مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا ایوان اقبال لاہور میں سید سلمان گیلانی سیمینار سے خطاب

قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا ایوان اقبال لاہور میں سید سلمان گیلانی سیمینار سے خطاب

19 اپریل 2026

الحمد للہ رب العالمین، الصلاۃ والسلام علی أشرف الأنبیاء والمرسلین، وعلی آلہ وصحبہ ومن تبعھم باحسان الی یوم الدین۔ أَمَّا بَعْدُ، فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطنِ الرَّجِيمِ بِسمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔ وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَن تَمُوتَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ كِتَابًا مُّؤَجَّلًا ۗ وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ الْآخِرَةِ نُؤْتِهِ مِنْهَا ۚ وَسَنَجْزِي الشَّاكِرِينَ۔ صَدَقَ اللَّهُ الْعَظِيمُ 

جناب صدر محترم، اکابر علماء کرام، زعماء ملّت، برادران امت، میرے دوستو اور بھائیو! آج کی یہ محفل ہمارے بہت ہی پیارے اور محبوب بھائی جناب سلمان گیلانی کی یاد میں سجی ہے۔ وہ ہم سے چلے گئے اور بہت دور چلے گئے، لیکن ان کی یادیں ہماری دلوں میں ہیں اور ان شاءاللہ العزیز جب تک ہم ہیں وہ ہمارے دلوں میں رہیں گے۔

سلمان گیلانی سے جس طرح کا تعلق تھا، پچاس سال سے زیادہ عرصے پر محیط تعلق، کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ہم دنیا میں ہوں گے اور اس طرح جدا ہوں گے، لیکن اللہ کا نظام محکم ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، جب اللہ چاہتا ہے دنیا میں لے آتا ہے اور جب اللہ چاہتا ہے دنیا سے لے جاتا ہے، لیکن کچھ لوگ وہ ہوتے ہیں جو اپنی ذات کے نہیں ہوتے ہیں، اپنے خاندان کے نہیں ہوتے ہیں، اپنے بال بچوں کے نہیں ہوتے ہیں، وہ لوگ امت کے ہوتے ہیں، ان کے جانے سے ایک جہان یتیم ہو جاتا ہے اور وہ سب کے تھے۔

یہ سیمینار اور اس اجتماع میں آپ حضرات کی شمولیت جس نسبت سے ہوئی ہے یہ اس کی ایک چھوٹی سی جھلک ہے، تا حد نظر انسانوں کا سمندر وہ بھی سلمان کی یادوں کے لئے کم تھا، اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس کے مزے لوٹنے کا ابد الآباد تک قسمت نصیب فرمائے۔ وہ اپنے والد حضرت سید امین گیلانی کے امین تھے، ان کی سوچوں کے امین تھے، ان کے فکر و نظر کے امین تھے، اور ان کے شعر و ادب کے امین تھے، ان کے طرز شعر اور لہجے کے امین تھے، اور مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ مجھے ان کی سرپرستی نصیب ہوئی تھی، اس کا دست شفقت نصیب ہوا تھا۔

ہم قاسم العلوم میں ملتان میں پڑھتے تھے، میرے سکول کا زمانہ تھا اور ہم امین گیلانی کا نام غائبانہ سنتے تھے، ایک دن ملتان میں جلسے کا اعلان ہوا، باغ لانگے خان میں جلسہ ہے اور یہ اطلاع بھی ملی کہ امین گیلانی آ رہے ہیں۔ میں صرف امین گیلانی کو سننے اور دیکھنے کے لئے گیا، میں سٹیج کے قریب بیٹھ گیا، امین گیلانی کا اعلان ہوا، اب ذہن میں جو تصویر تھی کہ وہ ایک قدآور شخصیت ہوں گے، بڑے رعب و دبدبے کے ساتھ سٹیج پر آئیں گے، بڑا کرّ و فرّ ہوگا، اب سٹیج پر ایک شخص آیا دھوتی باندھے ہوئے، ہلکی پھلکی قمیص پہنے ہوئے، جالی دار ٹوپی پہنے ہوئے، ایک فقیر سا بندہ سٹیج پر آیا، میں بڑی حیرت میں ڈوبا ہوا تھا یہ امین گیلانی ہے؟ یہ شعر پڑھے گا؟ لیکن آپ یقین جانیے جب انہوں نے پہلا شعر پڑھا، تو پورے اجتماع کو پلٹ کر رکھ دیا، ہاں! میں نے کہا یہ امین گیلانی ہے۔ تو اس وقت سے ایک تعلق ہے اور آخری وقت تک انہوں نے نبھایا، ایک وفادار بھائی کی طرح، ان کا پورا خانوادہ اس وقت اجتماع میں موجود ہے اللہ تعالیٰ اس تعلق کو اگلی نسلوں تک زندہ و تابندہ رکھے۔

میرے محترم دوستو! جیسے کہ میں نے عرض کیا اور تمام مقررین نے اس کا ذکر کیا کہ وہ ایک فکری اور نظریاتی شخصیت تھے، عقیدہ ختم نبوت کے لیے ان کا کردار اور ان کی قربانیاں تاریخ کے اوراق پر ثبت ہیں۔ مجھے سن تریپن کی تحریک تو یاد نہیں کہ سن انیس سو تریپن میری پیدائش کا سال ہے اور مجھے والد صاحب رحمہ اللہ مذاق میں کہا کرتے تھے کہ سن تریپن میں، میں بھی جیل سے آیا اور تم بھی جیل سے آئے، حضرت شاہ جی رحمت اللہ علیہ ان کا انتقال انیس سو اکسٹھ میں ہوا ہے اور یہ میرا ملتان جانے کا پہلا سال تھا، سات آٹھ سال کا ہوں گا، مجھے یاد نہیں کہ ان کی شکل و شباہت کیا تھی لیکن ان کی وفات کا دن اتنا ہنگامہ خیز تھا اور پورا ملتان اور پنجاب قاسم العلوم کی طرف امڈا ہوا تھا، ہر اخبار والا ایک جملہ کہتا تھا سید عطاء اللہ شاہ بخاری انتقال فرما گئے، رحلت فرما گئے، وفات پا گئے، بس وہ لوگوں کا ہجوم وہ ہنگامہ اور اس ہنگامے کے اندر عطاء اللہ شاہ بخاری کا نام وہی ذہن پر ثبت ہے اور بعد میں تو جب شعور بڑھا تو سید عطاء اللہ شاہ بخاری ہمارے اکابر کے صف کے ایک تابندہ ستارہ تھا، ان کی قربانیوں نے اور ان کی قیادت نے اور ان کے جذبے اور ولولے نے عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ کیا۔ لیکن انیس سو چوہتر کی تحریک مجھے یاد ہے، ہم اس تحریک کا حصہ تھے، میں ایک ہفتہ ملتان جیل میں بھی رہا ہوں، قومی اسمبلی میں ختم نبوت کا مقدمہ لڑا گیا، حضرت والد گرامی مفکر اسلام رحمہ اللہ کی مصروفیتیں میرے آنکھوں کے سامنے تھیں، پوری رات جاگتے رہتے تھے، اگلے دن مباحثے کے لئے تیاری کرتے تھے، کمرہ کتابوں سے بھرا ہوتا تھا، علماء کرام کی ایک جماعت ان کے ساتھ ہوتی تھی اور پھر جس کامیابی کے ساتھ وہ مقدمہ وہ جیتے اس نے امت کو ایک حجت فراہم کر دی، امت کو دلیل فراہم کر دی اور وہ سارا ریکارڈ پورے مباحثے کا ہماری اسمبلی کی ریکارڈ کا حصہ ہے۔ وہ نیٹ پر آ چکا ہے، لیکن آج بھی ہماری اسمبلی وہ دستاویز کسی ممبر اسمبلی کو بھی مہیا کرنے کے لئے تیار نہیں ہے، اور اگر یہ دستاویز کسی حوالے سے بھی قادیانیوں کی تائید کرتی تو آج یہ منظر عام پر ہوتی، لیکن یہ دستاویز منظر عام پر آتی ہے تو یہ ہر جگہ بطور حوالہ پیش کی جائے گی، جب تک نیٹ پر ہے وہ تو بطور حوالہ پیش نہیں کی جا سکتا، لیکن جب اسمبلی باضابطہ طور پر اس کو منظر عام پر لائے گی، ممبران اسمبلی کے حوالے کرے گی تو آپ کسی بھی عدالت میں، دنیا کے کسی فورم پر بھی اس کو بطور حوالہ پیش کرسکتے ہیں، اس لیے کہ وہ مسلمانوں اور اسلام کے حق میں ایک دستاویز ہے، جس کو آج تک قادیانیت توڑ نہیں سکی، نئی نسل شائد اس سے ناواقف ہے، اور نئی نسل کو ناواقف رکھنا چاہتے ہیں تاکہ وہ بے خبر رہے۔ پچھلے سال سپریم کورٹ میں مسئلہ درپیش ہوا، چیف جسٹس صاحب نے ایک فیصلہ دے دیا جس میں ایسے ریمارکس تھے، کچھ ایسے حوالے تھے کہ جو امت کے موقف سے متصادم تھے، ان کو احساس ہوا کہ مجھ سے کچھ غلطی ہو گئی ہے اور پھر ان کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی پڑی، یہ میری زندگی میں بہتّر سالوں میں پہلا موقع تھا جب میں کسی عدالت کے سامنے پیش ہو رہا تھا اور الحمدللہ یہاں پر بھی ہم وہ مقدمہ جیت کر واپس آگئے۔

سیاسی محاذ پر سلمان گیلانی کا سٹیج جمعیۃ علماء اسلام تھا، انہوں نے ہر محاذ پر جمعیۃ کے نظریات کی ترجمانی کی، بڑی جرات کے ساتھ کی اور جب وقت آتا تھا حکمرانوں کو للکارنے کا تو بھرپور انداز کے ساتھ حکمرانوں کو للکارتے تھے اور ہم شانہ بشانہ تھے۔ سو یہ مسائل اگر آج وہ دنیا میں نہیں، حضرت شاہ جی دنیا میں نہیں، حضرت مفتی صاحب دنیا میں نہیں، امین گیلانی دنیا میں نہیں، سلمان گیلانی دنیا میں نہیں، لیکن عقیدہ تو ہے، نظریہ تو ہے، مشن تو موجود ہے، اب یہ آپ کے اور ہمارے لئے امانت ہے اب ہم نے اس کو پورے امانت کے ساتھ آگے لے کر چلنا ہے۔

پاکستان بنا لا الہ الا اللہ کے نعرے پر، اٹھہتر سال بیت چکے ہیں آج بھی لا الہ الا اللہ ہمیں نظر نہیں آرہا، بین الاقوامی دنیا کے دباؤں میں ہم نے اٹھہتر سال گزار دئیے، ان کی ترجیحات پر ہم قانون سازی کرتے رہے ہیں، وہ آئین جو کہتا ہے کہ قانون سازی قرآن و سنت کے تابع ہوگی اور قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنے گا آج اس آئین کی صریح خلاف ورزی کی جارہی ہے، سو محاذ آج بھی گرم ہے، اور یہ بات یاد رکھیں کہ میں حکومت سے لڑتا ہوں، میں کسی سیاسی پارٹی سے نظریاتی اختلاف کرتا ہوں، لیکن حکمرانوں سے لڑنے کا معنی یہ نہیں کہ میں وطن عزیز کے چہرے کو بھی نوچا کروں، ملک میرا ہے اس ملک کی حفاظت ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں، یہ ہمارا گھر بھی ہے، یہ ہماری عزت بھی ہے، یہ ہمارا ناموس بھی ہے، یہ کسی جرنیل کا نہیں، یہ کسی بیوروکریٹ کا نہیں، یہ کسی خان اور نواب کا نہیں، یہ کسی جاگیردار کا نہیں، یہ کسی صنعت کار کا نہیں، یہ کسی سرمایہ دار کا نہیں، یہ اس ملک کے غریب عوام کا ملک ہے۔ اگر ہندوستان نے پاکستان کے خلاف جارحیت کی تو سب سے پہلے ہم میدان میں اترے کہ اس مرحلے پر اب قوم ایک ہے، ہم ایک صف ہیں اور جب جمعیۃ علماء اسلام نے پہلا قدم اٹھایا تو جس مختلف اطراف سے اور کونوں سے کچھ غلط توقعات تھی ان کے دروازے بند کر دیے گئے۔ آج اگر پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کر رہا ہے، تو میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ مسئلہ ایران اور امریکہ کا نہیں، اگر پاکستان کے پاس ثالثی کے کردار کا کوئی موقع آیا ہے تو وہ دنیا کو عالمی جنگ سے بچانی کی کوشش ہے، ہم ایسے وقت میں پاکستان کی اس اعزاز کا احترام کرتے ہیں، لیکن ہمیں اپنی پالیسیاں ٹھیک کرنی چاہیے، ہمارے کچھ سوالات ہیں، شائد کچھ دن ہم اپنے داخلی مسائل کی طرف توجہ نہ دے سکیں، لیکن بہرحال وہ ہمارے مسائل ہیں، ہمارے سامنے یہ سوال ہے پالیسی ساز لوگوں سے جو ملک کی خارجہ پالیسی بناتے ہیں، جو ملک کی داخلہ پالیسی بناتے ہیں، ان لوگوں سے سوال ہے کہ اس وقت آپ کا پورا مشرقی سرحد بند ہے، اس وقت آپ کا پورا مغربی سرحد بند ہے اور ہماری دو ہی سرحد ہے ایک مشرقی سرحد ہے اور ایک مغربی سرحد ہے دونوں سرحدیں ہم نے اپنے اوپر بند کر دی ہیں، دونوں اطراف میں ہم نے تجارتی راستے بند کر دیے ہیں، کاروبار کے راستے دنیا کے ساتھ ہم نے بند کر دیے ہیں اور چائنا ایک کوریڈور ہے جو پاکستان سے مایوس ہے اور وہ پاکستان میں سرمایہ کاری سے گریز کر رہا ہے اور ایران اس وقت نہ اچھے نہ برے کا ہے، تو بتایا جائے کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ بتایا جائے کہ اس پاکستان کے اقتصادی مستقبل کیا ہے؟ بتایا جائے اس ملک کو آپ کدھر لے جانا چاہیں گے؟ گرانی اور منہگائی ایک تو ہوتا نا حالات کی وجہ سے کچھ تدریجی طور پر قیمتیں بڑھتی ہیں لوگ بھی اس کے ساتھ مانوس ہوتے ہیں، کچھ دن اس کا احساس رہتا ہے، پھر معمول زندگی بن جاتا ہے، لیکن آبنائے ہرمز کے بند ہونے کے ساتھ ہی پاکستان میں تیل کی قیمتوں نے ایسا جمپ لگایا ہے کہ ہر انسان حیران اور ششدر ہے، جب ہم نے پورے ملک میں مظاہروں کا اعلان کر دیا، تو ایک طرف مظاہروں کا اعلان دوسرے طرف سے یہ دوسرے حالات، حکمران میرے پاس آئے کہ ان حالات میں آپ کو یہ مظاہرے نہیں کرنے چاہیے، میں نے کہا بالکل نہیں کرنے چاہیے، ہم نے ملک کے لئے مظاہروں کے کال واپس لی، لیکن پورے ملک میں مظاہروں کے کال دینا یہ ہمارے لئے کوئی مسئلہ نہیں ہے، یہ مؤخر ہوا ہے منسوخ نہیں ہوا ہے۔ ہم سوچ سمجھ کر آگے بڑھتے ہیں، جذباتی ہو کر فیصلے نہیں کیا کرتے اور یہ بھی آپ کو بتا دیں کہ جہاں دنیا میں دو بڑے نظام مد مقابل تھے مغرب و مشرق، مغرب کی سرمایہ داریت جو جمہوریت کی اوٹ میں چھپی ہوئی تھی اور مشرق کی آمریت جو کیمونزم کے اوٹ میں چھپی ہوئی تھی، آج جمہوریت بھی دنیا میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا ہے اور کیمونیزم بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا ہے۔ اب کردار یا سرمایہ داریت کا ہے اور یا آمریت کا، اور اس کے ساتھ اگر عسکریت بھی جمع کر دو، سرمایہ داریت جمع آمریت جمع عسکریت، پورا انسانی معاشرہ آج اس کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے وقت میں ہمیں سوچنا ہے کہ اگر تمہارا ایک نظام بھی ناکام، اگر تمہارا دوسرا نظام بھی ناکام، متبادل کیا ہے تمہارے پاس؟ میں متبادل دیتا ہوں، آؤ اسلام کے دین فطرت کی طرف، آؤ اسلام کے نظام عدل کی طرف، آؤ اسلام کے نظام معیشت کی طرف، اور آؤ اسلام کی شورائیت کی طرف، یہ جمہوریت کی بھی جگہ لے گی، یہ تمہاری سرمایہ داریت کی بھی جگہ لے گی، یہ تمہاری امریت کی بھی جگہ لے گی۔ ایک بہتر نظام حکومت ہمیں دینا ہے اور یہ صرف جمعیۃ علماء اسلام کا مسئلہ نہیں، یہ صرف جماعت اسلامی پاکستان کا مسئلہ نہیں، یہ صرف ایک تنظیم کا مسئلہ نہیں، یہ یا پوری قوم کا مسئلہ ہے یا پوری امت کا مسئلہ ہے۔

پاکستان میں بین الاقوامی مذاکرات ایران امریکہ مذاکرات جاری ہے، کل سے شائد پھر امریکی اور ایرانی قیادت پاکستان آ جائے، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ جیسی بڑی طاقت کا صدر، ایک عالمی قوت کا سربراہ، لیکن اس کی سفارتکاری دیکھیے جب وہ زبان کھولتا ہے، بولتا ہے بخدا ہمارے محلے کا ایک بدمعاش ایسی بات نہیں کرتا جس طرح وہ کرتا ہے، ابھی بھی دھمکیاں دے رہا ہے، آخری موقع ہے ایران مان جائے، ہم تاریخ تبدیل کر دیں گے، کچل کر کے رکھ دیں گے، یہ مذاکرات نہیں ہوتی، پھر مذاکرات کی میز پر جانے کے لیے اس طرح کی گفتگو کی جاتی ہے، ان کے پلانٹس، ان کے تیل، ان کے ذخائر ہم برباد اور تباہ کر دیں گے، یہ مذاکرات کی گفتگو ہے، پہلے مذاکرات کی گفتگو کے اداب تو سیکھو، میز پر جانے سے پہلے کی گفتگو کیا ہوتی ہے؟ میز سے اٹھنے کے بعد کی گفتگو کیا ہوتی ہے؟ اس کو سمجھنا پہلے ضروری ہے اور یہی وجہ ہے، کہتے ہیں جی کہ پھر وہ کچھ کروں گا جو سینتالیس سال میں نہیں ہوا، ایک دفعہ کہتے ہیں جی امریکہ کہتا ہے کہ ہم سینتالیس سال کے بعد ایرانیوں کے ساتھ امنے سامنے بیٹھے ہیں، ایرانی بھی کہتے ہیں ہم سینتالیس سال کے بعد آمنے سامنے بیٹھے ہیں اور ہم بھی کہتے ہیں کہ ہم نے دونوں کو سینتالیس سال کے بعد بٹھایا ہے پاکستان میں، اور ہم بھی کہتے ہیں پاکستان 1947 میں بنا ہے اور ہم بھی کہتے ہیں پاکستان کی حکومت بھی فارم سینتالیس کی ہے۔

تو نظام حکومت کو ٹھیک کرو، نظام حکومت کی اساس کو ٹھیک کرو، دنیا کے ناکام نظاموں کے مقابلے میں اگر آج آپ عالمی جنگ سے دنیا کو بچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، میں بہت پہلے سے اس بات کا دعوی دار ہوں کہ پاکستان پچیس کروڑ مسلمانوں کا ملک، یہ امت مسلمہ کی قیادت کی صلاحیت رکھتا ہے، حکمرانوں میں خدا کرے وہ صلاحیت آ جائے۔ آج ان کے مظاہر آپ دیکھ رہے ہیں، آؤ امت مسلمہ کو اکٹھا کرو، کہہ دو ان کو کہ نظام ناکام ہو چکے ہیں، اب متبادل نظام اللہ کے دیے ہوئے نظام کے بغیر نہیں ہو سکتا، اب ہم نے اسی طرف جانا ہے۔

تو آج سلمان گیلانی کی یاد میں ہم یہ پیغام دینے کی اس مقام پر بیٹھے ہیں کہ ہم ان کے مشن کو دیکھیں، ان کے نظریے اور فکر کو دیکھیں اور ان کے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے اپنے صفوں کو متحد کریں، سوچیں، بہت سوچیں، گہرا سوچیں، وسیع انداز کے ساتھ سوچیں، امت مسلمہ کی بہتری کے لیے سوچیں اور پاکستان کی بہتری کے لیے سوچیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو۔

وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔

،‎ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض

‎ممبرز ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز 

‎#teamJUIswat

0/Post a Comment/Comments