قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کی جامعہ سراج العلوم لودھراں میں مقامی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو
24 اپریل 2026
صحافی: مولانا صاحب مہنگائی کی جو لہر ہے اس حوالے سے آپ کیا کہیں گے اور بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے بھی بتا دیجیے گا۔
مولانا صاحب: دیکھیں جہاں تک بلدیاتی انتخابات ہیں تو وہ ایک آئینی اور قانونی تقاضا ہے لیکن چوں کہ صوبائی معاملہ ہے، صوبائی حکومت کیا فیصلہ کرتی ہے، پہلے اسے دیکھا جائے گا پھر اس کے بعد تبصرہ کیا جائے گا۔ تو اس کے علاؤہ جہاں تک مہنگائی کا مسئلہ ہے، مہنگائی تو ایک طوفان بن کر ہمارے اوپر بھی اور پوری دنیا میں بھی، خاص طور پر جو عالمی سطح پر کشیدگی کا ماحول پیدا ہوا ہے اس نے پوری انسانیت کو اضطراب میں ڈال دیا ہے اور صرف پاکستان نہیں، بلکہ دنیا بھر میں بے چینی کی ایک کیفیت ہے۔ اور یہ امریکا اپنے طاقت کے نشے میں اس قسم کے حالات پیدا کرتا ہے، پہلے اپنے آپ کو مظلوم بنا دیتا ہے پھر اس کے بعد جو قومیں اپنی ترقی کے لیے اقدامات کرتی ہے اس کو خطرہ قرار دیتے ہیں۔ اسی کا شکار افغانستان ہوا، اسی کا شکار عراق، لیبیا اور آج ایران اس کا نشانہ بنا ہوا ہے۔
تو ایسی صورتحال میں بہرحال مہنگائی کے حوالے سے تو جمعیۃ علماء اسلام بہت سنجیدہ ہے، ہم نے جو پورے ملک میں مہنگائی کے خلاف مظاہروں کی کال دی تھی وہ ہم نے کچھ معروضی حالات کی وجہ سے مؤخر کیں، منسوخ نہیں کیا ہے۔ اور ان شاءاللہ اس حوالے سے ہم ضرور عوام کے شانہ بشانہ ہیں، عوام کے اس حق کی ہم جنگ لڑیں گے۔ ساتھ ساتھ یہ بھی بتا دینا چاہتے ہیں کہ ملک میں آئین کی حکمرانی ہونی چاہیے، قانون کی حکمرانی ہونی چاہیے، کسی ایک ادارے کی بالادستی وہ تو شائد عام آدمی کی نہ تو مسائل حل کرسکے اور انہیں عدل و انصاف مہیا کرسکے، صرف ایک ادارے کی پورے ملک پر گرفت اور اپنی اتھارٹی کو مظبوط کرنا، ہم اس پولیٹکس سے اتفاق نہیں کرتے۔ ہم کہتے ہیں آئین جس کو سپریم کہتا ہے ، پارلیمنٹ کی سپریمیسی ہو، سول سپریمیسی ہو، اس حوالے سے ہمیں قوم کو مظبوط کرنا چاہیے، عوام کو مظبوط کرنا چاہیے اور جمعیۃ علماء اسلام عوام کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گی۔ صوبے ہیں ہم صوبوں کی خودمختاری کی بات کرتے ہیں، اٹھارویں ترمیم نے صوبوں کو بہت سے اختیارات دیے ہیں، آج این ایف سی ایوارڈ کے مسئلے کو دوبارہ چھیڑا جا رہا ہے جبکہ وہ صوبوں کا نہ تبدیل ہونے والا حق ہے جس کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔ اور اگر وہ صوبوں کا حق ہے اور اس کو تبدیل کرنے کا کسی کو اختیار نہیں، تو پھر اس کا علاج یہ ہے کہ صوبے توڑ دیے جائیں، چھوٹے چھوٹے نئے صوبے بناکر پھر کہا جائے کہ نیا این ایف سی ایوارڈ ہو، امن و امان خالصتاً صوبوں کا مسئلہ ہے اور صوبائی حکومت امن و امان کے زمہ دار ہیں لیکن امن و امان کا ادارہ اگر وفاق کی سطح پر بنایا جائے گا تو ذمہ داری صوبوں کی، ادارہ وفاق کا، یہ شائد ملک کے اندر توازن برقرار نہ رکھ سکے۔ قانونی لحاظ سے گنجائشیں موجود ہیں، اگر امن و امان کے حوالے سے کوئی صوبہ محسوس کریں کے اسے مدد کی ضرورت ہے تو وہ ایف سی کو بلا سکتے ہیں، وہ رینجرز کو بلا سکتے ہیں، وہ فوج کو بلا سکتے ہیں۔ جب یہ گنجائشیں موجود ہیں تو پھر وفاق کی سطح پر امن و امان کے لیے اداروں کی قیام کے تجاویز یہ شائد صوبائی خودمختاری کے روح کے منافی ہو۔
سو اس اعتبار سے ہمیں آئین کا بھی تحفظ کرنا ہے، آئین کی روح کا بھی تحفظ کرنا ہے اور ایک جائز انتخابی عمل کا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک میں ایک ایسا الیکشن کہ جو حقیقی معنوں میں عوام کی نمائندگی کرے اور عوام اس سے مطمئن ہو، آج جو حکومت قائم ہے اسے عوام کا نمائندہ نہیں سمجھتے۔
وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
ضبط تحریر: #سہیل_سہراب
ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کانٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
#teamJUIswat

.jpeg)
ایک تبصرہ شائع کریں