مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا ایرانی میڈیا سے مختصر گفتگو

قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا ایرانی میڈیا سے مختصر گفتگو

15 اپریل 2026

صحافی: اسپیشلی جو اس وقت خطے کی صورتحال ہے جو اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد و یکجہتی کے حوالے سے آپ کیا موقف رکھتے ہیں؟

مولانا صاحب: بسم اللہ الرحمن الرحیم

میرے نزدیک امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے پاکستان کی میزبانی یہ پاکستان کا اعزاز ہے۔ ساتھ ہی ہم جہاں جنگ بندی کی توقع رکھتے ہیں اور ایک مستقل امن کہ ہم متمنی ہے پوری امت اور انسانیت اس کی متمنی ہے، وہاں ہم یہ نظریہ بھی دہرا رہے ہیں کہ جس طرح اقبال نے کہا تھا کہ "نیل کی ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر"، یہ پوری اسلامک بلاک کی طرف اشارہ تھا۔ جمعیت علماء اسلام کا نظریہ پہلے دن سے یہی تھا اور یہ ہمارے منشور کا حصہ ہے کہ ہماری ملک کی خارجہ پالیسی ایک اسلامک بلاک کے قیام حوالے سے ہونی چاہیے تاکہ ہم سیاسی، اقتصادی اور دفاعی میدانوں میں ایک دوسرے کو سہارا دے سکے اور یہ جو کچھ ابھی گذرا ہے یہ میرے خیال میں بہت بڑا سبق ہے اور اس سے اسلامی دنیا اور اس کے حکمرانوں کو سیکھنا چاہیے کہ ایک وحدت کی طرف جائے بغیر ہم صرف استعمال ہوں گے، ہماری سرزمین استعمال ہوگی اور ہم اپنے وسائل کے خود مالک نہیں ہوں گے بلکہ کوئی دوسری طاقت ہمارے وسائل کی مالک رہے گی۔

تو اس طرف ہم نے جانا ہے اور آج جب سفیر ایران یہاں تشریف لائے تھے تو اس موضوع پر گفتگو ہوئی اور انہوں نے ہماری اس تجویز سے اتفاق کیا اور ہم نے بھی ان کو خیر سگالی کے جذبات سے آگاہ کیا کہ ہم خطے میں امن چاہتے ہیں، تمام اسلامی ممالک ان کے خودمختاری کا احترام ہونا چاہیے اور ہر ایک اپنی آزادی و حریت کے ساتھ ان کو زندہ رہنے کا حق ہونا چاہیے، فلسطینیوں کو ایک آزاد ریاست کا حق دار ہونا چاہیے اور اس تمام معاملے میں ہمیں فلسطین کی آزادی، بیت المقدس کی آزادی وہ ہماری مدنظر ہونی چاہیے اور پوری امت مسلمہ کو اس موقف پر متحد ہونا چاہیے۔ بہت بہت شکریہ

ضبط تحریر: #سہیل_سہراب

‎ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز 

‎#teamJUIswat


1/Post a Comment/Comments

ایک تبصرہ شائع کریں