مولانا فضل الرحمن مدظلہ کی جامع مسجد المحمود میں تقریب ختم قرآن کی روح پرور مجلس میں قرآن کریم اور رمضان المبارک کے باہمی تعلق اور اہمیت پر گفتگو

قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمن مدظلہ کی جامع مسجد المحمود میں تقریب ختم قرآن کی روح پرور مجلس میں قرآن کریم اور رمضان المبارک کے باہمی تعلق اور اہمیت پر گفتگو

12 مارچ 2026

الحمد للہ رب العالمین، الصلاۃ والسلام علی أشرف الأنبیاء والمرسلین، وعلی آلہ وصحبہ ومن تبعھم باحسان الی یوم الدین۔ اما بعد فاعوذ بااللہ من الشیطن الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ صدق اللہ العظیم

حضرات گرامی اس مبارک مرحلے میں آپ کی اس مجلس میں شرکت کو اپنے لئے سعادت سمجھتا ہوں۔ یہ مجلس قرآنِ کریم کی نسبت سے ہے اور جنابِ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ، إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ، وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ، جو لوگ اللہ کے گھر میں اکٹھے ہو جائیں اور پھر وہ قرآن کو پڑھیں اور ایک دوسرے کو سمجھائیں ان لوگوں پر اللہ تعالی کا پہلا انعام یہ ہوتا ہے کہ ان پر سکینہ نازل کر دیتے ہیں۔ سکینہ، سکون، اطمینان، طمانینت یہ ضد ہے اضطراب، پریشانی، پراگندگی کا اور علماء فرماتے ہیں کہ سکینہ دل کی اس کیفیت کا نام ہے جس وقت اس پر انوار کا نزول ہو رہا ہوتا ہے۔ اللہ تعالی اس مجلس کے ہر شریک کو اور جہاں جہاں قرآن کی محفلیں ہو رہی ہیں اور جہاں جہاں مسلمان اس میں شریک ہو رہے ہیں اللہ تعالی قرآن کے نور سے ان کے دل کو منور فرمائے۔

دوسرا انعام اللہ تعالی ان لوگوں پر یہ کرتا ہے کہ اللہ کی رحمت ان لوگوں کو ڈھانپ لیتی ہے، اس مجلس میں شریک تمام لوگوں کو اللہ کی رحمت ڈھانپ لیتی ہے۔ یہ دوسرا نقد انعام ہے اور تیسرا نقد انعام کہ اللہ کی رحمت کے فرشتے اس مجلس کو گھیر لیتے ہیں، اس منظر کو دیکھتے ہیں۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ آسمانوں تک تہہ بہ تہہ فرشتے اس منظر کو دیکھتے ہیں اور پھر اس احساس کا بھی اظہار کرتے ہیں کہ اچھا یہ وہ انسان ہیں جس کے تخلیق پر ہم نے اعتراض کیا تھا اور وہ اللہ کے گھر میں بیٹھ کر اللہ کا قرآن پڑھ رہے ہیں، سن رہے ہیں، سمجھا رہے ہیں۔ اور پھر چوتھا انعام جو اللہ کی طرف سے ان لوگوں کے اوپر ہے وہ یہ ہے کہ جس طرح ہم اپنی مجلس میں یہاں اللہ کو یاد کرتے ہیں، اللہ رب العزت اپنے ماحول میں ان لوگوں کو یاد کر رہا ہوتا ہے۔

اب آپ خود اندازہ لگائیں کہ اگر ہم جیسے غریب مسکین لوگ بادشاہوں کے کسی محفل میں، مجلس میں خیر سے یاد کیے جائیں تو ہر آدمی اس کو اپنے لئے اعزاز سمجھتا ہے، بادشاہوں کی مجلس میں ہمارا تذکرہ ہو رہا تھا اور اچھا تذکرہ ہو رہا تھا۔ تو اب جو سب کا شہنشاہ ہے اللہ رب العزت کی مجلس میں جن کا تذکرہ ہو رہا ہو، اللہ جن کو یاد کر رہا ہو، اس سے بڑھ کر ایک مسلمان کیلئے کیا اعزاز ہو سکتا ہے۔ تو رب العزت ہماری اس مجلس کو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا مصداق بنا دے۔

بہرحال آپ حضرات اور پوری امت ان دنوں میں اپنے علماء سے، اپنے اساتذہ سے رمضان المبارک کے فضائل سنتے رہتے ہیں کہ جہنم کے تمام دروازے بند ہو جاتے ہیں اور جنت کے تمام دروازے کھل جاتے ہیں، کیا مطلب ہے اس کا، ہمارے اور آپ کے ماحول میں جب کسی گھر میں شادی ہو رہی ہو یا کسی کا بچہ امتحان میں ڈگری حاصل کر کے گھر میں آتا ہے اور پھر اس ماحول میں جو خوشیاں ہوتی ہے، تو اس دور میں اگر محلے میں کوئی ناچاقی والی بات بھی ہو جاتی ہے تو گھر کے بڑے کہتے ہیں یہ خوشی گزرنے دو پھر دیکھیں گے، یعنی اپنی گھر کی خوشیوں میں اس قسم کی ابتلاء، مصیبت، مشکل کو داخل نہیں ہونے دیتے، تو اللہ رب العزت بھی اس مہینے کے رحمتوں میں کسی مشکل کو، کسی عذاب کو داخل نہیں ہونے دیتا، اس کا منشاء یہی ہوتا ہے کہ بس رحمتیں ہی رحمتیں ہو، رحمتیں ہی رحمتیں ہو، برستی رہیں اور جو مجھے یاد کرتا ہے اس مہینے میں، جنت کی طرف جائے، جنت کی طرف جائے، کوئی دوسری بات اس مہینے میں نہ ہو۔

تو یہ جو رحمت کا مہینہ ہے کہ آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں، یعنی رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں، پھر کہتے ہیں کہ شیطان باندھ لیے جاتے ہیں، قید کر لیے جاتے ہیں، اب جب شیطان قید ہو گیا تو پھر رمضان میں انسان گناہ کیوں کرتا ہے؟ گناہ کی طرف رغبت کیوں ہو جاتی ہے؟ اس لیے کہ انسان کے اپنے اندر بھی ایک نفس امّارہ ہے اور اپنا نفس آپ کو خواہش پیدا کرتا ہے اور اس خواہش کی طرف آپ کو لے جاتا ہے۔ کیونکہ شر دو طرح سے ہیں، ایک باہر کا شر ہے جو آپ پر حملہ آور ہوتا ہے، ایک اندر کا شر ہے جو نفس کا شر ہے، نفس کا شر بہت خطرناک ہے۔ آپ دیکھیں جب انسان باہر کے شر کی پناہ مانگتا ہے تو اللہ کو ایک صفت سے پکارتا ہے قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، بس ایک صفت سے اللہ کو پکار دیا، مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ

وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ

وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ

وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ،

تو باہر کی جو شر ہیں اس سے بچنے کے لئے اور اس سے پناہ لینے کے لئے اللہ کو ایک صفت سے پکارا گیا ہے۔ لیکن اپنے اندر کا جو شر ہے،

مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ

الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ

مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ

اپنے اندر کے شر سے جب آپ پناہ مانگتے ہیں تو اللہ کو تین صفات سے پکارتے ہیں، قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ

مَلِكِ النَّاسِ

إِلَٰهِ النَّاسِ

مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ

اپنے اندر کا جو شر ہے نفس کا جو شر ہے وہ اس قدر خطرناک ہے کہ ہمیں اپنے رب کو تین صفات سے آواز بھی دینی پڑتی ہے، تین صفات سے ہمیں اللہ کی طرف جانا پڑتا ہے۔

تو اس اعتبار سے ایک تو یہ ہے کہ اپنے شر سے بچو، وہ رمضان میں بھی آپ کے ساتھ ہے، تنہائی میں بھی آپ کے ساتھ ہے، جلوت میں بھی آپ کے ساتھ ہے اور یا اس کا معنی کچھ اور بھی ہے۔ یہ جو شیطان باندھ لیے جاتے ہیں یہ بہ اعتبار روزہ دار کے ہیں کہ رمضان کے مہینے کے اعتبار سے نہیں ہے، رمضان کے مہینے میں روزہ دار کے ساتھ اس کا تعلق ہے کہ روزہ دار جو ہے وہ اس مہینے میں اللہ کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے جب اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے سارا دن تلاوت کرتا رہتا ہے، پانچ وقت کی نماز باجماعت پڑتا ہے، تہجد پڑتا ہے، اوابین پڑتا ہے، اشراق پڑتا ہے، یہ سارا دن وہ اللہ کی طرف متوجہ رہتا ہے، ذکر اذکار کرتا رہتا ہے۔ تو ان چیزوں سے اس نے اپنے اردگرد ایسا حصار باندھ لیا، ایسا قلعہ باندھ لیا کہ شیطان قید ہے وہ آپ تک پہنچ نہیں سکتا، تو یہ بہ اعتبار روزہ دار کے ہیں۔ اسی طرح جس حدیث میں آتا ہے کہ پہلا حصہ وہ رحمت ہے اور دوسرا حصہ مغفرت ہے اور تیسرا حصہ جہنم سے آزادی ہے، اب ظاہر ہے کہ رمضان کا تو پورا مہینہ رحمت ہے، رمضان کا تو پورا مہینہ مغفرت ہے، رمضان کا تو پورا مہینہ جہنم سے خلاصی ہے، تو یہ جو تقسیم ہوئی ہے یہ بھی بہ اعتبار روزہ دار کے ہے کہ اس مہینے میں جب مسلمان داخل ہوتا ہے تو بعض لوگ اس مہینے میں داخل ہوتے ہی اتنے پاک ہوتے ہیں، ان کا دامن اتنا صاف ہوتا ہے کہ وہ داخل ہوتے ہی رحمتیں وصول کرنا شروع کر دیتا ہے، رحمتیں سمیٹ لیتا ہے فوری طور پر، لیکن اگر کسی کی دامن پر کچھ پراگندگی ہو، کچھ چھینٹے اس کو گناہوں کو لگے ہوئے ہوں، تو جب اس مہینے میں وہ داخل ہوتا ہے اور بخشش مانگتا ہے اور معافیاں مانگتا ہے تو جب وسط تک پہنچتا ہے وہ اللہ سے اپنے آپ کو بخشوا لیتا ہے۔ اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اس حد تک وہ گندے ہوتے ہیں کہ ان کا نام جہنمیوں کی لسٹ میں لکھا جاتا ہے، لکھ چکا ہوتا ہے، اب ایسا آدمی جب روزے میں داخل ہوا اور اس نے اللہ سے معافیاں مانگنے شروع کر دیا اور روتا رہا، گڑ گڑاتا رہا، یا الٰہی العالمین مجھ سے یہ گناہ، یہ گناہ، میری تو زندگی کی تباہ ہو گئی ہے، میں آپ کے سامنے کس طرح پیش ہوں گا، کس طرح میں منہ دکھاؤں گا تجھے یا اللہ، تو جب اول رمضان سے وہ اس کیفیت میں پڑتا ہے اور معافی مانگتا مانگتا مانگتا جب آخر تک پہنچتا ہے تو جہنم کی لسٹ سے اپنا نام کٹوا جاتا ہے۔

تو اس اعتبار سے بھی ہمیں رمضان المبارک کا فائدہ اٹھانا چاہیے۔ بہرحال ایک ہے علم، عام علم، اس علم کو حاصل کرنے کے لیے اللہ نے انسان کو عقل عطاء کی، اس میں جدید تحقیق ہے، نئے ایجادات ہیں، انکشافات ہیں، ٹیکنالوجی ہے، سائنسی ترقی ہے، فزکس ہے، کیمسٹری ہے اور یہ انسان کو تحقیق کے راستے دیتا ہے، کہاں کہاں انسان پہنچ جاتا ہے۔ لیکن اس علم کا تعلق مسلمان سے نہیں ہے، اس علم کا تعلق اگر مسلمان سے ہے بھی تو بہ وساطت انسان کے ہے، تو یہ علم اللہ نے حضرت آدم کو دیا! وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا، اور جو علم اللہ نے حضرت آدم کو دیا تو اس کا معنی یہ ہوا کہ اولاد آدم میں سب چیزوں کا علم حاصل کرنے کا استعداد ہوگا، چنانچہ کافر بھی علم حاصل کرتا ہے وہ بہت بڑا سائنس دان بن جاتا ہے، بہت بڑا ڈاکٹر بن جاتا ہے، بہت بڑا انجینئر بن جاتا ہے۔ لیکن جو خصوصی علم دیا گیا ہے جس پر اخروی کامیابیوں کا دارومدار ہے یعنی ابدی زندگی کی کامیابی کا دارومدار ہے، جو ذریعہ نجات ہے، آخرت میں وہ خاص علم ہے علم القرآن، قرآن کا علم دے دیا۔ اب قرآن کی علوم کو اگر بنیاد بنا کر ہم دنیا میں چلتے ہیں تو کوئی دنیاوی علوم پر پابندی تو نہیں ہے لیکن کہاں تک حاصل کرنے ہیں، یہ اس کے حدود ہیں اس سے آگے حرام ہے، اس سے پہلے حلال ہے، یہ حصے حرام ہیں، یہ حصے حلال ہیں، ادھر جاؤ، ادھر مت جاؤ، بجلی ہے اس کے تاروں میں کرنٹ ہے اس کا علم جاننا بھی ضروری ہے، اس کے استعمال کرنے کا طریقہ بھی جاننا ضروری ہے۔ ساری چیزیں اس میں شامل کر دی گئی ہیں کہ اس حد تک آپ اس کا تار پکڑیں گے تو آپ کو حق ہے کہ آپ اس کو استعمال کریں اور اگر آپ نے اس سے تجاوز کیا، ننگے تار کو ہاتھ لگایا اور اس میں کرنٹ ہو تو یہ تباہ کر لے گا تمہیں، پانی ہے ایک حد تک آپ کے لیے فائدہ کا باعث ہے، لیکن یہی پانی کسی وقت تباہی کا سبب بھی بنتا ہے، تو اس حد تک پھر بچو، پانی کی گرمی ہے، ابلتا ہوا پانی آپ استعمال نہیں کر سکتے، اتنا ٹھنڈا پانی کہ جیسے برف ہو آپ نہیں استعمال کر سکتے، تو اعتدال کی ضرورت ہے کہ اس حد تک پانی ہوگا تو آپ استعمال کریں گے اس سے آگے نقصان کرے گا۔

تو قرآن کریم اخروی کامیابیوں، روحانی کامیابیوں، دل کے اندر کی نورانیت، اس کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور یہ یاد رکھیں ہم آنکھیں رکھتے ہیں اس کے اندر بینائی ہے، مکمل بینائی صحت مند، جب تک باہر کی روشنی مہیا نہ ہو، ابھی رات کے اندھیرے میں آپ لائٹ بجا دیں باہر بھی کچھ نہیں ہے، چاند بھی نہیں ہے ستارے بھی نہیں ہیں، سب چپ ہو گئے۔ تو اس کے بعد آپ بتائیں آپ کی مکمل بینائی اب کام نہیں کر رہی، کچھ بھی آپ کو نظر نہیں آ رہا، تو عقل کو بھی جب تک وحی کی رہنمائی حاصل نہیں ہوتی، عقل اندھی ہو جاتی ہے، ٹھوکریں کھاتی ہے، تو ہم پر غالب ہو گئے ٹھوکر کھالی، غضب غالب ہو جائے ٹھوکریں کھالی، شہوانی خواہشات غالب ہو جائیں ٹھوکریں کھالی، حس غالب آگئی ٹھوکریں کھاتی ہے، لیکن اعتدال میں صحیح طور پر انسان کی رہنمائی اگر کرتا ہے تو وحی اس لئے کرتا ہے کہ وحی میں غلطی اور ٹھوکر کا کوئی امکان نہیں ہے۔ وہ اللہ کا براہ راست ہدایت نامہ ہے جو انسان کو عطاء ہوتا ہے۔

تو اللہ رب العزت ہمارے دلوں میں یہ کیفیت پیدا کرے اور پھر حضرات گرامی جس طرح ہر مسلمان کہتا ہے کہ قرآن رمضان میں نازل ہوا ہے، اسی طرح پاکستانی کہتا ہے کہ پاکستان رمضان میں بنا ہے، اب اس سے آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جب قرآن بھی رمضان میں نازل ہوا اور ہمارا ملک بھی رمضان میں بنا ہے تو قرآن کا کتنا حق ہے ہمارے اوپر، کیا ان اٹھتر سالوں میں ہم نے کبھی اس نعمت کا احساس کیا ہے کہ ہم اپنے ملک کو قرآن کریم کا گہوارہ بنا دیں، اپنے عقل سے کہتے ہیں یہ ضروری ہے، یہ کام کرنا ہے چاہے وہ شریعت سے متصادم ہو، اب باقی باتیں چھوڑو قرآن کریم خود رسول اللہ ﷺ کے بارے میں فرماتے ہیں! يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ، اے ایمان والو اپنے آواز رسول اللہﷺ کے آواز پر اونچی نہ کرو، اگر صرف آواز اونچی کرنے کی اجازت نہیں ہے تو پھر رسول اللہﷺ کے قانون کے اوپر کسی اور قانون کو بالاتری دینا یہ کب جائز ہوسکتا ہے، اور ہمارا ملک ہے جس میں علماء کو اہل ہی نہیں سمجھا جاتا اس کا کہ وہ ملک پر حکومت کریں اور اس اسمبلیوں میں آئیں، تو کون رہنمائی کرے گا آپ کی، تو پھر یہی ہوگا کہ قرآن و سنت کے خلاف قانون سازیاں ہوں گی۔ آئین کہتا ہے کہ قرآن و سنت کے مطابق قانون سازیاں ہوگی، ہماری مرضی ہے ہم اپنی مرضی سے کریں گے!

وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ،

کسی بھی مؤمن مرد کے لئے کسی بھی مؤمن خاتون کے لئے جب کہ اللہ اور اس کا رسول فیصلہ دے چکا ہو اس میں سر مو تبدیلی کا اختیار نہیں رکھتا، اور ہم ان فیصلوں کو سائڈ پر رکھ کے کہتے ہیں ہمارا عقل صحیح کام کرتا ہے، ہمیں اس کی ضرورت ہے قرآن کریم کی ہدایت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔

تو کہاں سے خیر آئے گا، تو ہمت کرنی چاہیے کہ ہم اپنے ذہن تبدیل کریں، اپنے سوچ میں تبدیلی لائیں، ہر نئی چیز ہمیں بڑی خوبصورت نظر آتی ہے اور جو کوئی نیا فلسفہ بتا دے، جو قرآن سے متصادم ہو، چاہے اس کی کوئی سند نہیں ہے، چاہے وہ پوری اسلامی تاریخ میں کہیں کوئی تشریح نہیں ملتی ہم ان کو اپناتے ہیں، ان کو ہم جدید تحقیق کہتے ہیں، نیا اجتہاد کہتے ہیں، کیا باتیں ہیں جو ہم کر رہے ہیں۔

تو اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کریم سے وابستہ رکھیں، پس علماء کرام سے آپ کا رابطہ ہونا چاہیے، یہاں پر باقاعدہ درس قرآن کا نظام ہونا چاہیے، درس حدیث کا نظام ہونا چاہیے، تاکہ یہاں پر آنے والے جو مقتدی ہیں، جو محلے دار ہیں، قریبی لوگ ہیں وہ استفادہ کریں۔ باقی تو کاروبار ہے لوگوں کا، وہ تو کاروبار میں چلے جاتے ہیں، سارا دن مصروف رہتے ہیں بچوں کے لئے روزی کماتے ہیں، لیکن اگر اہتمام کیا جائے کہ بھئی آپ صبح اور شام کو درس میں شریک ہوں آدھا گھنٹے کا درس، پونے گھنٹے کا درس، تو پھر جس محاذ میں بھی جائے وہ اس دین کی رہنمائی لے کر آگے جائے گا، ہر کام کرے گا تو سوچے گا حلال ہے یا حرام ہے، جائز ہے یا ناجائز ہے، میں یہ کام کروں یا نہ کروں، ورنہ پھر اندھا دھند چلتا رہے گا جو ہاتھ میں آیا جائز آیا ناجائز آیا، حرام آیا حلال آیا، اس کی پرواہ نہیں۔

تو یہ وہ چیزیں ہیں جو رمضان شریف ہمیں عطاء کرتا ہے، قرآن کریم ہمیں عطاء کرتا ہے، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہمیں عطاء کرتی ہے اور ہمارے اس مہینے کو اللہ تعالی ہمارے لئے رحمتوں کا مہینہ ثابت فرمائے، مغفرت کا، جہنم سے آزادی کا اور زندگی بھر کی اصلاح کا سبب بنائے، ہماری زندگیاں اصلاح کریں ہم ان کی آگے بڑھتے رہیں خاندان میں اصلاح کریں سب کو آمادہ کریں دین کے نام پر، گھر کے لوگوں کو بھی نماز پڑھانے کی ترغیب دو اور خود بھی نماز پڑھنے کے لیے استقامت کرو اس کے اوپر، ڈٹے رہو، باقی رزق تو اللہ کہتا ہے کہ ہم تم سے کوئی رزق نہیں مانگ رہے، رزق بھی تو ہم ہی دے رہے ہیں، تو دین اور رزق، رحمت اور فضل جب دونوں لفظ بولے جاتے ہیں تو عام طرف پر رحمت سے روحانی مدد مراد ہوتی ہے اور فضل سے مادی جو رزق ہے وہ مراد ہوا کرتا ہے، جس سے جب آپ مسجد میں داخل ہوتے ہیں تو یہ روحانی مرحلہ ہوتا ہے، عبادت کے لئے داخل ہوتے ہیں تو آپ کہتے ہیں اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ، اللہ میرے لئے رحمت کے دروازے کھول دے، لیکن جب مسجد سے باہر نکلتے ہیں اور کاروبار کی طرف جاتے ہیں تو اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ، تو پھر اللہ کا فضل مانگتے ہیں، یعنی حلال روزی مانگتے ہیں۔

اللہ تعالی ہماری رہنمائی فرمائے، زندگی بھر کی خطائیں اللہ ہماری معاف فرمائے اور قرآنِ کریم کی رہنمائی میں زندگی گزارنے کی اللہ ہمیں توفیق عطاء فرمائے۔

وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔

‎ضبط تحریر: #سہیل_سہراب

‎ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز 

‎#teamJUIswat 


0/Post a Comment/Comments