قائدِ جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا مردان میں امریکہ اسرائیل مردہ باد و دستورِ اسلام کانفرنس سے خطاب
12 اپریل 202
الحمدللہ، الحمدللہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی لاسیما علی سید الرسل و خاتم الانبیاء وعلی آلہ وصحبہ ومن بھدیھم اھتدی۔ أَمَّا بَعْدُ. فأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تُطِيعُوا الَّذِينَ كَفَرُوا يَرُدُّوكُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ فَتَنقَلِبُوا خَاسِرِينَ۔ بَلِ اللَّهُ مَوْلَاكُمْ ۖ وَهُوَ خَيْرُ النَّاصِرِينَ۔ صدق الله العظيم
جناب صدر محترم، اکابر علماء کرام، زعماء امت، بزرگان ملت، میرے مجاہد اور سرفروش ساتھیوں، نوجوانوں! میں آپ کے جذبے کو سلام پیش کرتا ہوں۔ فرزندان مردان اور صوبہ خیبر پختونخواہ کے غیرت مند عوام آج جس جذبے، جس ولولے اور جس جوش و خروش کے ساتھ اس میدان میں پہنچے ہیں یہ ایک بار پھر اس بات کا اعلان ہے کہ اب فیصلے ایوان میں نہیں میدان میں ہوں گے۔
میرے محترم دوستو! میں دنیا کو بھی بتانا چاہتا ہوں، میں اپنی اسٹیبلشمنٹ کو بھی بتانا چاہتا ہوں کہ یہ ان غیور پاکستانیوں کا اجتماع ہے کہ اگر خدا نہ کرے، خدا نہ کرے، پاکستان پر کوئی آزمائش آتی ہے تو آپ سے پہلے یہ نوجوان سرحد پر پہنچ چکے ہوں گے اور وطن عزیز کا دفاع کریں گے۔
میرے محترم دوستو! میں بار بار یہ کہہ چکا ہوں اور آج پھر اس بات کا اعادہ کرتا ہوں کہ پاکستان پچیس کروڑ مسلمانوں کا وطن، پاکستان عالمی برادری میں بھی اور اسلامی برادری میں بھی اپنی ایک اہمیت رکھتا ہے، ایسی اہمیت کہ پوری امت مسلمہ کی قیادت کی صلاحیت رکھتا ہے اور آج اگر امریکہ پاکستان میں آ کر، ایران پاکستان کی سرزمین پر ہماری اسلامی برادری کے، ہمارے دوست پاکستان کی سرزمین پر بیٹھ کر دنیا کے لیے امن تلاش کر رہے ہیں، تو سن لو حکمرانوں یہ ہے وہ پاکستان کا مقام، ہم پاکستان کے اس قدر و منزلت میں اضافہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ اٹھہتر سال تک تم نے میرے اس پاک وطن کو عالمی قوتوں کا غلام بنائے رکھا، میں اس وطن عزیز کی آزادی و حریت کی بات کرتا ہوں، میں اپنے قوم کے اندر خود اعتمادی پیدا کرنا چاہتا ہوں، میں اپنے قوم میں احساس برتری پیدا کرنا چاہتا ہوں اور جب میرے اندر یہ مقام آئے گا تو پھر یہ حقیقی معنی میں اسلامی دنیا کی قیادت بھی کرے گا اور پوری دنیا میں اپنی اسلامی اور جمہوری شناخت کے ساتھ متعارف بھی ہوگا۔
میرے محترم دوستو! پاکستان نے جو حال ہی میں کردار ادا کیا ہے ہم اٹھہتر سال سے اس کردار کے متلاشی تھے، ہم پاکستان کو اس مقام پر دیکھنا چاہتے تھے، آپ نے کہا باہر کے مہمان آ رہے ہیں، آپ احتجاج واپس لیں، ہم نے کہا ہم لینے کے لئے تیار ہیں، ہم پاکستان کی سرزمین پر مہمانوں کی عزت کو جانتے ہیں، عوام کی تربیت اسی طرح ہوتی ہے لیکن آپ نے جو عالمی قوتوں کے جبر کے ہاتھوں پاکستان کے عوام پر مہنگائی کا بم گرایا ہے تمہیں یہ واپس لینا ہوگا، تمہیں اپنے قوم کے غریبوں کے لیے اپنے یہ فیصلے واپس لینے ہوں گے، میں اللہ کا شکر گزار ہوں میرے نوجوانوں! کہ آپ کی آواز میں یہ قوت ہے کہ آج جب میں بارہ اپریل کو آپ کی خدمت میں، مردان کے اس میدان میں حاضر ہو رہا ہوں تو حکومت پاکستان کو اپنے فیصلے واپس لینے پڑیں ہیں۔
میرے محترم دوستو! آج میرے وطن کی مٹی پر عالمی قوتیں اکھٹی ہوگئیں ہیں، اسلامی دنیا بھی بیٹھی ہوئی انسانیت کے لیے امن مانگ رہے ہیں، میں اسے اپنے مٹی کی عزت سمجھتا ہوں اور اٹھہتر سالوں سے ہم اس انتظار میں تھے کہ ہمارے اس قابل عزت قوم کو یہ اعزاز جب ملے گی، الحمدللہ ہماری وہ جدوجہد رنگ کے آئی ہے اور دنیا کو دکھایا کہ پاکستان عالمی ملکوں کے قیادت کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جو بات چیت ہوئی ہے میں تکنیکی ماہر تو نہیں ہوں لیکن میری نظر میں یہ مذاکرات ناکام نہیں ہے، یہ پہلا مرحلہ اختتام کو پہنچا اور دوسرے مرحلے کا انتظار کریں گے کہ ہمارے اس مٹی پر امن آسکے۔ لیکن یہ یاد رکھو کہ ہم اپنے موقف پر ڈٹے ہیں، اسرائیل عرب کی سرزمین پر ایک ناجائز اور دہشت گرد ریاست ہے اور ہم سر زمین عرب پر اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اسرائیل کا خاتمہ امت مسلمہ کی آرزو ہے، عرب دنیا کی آرزو ہے، فلسطین کی آرزو ہے، فلسطین کی بیٹوں کی آرزو ہے، ان کی بیٹیوں کی آرزو ہے، ان کی ماؤں کی آرزو ہے، ان کے بہنوں کی آرزو ہے، ان کے بزرگوں کی آرزو ہے۔ اسرائیل نے گزشتہ ڈیڑھ مہینے میں جو اقدامات کیے، تین سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا فلسطینیوں پہ مظالم ڈھا رہا ہے، میں نے پارلیمنٹ میں بھی یہ بات کی تھی کہ اسرائیل تجاوز کرتے کرتے اگر ایران تک پہنچتا ہے تو پاکستان کے دروازے پر کھڑا ہو جاتا ہے۔ مودی اور یہودی وہ اکٹھے ہو چکے ہیں، تل ابیب پہ ایک دوسرے کو گلے مل رہے ہیں، یہود و ہنود کا یہ اتحاد اسلامی دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے اور ان شاءاللہ اسلامی امت اور پاکستان کے عوام یہود و ہنود اور مودی یہودی کے اس اتحاد کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ مسلمان فاتح ہے اور فاتح رہے گا، عرب مسلمان فاتح ہے اور فاتح رہے گا، فلسطین فاتح ہے اور فاتح رہے گا اور بیت المقدس ان شاءاللہ ایک دن مسلمانوں کے کنٹرول میں ہوگا اور مسلمان وہاں پر نماز ادا کریں گے۔ جو چیزیں پاکستان کے مفاد میں ہیں ہم اس کا تذکرہ کرنے میں بخل نہیں کرتے، لیکن جس طرح میرے ملک کو آزادی کے باوجود غلام رکھا گیا، وہاں نواز شریف سر جھکا سکتا ہے، شہباز شریف سر جھکا سکتا ہے، زرداری سر جھکا سکتا ہے، لیکن جمعیۃ علماء اسلام وہاں سر نہیں جھکا سکتی۔
آج ہم اپنا موقف دہرانا چاہتے ہیں، بڑی وضاحت کے ساتھ دہرانا چاہتے ہیں کہ دستور پاکستان اس ملک میں اسلامی قانون سازی کا تقاضہ کرتا ہے لیکن حال ہی میں ہمارے پارلیمنٹ میں جو خلاف اسلام، قرآن و سنت کے منافی قوانین نافذ کیے، جمعیۃ علماء اسلام ان قوانین کو مسترد کرتی ہے اور ایسے قوانین کے خلاف اپنی آواز بلند رکھے گی اور تحریک کو جاری رکھے گی۔
جس آئین کا یہ لوگ حلف اٹھا چکے ہیں یہ اپنے حلف سے روگردانی کر رہے ہیں، اللہ کا نام لے کر حلف اٹھانا اور عمل و کردار کے ذریعے سے اس کی نفی کرنا یہ مسلمان کی علامت نہیں ہو سکتی، تم کس کے پیروکار ہو؟ تمہارا عملی کردار کیا ہے؟ اور اس حوالے سے آپ کو اپنا راستہ بدلنا ہوگا، جو دستور پاکستان کا ہمیں رہنمائی دیتا ہے، ہمیں اس راستے پر مل کر جانا ہوگا ورنہ اس سے پہلے تمہارے کردار کی وجہ سے پاکستان ایک دفعہ دو لخت ہو چکا ہے آج وہی کردار ادا کرتے ہوئے کل پاکستان کے دو لخت ہونے کے آپ خود ذمہ دار ہوں گے۔
یہ راستے ترقی کے راستے نہیں ہوا کرتے، کچھ مواقع ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ عطاء کرتا ہے اگر ان مواقع کی قدر نہ کی گئی، نا شکری کی گئی تو پھر ناشکری کی سزا اللہ دیتا ہے، اللہ تعالیٰ ایسی بستی کی مثال پیش کرتا ہے، ایسی آبادی کی مثال پیش کرتا ہے کہ جہاں امن بھی ہے، جہاں اطمینان بھی ہے، جہاں معاشی خوشحالی بھی ہے، ہر طرف سے رزق کچ کچ کے وہاں آرہا ہے لیکن جب لوگوں نے ناشکری کی، اللہ کی نعمتوں کا انکار کیا تو پھر اللہ نے بھوک اور بد امنی کا مزا چکایا۔
میرے محترم بھائیو! آج میری مٹی پر خون بہایا جا رہا ہے، اج ہمارا امن تباہ و برباد ہو چکا ہے، آج حکومتی نظام درہم برہم ہے، حکومتی قانون بے بس ہے، حکومتی ادارے بے بس ہیں اور مسلح گروہ اور ٹولے آزادی سے گھوم پھر رہے ہیں۔ میرے راستے، میرے میدان، میرے دیہات، میرے علاقے اس کو کنٹرول میں لیا ہوا ہے اور اپنی حکومت نافذ کی ہے، ایسے حالات میں عام لوگوں کیسی زندگی بسر کریں گے؟ تو جب آپ مجھے امن نہیں دے سکتے، مجھے روزگار نہیں دے سکتے اور پھر جو حکومت آپ کو ملی ہے وہ بھی دھاندلی سے ملی ہے، وہ بھی چوری کے ووٹ سے ملی حکومت ہے۔ میں چوری کے ووٹ سے قائم حکومت کو نہیں مانتا، جو کچھ کرنا ہے کرو میرے ساتھ، میں میدان میں آپ کو للکار رہا ہوں۔
میرے محترم بھائیو! نہ ہی اس ملک میں اور نہ ہی اس صوبے میں آپ نے کرپشن کا راستہ روکا، نہ آپ نے لوگوں کو امن دیا اور نہ ہی روزگار دیا، دھاندلی سے حکومت لیا اور بنایا ہے۔ نہ ایسی حکومت کو مانتا ہوں اور نہ ہی اس کی پیروی کرتا ہوں اور ان شاءاللہ قوم کی رائے اور ازادی کے لیے اپنی جدوجہد برقرار رکھیں گے اور ان شاءاللہ اس کے بعد ہمارا بڑا جلسہ بلوچستان میں ہوگا اور پھر کراچی میں ہوگا اور یہ سلسلہ اب جاری رہے گا اور ان شاءاللہ ایک دو روز میں ان کی تاریخوں کا اعلان کیا جائے گا۔
جس طرح جعلی نوٹ نہیں چلتا اسی طرح جعلی حکومت نہیں چلتی، مارکیٹ ۔ی۔ اس کی قیمت نہیں ہوتی، یہ بے قیمت لوگ ہمارے حکمران بنے بیٹھے ہیں، ان شاءاللہ آپ کے ووٹ سے معزز اور قیمتی لوگ ملک پر حکومت کریں گے اور اس ملک کو ترقی دیں گے۔ اللہ پاک ہمارا حامی و ناصر ہو، اللہ پاک ہمارا راہنما ہو، اور اللہ پاک ہمیں وہ راستہ دکھا دے جس کے ذریعے ہم پاکستان کو ایک باوقار اور ایک باعزت طریقے سے دنیا کے سامنے متعارف کرسکیں۔ اللہ پاک ہم سب کو خوش اور سلامت رکھے۔
وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
،ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض
ممبرز ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
#teamJUIswat

.jpeg)
ایک تبصرہ شائع کریں