سیاسی بیانیے کی ڈیجیٹل میڈیا پر تشہیر کا لائحہ عمل
انجینئر محمد بلال لطیف
ڈیجیٹل میڈیا کے اس دور میں جہاں ہر شخص کے ہاتھ میں سمارٹ فون ہے، وہیں سوشل میڈیا نے گلی محلوں کی بیٹھکوں کی جگہ لے لی ہے۔ اب جہاں ایک طرف برانڈز اپنی بھرپور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کرکے ماہانہ میلینز کی سیل کر رہے ہیں، وہیں سیاسی بیانیے کی ترویج کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں کی میڈیا ٹیمز بھرپور ایکٹیو دکھائی دیتی ہیں۔
ایک بات تو مسلمہ ہے, کہ وہ سیاسی جماعتیں جن پر فارن فنڈنگ کے ذریعے خوب عنایات ہوتی ہیں، وہ بہت سی بلیک ہیٹ ٹیکنیکس استعمال کرتی ہیں۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی حق اور باطل کے درمیان مقابلہ ہوا ہے، حق غالب آ کر ہی رہا ہے۔ باطل بظاہر بہت بڑا دکھائی دیتا ہے، لیکن اللّٰہ پاک اس کی تعداد و طاقت کا گھمنڈ کبھی ابابیلوں کے ذریعے خاک میں ملا دیتے ہیں اور کبھی یرموک کے میدان میں 60000 کفار کے مقابلے میں 60 ایمان والوں کو فتح یاب فرما کر اپنی قدرتِ کاملہ کا مظہر دکھاتے ہیں۔
اگر بات کی جائے جمعیتہ علماء اسلام کے کارکنان کی، تو شاید ہی دنیا میں کوئی ایسی سیاسی جماعت ہو جس کے پاس ایسا کارکن ہو۔ یہ کارکن اپنا جان، مال، وقت لگاتے ہیں، اور صرف اور صرف حضرت شیخ الھند رحمۃاللہ علیہ کے نظریے کی ترویج کے لیے بے لوث محنت کرتے ہیں۔ آخر وہ کیوں جانثار نہ بنے۔۔۔! جبکہ انہیں لیڈر شپ ہی ایسی ملی ہے، کہ جو ہر ہر کارکن کو اپنی ذاتی اولاد کی طرح عزت دیتی ہے۔ اس حوالے سے قائدِ جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب سے لے کر عام ضلعی و تحصیلی عہدے داران تک، سے ملاقات کے بعد شاید ہی کوئی کارکن ہو جو اس شفقت کا گواہ نہ ہو۔
جمعیۃ علماء اسلام کے خلاف جہاں ایک جانب بےدین طاقتیں ہر لمحہ پراپیگنڈہ کرنے میں مصروف ہیں، وہیں عام عوام میں جمعیۃ کی کاروائیوں سے ناواقفیت ایک اہم مسئلہ ہے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ جب تک روشنی نہ آئے تب تک اندھیرا ہی رہتا ہے۔ جمعیۃ کے ڈیجیٹل میڈیا سیل کا قیام اسی اندھیرے پر غلبہ پانا اور عوام پر جمعیۃ علماء اسلام کے کردار و جدوجہد کو آشکار کرنا ہے۔ یہ تو ہمارا ذاتی تجربہ ہے کہ وہ لوگ، جو حضرت قائدِ جمعیۃ پر خواہ مخواہ کی تنقید کرتے ہیں، اگر انہیں حقائق بیان کیئے جائیں تو چند ہی منٹوں میں وہ اپنی ناواقفیت کا اعتراف کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اکثر اوقات معلومات کی اس کمی کا اتنی شدت سے احساس ہوتا ہے کہ جی میں آتا ہے، کاش ان لوگوں تک تمام حقیقت پہنچ جائے، تاکہ یہ بلاوجہ کے پراپیگنڈے کا آلہ کار بننے کی بجائے حق کو تسلیم کر لیں۔
اس حوالے سے ڈیجیٹل میڈیا سیل کا نظم تشکیل پا جانا جہاں ایک نعمتِ عظمیٰ ہے، وہیں اس بات کی شدت سے ضرورت ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا سیل اپنی کارکردگی میں دن بدن نکھار پیدا کرے۔ کارکردگی میں نکھار لانے کے چند عوامل ہیں، کہ جنہیں اگر سمجھ کر ان پر عملدرآمد ہو جائے تو دن دوگنی رات چوگنی ترقی کے ہم سب عینی شاہد ہوں گے:
1. سب سے پہلا نکتہ نیت کی تصحیح کا ہے۔ حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ اگر ہماری نیت صرف اپنی ذاتی شہرت ہوگی تو وہ تو اتنی ہی ملے گی جو نصیب میں ہو۔ لیکن اگر ہماری نیت حضرت شیخ الہند رحمۃ اللّٰہ علیہ کے مشن کی ترویج ہوگی اور دین کی سربلندی ہوگی، تو ہمارا ہر ہر پوسٹ کرنا یا لائیک، کومنٹس، شیئر کرنا ہمارے لیے عبادت بن جائے گا۔
2. ہر کارکن اپنے اردگرد ایسے ساتھیوں پر نظر رکھے کہ جو سوشل میڈیا پر کام کرنا جانتے ہیں، اور جمعیۃ کے ساتھ نظریاتی ہم آہنگی رکھتے ہیں۔ ان ساتھیوں کو یو سی اور تحصیل کے گروپس میں شامل کیا جائے، جہاں پر صوبے یا مرکز کی جانب سے پوسٹیں و ہدایات شیئر کی جائیں گی۔ اس طرح ہر ہر ساتھی ڈیجیٹل میڈیا سیل کی دی گئی ہدایات کے مطابق عمل کرتے ہوئے جماعت کے کام کو بہتر انداز میں کرسکتا ہے۔
3. اس کے ساتھ ساتھ ایسے ساتھی جو گرافک ڈیزائننگ یا ویڈیو ایڈیٹنگ جانتے ہیں اور جماعت کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں، انہیں تحصیل کے ڈیجیٹل میڈیا سیل سے متعارف کروایا جائے۔ کیونکہ سوشل میڈیا پر کام کرنے کے حوالے سے گرافک ڈیزائننگ اور ویڈیو ایڈیٹنگ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مرکز یا صوبائی ٹیم کی جانب سے ایسے ساتھیوں کی ڈیزائننگ میں نکھار کے لیے آن لائن ورکشاپس کا اہتمام کیا جائے۔
4. مرکز سے صوبائی، ضلعی، تحصیل اور یو سی لیولز تک ایسا فریم ورک ہو، جس کے ذریعے کوئی بھی خبر یا پوسٹ چند منٹوں میں ہر یوسی تک پہنچ جائے۔ اس حوالے سے صوبہ پنجاب کی صوبائی ڈیجیٹل میڈیا سیل ٹیم نے باہمی مشاورت سے ایک فریم ورک تشکیل دیا ہے۔ جس پر مستقبل قریب میں عمل درآمد کرنے کی حتمی صورت بنائی جائے گی۔
5. جتنا اہم کام کو سپرد کرنا ہے اس سے زیادہ اہم اس کام کی رپورٹنگ ہے۔ اس کی اہمیت کو اگر آسان الفاظ میں بیان کریں تو ہمارے تبلیغی جماعت کے احباب کہتے ہیں کہ جس مشورے کی کارگزاری مضبوط ہو جائے، اس مسجد کا کام بڑھ جاتا ہے۔ رپورٹنگ کے اس عمل کو جتنا آسان اور شفاف بنایا جائے اتنا ہی ساتھیوں میں کام کرنا کا جزبہ پیدا ہوگا۔ اسی طرح سے جن ساتھیوں کی کارکردگی تسلی بخش ہو ان کی حوصلہ افزائی کی بھی کوئی ترتیب بنائی جائے۔
6. اس کے ساتھ ساتھ ٹویٹر پر ٹرینڈ چلانے کے حوالے سے ہر ہر تحصیل سے مجموعی ٹویٹس کی تعداد کی رپورٹ لی جائے۔ ٹویٹر ٹرینڈ کے حوالے سے مواد کانٹینٹ جنریٹر ٹیم کی جانب سے دیا جائے تاکہ کارکنان کو صرف کاپی پیسٹ کے ذریعے، زیادہ سے زیادہ ٹرینڈ میں حصہ لینا آسان ہو سکے۔
7. تمام اضلاع اور تحصیلوں کی جماعتیں ڈیجیٹل میڈیا کوآرڈینیٹرز کو اپنا ڈیجیٹل معاون سمجھتے ہوئے ان سے بھرپور تعاون کریں، اور انہیں اپنے ساتھ لے کر چلیں۔ ان کے ساتھ مخلص ٹیم تشکیل دیں۔
8. آخری اور سب سے اہم نکتہ یہ کہ انفرادی سرگرمیوں اور جماعتی سرگرمیوں کو سمجھا جائے۔ انفرادی سرگرمیوں کو اپنے پرسنل پیجز سے شائع کیا جائے اور ڈیجیٹل میڈیا پیجز پر عوامی سرگرمیوں کی بھرپور تشہیر کی جائے۔ کیونکہ ڈیجیٹل میڈیا سیل کے پیجز کی پوسٹس کا مقصد عوام کو جمعیتہ کے کام اور جمعیۃ کے مشن سے واقف کرنا ہے۔
اگر ان نکات پر عملدرآمد کر لیا جائے تو مجھے قوی امید ہے کہ وہ کام جو باقی جماعتیں بلیک ہیٹ ٹیکنیکس لگا کر کرتی ہیں، جمعیتہ کے لیے اللہ پاک اسی میں برکتیں عطا فرمائے گا اور یہ عام عوام کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ثابت ہوگا۔
اب جمعیۃ کے کارکنان کو ایک بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارا کسی ایک پوسٹ کو شیئر کر دینا یا کومنٹس کر دینا وہ قطرہ ہے کہ جو باقی قطروں سے مل کر ٹھاٹھیں مارتا سمندر بن جاتا ہے۔
یہ چند ایک نکات تھے جو ابھی ذہن میں آئے۔ اور آپ حضرات کی گوش گزار کر دیئے۔ ان شاءاللہ تعالیٰ کوشش رہے گی کہ وقتاً فوقتاً اس طرح سے اپنی استعداد کے مطابق ٹوٹے پھوٹے حروف پیش کرتا رہوں۔ کیونکہ اللّٰہ پاک کی ذات سے امید ہے کہ ان میں سے کوئی ایک بھی کام کی بات نکل آئی، کہ جس سے جماعتی کام کو فائدہ پہنچے تو یہ بندہ کی نجات کے لیے کافی ہو جائے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔

.jpeg)
ایک تبصرہ شائع کریں