لاہور: قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کی میڈیا سے اہم گفتگو
13 مارچ 2026
:صحافی اس وقت ایران، فلسطین، بیت المقدس اور اسلامی دنیا کے مسائل کے بارے میں آپ کیا سمجھتے ہیں؟ کیا یہ کسی ایک ملک یا پارٹی کا مسئلہ ہے؟
مولانا صاحب: میرا خیال ہے کہ یہ کسی ایک شخصیت یا کسی ایک پارٹی سے پوچھنا شائد یہ مقصد پورا نہ کر سکے۔ اس وقت پوری امتِ اسلامیہ کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا اور از سر نو اپنے مستقبل کو طے کرنا ہے۔
تاریخ نے ہمیں بہت کچھ سکھایا ہے۔ امریکہ اور مغربی دنیا کی دوستیوں کے جو نتائج نکلے ہیں وہ آج پوری امتِ اسلامیہ پر ظاہر ہو رہے ہیں۔ جو کام گزشتہ چار پانچ دہائیوں میں اسلامی دنیا کے تحفظ کے نظریے پر کیے گئے، آج وہی فیصلے وہی اقدامات عدم تحفظ کا سبب بن رہے ہیں۔ فلسطین صرف ایران کا مسئلہ نہیں ہے اور بیت المقدس بھی صرف ایران کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کا مسئلہ ہے۔ اس لیے امت کی سطح پر ایک متحد اور مضبوط موقف کی ضرورت ہے۔
لیکن بدقسمتی سے ہم اپنی داخلی لڑائیوں میں الجھ گئے ہیں۔ یقیناً ہمارے سامنے القدس کا مسئلہ بھی ہے، فلسطین کی آزادی کا مسئلہ بھی ہے۔ عرب دنیا کے لیے ہمارے خیرسگالی کے جذبات بھی ہیں۔ ان کی دوستی اور ان کی ترقی ہمارا مقصود ہے، لیکن پاکستان میں آج ہم جن حالات سے دوچار ہیں انڈیا کی طرف ہماری پوری سرحد اس وقت حالت جنگ میں ہے، افغانستان کی طرف ہماری مغربی سرحد پر بھی کشیدگی ہے، چین پاکستان میں پہلے جیسی دلچسپی نہیں لے رہا اور اس کے اپنے تحفظات ہیں۔ اور ایران کے اپنے مشکلات ہیں۔
ایسے حالات میں ہم کسی کی پالیسیوں پر بحث کرنے یا ان پر تنقید کرنے کہ تم غلط ہو، میں صحیح ہوں شائد یہ کافی نہ ہو، ہم من حیث القوم اس بات کو سوچیں کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ پاکستان بمقابلہ انڈیا، پاکستان بمقابلہ افغانستان، پاکستان ایران تعلقات، پاکستان سعودی عرب تعلقات، پاکستان خلیجی تعلقات، پاکستان اسرائیل، پاکستان امریکہ پاکستان بیت المقدس، اس تمام تر حصار میں پاکستان کی پوزیشن کیا ہے؟
ہم نے یہ تجویز یہی دی ہے کہ اس پر پارلیمنٹ کا مشترکہ ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے تاکہ عوامی نمائندے کھل کر اپنے وطن عزیز کے لیے رائے دے سکیں، اپنے تحفظات کا اظہار کریں، اور اسٹیبلشمنٹ اور حکومت قوم کے نمائندوں کو مطمئن کریں۔ اس کو گلی کوچوں میں زیر بحث لانا، جلسوں اور اجتماعات میں زیر بحث لانا اور تنقید و تائید کے دائروں میں اسے محصور کرنا یہ شائد ان کے حالات کا تقاضا نہ ہو۔
ہم نے پاکستان کے لیے سوچنا ہے، اس کے مستقبل کے بارے میں سوچنا ہے اور اچھے اور پُرامن ہمسایوں کی تلاش کرنی ہوگی۔ اس کے لیے سیاسی اور سفارتی راستہ اختیار کرنا چاہیے، تحمل اور برداشت کا راستہ اپنانا چاہیے۔ جنگ سے جنگ ہی پیدا ہوتی ہے، امن نہیں پیدا ہوتا۔ اور اس کھیتی میں جہاں جنگ ہوگی وہاں آگ ہی اگے گی اور آگ ہم سب کو لپیٹ میں لے لے گی۔
ان حالات سے ہم کیسے نکلیں، جمعیت علماء اسلام نے پارلیمنٹ کے فلور پر یہ تجویز دی کہ ایک ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے تاکہ نمائندگان قوم ان حالات پر کھل کر بحث کر سکیں۔
صحافی: مولانا صاحب پاکستان کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے کیا کہیں گے؟ جیسے گورنر سندھ کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔
مولانا صاحب: یہ تو معمول کا مسئلہ ہے، میں اس پر کیوں ردعمل دوں، اس پر حکومتی اتحادی ردعمل دیں، کیونکہ وہ تو حکومت اتحادیوں کا نمائندہ تھا، بعد میں اسے تبدیل کر دیا گیا۔ بہرحال یہ ان کا معاملہ ہے، ہم کسی دوسرے کے گھر میں جھانکنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
مہربانی، شکریہ۔
ضبط تحریر: #سہیل_سہراب
ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
#teamJUIswat

.jpeg)
ایک تبصرہ شائع کریں