مولانا فضل الرحمان صاحب کا مشال ریڈیو کے نمائندے طاہر خان کے ساتھ خصوصی انٹرویو

قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمان صاحب کا مشال ریڈیو کے نمائندے طاہر خان کے ساتھ خصوصی انٹرویو

پشتو سے اردو ترجمہ

05 مارچ 2026

طاہر خان: بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

پاکستان اور افغانستان کی موجودہ صورتحال پر جمعیۃ علماء کے امیر حضرت مولانا فضل الرحمان صاحب کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں۔

بہت شکریہ مولانا صاحب وقت دینے کا۔

میرا پہلا سوال یہ ہے کہ کیا آپ اس موقف کی تائید کرتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے حالات اس نہج پر پہنچ چکے تھے کہ جنگ شروع ہو جائے؟

مولانا صاحب: بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

حضرت، بنیادی بات یہ ہے کہ ہم سیاسی لوگ ہیں اور اپنی سیاست میں بندوق کے لیے کوئی جگہ نہیں دیکھ رہے۔ تو ظاہری بات ہے کہ ہماری تربیت ہی ایسی ہوئی ہے کہ بات چیت، سفارتی راستے اور سیاسی راستے اختیار کیے جائیں۔ پاکستان اور افغانستان کا ماحول کبھی ایسا نہیں رہا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ بات نہیں کر سکتے۔

ضروری نہیں کہ حکومت بات چیت کے لیے صرف اپنے سرکاری وسائل استعمال کرے یا بات چیت کے لیے ریاستی شخصیات کو استعمال کیا جائے۔ اس ملک میں ہماری بہت بڑی آبادی ہے، ہر فکر اور ہر طبقے کے لوگ موجود ہیں۔ ایسے بہت سے لوگ ہوں گے جن کے ہندوستان کے ساتھ مراسم ہوں گے، تعلق ہوگا، جو پبلک ٹو پبلک ریلیشن اور تعلقات ہوتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان میں بہت سے لوگ ہیں جو افغانستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں اور اس حوالے سے وہاں اپنی ایک تاثیر رکھتے ہیں۔ اسی طرح ایران میں ہمارے کتنے پاکستانی ہیں جو وہاں کے مختلف طبقوں میں اپنی تاثیر رکھتے ہیں۔

تو جب حکومتی اداروں میں کوئی کام نہیں ہو پاتا اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ تو ایک رسمی سی حیثیت ہے اور رسمی حیثیت میں بعض اوقات بندہ اپنے حدود سے باہر نہیں جا سکتا تو پھر وہ اپنے ملک کے عوام سے کام لیتی ہے، سیاسی لوگوں سے کام لیتے ہیں اور ان کو درمیان میں لاتے ہیں۔ تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ملک میں یکجہتی ہے، ہم ایک پاکستان کے لیے فکرمند ہیں، ایک پاکستان کے لیے ہم سب سوچتے ہیں، ہم سب اس ملک کے غم خوار ہیں۔

تو میرا تو ذاتی تجربہ ہے کہ آج سے دو سال پہلے میں نے افغانستان میں ایک ہفتہ گزارا اور میں الحمدللہ کامیاب واپس لوٹا۔ ہاں البتہ گلے شکوے ان کے بھی تھے، گلے شکوے ہمارے بھی تھے، ان کو ہم نے ایک مقام تک پہنچایا۔ لیکن باوجود اس کے کہ ہمارے اسٹیک ہولڈرز نے میری باتوں کی تائید بھی کی، تحسین بھی کی، آگے اس کو کیسے چلائیں گے اس پر بھی بات ہوئی تو پھر کیوں بگاڑ آگیا اور وہ انجام تک نہیں پہنچی۔

اس کی یقیناً ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ تھوڑا ہم بھی ان لوگوں سے ناراض ہوگئے، ان کے رویوں سے، الیکشن میں ان کی مداخلت سے اور اپنی مرضی کے نتائج نے ہماری جماعت کو بڑا نقصان پہنچایا اور قصداً پہنچایا ہے۔ تو یہی بنیادی وجوہات تھیں جس کے بعد ہم نے رابطے نہیں کیے۔

طاہر خان: مولانا صاحب! یہ تو پاکستان کا موقف یا جو بھی ہے آیا، افغان طالبان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کیوں وہ پاکستان کے حوالے سے اندیشہ رکھتے ہیں؟ جیسے آپ نے بات کی ڈیپلومیسی اور سفارتکاری کی، اور پاکستان کہہ رہا ہے کہ ساڑھے چار سال ہم نے ان کے ساتھ بات چیت کی۔ اور ان کی نظر میں فوج اور غیر سیاسی حکومت ہے، جبکہ پاکستان میں جانی نقصان طالبان کے آنے کے بعد زیادہ ہوا ہے۔ تو وہ کیوں، یا ہمیں لے لیں یا ٹی ٹی پی کو، تو وہاں کیوں تبدیلی نہیں آ رہی؟

مولانا صاحب: ایک تو یہ ہے کہ شکایت درست ہے یا غلط، میرے خیال میں پاکستان کی شکایت جائز ہے۔ کیوں کہ بہرحال پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے ان کے مراکز وہاں ہیں۔ اب ہمارے لیے تو یقیناً تکلیف کا باعث ہے۔ ہمارے فوجیوں پر حملے ہوتے ہیں، ہماری پولیس پر حملے ہوتے ہیں، ہمارے بینکوں پر حملے ہوتے ہیں، ہمارے سرکاری ملازمین اغوا ہوتے ہیں اور یہی نقصان پاکستان کے لوگوں کو پہنچ رہا ہے۔

تو شکایتیں تو بجا ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ امارتِ اسلامی واقعی ان کی سرپرستی کر رہی ہے یا وہ بے بس ہیں۔ میں نے جو ایک ہفتہ کی مذاکرات کا نچوڑ نکالا تھا وہ یہ کہ ان کو مسئلے کے حل میں دلچسپی تھی، لیکن پاکستان کو عجلت تھی اور ان کو مہلت چاہیے تھی۔ اسی عجلت اور مہلت کے بیچ بات بگڑ گئی۔

اب جب کہ پاکستان اور افغانستان کی فوجیں آمنے سامنے ہیں، میرے خیال میں ایسے ماحول میں ذاتی تبصرہ اتنا مفید نہیں ہوگا۔ اور میں تو اب بھی یہی کہتا ہوں کہ اب بھی بات چیت کی گنجائش موجود ہے، اب بھی موقع ہے کہ بات چیت کی جائے اور غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہا جائے، حق کو حق اور ناحق کو ناحق کہا جائے، اور حکمت کے ساتھ۔

تو حضرت، افغانستان تو ایک ایسا ملک ہے کہ ہمارا اور ان کا دو ڈھائی ہزار کلومیٹر پر محیط بارڈر مشترک ہے۔ اور پھر ہماری قوم ایک ہے، یہاں بھی پختون اور اس طرف بھی پختون۔ ایک بھائی کا گھر پاکستان میں اور دوسرے کا افغانستان میں، یا گھر افغانستان میں تو مسجد پاکستان میں ہے، امام افغانستان میں کھڑا ہے اور مقتدی یہاں کھڑے ہیں۔ ایسا ہمارا سرحد ہے۔

پھر باجوڑ سے لے کر چمن تک اتنی لمبی سرحد پر دونوں طرف پشتون آباد ہیں۔

اب میرے پاس قبائل بھی آئے ہیں، میرے پاس پاکستان بلوچستان کے پشتون بھی آئے ہیں، بارڈر پر بیٹھے تاجر بھی آئے ہیں۔ اس میں کاروباری طبقہ اور مزدور کار طبقہ دونوں آئے ہیں اور سب نے یہاں فریاد کی ہے، لیکن بات ابھی تک بنی نہیں ہے۔ 

طاہر خان: مولانا صاحب، آپ وزیرِاعظم کی سرپرستی میں اجلاس میں بھی گئے تھے، افغانستان بھی ایک موضوع تھا۔ آپ ڈیپلومیسی اور مذاکرات کی بات کرتے ہیں اور پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ گزشتہ ادوار میں جب کوئی مشکل پیش آتی تھی، ایسی تو نہیں ہوتی جیسا کہ اب ہے، لیکن مسائل پیدا ہوئے ہیں تو نواز شریف صاحب نے 2015 میں بڑوں کو وہاں جرگہ کی صورت میں بھیجا تھا۔

کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ مولانا فضل الرحمان صاحب اور جمعیۃ علماء اسلام، جن کا ایک رول رہا ہے اور ان کے ساتھ تعلقات بھی ہیں، آپ وہاں گئے تھے، آپ دوسری خارجی شخصیت ہیں جنہوں نے طالبان امیر کے ساتھ ملاقات کی۔ کیوں اب مولانا صاحب اور ان کی پارٹی، جماعت اسلامی، پختون ملت پارٹی اور سیاسی پارٹیوں کا کیا رول باقی رہ گیا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کو ملانے اور جنگ بندی میں اپنا کردار ادا کریں؟

مولانا صاحب: طاہر خان صاحب، اصولی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ ملکوں کے درمیان جو باتیں ہوتی ہیں وہ حکومتیں کرتی رہتی ہیں۔ ملک کی نمائندگی صرف حکومت کرتی ہے۔ پھر حکومت کے ساتھ جڑے ادارے ایک حکمتِ عملی بناتے ہیں۔

عوام کی عوام کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ہوتی۔ نہ تو پاکستانی عام شہری کی کسی ہندوستانی کے ساتھ دشمنی ہے، نہ ہمارے عام عوام کی افغانستان کے ساتھ کوئی دشمنی ہے اور نہ ہی کسی ایرانی کے ساتھ دشمنی ہے۔ لیکن ریاستیں ایک دوسرے سے گلے بھی کرتی ہیں، ایک دوسرے پر الزام بھی لگاتی ہیں، ایک دوسرے کے مدمقابل بھی ہوتی ہیں۔ یہ ایک الگ موضوع ہے جس پر اصل ذمہ دار اور مخاطب حکومت ہوتی ہے۔

لیکن اگر حکومت یہ خواہش ظاہر کر دے کہ ہم عوامی سطح پر رابطہ قائم کرنا چاہتے ہیں تو کس نے انکار کیا ہے؟ نہ میں نے انکار کیا ہوگا نہ کسی اور نے کیا ہوگا۔ لیکن جس کی بات کی وہاں تاثیر ہو، جس کی بات سنی جاتی ہو، اعتماد کے ساتھ بات کر سکتا ہو تو پھر حکومت بھی جانتی ہے کہ وہ کون ہے۔ اور جس کی طرف وہ متوجہ ہو تو وہ اپنی وطن کی خاطر انکار بھی نہیں کر سکتا۔

لیکن ابھی تک یہ اپنے لیول پر اسے ہینڈل کر رہے ہیں اور ملک کے اندر شخصیات یا تنظیموں کے ساتھ رابطہ نہیں کیا ہے جو اس مسئلے کے حل کے لیے کوئی کردار ادا کر سکیں۔

طاہر خان: تو اگر یہی صورتحال اسی طرح جاری رہی، آپ کیا سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان دونوں حکومتوں، یا آپ نے عوام کا ذکر کیا، ان کا مستقبل کیا ہوگا؟ پہلے پاکستان میں ایک سوچ پائی جاتی تھی کہ اگر مشرقی سرحد پر ہندوستان کے ساتھ حالات خراب ہیں تو مغربی سرحد پر کم از کم سکون ہوگا، اب تو دونوں طرف گرم ہے۔

مولانا صاحب: یہی تو بڑا سوال ہے۔ اسی ہندوستان کے مسئلے میں تو حکومت نے بھی مجھے نہیں کہا تھا۔ دو ہزار تین میں کیا صورتحال تھی؟ ٹرین بند، بس بند، زمینی راستہ بند اور فضائیں بند، باہمی رابطہ ختم تھا۔ ہماری اور ان کی ہائی کمیشنز دہلی یا اسلام آباد میں اسٹینوگرافر لیول تک آگئی تھیں، ہائی کمیشن خالی تھا۔

ایسے حالات میں جمعیۃ علماء اسلام کا وفد گیا ہے، ہم خود گئے ہیں اور ہم نے وہاں دس دن گزارے۔ ایسی کوئی شخصیت نہیں تھی جو کچھ حیثیت رکھتی ہو اور ہم ان سے ملے نہیں ہوں، وزیراعظم سے لے کر قائدِ حزبِ اختلاف تک، سیاسی پارٹیاں، انتہا پسند سب کے ساتھ ہم نے ملاقات کی۔ اور ہم نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ جنگ نہیں کریں گے اور مذاکرات کریں گے۔

یہ ایک لفظ استعمال کرتے تھے کہ گولی نہیں، بولی۔ بولی سے کام لیں گے۔

اور الحمدللہ ہمارے آنے کے چھ یا سات ماہ کے اندر وہ تمام معاملات حل ہوگئے اور پھر ان کے وفود یہاں آگئے اور بڑوں سے ملاقات کی۔

تو بات چیت کا فائدہ ضرور ہوتا ہے۔ پاکستان سے اگر آج کچھ بااثر لوگ وہاں جا کر بیٹھ جائیں اور ان سے کہیں، تو حضرت اگر ان لوگوں نے روس اور امریکہ کے خلاف جنگ کی ہے تو کہیں اور نہیں گئے ہیں، یہاں پاکستان آ کر آباد ہوئے ہیں اور ان کو کور یہاں کی حکومت نے دی تھی، ہم نے دی تھی۔

تو ہر کسی کے ساتھ شناخت ہے۔ ہم ان کو پہچانتے ہیں، یہ ہمیں پہچانتے ہیں۔ تو ہم ایک پرسکون اور بے تکلفی والے ماحول میں ایک دوسرے کے ساتھ بات کر سکتے ہیں۔ لیکن فی الحال تو ماحول بنا نہیں ہے، اس ماحول میں تو بات چیت مشکل ہے۔

طاہر خان: اچھا پچھلی دفعہ جب آپ گئے تھے اور طالبان امیر کے ساتھ ملاقات کی تو اس کی سوچ کیا تھی؟ کیوں کہ مشکلات تو اس وقت بھی تھیں جب آپ گئے تھے، تو ان کی پاکستان کے تعلقات کے حوالے سے سوچ کیا تھی؟

مولانا صاحب: حضرت، بات چیت تو مختلف شعبوں کے حوالے سے ہوئی تھی؛ سرحدات کے حوالے سے، تجارت کے حوالے سے، مہاجرین کے حوالے سے، مسلح جو گروپ ہیں ان کے حوالے سے۔ تو یہ دوسرے موضوعات تو ہم نے کابل میں طے کیے، لیکن جو مسلح گروہ پاکستان آتے ہیں یہ مسئلہ ان کے ساتھ طے کیا۔ اور انہوں نے کہا کہ میں بالکل پاکستان کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لیے تیار ہوں، ہم قطعاً جنگ نہیں چاہتے، لیکن آپ عجلت سے کام نہ لیں، کیوں کہ آپ کے حالات اور ہیں اور ہمارے حالات اور ہیں۔

اب ہم تو پاکستانی ہیں، حکومت کو بہت اچھا بیانیہ بنانا اور باتیں بنانا آتی ہیں، لیکن میری اپنی ایک سوچ ہے کہ بجائے اس کے کہ ہم ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرائیں کہ تو نے یہ کیا ہے اور میں نے یہ کیا ہے، اس سے اجتناب کریں گے، اور پھر آ کر یہ دیکھیں گے کہ مسئلے کا حل کیا ہے، تو پھر اللہ تعالیٰ خود فرماتے ہیں کہ صلح میں خیر ہے۔ تو جب لوگ صلح کے لیے اقدام اٹھاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آپ میرے لیے کریں، میں آپ کے لیے آسانیاں پیدا کروں گا اور راستے نکالوں گا۔

تو ان شاء اللہ العزیز میرا یقین ہے، کیوں کہ ایسے حالات میں قرآن کریم ہمیں کہتا ہے کہ اگر دو طائفے لڑ پڑیں تو تم جا کر ان کے بیچ صلح کیا کرو۔ اب یہ صلح کون کرے گا؟ اسلامی دنیا ہی کرے گی، کیوں کہ قرآن کریم نے مسلمانوں کو خطاب کیا ہے۔ تو ایمان والوں کی طرف اشارہ ہے کہ اگر دو فریق لڑ پڑتے ہیں تو تم جا کر ان کے بیچ صلح کرو۔ اب یہ ذمہ داری اسلامی ممالک کی ہے اور میں اب یہ کہتا ہوں کہ اگر اسلامی دنیا نے سنجیدگی کے ساتھ مسلمانوں کے بیچ صلح کرانے کے لیے آمادہ ہو جائے تو یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔

طاہر خان: ایک آخری سوال، آپ نے خود اسلامی ممالک کی بات کی۔ مولانا صاحب محترم! مسئلہ کیسے حل ہوگا کہ اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملہ کر دیا، ایران نے جوابی حملہ کر دیا۔ سعودی عرب، ترکی، بحرین، متحدہ عرب امارات — تو مسئلہ کیسے حل ہوگا کہ ایک مسلمان نے دوسرے مسلمان پر حملہ کر دیا اور ان کا یہ کہنا ہے کہ آپ نے امریکہ کو اڈے دیے ہیں؟

مولانا صاحب: اس میں بھی اسلامی دنیا میں ایک کمزوری ہے کہ ہم فلسطینیوں سے یہ کہا ہے کہ یہ آپ کا کام ہے اور آپ کا مسئلہ ہے۔ بیت المقدس ان کے حوالے کر دیا ہے اور اس کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ یہ تو پہلے دن سے حالتِ جنگ میں ہے۔ اب حملہ آج کس نے کیا، انہوں نے کیا یا اس نے کیا، لیکن حالتِ جنگ میں ہے، اب یہ نہیں دیکھا جاتا۔ لیکن بہرحال تین سال تک فلسطینی شہید ہوئے، ستر ہزار تک بچے، عورتیں، بوڑھے جو اس جنگ میں شریک نہیں تھے وہ شہید ہوگئے۔ پھر ڈیڑھ لاکھ تک بے گھر ہوگئے، اتنے ہی زخمی پڑے ہیں، اتنے ہی لوگ بیماری اور بھوک کی وجہ سے مر گئے۔

تو اس میں کسی حکومت نے خاص کردار ادا نہیں کیا، اس حد تک کہ مصر نے اتنا راستہ نہیں دیا کہ ان تک خوراک پہنچائی جا سکے۔ ایسی حالت میں ایک قوم زندگی گزار رہی ہو تو اسلامی دنیا کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ وہ کرب کیوں انہوں نے محسوس نہیں کیا؟ اب یہ اٹھ کر کہہ رہے ہیں کہ ہم امن لانا چاہتے ہیں، خون خرابہ بند کرنا چاہتے ہیں، جب ان پر سب کچھ بیت گئی۔

ٹرمپ آیا، اقوامِ متحدہ کو بائی پاس کیا، سلامتی کونسل کو بائی پاس کیا، اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کو بائی پاس کیا، اور ٹرمپ کے بیس نکات آگئے۔ اور بیس نکات بھی وہ جو پہلے ہمیں دکھائے گئے اور پھر اس میں تبدیلی کی۔ اس کی مرضی کہ وہ بیس نکات کیا بناتے ہیں اور کیا نہیں بناتے۔ پھر اس میں ایک بورڈ آف پیس جسے میں بورڈ آف وار کہتا ہوں۔ اس بورڈ میں ایک بھی فلسطینی نہیں ہے، یعنی حماس تو دور کی بات، وہ اتھارٹی بھی نہیں ہے، اور نیتن یاہو اس کا رکن ہے۔ اور پاکستان جا کر اس میں شمولیت اختیار کرتا ہے۔

آپ اس کردار پر امتِ مسلمہ کو کیسے مطمئن کریں گے؟ ایک شخص کے کہنے پر یہ دوڑ رہے ہیں اور کوئی یہ سوال نہیں اٹھا رہا کہ انسانی حقوق کا چارٹر، قانون اور ضابطے، ابھی تک جو معاہدے ہوئے ہیں وہ کیا ہیں۔ تو نہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جو بات چیت ہوئی ہے، یا دوسرے عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان جو معاہدے ہوئے ہیں، کسی ایک کا حوالہ موجود نہیں ہے۔ اور پھر اس کے بعد بین الاقوامی قوانین ہیں، ضابطے ہیں، انسانی حقوق کا چارٹر ہے، اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ایک فردِ واحد ہے اور اس کے بیس نکات دنیا کے لیے قانون بن گئے ہیں۔

تو ایسے حالات میں جس وقت اسلامی دنیا کی ضرورت تھی وہ کردار انہوں نے ادا نہیں کیا۔ اور بس یہ پوچھ رہے ہیں کہ انہوں نے کیوں جنگ شروع کی۔ تو وہ تو روزِ اول سے حالتِ جنگ میں ہیں، انہوں نے صلح کب کی ہے؟ اور معاہدے ہوئے ہیں۔ ابھی ایک امن معاہدہ ہوا ہے، ٹرمپ کے بیس نکات آگئے امن کے لیے، بورڈ آف پیس بیٹھ گئی، میٹنگز ہوئیں، اس کے باوجود وہاں پر بمباریاں چل رہی ہیں۔

اب ہمارے لوگ کیا تاویل کرتے ہیں کہ اس سے پہلے تو روزمرہ اموات کی تعداد اتنی تھی اور اب تو بہت کم ہوگئی ہے، زخمیوں کی تعداد کم ہوگئی ہے۔ کیا ہم یہی حساب کریں گے کہ کل سو مرے تھے اور آج بیس مرے ہیں؟ تو سو اور بیس کا فرق آگیا، تو کیا یہی کامیابی ہے؟

ایک ملک جارح ہے، ظلم کر رہا ہے، سفاک ہے اور قاتل ہے، اور بورڈ آف پیس کا رکن بھی ہے، اور خلاف ورزی بھی کر رہا ہے، اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ اور فلسطینی بات نہیں کرے گا تو نتیجہ یہ ہے کہ یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ جو شخص ہمیشہ جنگ کرتا رہتا ہو اور آپ کے ساتھ بات چیت نہیں کرتا اور باہر باہر بات کر رہا ہو کہ ان کا کیا کام اور ان کا کیا کام، اس سے جنگ ختم نہیں ہوتی۔

اور پھر یہ مسلم ممالک آ کر غزہ میں اکٹھے ہوں گے، حماس کو غیر مسلح کریں گے، تو وہ تو حالتِ جنگ میں ہے اور یہ تو آپ اس کے خلاف جنگ شروع کر رہے ہیں۔ تو اب اسرائیل نے ساری دنیا کو اکٹھا کر دیا اور ان سے اسلحہ جمع کر کے کہ تم بدامنی کے ذمہ دار ہو۔ تو ایسی بے انصافی جب دنیا میں ہو رہی ہو تو امن کہاں سے آئے گا۔

تو میں جو بات آپ سے کر رہا ہوں یہ اصولوں کی بنیاد پر کر رہا ہوں۔ جو تصویر آج بنی ہے تو اس میں آپ کے سارے سوالات ٹھیک ہیں کہ نہ افغانستان میں کوئی رول ادا کرنے والا رہ گیا اور اب تو ایران بھی میدانِ جنگ میں کھڑا ہوگیا ہے۔ تو اب وہ کہہ رہا ہے کہ میں عرب کے ساتھ جنگ نہیں کر رہا بلکہ وہاں پر جو امریکی اثاثے ہیں ان پر حملے کر رہا ہوں اور ان کی شخصیات پر کر رہا ہوں۔ تو کیا یہ بات لوگوں کو اطمینان دے سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ یہ شکایتیں پیدا کرنے کا موقع دے گی۔ اسلامی دنیا میں شکایت پیدا ہوگی، ایران اور ان کے درمیان گلے شکوے پیدا ہوں گے۔

اور پھر ہم نے جو اسے دیے ہیں وہ اسی نیت سے دیے ہیں کہ امریکہ یہاں موجود ہوگا تو میں محفوظ رہوں گا۔ آج نتیجہ یہ نکلا کہ وہ ان کے لیے مصیبت بن گئی، آزمائش بن گئی۔

تو حضرت، ایسے ممالک بھی ہیں جو بننے سے لے کر آج تک انہوں نے گولی کی آواز نہیں سنی ہے، اس سے وہ سب متاثر ہوگئے ہیں۔

طاہر خان: بہت بہت شکریہ۔ یہ تھے مولانا فضل الرحمان صاحب، جمعیۃ علماء اسلام کے امیر، جن کے ساتھ ہم بات چیت کر رہے تھے۔

ضبطِ تحریر: #سہیل_سہراب

ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز

#teamJUIswat


0/Post a Comment/Comments