئی بات کریں یا پاکستان کی تقسیم کی کوئی بات کریں، ہم حقوق کی بات کرتے ہیں، بلوچستان کے وسائل پر بلوچستان کے عوام کا حق، خیبر پختونخوا کے وسائل پر یہاں کے عوام کا حق، سندھ اور پنجاب کے وسائل پر وہاں کے عوام کا حق، اس حوالے سے ہم پابند ہیں کہ ہم صوبے کے عوام کو مطمئن کریں۔ اس وقت عالمی اسٹیبلشمنٹ اور ہمارے ملک کے طاقتور ادارے یہ بھی للچائی ہوئی نظروں سے جہاں وہ آپریشن کر رہے ہیں اور لوگوں کو یہ احساس دلا رہے ہیں کہ ہم تو آپ کے امن کیلئے لڑ رہے ہیں وہاں جو ہمارے ری سورسز ہیں اور ہمارے پہاڑوں کے اندر جو معدنی وسائل ہیں وہاں تک رسائی بھی ان کا مقصد ہے اور اس پاداش میں اور اس پردے میں وہ ہمارے وسائل پر بھی قبضہ کرنے کی طرف جا رہے ہیں۔ تو ظاہر ہے جی کہ پھر عام آدمی سوچتا ہے کہ اگر میرے وسائل پر آپ نے قبضہ کرنا ہے اور جہاں جہاں آپ کھدائیاں کر رہے ہیں اور جہاں سے آپ معدنیات نکال رہے ہیں وہاں وہاں تو امن ہے اور ادھر ادھر سے جو ہے ہر طرف سے دہشتگردی ہے اور جنگ ہے اور لڑائی ہے، تو یہ سوالات پیدا کرتے ہیں لوگوں کے ذہن میں اور شبہات پیدا کرتے ہیں اور یہاں جبراً کہا جاتا ہے کہ ہر قیمت پر جو ہم کر رہے ہیں آپ نے اس کی حمایت کرنی ہے اور اگر آپ اس پر اعتماد نہیں کرتے تو پھر آپ غداروں کے زمرے میں آتے ہیں۔ اب یہ روش جو ہے یہ تو میرے خیال میں جمہوری نہیں ہے کم از کم۔

صحافی: مولانا صاحب یہ جو تیراہ کے عوام کو نکالا گیا ہے، صوبائی حکومت بھی اس کی زمہ داری نہیں کے رہی اور وفاقی حکومت بھی، سر آپ کیا سوچتے ہیں کہ کس نے ان کو نکالا ہے؟

مولانا صاحب: تیراہ کے عوام پر تو حضرت ایک عذاب اترا ہوا ہے، وہاں کے لوگوں کو زبردستی نکالا بھی جا رہا ہے، اب وفاق میں حکومت کس کی ہے سوال تو یہ ہے، تو جن لوگوں کی بات آپ کر رہے ہیں یقیناً ان کا اختیار نہیں ہے اور وہ کہیں گے ہم نے تو نہیں کیا، صوبہ بھی بے اختیار ہے، تو وہ بھی کہیں گے ہم نے تو نہیں کیا، تو کس نے کیا ہے؟ تو وہ وفاقی حکومت بھی جانتی ہے اور وہ صوبائی حکومت بھی جانتی ہے اور دونوں ان کے مقابلے میں بے بس ہیں۔

صحافی: مولانا صاحب یہ دہشت گردی چوں کہ اہم مسئلہ ہے اس ملک کا، اس کے بغیر نہ سیاسی استحکام آسکتا ہے نہ معاشی، اس حوالے سے رائے منقسم ہے، کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل ہونا چاہیے، کچھ کہہ رہے ہیں کہ مذاکرات ہونے چاہیے، یہ جو مذاکرات کے حق میں ہے اس حوالے سے میرا یہ سوال ہے کہ دوحہ اور استنبول میں مذاکرات ہوئے، وہ ناکام ہوئے، اب کس قسم کے مذاکرات ہونے چاہیے؟

مولانا صاحب: آپ دوحہ اور استنبول کی کس مذاکرات کی بات کر رہے ہیں؟

صحافی: طالبان کے ساتھ جو ہوئے تھے۔

مولانا صاحب: فغان طالبان کے ساتھ؟ تو وہ تو کامیاب ہو گئے، لمبا عرضہ چلے لیکن کامیاب تو ہوئے اور پاکستان کے حوالے سے تو کوئی بات کہیں نہیں ہوئی۔

صحافی: تو تحریک طالبان کے ساتھ مطلب کس۔۔۔۔

مولانا صاحب: اب ہمیں کیا پتا ہے، وہ تو باجوہ صاحب کہتے ہیں مذاکرات کرو اور عاصم منیر صاحب کہتے ہیں کہ نہیں کرنے۔

صحافی: سر افغان حکمرانوں کو دھمکیاں دی گی اور بدلہ لینے کی، وہ بھی قومی اسمبلی کے فلور پر

مولانا صاحب: میں تو یہی کہتا ہوں کہ اس پالیسی کے لیے بھی سب کو مل بیٹھنا چاہیے، پارلیمنٹ کے اندر ایک سیکیورٹی کمیٹی ہے، پارلیمنٹ کے اپنی کمیٹی ہے پارلیمنٹ کے چیمبر میں بیٹھتی ہے، جس میں تمام ادارے موجود ہوتے ہیں، ان کو بلایا جائے، ان کو سنا جائے، اور یہ نہیں کہ آپ نے ایک لکیر کھینچی ہوئی ہے اور اس کے آگے آپ نے فیصلے کیے ہوئے ہیں اور اس لکیر سے اوپر اوپر آپ لوگوں کو سن رہے ہیں اور بس سن کے چلے جاتے ہیں، نہیں، پھر جو رائے ان لوگوں کی ہو، جو معقول دلیل ہو ان کیمرہ ہو بھلا، لیکن بات سنی جائے اور مشترکہ ایک پالیسی بنائی جائے تاکہ اس کے بعد پھر بحث مباحثے کا سلسلہ بند ہو جائے۔

صحافی: سر! بھارت سے تجارت حلال ہے جی، افغانستان سے تجارت حرام ہے جس کی وجہ سے پختونخوا اور بلوچ عوام کو کافی بھاری مالی نقصان پہنچ رہا ہے، اس سوال سے آپ نے پہلی بار آج کیا موقف ہے؟

مولانا صاحب! حضرت بہت کچھ کہنے کو ہے، بہت کچھ کہنے کو ہے، لیکن میں احتیاط کر رہا ہوں تاکہ معاملہ زیادہ خراب نہ ہو، کوئی پالیسی نہیں ہے ہماری، اور بادشاہت ہے، ڈکٹیٹرشپ ہے، ایک دماغ جو ہے وہ فیصلے کر رہا ہے، نہ کوئی پارلیمنٹ ہے، نہ کوئی مجلس شوریٰ ہے، نہ کوئی مشاورت ہے۔ جب جس کو چاہے دشمن کہہ دو، جب جس کو چاہے بھائی کہہ دو، یہ ان کا اختیار ہے۔ تو ساری زندگی ہم انڈیا کو دشمن کہتے رہے، اب ہم نے افغانستان کو دشمن کہنا شروع کر دیا ہے۔ میرے خیال میں اتنا زیادہ مسئلہ نہیں ہے، انڈیا کے مقابلے میں شاید پوری قوم ایک ہے، لیکن افغانستان کے حوالے سے ملک تو ایک نہیں ہے، اس پر اگر ہم نے مشرف کی پالیسی کا اختلاف کیا تھا، تو ہم آج بھی اختلاف کر سکتے ہیں اور ڈنکے کی چھوٹ پر کر سکتے ہیں۔

صحافی: آٹھ فروری کو ہی ٹی آئی نے شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی کال دی تھی، تو ظاہراً وہ ناکام ہوگیا ہے، تو اس سے آپ کیا اخذ کرنا چاہتے ہیں کہ کیا ہی ٹی آئی کی پالیسیوں پر سب عوام کا اعتماد نہیں رہا یا کیا وجہ ہوسکتی ہے؟

مولانا صاحب: یہ فیصلہ تو آپ نے کرنا ہے اور عوام نے کرنا ہے ہمارے پاس تو آئے اور انہوں نے کہا جی آپ بھی ہمارے اس قول کی حمایت کریں تو ہم نے اپنے جلسے جلوس چھوڑ دیئے اور ان کی حمایت کر دی۔

صحافی: وزیراعظم سے سہیل افریدی کی ملاقات کے بعد بڑوں کی بھی کل ایک ملاقات ہوگئی ہے اس حوالے سے یہ کہ وفاق اور صوبوں کے مابین کوئی ورکنگ ریلیشن قائم ہوگی؟

مولانا صاحب: ہونی چاہیے کیوں کہ ایک صوبائی حکومت ہوتی ہے سیاست جو ہے وہ پارٹیاں کرتی ہے، لیکن حکومتیں جو ہیں وہ دفتر کو چلانا، عوام کے مسائل ان کے سامنے ہوتے ہیں اور وفاق کے بغیر، ان سے رابطے کے بغیر تو مسائل حل نہیں ہوسکتے، تو اگر سہیل افریدی نے وزیراعظم سے ملاقات کی ہے تو میری نظر میں اچھی بات ہے اور یہ تین مہینے پہلے ہونی چاہیے تھی۔

صحافی: مولانا صاحب آپ نے افغان ایشو حل کرنے کی پہلے بھی افغانستان کا دورہ کیا تھا، اپ کو ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے بریفنگ دی، پھر آپ نے بریفنگ دی، اس پچھلے پروگرام کی خاطر اگر آپ کو پھر کہا جائے کہ جائے افغانستان یہ ایشو حل کرے، تو آپ کا رسپانس کیا ہوگا؟

مولانا صاحب: یہ تو آپ نے اگر میں بات کر دی، اگر کہا جائے، اگر مگر تو میرے خیال میں سیاست میں بڑا کمزور لفظ ہوتا ہے ان کو کہنے دے پھر میں جواب جانتا ہوں۔

صحافی: مولانا صاحب ایران میں جنگ چھڑ جانا امریکہ کی طرف سے، پھر افغانستان کی وزارت داخلہ کی انڈیا جاکر وہاں سے تعلقات بنانا، اس حوالے سے آپ کیا سوچتے ہیں؟

مولانا صاحب: ایران ہو یا افغانستان ہو، بہرحال امریکہ ہمیشہ دنیا میں عدم استحکام پیدا کرتا ہے، اور دنیا غیر مستحکم ہوگی تو امریکہ کی بادشاہت چلے گی اور امریکہ اپنی مرضی سے پورے انسانیت کو کنٹرول کرنے گا، تمام ملکوں کو کنٹرول کرے گا، لہذا افغانستان میں بھی اگر عدم استحکام کی خواہش ہے وہ بھی امریکہ کی ہے اور ایران میں اگر خواہش ہے تو وہ بھی امریکہ کی ہے اور ایران میں اگر خواہش ہے تو وہ بھی امریکہ کی ہے اور کبھی افغانستان میں براہ راست اترتے ہیں کبھی کسی کو پراکسی بناتے ہیں، کبھی ایران میں وہ براہ راست اترتے ہیں کبھی کسی کو پراکسی بناتے ہیں۔ تو اس حوالے سے ہمیں قومی سوچ کے تحت ایک قوم بننا چاہیے اور صحیح فیصلے ہمیں کرنے چاہیے، میں تو مشورے دے سکتا ہوں۔ باقی تو اگر کوئی فیصلہ صحیح ہے تو ہم ساتھ دیں گے، اگر غلط ہے تو اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کریں گے۔

صحافی: مولانا صاحب اخری سوال ہے صوبائی حکومت کا کنٹینر پھر تیار ہے وہ کئی بار کہہ بھی چکے ہیں، آپ بھی ناراض لگ رہے ہیں تو کیا پوزیشن ہوگی اگر وہ احتجاج کرنا چاہتے ہیں، اور ان کے کنٹینر پہ لکھا ہے آزادی یا موت، ازادی یا موت کا کنٹینر جو تیار کیا ہوا ہے عید کے بعد شاید وہ احتجاج کریں، تو سر آپ بھی ناراض لگ رہے ہیں تو پھر کیا ان کی حمایت کریں گے؟

مولانا صاحب: میرے خیال میں مجھے خاموش رہنے دے، مجھے اس میں کچھ تیل نظر نہیں ا رہا ہے۔

صحافی: مولانا صاحب غیر یقینی صورتحال ہے ملک میں، کچھ فارم سینتالیس والے ہیں کچھ پینتالیس والے بھی۔۔۔۔

مولانا صاحب: میرے خیال میں تو اطمینان اور سکون اور قومی وحدت، یکجہتی اس کے لیے ضروری ہے کہ پوری الیکشن کروائے جائیں اور ملک میں جو روز روز یہ نتیجے بنائے جاتے ہیں اور ناکام لوگوں کو اسمبلیوں میں لاتے ہیں، کامیاب لوگوں کو گھروں میں بٹھاتے ہیں، یہ بات اب ڈھکی چھپی نہیں رہی، تو جو چیز غلط ہے اس کے خلاف ایک دن ردعمل آتا ہے اور بڑا خطرناک ردعمل ہوتا ہ، اس حد تک ہمیں نہیں جانا چاہیے۔

ضبط تحریر: #سہیل_سہراب

‎ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز 

‎#teamJUIswat 

 

0/Post a Comment/Comments