قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا ڈیرہ اسماعیل خان میں اہم پریس کانفرنس
26 مارچ 2026
بسم اللہ الرحمن الرحیم، نحمده و نصلی على رسوله الكریم
سب سے پہلے میں آپ تمام صحافی دوستوں کو عید مبارک کہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی رمضان شریف کی عبادات کو قبول فرمائے۔ آپ کا شکریہ کہ آپ نے اس پریس کانفرنس کے ذریعے سے مجھے موقع دیا اور ایک طویل عرصے کے بعد ہم ایک بار پھر ڈیرہ اسماعیل خان میں اکٹھے ہو رہے ہیں۔ یقیناً یہاں جو سب سے بڑا حساس معاملہ ہے وہ یہاں کے امن و امان کا ہے۔ ٹانک ہو، وزیرستان ہو، ڈیرہ اسماعیل خان ہو، لکی مروت ہو، بنوں ہو، دیہاتی علاقے جو ہیں وہ خالی ہو رہی ہیں اور آباد لوگ وہاں سے ہجرت کر رہے ہیں، اس بات کے لیے کہ ان کی زندگیاں محفوظ نہیں ہے اور حکومتی رٹ کہیں پر بھی نظر نہیں آ رہی ہے۔ پھر یہاں حکومت اس ساری صورتحال سے نمٹنے میں کامیاب نظر نہیں آ رہی، وہاں پاکستان مشرقی سرحد پر بھی اور مغربی سرحد پر بھی جنگ میں اُلجھ گیا ہے جس سے ملک محصور ہو گیا ہے۔ چین بھی پاکستان سے مطمئن نہیں ہے، ہم نے چین کی پاکستان کے اندر سرمایہ کاری کو بہت نقصان پہنچایا ہے، اس کے اعتماد کو ٹھیس پہنچایا ہے، ایران بھی اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ پاکستان کے کسی کام آ سکے یا ہمارے ساتھ کوئی تجارت کر سکے، معاملات کر سکے، اس لئے میری نظر میں اب یہ کسی ایک پارٹی کا مسئلہ نہیں رہا کہ ہم صرف تنقید کر کے خود کو ذمہ داری سے عہدہ براں کر سکیں، کسی ایک پارٹی کو اس کا ہم ذمہ دار ٹھہرا سکیں، یہ قومی مسئلہ ہے اور ہم یہ تجویز دے چکے ہیں پارلیمنٹ کے فلور پہ کہ ایک پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس ہو جس میں عوام کے اس نمائندہ ادارے کو حالات سے آگاہ کیا جائے، پاکستان کہاں کھڑا ہے یہ واضح کیا جائے اور پھر قومی مشاورت کے ساتھ اس مشکل سے نکلنے کیلئے راہ نکالی جائے۔
پاکستان اس وقت بمقابلہ ہندوستان کے، پاکستان بمقابلہ افغانستان کے، پاکستان چائنہ تعلقات، پاکستان امریکہ تعلقات، اسرائیل کے حوالے سے پاکستان کہاں کھڑا ہے، فلسطین کے مسئلہ پاکستان کہاں کھڑا ہے، عرب ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات ہیں آج عرب کہاں کھڑے ہیں ہم کہاں کھڑے ہیں، اس ساری بین الاقومی اور علاقائی صورتحال میں ہمیں اپنے ملک کی پوزیشن کو واضح کرنا ہے۔ ہم بڑے مبہم حالات میں جا رہے ہیں اور کوئی واضح پالیسی اختیار کرنے کی ہم پوزیشن میں نہیں ہیں، سو وہاں بھی ہماری سوچ یہ ہے کہ چاہے عرب دنیا کی ایک صدی کی ماضی ہو یا پچاس سال کی ماضی ہو جس طرح انہوں نے اپنی سیاست، اپنی معیشت، اپنی سفارت کا انحصار امریکہ اور مغربی دنیا پر کیا اور جس طرح تحفظ کے نام پر اور تحفظ کی امکان پر امریکہ کو اور یورپ کو ہم نے اڈے دیئے، سمندریں ان کے حوالے کر دیں، ہر طرف ان کے بحری بیڑے کھڑے ہیں، اس خیال کے ساتھ کہ یہ اس خطے کیلئے امن اور تحفظ کا سبب بنیں گے آج وہ وہاں کی بدامنی کا ذریعہ بن گئے۔ اسلامی دنیا نے کیا کمایا ہے، افغانستان میں پچاس پچپن سالوں سے مسلسل جنگ اور جنگ اور بین الاقوامی قوتیں افغانستان میں دخیل، عراق کا کیا بنا، لیبیا کا کیا بنا، آج ایران کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، ایک ایک کو تنہا کر کے اور ان کے مقابلے میں مسلم دنیا کو لا کر آج جن نتائج کے ساتھ ہمیں لا کھڑا کیا جا رہا ہے اس پر اسلامی برادری کو از سر نو سوچنا چاہیے۔ اسلامی کانفرنس ہونی چاہیے اور ماضی کے بین الاقوامی تعلقات پر نظر ثانی ہونی چاہیے، ہمیں ایک اسلامی بلاک کی طرف جانا چاہیے، اسلامی دنیا کے درمیان سیاسی تعلقات، اسلامی دنیا کے درمیان معاشی تعلقات، تجارت و روابط اور اسلامی دنیا کے درمیان ایک دفاعی معاہدات اس کے طرف ہمیں جانا چاہیے۔ ہماری جو باہمی تقسیم ہے کم از کم آج اسلامی دنیا کے سمجھ میں آ رہا ہے کیونکہ جب سے ایران کے ساتھ جنگ شروع ہوئی ہے عرب دنیا میں وہاں پر امریکیوں کے یا یورپ کے اڈوں پر حملوں کے باوجود عرب دنیا اسلامی دنیا تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے، وہ جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہتی، وہ اس کو جذباتی طور پر نہیں لے رہے یہ ایک بین الاقوامی سطح پر اسلامی دنیا کے سوچ میں ایک تبدیلی ہے اور یہ بنیاد بننی چاہیے کہ ہم اگلے مستقبل کے لئے اسلامی دنیا کے حوالے سے سوچیں، مسلم برادری کے حوالے سے سوچیں، اسلامی دنیا کے مفادات کے حوالے سے سوچیں اور اپنے مفادات پر ہم اشتراک پیدا کر کے اس کے لئے مشترکہ حکمتی عملی اپنائیں۔
یہ اس وقت ہمارا ایک پیغام ہے اسلامی دنیا کے لئے بھی، پاکستان کے لئے بھی، پاکستان کے ریاست کے لئے بھی اور یہ کہ حالات کے تقاضے کیا ہیں انہیں سمجھنا چاہیے، بند کمروں میں فیصلے کرنا، عوام بے خبر رہنا، عوام میں عدم اعتماد رہنا، یہ شاید اچھی بات نہ ہو ہمیں ہر سطح پر عوام کو اعتماد میں رکھنا ہوگا۔
سوال و جواب
صحافی: مولانا صاحب یہ ماضی میں بھٹو کے دور میں شاہ فیصل کے دور میں ایک یونٹی کا اتحاد کیا گیا تھا، سربراہ کانفرنس بھی طلب کی گئی تھی، اس کے نتائج ہم نے دیکھیں کہ پھر ان کو چن چن کر اور علیحدہ علیحدہ کرکے نشان عبرت بنایا گیا، تو کیا اب ہم دوبارہ سب کچھ یکجا کرنے کے متحمل ہوسکتے ہیں؟
مولانا صاحب: میرے خیال میں اب صورت حال وہ نہیں ہے اب امریکہ سپر طاقت نہیں رہا ہے، وہ اپنا ایک بھرم رکھنے کے لئے یہ سارا کچھ کر رہا ہے، بلکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید ٹرمپ اپنے ذاتی دفاع کیلئے یہ سب کچھ کر رہا ہے، امریکہ کی دفاع کیلئے بھی نہیں کر رہا اور وہاں پر اس وقت امریکہ کی عوامی تائید بھی اس وقت حاصل نہیں ہے، بڑا سوال یہ ہے کہ جس شخص نے الیکشن لڑا کہ دنیا سے جنگ ختم کروں گا اس نے اقتدار میں آ کر دنیا پر جنگ مسلط کر دی ہے یہ خود امریکیوں کے اور امریکی عوام کے نظر میں بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ سو اس وقت پوری دنیا ازسر نو سوچ رہی ہے اور ظاہر ہے سوویت یونین کی ٹوٹنے کے بعد ہم پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ عالمی تبدیلی اور تغیرات آئیں گی سو اس وقت پوری دنیا امریکہ سے لے کر روس تک اور چین تک یہ عالمی تغیرات کی زد میں ہیں اور ہمیں خود بیٹھ کر خود اعتمادی کے ساتھ اپنے مستقبل کو خود تراشنا ہوگا۔
صحافی: مولانا صاحب ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ ایران اسرائیل اور امریکہ کی جنگ میں پاکستان کا جو کردار ہے وہ غیر واضح ہے حالانکہ ثالثی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں تو اس حوالے سے آپ کیا کہیں گے کیا واقعی پاکستان اس میں ثالثی کا کردار ادا کرنے جا رہا ہے؟
مولانا صاحب: ہمیں یہی سوال ہے کہ اس وقت ثالثی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ثالثی کر سکے اور شہباز شریف جیسے حکمران کے ٹویٹ پر ٹرمپ کا ٹویٹ آنا خود ٹرمپ کی کمزوری اور امریکی پالیسی کی کمزوری کی عکاس ہے۔ سو اس حوالے سے ہمیں سوچنا چاہیے۔
صحافی: کیا ہماری طاقت عکاس نہیں ہے؟
مولانا صاحب: نہیں پاکستان بہرحال محاصرے میں ہے اور سوائے ثالثی کے کردار کے ہمارے پاس اور کون سا راستہ ہے؟
صحافی: مولانا صاحب یہ افغانستان کے حوالے سے دو متضاد بیانیے ہے پاکستان کے گورنمنٹ کے، کے پی گورنمنٹ ایک طرف ہوتی ہے اور وفاقی گورنمنٹ کچھ اور کہتی ہے، یہ اتنے سالوں سے افغانستان کے حوالے سے ایک واضح پالیسی کیوں نہیں بنا سکے، اس حوالے سے آپ کیا مشورہ دیں گے؟
مولانا صاحب: جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔
تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔
صحافی: مولانا صاحب بین الاقوامی دنیا کے حوالے سے آپ کا اپنا اثر و رسوخ بھی بہت زیادہ ہے خصوصاً عرب ممالک کے حوالے سے، کیا ان کو یکجا کرنے کے لیے آپ کوئی سفارت کاری کریں گے؟
مولانا صاحب: دیکھیے سفارت کاریاں حکومتوں کا کام ہے، ریاستوں کا کام ہے، پارٹیوں کا کام نہیں ہوتا ہے، ہم پبلک ٹو پبلک ریلیشنز جو ہیں اس میں مدد دے سکتے ہیں، ہم سب مسلمان ہیں ہم سب بھائی بھائی ہیں ہم ایک دوسرے پر ڈیپنڈ کر رہے ہیں، لیکن عوام کی ضرورتوں اور خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے ریاستیں فیصلہ کریں، بین الاقوامی قوتوں کے تابع فیصلہ نہ کریں، اپنے ملک کے عوام کے خواہشات اور ان کی ضرورتوں کے تابع فیصلے کریں۔
صحافی: مولانا صاحب یہ جو ساری صورتحال ہے جس طرح آپ نے اس کو بریف کیا ہے آج وزیراعظم صاحب نے اتحادی پارٹی جو پاکستان پیپلز پارٹی کے جو بڑے ہیں ان کو اعتماد میں لیا جارہا ہے۔ کراچی کا انہوں نے وزٹ کیا ہے اور شاید ایم کیو ایم کو بھی، آپ سمجھتے ہیں کہ از اہول اپوزیشن کو ساتھ شامل نہ کرنا یا آپ اپوزیشن میں بیٹھے ہوئے ہیں، تو کیا یہ کسی خاص پالیسی کا حصہ ہے یا امریکہ کی طرف سے بھی کہ اس معاملے کو زیادہ ہوا نہ دی جائے اور معاملات اندرونِ خانہ محدود اس میں کیں جائیں، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس میں پس منظر کیا ہے؟
مولانا صاحب: دیکھیے پیپلز پارٹی ہو یا مسلم لیگ نون یا ایم کیو ایم، سب اس بات کے دعوے دار ہیں کہ ہماری حکومت ہے اور مشترکہ حکومت ہے، گو کہ بیچ میں کچھ کبھی کبھی تحفظات بھی آ جاتے ہیں لیکن وہ اپنے اس کو ایک مشترکہ حکومت کہتے ہیں، کیا ضرورت ہے کہ آج فوجی قیادت کی موجودگی میں دونوں پارٹیوں کی قیادت کی باہمی نشست کی ضرورت پڑ گئی، میں سوچتا ہوں یہ کافی نہیں ہے یہ کچھ اور اشارات دے رہی ہے منفی اشارات کے طرف زیادہ شاید معاملات جائیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ پورے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے اور جس طرح وزیراعظم نے بھی امید دلائی تھی ہمیں کہ میں اس پر غور کر کے پھر فیصلہ کرتا ہوں لیکن ابھی تک وہ فیصلہ کرنے کے پوزیشن میں نہیں آئے اس پر جلدی فیصلہ ہمیں کرنا چاہیے۔
صحافی: مولانا صاحب یہ بتائیے گا کہ پاک افغان تنازعہ کے حل کے لیے آپ مذاکرات کے حامی نظر آتے ہیں جبکہ ایسی جماعتیں جنہیں ریاست کلعدم قرار دے چکی ہے خصوصاً میں ٹی ٹی پی کے حوالے سے بات کروں گا کیا ان سے بھی مذاکرات ہونے چاہیں؟
مولانا صاحب: دیکھیے ان سے مذاکرات ہونے یا نہ ہونے کا سوال سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ افغان پاکستان تعلقات کی بیچ میں حائل چیز کیا ہے، تو ہم اس کو براہ راست مذاکرات کا حصہ بنائیں یا نہ بنائیں، لیکن اس کو ایڈریس کرنا پڑے گا، اس کو ایڈریس کیے بغیر افغانستان پاکستان کے تعلقات معمول پر آنے میں شاید دقتیں ہوں گی۔ تو اب اس کو کس لیول پر ایڈریس کیا جاتا ہے وہ اپنی جگہ پر ایک سوال ہے۔
صحافی: مولانا صاحب سمارٹ لاک ڈاؤن گورنمنٹ کی طرف سے لگایا جا رہا ہے پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ، آپ اس کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
مولانا صاحب: دیکھیے بات یہ ہے کہ یہ جو اس وقت جنگ ہے انہوں نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے، اس نے خود امریکہ کو بھی اور پوری دنیا کو بھی مشکل میں ڈال دیا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ یہ وہ راستہ ہے جس سے جنوبی ایشیا، مشرقی ایشیا کے تیل کی رسد کا راستہ ہے جو بری طرح متاثر ہوا ہے۔ تضاد اس کو کہتے ہیں کہ کبھی تو امریکہ انڈیا کے ٹیرف میں اس بات پر اضافہ کرتا ہے کہ تم روس سے تیل کیوں لے رہے ہو اور اگر تم روس کے خریدار بنتے ہو تو پھر آپ پر ہم ٹیکس بڑھائیں گے، ٹیرف میں اضافہ کریں گے اور یہاں وہ دن آگئے ہیں کہ امریکہ خود انڈیا سے کہہ رہا ہے کہ آپ روس سے تیل لیں، اسی سے اندازہ لگائیں کہ کس قدر کمزوری آ گئی ہے۔
صحافی: مولانا صاحب امریکی اڈوں کے ہوتے ہوئے کیا اتحاد امت ممکن ہے؟ دوسرا سوال میرا یہ ہے آپ نے اسلامی بلاک کی بات کی، کیا روس اور چین کے ساتھ بھی بلاک بننی چاہیے؟
مولانا صاحب: دیکھیے ہمیں اس وقت دنیا میں علاقائی بلاک بنتے جا رہے ہیں میں تو ایشیائٹک فیڈریشن کا بھی قائل ہوں اور تین سو سال قبل جب معیشت کا محور ایشیا تھا اور پھر وہ کالونی بنا اور پوری ساری ہماری معیشت پر مغرب نے اور یورپ نے قبضہ کیا، آج پھر دنیا کے معیشت پلٹا کھا رہی ہے اور معیشت کا محور ایک بار پھر ایشیا بنتا جا رہا ہے جس کی قیادت بہرحال چائنہ کر رہا ہے، تو چائنہ کے ساتھ تعلقات اور ایشیا کی وحدت اس کی قیادت میں آنے والے وقت کا تقاضا ہے اور ہمیں اس حوالے سے علاقائی تعلقات پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ ہم عالمی قوتوں کے پیروکار بن کر علاقے میں تنہا ہو جاتے ہیں۔ آج ہم افغانستان کے حوالے سے بھی تنہا، انڈیا کے حوالے سے بھی تنہا، ایران کے حوالے سے بھی ہم تنہا ہو گئے، چائنہ کے حوالے سے بھی ہم تنہا ہوگئے اور ایشیا کے پیچھے جو ممالک ہے وہ بھی انڈیا کے زیر اثر ہیں اور وسطی ایشیا کے جو ممالک ہیں وہ پھر افغانستان کے زیر اثر ہیں، ہمارے زیر اثر کون ہے، ہم کس کے ساتھ ڈیل کریں گے، کس کے ساتھ بات کریں گے۔ ہمیں اس چیز سے نکلنا پڑے گا اور بڑے قومی سطح کی سوچ ہمیں پیدا کرنی پڑے گی، کسی ایک پارٹی یا صرف حکمران سوچ وہ شاید اس مسئلے کے حل کے لیے کافی نہ ہو۔
صحافی: مولانا صاحب کیا آپ نہیں سمجھتے کہ جس طرح پاکستان دنیا کے آمن کی بات کر رہا ہے یا دنیا میں آمن کی بات کر رہا ہے۔
مولانا صاحب: ہندوستان جو بات کرتا ہے ریاست کی سطح پہ اٹھتر سال اس نے کشمیر میں دہشتگردی کی ریاستی دہشتگردی، کشمیری عوام ان کے ظلم ستم کا نشانہ بنے اور ابھی تک ہیں اور پھر انڈیا کے آئین کے آرٹیکل تین سو ستر کے خاتمے کے بعد ان کا خیال یہ تھا کہ یہاں ہندو آبادی آئے گی، یہاں پر ایک ڈیمو گراف چینج آئے گا، لیکن آپ نے دیکھا کہ سب کے باوجود جب کشمیری عوام نے مودی کو تاریخی شکست دی وہاں پر اور کشمیری عوام نے ان کو مسترد کر دیا۔ میں یہ سوچتا ہوں کہ پاکستان مشکل میں ہے اور پاکستان جس دہشتگردی کا شکار ہے تو پاکستان کا تو خود موقف یہ ہے کہ ہماری مشکل کی پشت پہ انڈیا بھی ہے لہٰذا نہ بنگلہ دیش انڈیا سے مطمئن ہے، نہ پاکستان مطمئن ہے، نہ خطے کے دوسرے ممالک مطمئن ہے۔ چائنہ جیسا بڑا ملک بھی انڈین جارحیت سے محفوظ نہیں ہے، تو ہندوستان کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے اور اپنے شیشے میں اس کو اپنا چہرہ دیکھنا چاہیے، دوسروں کی طرف کیچڑ پھینکنا یہ شاید انہیں زیب نہیں دیتا، وہاں پر مسلمانوں کی بہت بڑی آبادی ہے تیس کروڑ سے وہاں مسلمان بڑھ گیا ہے، بہت بڑا رول ہے وہاں پر مسلمان برادری کا اور نریندر مودی جو ہے وہ اسلام اور مسلمان دشمنی میں حد درجہ نفرت کی فرقہ واریت کر رہا ہے اور نفرت کی فرقہ واریت پر اس کی سیاست کھڑی ہے۔ تو ایک الیکشن میں اس کو سزا ملی ہے اگلے الیکشن کی طرف وہ کیسے جائے گا یہ ہندوستانی عوام کا مسئلہ ہے۔ لیکن بہرحال وہ اپنی دہشت گردانہ جو تعارف ہے اس کا خطے میں اس کو ختم کرے تاکہ خطے کے اندر ایک پرامن ماحول پیدا ہو، آج انڈیا کی پالیسیوں کی وجہ سے سارک غیر مؤثر ہو گیا ہے، آسیان غیر مؤثر ہو گیا ہے اور ہمیں از سر نو چین کے بشمول ایک ایشیائٹک فیڈریشن کی طرف جانا ہوگا تو اس کے لئے زمین تو ہموار کرنی ہوگی اور اس پر ظاہر ہے کہ پاکستان اور انڈیا کا بہت بڑا رول ہوگا۔
صحافی: اچھا مولانا صاحب جس طرح ہم تمام ممالک کے ساتھ دوستی تقریباً پہنچ چکے ہیں، ہماری فارن پالیسی ہے کیا اور ان میں کیا تبدیلی تجویز کریں گے؟
مولانا صاحب: ہماری کوئی فارن پالیسی ہے ہی نہیں، ہماری بس جی ایچ کیو پالیسی ہے بس
صحافی: حکومت کو کیسے دیکھ رہے ہیں خصوصاً صوبائی حکومت؟
مولانا صاحب: یہاں کوئی حکومت ہے ہی نہیں، بس ایک کھلونا ہے چل رہا ہے، ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ بھی نہیں چاہتے اور ہم فوج کے ساتھ بھی کھڑے ہیں، ہم فوج کے ساتھ بھی کھڑے ہیں اور ہم دہشتگردی کے لئے، یہ متضاد قسم کی سوچیں نہیں چلتی، واضح لائن کے طرف ہمیں جانا پڑے گا۔
صحافی: مولانا صاحب اس وقت سمارٹ لاک ڈاؤن کی بات تو کی جا رہی ہے لیکن کہا جا رہا ہے کہ مکمل لاک ڈاؤن بھی کی جا سکتی ہے، جس طرح کی صورتحال چل رہی ہے عالمی سطح پر مہنگائی کے باعث جو پاکستان میں پیٹرولیم کی مصنوعات میں آئے روز قیمتیں بڑھ رہی ہیں اس سے جو ہے عوام کی کمر تو ویسے بھی ٹوٹ چکی ہے اگر مکمل لاک ڈاؤن ہو جاتی ہے تو کیا عوام مکمل طور پر گھروں میں محصور نہیں ہو جائے گی؟
مولانا صاحب: دیکھیے جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے یہ کوئی اس موجودہ سمارٹ لاک ڈاؤن سے اس کا کوئی زیادہ تعلق نہیں ہے ایک دہائی سے زیادہ ہو گیا ہے ہماری معیشت بیٹھ گئی ہے، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت کہاں چلی گئی، اس کے مقابلے میں آپ افغانستان کو دیکھیں، آپ ایران کو دیکھیں، آپ انڈیا کو دیکھیں، آپ نیپال کو دیکھیں، آپ بنگلہ دیش کو دیکھیں، پوری خطے میں صرف پاکستانی معیشت ہے جو نیچے جا رہی ہے اور یہ کوئی آج اس نئی صورتحال کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ ہماری مسلسل غلط پالیسیوں کی تسلسل کے نتیجے کی وجہ سے ہے۔
بہت شکریہ جی
ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض
ممبرز ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
#teamJUIswat

.jpeg)
ایک تبصرہ شائع کریں