ساوتھ افریقہ جوہانسبرگ: ملکی صورتحال پر مولانا فضل الرحمان صاحب کی میڈیا سے گفتگو

ساوتھ افریقہ جوہانسبرگ: ملکی صورتحال پر امیر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب کی میڈیا سے گفتگو

2 فروری 2026

السلام علیکم ناظرین ہمارے ساتھ جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن صاحب موجود ہیں وہ اس وقت ساؤتھ افریقہ کے دورے پر ہیں آئیے ان سے بات کرتے ہیں۔

صحافی: مولانا صاحب بہت شکریہ آپ کا، دنیا نیوز کو وقت دینے کے لئے، سب سے پہلے تو ہم ساؤتھ افریقہ کے آپ کے دورے کے حوالے سے جاننا چاہتے ہیں کہ آپ کا یہ دورہ کیسا رہا ہے اور پاکستانی کمیونٹی سے مل کے آپ کو کیسا محسوس ہوا؟

مولانا صاحب: میں ایک بڑے طویل عرصے کے بعد دس گیارہ سال کے بعد میں یہاں آیا ہوں اور جب میں قومی اسمبلی میں فارن افیئرز کمیونٹی کا چیرمین تھا تو اس زمانے میں میرا سرکاری وزٹ بھی یہی ہوا تھا۔ اس وقت یہاں پر کوئی پاکستانی کی کوئی ایسی کمیونٹی نہیں تھی باقاعدہ، پاکستان کے ساتھ تجارت بھی بہت کمزور تھی اس وقت اور نیا نیا انقلاب آیا تھا تو پاکستان دھیرے دھیرے یہاں سے تعلق بنا رہا تھا۔ لیکن آج جب میں یہاں آیا ہوں تو بڑے پیمانے پر میں پاکستانی کمیونٹی بھی یہاں دیکھ رہا ہوں اور ظاہر ہے پاکستانی کمیونٹی کی ساؤتھ افریقہ کے لئے جو رغبت ہے تو یہ دونوں ممالک کے درمیان مفید تعلقات اور بہتر تعلقات کی علامت ہے۔ پاکستانی کمیونٹی نے اگر ساؤتھ افریقہ کو اپنی کاروبار کے لئے یا اپنی انویسمنٹ کے لئے چنا ہے تو ظاہر ہے کہ اچھے مواقع یہاں پر دیکھے ہوں گے اور ان اچھے مواقع کو وہ اب استعمال کر رہے ہیں۔ تو یہ ممکن نہیں ہے کہ یہاں کی اسٹیبلشمنٹ، یہاں کی گورنمنٹ، یہاں کی ادارے وہ سپورٹ نہیں کریں۔ تو جو ملاقاتی ہوئی ہیں اس سے یہی اندازہ لگتا ہے کہ یہاں کی حکومت کا بھی پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ بڑا اچھا برتاؤ ہے، حوصلہ افزا ہے اور میں سوچتا ہوں کہ مزید پاکستانیوں کو اس سمت پر آنا چاہیے تاکہ ہم یہاں پر اپنے ملک کے کاروبار کے معاملات پر آگے بڑھائیں، تجارت کے معاملات کو اگے بڑھائیں اور پاکستان کی اقتصادی مضبوطی اس کو آگے لایا جائے 

صحافی: مولانا صاحب حال پاکستان میں جو دہشت گردی کے واقعات ہوئے ہیں بلوچستان میں اس حوالے سے آپ کا کیا موقف ہے؟

مولانا صاحب: دیکھئے جب ایک بڑا وقوعہ ہو جاتا ہے تو سارے ہمارے تبصرے جیسے کہ یہ آج ہوا ہے اور جیسے کہ آج کوئی آغاز ہوا ہو، اس طرح ہم لے لیتے ہیں۔ حالانکہ دہائیوں سے پاکستان اس کے بالخصوص جو مغربی سرحدات ہیں وہ بے قراری کا شکار رہے ہیں، مسلسل رہے ہیں۔ اب اس میں ظاہر ہے جی کہ یہ دونوں صوبے، چھوٹے صوبے بھی ہیں اور یہ معدنی ذخائر سے بھرپور ہیں، دنیا کی بھی ان کی اوپر نظر ہے۔

تو اس اعتبار سے جو حالات پاکستان میں پیدا کیے گئے ہیں لگتا ایسا ہے کہ بین الاقوامی برادری میں بھی ہمیں تنہا چھوڑ دیا ہے اور پاکستان کی جو اپنے وسائل ہیں، اس کے اپنے لاء انفورسمنٹ کے ادارے ہیں، ہماری جو اپنی فوج ہے اپنی پولیس ہے، وہی اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے اس ساری صورت حال سے نمٹنے کے لیے اہم ہے۔ تاہم جو تسلسل ہے اس قسم کے واقعات کا وہ کوئی پاکستان کے لئے اچھی علامت نہیں ہے اور نہ ہی پاکستان کے بارے میں دنیا میں ہمارا کوئی بہتر امیج وہاں بن رہا ہے۔

تو ہم تو یہ سوچتے ہیں کہ چھوٹے صوبوں کے جو وسائل ہیں اس پر چھوٹے صوبوں کے عوام کا حق ہے اور آئین بھی یہی کہتا ہے، تو حوالے سے عوام کی تشویش کو دور کیا جائے، ان کے اضطراب کو دور کر جائے، ان کے شکوک وشبہات کو دور کیا جائے۔ ہم بین الاقوامی انویسمنٹ کے بھی خلاف نہیں ہے، ہم وفاق کی انویسمنٹ کے بھی خلاف نہیں ہے، لیکن بین الاقوامی قوانین بھی ہیں، ملک کے اندر کے قوانین بھی ہیں، کس طرح ہم ملک کے مفاد کو محفوظ کر سکتے ہیں بین الاقوامی معاہدات کے اندر اور کس طرح ہم صوبوں کے مفادات کو محفوظ کر سکتے ہیں، جب ملک کے اندر ہم کوئی معاہدات کرتے ہیں پھر وہاں کے مقامی آبادی کے حقوق کو محفوظ کرنا، یہ سب سے اولین چیز ہونی چاہیے، کیونکہ بہرحال آئین جو ایک حق مجھے دیتا ہے تو ایک حوالہ بن جاتا ہے اور اس ریفرنس کے تحت پھر عوام جو ہے وہ اٹھتے ہیں اور اپنی بات کرتے ہیں۔ تو ہمارے ملک میں لوگوں کی یہ شبہات ابھی تک ختم نہیں ہو رہے ہیں۔ نظریاتی حوالے سے بھی جب آپ کے ملک میں مثال کے طور پر قانون سازی ہو گی اور وہ قرآن و سنت کے خلاف ہوگی، اگر آپ کے ملک میں قانون سازی ہوگی اور وہ بشری اور انسانی حقوق جو ہمیں فطرت عطاء کرتا ہے ہم اس کی خلاف ورزیاں کریں گے تو ظاہر ہے کہ ہم کن قوتوں کو پھر مشتعل کرنے کے مواقع دے رہے ہیں اور اگر ہمارے مقامی وسائل ہیں، اس وسائل پر ہمارا کنٹرول نہیں ہے، ہم اپنے لوگوں کو اس سے محروم کرنا چاہتے ہیں پھر اس کرب سے ہمارا یہ علاقہ تین چار دہائیوں سے دوچار ہیں اور ہم تو پاکستان کے ساتھ ہیں، پاکستان کے آئین کے ساتھ ہیں، یہ چاہتے ہیں کہ لوگوں کو ان کے حقوق ملے، ان کی جنگ بھی لڑ رہے ہیں، اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اختلاف رائے ہو وہ بھی ہم کر رہے ہیں اور حکومت سے اختلاف رائے ہو تو اس میں بھی کوئی جھجھک ہم محسوس نہیں کرتے، پبلک کی ہم بات کرتے ہیں، قوم کی ہم بات کرتے ہیں، صوبوں کی ہم بات کرتے ہیں، ان کے حقوق کی ہم بات کرتے ہیں اور اس حوالے سے حکومت کو ذرا سنجیدگی کا مظاہر کرنا چاہیے اور ان کا جو فرض ہے وہ بھولنا نہیں چاہیے۔

صحافی: مولانا صاحب اس وقت جو پاکستان کے اندر جو سیاسی معاملات چل رہے ہیں جیسے کہ عمران خان کے قید کے حوالے سے، کے پی کے، بلوچستان، پنجاب اس حوالے سے جو سیاسی اس وقت پاکستان میں گہما گہمی ہیں اس حوالے سے آپ کی جماعت کا کیا موقف ہے؟

مولانا صاحب: بدقسمتی سے پاکستان کے اندر پولیٹکل وکٹیمائزیشن بہت بڑھ گئی ہے، اگر عمران خان کی حکومت تھی تو دوسری جماعتیں جیلوں میں تھی، ان کی قیادت جیلوں میں تھی اور آج ان کی حکومت آگئی ہے تو ان کو جیلوں میں ڈال دیا ہے، ان پر مقدمات ہیں۔ تو یہ جو ایک انتقامی تاثر ہماری ملکی سیاست میں اُڑ رہا ہے آخر ہمارے آس پاس کے اور ممالک بھی ہیں وہاں پر بھی اپوزیشن بھی ہوتی ہے، لیکن اس حوالے سے ہمیں ایک متوازن سوچ کی طرف جانا پڑے گا اور حزب اختلاف اور حزب اقتدار کے درمیان تناؤ کے جو ادوار اس سے قبل گزرے ہیں چاہے وہ پاکستان مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان تھے، انہوں نے بھی پاکستان کوئی اچھے نتائج نہیں دیئے اور آج بھی پاکستان پورے خطے میں واحد ملک ہے جو معاشی لحاظ سے گر رہا ہے، نیچے کے طرف جا رہا ہے اور ہم اب باہر کے دوستوں سے بھیک مانگ رہے ہیں کہ ہمارے ریزرو میں آپ کچھ ڈالر بھیجیں۔

تو اس ساری صورتحال میں یقیناً پاکستان کی اس وقت پوزیشن جو ہے وہ صحیح نہیں ہے اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ فیصلے سیاستدان نہیں کر رہے، فیصلے پارلیمنٹ میں نہیں ہو رہے، فیصلے سیاسی ڈیبیٹ کے تحت نہیں ہو رہے ہیں، بلکہ ایک خاص محل کے اندر فیصلے ہوتے ہیں اور پورے ملک پر وہ ایک دم لاگو ہو جاتے ہیں۔ اس چیز نے توازن بگاڑا ہوا ہے۔

صحافی: مولانا صاحب اس وقت پاکستان میں نئی صوبوں کے متعلق بازگشت آرہی ہے، نئے صوبوں کے حوالے سے آپ کا کیا موقف ہے؟

مولانا صاحب: دیکھیے ایک تو ہے اصول کی بات، اصولی طور پر تو ڈویژن بن جاتے ہیں انتظامی طور پر، ضلعے بھی بن جاتے ہیں، تحصیل بھی بن جاتے ہیں لیکن اگر انتظامی حوالے سے صوبے بنتے ہیں تو اصولی طور پر تو اعتراض نہیں ہوسکتا، لیکن ہمارے ملک میں جو زمینی صورت حال ہے ہر صوبے کے عوام کا اپنے صوبے کے ساتھ لگاؤ، اپنے صوبے کے بارے میں ایک سوچ، وہاں پر مختلف نعرے اٹھ رہے ہیں اور علاقائی حوالے سے جیسے سرائیکی، جیسے پوٹھوہاری، جیسے پنجابی جیسے پشتون خواہ، جیسے ہزارہ، تو اس قسم کی چیزیں جب اٹھتی ہیں وہ پھر اس پر بہت بار بار سوچنا ہوگا کہ کیا جب ہم عملی طور پر ایسا کرنے جائیں گے تو کیا ہم ملک میں کوئی نیا بحران تو نہیں پیدا کریں گے۔ تو اس لیے اس حوالے سے پاکستان نے اگر 78 سال میں کچھ نہیں کیا اور پیشرفت نہیں کی تو آگے جا کر بھی ہمارے لیے کوئی اچھے حالات نہیں ہیں، ہم اس حوالے سے خود کو ہندوستان پر قیاس نہ کریں انہوں نے تو تقسیم کے فوراً بعد صوبے بنانا شروع کر دیئے اور وہاں کوئی پرابلم نہیں ہے لیکن ہمارے ہاں بہرحال چار صوبے آئین کے تحت ہے شدہ ہیں اب اگر اس کو آپ 78 سال کے بعد توڑیں گے تو کیا زمینی صورتحال بنے گی پبلک کا ریسپانس کیا ہوگا یہ ایک سوچنے والی بات ہے۔

صحافی: پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر آتا ہے، اس حوالے سے آپ کیا کہیں گے؟

مولانا صاحب: دیکھیے کشمیر کے تو ہم وکیل رہے ہیں ہمیشہ اور کشمیر کے لوگوں کے ساتھ جو اٹھہتر سال میں زیادتیاں ہوئی ہیں، ہندوستان کے طرف سے زیادتیاں ہوئی ہیں وہ اب بھی ہو رہی ہیں لیکن پاکستان نے کوئی اچھا مقدمہ نہیں لڑا اس کا اور اس وقت وہ تقریباً ہم نے ان کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔ تو یقیناً ہم اپنا معمول کے مطابق جو ہماری یکجہتی ہے کشمیریوں کے ساتھ وہ بھی ہوگی اور اس کے لئے ہم ایک کنونشن بھی فروری کے مہینے میں کشمیریوں کے ساتھ مل کر کریں گے ان شاءاللہ، اور اسی طریقے سے ہم 8 فروری جو پاکستان کے الیکشن کا ایک سیاہ دن ہے جس میں جعلی مینڈیٹ جو ہے وہ لاکر ملک پر مسلط کیا گیا۔

تو اس حوالے سے بھی ہم پاکستان میں کنونشن بھی کریں گے اور اپنی آواز دنیا تک پہنچائیں گے، پبلک تک پہنچائیں گے اور ہماری یہ کوشش ہوگی کہ ملک میں الیکشن ہو تو عوام کی رائے کے مطابق ہو، عوام کی جو خواہشات ہیں اس کو سامنے رکھا جائے اور کوئی طاقت عوام کے فیصلے میں مداخلت نہ کرے۔

صحافی: مولانا صاحب بہت بہت شکریہ 

ضبط تحریر: #سہیل_سہراب

‎ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز 

‎#teamJUIswat

0/Post a Comment/Comments