قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا مرکزی مجلس شوریٰ اجلاس کے بعد اہم پریس کانفرنس
06 اپریل 2026
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمده و نصلي على رسوله الكریم
جیسا کہ آپ کو بتایا گیا کہ جمعیۃ علماءِ اسلام پاکستان کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کا دو روزہ اجلاس یہاں پشاور میں مفتی محمود مرکز میں منعقد ہوا اور ملکی اور بین الاقوامی صورتحال پر غور کیا گیا۔ فوری طور پر جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی شوریٰ نے جس بات کا نوٹس لیا ہے وہ حکومت کی طرف سے حالیہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہے، جس نے پوری قوم کے ایک ایک فرد کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور وہ زندہ بھی ہیں تو ایک مشکل زندگی سے دوچار کر دیا ہے اور عام آدمی کا سکون اس کا چین ان سے چھین لیا گیا ہے۔ جمعیۃ علماءِ اسلام پوری قوم سے اپیل کرتی ہے کہ وہ آنے والے جمعے کے روز پورے ملک میں ضلعی ہیڈ کوارٹرز کے اندر بڑے احتجاجی مظاہرے کریں اور حکومت کی اس اقدام کو مسترد کر دے۔
جمعیۃ علماء اسلام نے وہ تمام قوانین جو گزشتہ ایک عشرے سے ہمارے اسمبلیوں سے پاس کرائے جا رہے ہیں اور موجودہ حکومت نے بھی اس تسلسل کو برقرار رکھا ہے چاہے وہ گھریلو تشدد کے حوالے سے قانون ہو، چاہے وہ ٹرانسجنڈر کے حوالے سے اور اسی طریقے سے جو مسلم عائلی قوانین 1961 سے نافذ ہے اس میں مزید خرابیاں پیدا کر دی گئی ہیں، خلافِ شریعت قوانین نافذ کر دی گئی ہیں۔ ابھی حال ہی میں اٹھارہ سال سے کم عمر کی شادیوں پر پابندی اور اسے زنا بالجبر قرار دینا یہ تو بالکل جیسے اللہ کے احکامات کے ساتھ ایک جنگ اور بغاوت کا آغاز کر دیا ہے، ابھی اس وقت اسلام آباد میں پھر ایک جج پیدا ہو گیا ہے اور اس نے ایک نیا فلسفہ جھاڑ دیا کہ بیوی کو خاوند کی کمائی میں پچاس فیصد کا حصہ دار قرار دینے کیلئے اسمبلی قانون سازی کرے۔ یہ تمام وہ قوانین ہیں میں بتا دینا چاہتا ہوں جس کے ہم بار بار نشاندہی کر چکے ہیں کہ یہ قوانین برطانیہ میں اسی الفاظ کے ساتھ موجود ہیں جس کے ساتھ آج ہم پاکستان میں ان قوانین کی پیروی کر رہے ہیں۔ انگریز چلا گیا لیکن انگریز کے جانے کے بعد اس کی پیروی ہم سے نہیں گئی، ان کی اطاعت ہم سے نہیں گئی اور ہم ان کے قوانین کو اب پاکستان کے عوام اور مسلمانوں پر مسلط کر رہے ہیں۔
وقف املاک کے حوالے سے جس قانون کی باتیں ہو رہی ہیں اور جس طرح شریعت کے قانون کو تبدیل کیا جا رہا ہے بعینہ یہی قانون انڈیا میں بھی پاس ہو رہا ہے، ایک ہی الفاظ کے ساتھ ایسے قوانین جو جنوبی افریقہ میں پاس ہو رہے ہیں جو غیر اسلامی ملک ہیں وہ ہماری اسمبلیوں میں آ رہے ہیں۔ تو اس کے بعد پھر ہماری کوئی کسی سے ذاتی لڑائی تو نہیں ہے، ان نظریات کے بنیاد پر ہم ویسے بھی ایک موقف رکھتے ہیں کہ یہ حکومت جعلی ہے ایک طرف مسلم لیگ کی حکومت جعلی، پھر دوسری طرف صرف پیپلز پارٹی کے سہارے کھڑی، پھر خلاف شریعت اپنی اختیارات کو اور اسمبلی کو اور اکثریت کو استعمال کرنا پھر جس طرح وہ اللہ کے قانون سے بغاوت کر رہے ہیں، پھر ہمیں بحیثیت ایک پاکستانی شہری کے یہ حق حاصل ہے کہ ہم ایسی حکومتوں کے خلاف عالم بغاوت بلند کر دے۔
یہ سب کچھ اس لئے بھی کیا جا رہا ہے کہ ہمارے حکمران امریکہ کے غلام ہیں، امریکہ اس وقت اسرائیل کے پشت پہ کھڑا ہے، انہوں نے فلسطینیوں کا قتل عام کیا، ابھی ان کا فلسطینی مسلمانوں کے خون سے پیٹ نہیں بھرا کہ انہوں نے ایران پر حملہ کر دیا، لبنان پہ وہ قتل و غارت گری کر رہے ہیں، اسلامی دنیا کو گھیرہ ہوا ہے پورا خلیج امتحان سے گزر رہا ہے اور ہماری حکومت یہ سب کچھ اس لئے کر رہی ہے کہ وہاں سے لوگوں کی توجہ ہٹ جائے اور یہاں کے مقامی مسائل پر ان کی توجہ مرکوز رہے۔ تو یہ بھی پبلک کے نظر میں بھی ہونا چاہیے کہ یہ سارے حالات اپنے قوم کے لئے اس لئے پیدا کیا جا رہے ہیں کہ اسرائیل جیسے سفاک، قاتل اور قابض ایک قوت کو تحفظ فراہم کیا جا سکے اور ان کو پس منظر میں لے جایا جا سکے اور اسلامی دنیا میں جو قتل و غارت گری ہو رہی ہے وہاں پر امریکہ کو ریلیف دی جا سکے۔ لہٰذا اس سیاست کو ہمیں سمجھنا ہوگا ان کے ناپاک ارادوں کو ہمیں سمجھنا ہوگا اور ان شاءاللہ العزیز بارہ اپریل کو مردان سے ایک بہت بڑے عوامی اجتماع سے ہم ان کے خلاف کلمہ حق بلند کرنے کے لئے آغاز کر رہے ہیں اور ان شاءاللہ یہ سلسلہ پھر ملک بھر میں جاری و ساری رہے گا ان شاءاللہ العزیز۔
ہم نے کچھ ریاستی نزاکتوں کو سامنے رکھتے ہوئے نیک نیتی کے ساتھ تجویز دی کہ پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے اور جو عالمی صورتحال ہے، پھر اسلامی دنیا میں جو نئی صورتحال بنی ہے اور اس سے جو پاکستان متاثر ہو رہا ہے، ہر پاکستانی اپنے وطن کے لئے فکر مند ہے، ہمیں بتایا تو جائے کہ کیا مسئلہ ہے؟ اگر آپ سرعام ایک بات نہیں کرنا چاہتے تو کم از کم عوام کے نمائندوں کو پارلیمنٹ کے اندر ان کیمرہ ہی بتا دیں، پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ بلند کرنے والے ہمیں تو کہیں پاکستان پیچھے بھی نظر نہیں آرہا، پاکستان کی دو سرحدیں ہیں ایک مغربی سرحد جو افغانستان سے ملتی ہے اور ایک مشرقی سرحد جو ہندوستان سے ملتی ہے ہم نے دونوں سرحدیں بند کرا دی ہیں اور ہماری تجارت نہ اب مغربی دنیا کے ساتھ ہو سکتی ہے اور نہ مشرقی دنیا کے ساتھ ہو سکتی ہے۔ افغانستان کے پاس تجارت کے بہت سے راستے ہیں اور انہوں نے وسطی ایشیا ممالک کو رابطے میں بھی لے لیا ہے اور اپنے تاجروں سے کہہ دیا ہے کہ تجارت کا رخ بدل دو، ہندوستان پورے مشرقی اور جنوبی ایشیا کے ساتھ تجارت کر سکتا ہے، لیکن کیا زبردست قسم کے دماغ ہمیں اللہ نے عطاء کی ہے کہ دونوں سرحدیں اپنے اوپر بند کر دی اور اب کہہ رہے ہیں کہ تیل کم خرچ کرو اس لیے کہ آبنائے ہرمز بند ہو گیا ہے، تیل کی ترسیلات بند ہو گئی ہیں، لیکن پاکستان تو اس بات کا دعوے دار ہے کہ پاکستانی جھنڈے کے نیچے دس جہاز آبنائے ہرمز کو عبور کر چکے ہیں، وہ کہاں چلے گئے ہیں؟ اگر وہ پاکستان آئے ہیں تو پھر پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیوں کیا گیا؟ اگر وہ پاکستان سے کسی دوسرے ممالک کی طرف گئے ہیں تو بتایا جائے کہ کراچی میں اترے ہیں، تیل وہاں سے اتارا گیا ہے، تیل دوسرے جہاز پر چڑھایا گیا ہے، دوسرے جہازوں کو یہاں کراچی میں پورٹ عطاء کیا گیا ہے، وہاں سے ان کو دوسرے ملکوں میں بھیجا گیا ہے، اس پر جو آمدن ہے وہ کیا ہے؟ یہ قوم کو کیوں نہیں بتایا جا رہا؟ اور ایک صاحب نے بڑے خوبصورت تبصرہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز تو پل صراط بن گیا ہے اور ایک حافظ جی جو ہے پل صراط سے دس لوگوں کو گزار سکے گا ہمارے حافظ جی نے دس جہاز گزروا لئے ہیں، یہ قوم کے ساتھ مزاق کیا جا رہا ہے، سنجیدہ چہروں کے ساتھ قوم کے ساتھ کھلواڑ کرنا اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔
جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلس شوریٰ نے اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی کی حمایت کا اعادہ کیا ہے اور اس موقف کو دہرایا ہے کہ اسرائیل ایک قابض ریاست ہے، حالات ایسے بن رہے ہیں کہ اب امریکہ کی پشت پناہی کے باوجود بھی اسرائیل کیلئے اپنا وجود برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا، کیونکہ دنیا نے دیکھ لیا ہے کہ فلسطین سے جو جنگ ایران تک آ پھیلی ہے یہ کس کا فیصلہ ہے؟ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ تنہا ہے اور یورپ بھی اس کا ساتھ نہیں دے رہا، پہلی مرتبہ یورپ ایک جنگ سے لا تعلق رہا ہے کی جس کے قیادت امریکہ کر رہا ہے۔ امریکہ میں پوری امریکی عوام اس وقت ٹرمپ کے خلاف علم بغاوت بلند کر چکے ہیں، جو شخص ملک کے اندر بھی تنہا ہو، پوری یورپ میں تنہا ہو، پوری دنیا میں تنہا ہو، وہاں پاکستان کے حکمران ہم آج بھی ٹرمپ کی خوشامد اور اس کی رضا مندی کے لئے ہر اقدام کرنے پہ تیار ہو جاتے ہیں، کون سی آزادی ہے یہ؟ کونسی خود مختاری ہے؟ ہمارے حکمران اپنی خود اعتمادی کھو بیٹھے ہیں اور ایک غلامانہ ذہن کے ساتھ حکومت کر رہے ہیں۔ عوام کی جھوٹی نمائندگی کو لے کر سیول حکمران اسٹیبلشمنٹ کے پیروکار اور اسٹیبلشمنٹ وہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کے پیروکار، یہ وقت ہے کچھ مضبوط فیصلہ کرنے کا تمام وبال قوم کے اوپر ڈال دیا جاتا ہے، مصیبتوں کے پہاڑ، مہنگائی کے پہاڑ عام آدمی پر ڈال دیے جاتے ہیں، حکمران جوں کی توں عیاشیاں کر رہے ہیں۔
آج اسرائیل اس حد تک جری ہو رہا ہے کہ ایک نئے قانون کے ذریعے سے فلسطینیوں کو پھانسیوں تک لے جائیں گے، تمام قیدیوں کو پھانسیوں تک لے جانے کے لیے ایک قانون بنا دیا گیا ہے یہ قانون جنیوہ انسانی حقوق کنونشن سے متصادم ہے، یہ قانون اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر سے متصادم ہے، اقوام متحدہ ہو یا جنیوہ انسانی حقوق کنونشن اس کا فوری طور پر نوٹس لے، اسے انسانی حقوق کے منافع قرار دے اور قیدیوں کے حوالے سے جو عالمی قانون ہے اس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی، جبر کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
امن و امان کے صورتحال ابتر ہو چکی ہے، حکومتی رٹ ختم ہے یہاں کی صوبائی حکومت نہ ہیوں میں نہ شیوں میں، آپریشن کے خلاف بھی اور فوج کے ساتھ شانہ بشانہ بھی، اس قسم کی ڈاما ڈول پالیسیوں سے حکومتیں نہیں چلا کرتی ہیں، عوام کو ایک پرسکون حکومت چاہیے ایک ایسی حکومت جو عوام کو بھی سکون دے سکے، حکومت بھی مضطرب اور عوام بھی مضطرب، یہ پھر سٹیٹ نہ ہوا اس کو کوئی اور نام دینا ہوگا۔
چھبیسویں آئینی ترمیم کے دوران ہم نے کچھ ترامیم دی تھی جو تسلیم کر لی گئی تھی لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا، یکم جنوری دو ہزار اٹھائیس سے پاکستان کے اندر دستور کے مطابق اب سود بند ہوگا، لیکن دو ہزار چھبیس شروع ہے ایک سال بیچ میں رہ گیا ہے اور اس وقت تک سود کے خاتمے کیلئے کوئی اقدامات ہمیں بینکوں میں یا محکموں میں نظر نہیں آ رہے ہیں، کیا چاہتی ہے حکومت؟ یہ تو ایک ڈنگ ٹپاو سیاست والی بات ہے کہ جب مجبوری ہے تو ہر بات مان لی، جب اس مجبوری سے نکل گئے تو پھر اپنی وہی خوہ، وہی عادت، وہی روش، اس طرح تو عوام نہیں چلیں گے آپ کے ساتھ، جمعیۃ علماء اسلام، اسلامی قوانین کا دفاع کرے گی۔ اس وقت بھی جو آئین میں ترمیم کی گئی تھی کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات ڈیبیٹ کے لئے ایوان میں لائی جائیں گی، ایک بھی ابھی تک کوئی سفارش وہ بحث کے لئے ایوان میں پیش نہیں کی گئی، اس سے حکمرانوں کی بدنیتی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ بدنیتی سے حکومتیں نہیں چلا کرتیں، جھوٹی نمائندگی کے ساتھ حکومتیں نہیں چلا کرتیں، ہم عوام میں ہیں اور ہم ملک کی نزاکتوں کو سامنے رکھتے ہوئے بہت سے چیزوں پر ابھی آخری اقدام سے پہلو تہی کر رہے ہیں، ورنہ یہ ایک دن کی مار ہیں۔
عوام میں ناراضی ہے حکومت سے بھی ناراض، ریاستی اداروں سے بھی ناراض، ان کے آپریشنز بھی نہ عوام کو امن مہیا کر رہے ہیں اور نہ اس کی طرف کوئی پیش رفت، بلکہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کا والی بات ہے۔
آج بھی دو ہزار چوبیس کے الیکشن کی روش برقرار ہے، جتنے ضمنی الیکشن ہوئے ہیں عینی شاہدین، کہ آج بھی شکست خوردہ لوگ جو ضمنی الیکشن میں ہار چکے ہیں ان کو کامیاب قرار دیا گیا ہے۔ پانچ ہزار ووٹ لینے والا ہارا ہوا ہے اور پانچ سو ووٹ لینے والا جیتا ہوا ہے، شرم انی چاہیے اس انتخابی نظام کو، اس الیکشن کمیشن کو اور ان قوتوں کو جو اس قسم کے نتائج کے لیے اپنے ریاستی قوت کو استعمال کرتے ہیں، کیا تبدیلی آئی ہے تمہارے اندر؟ اگر آپ ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ ہم خوشامد کر کے سیاست کریں گے تو یہ جمعیۃ علماء اسلام کی روش نہیں ہے، یہ جمعیۃ علماء اسلام کی تربیت نہیں ہے، ہم نے سر اٹھا کر چلنا سیکھا ہے اور اپنے اکابرین سے سیکھا ہے اور وہی روش چلے گی، کہاں تک جانا چاہتے ہو یہ آپ بتائیں، ہم آخری حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔ سمندر نے کہا مچھلی سے کب تک تیرتے رہو گے؟ تو مچھلی نے کہا جب تک تیرے اندر موجیں مارنی کی طاقت ہے اس وقت تک میرے اندر تیرنی کی بھی طاقت ہے۔
اس حوالے سے ان شاءاللہ العزیز بارہ اپریل کو بہت بڑا اجتماع ہوگا اور اچھا میلہ لگے گا ان شاءاللہ اور عوام کو اعتماد دلائے جائے گا کہ آپ تنہا نہیں ہیں، کوئی تو ہے جو آپ کے پشت پر کھڑا ہے اور آپ کے حق کی بات کر رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو
سوال و جواب
صحافی: مولانا صاحب یہ بتائیں کہ پاکستان میں جتنی بھی تبدیلیاں آتی ہیں، ابھی جو توانائی بحران آیا ہے اور پٹرولیم مصنوعات میں ہوشربا اضافہ، لیکن جب ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں جو بھی اسی طرح کے فیصلے ہوتے ہیں تو حکمران اور تمام جو لیڈنگ پارٹی کی لیڈرز ہیں وہ آپ کے گھر کے طواف کرتے ہیں، آپ کے گھر آکے آپ سے ساتھ ملاقات کرتے ہیں، تو عوام تو سمجھتے ہیں کہ مولانا صاحب ان کے ساتھ صلاح مشورہ کرتے ہیں۔
مولانا صاحب: صلاح مشورے کے لئے شاید کم آتے ہوں، ہمارے غیض و غضب سے بچنے کے لئے زیادہ آتے ہیں۔
صحافی: مولانا صاحب یہ پہلے بھی تحریک شروع کی تھی جے یو آئی نے، اس کے اثرات بھی نکل آئے، کیا یہ دوبارہ ایک تحریک ہوگا جو ابھی شروع کیا جا رہا ہے مردان سے، یا صرف جلسہ ہوگا؟
مولانا صاحب: بہرحال جلسوں کا تسلسل ہوگا اور اسی سے اگے جلسوں کے اعلانات ہوں گے اور اس طرح پورے ملک میں جائیں گے۔
صحافی: مولانا صاحب لیکن تحریک انصاف کی جانب سے پوری کوشش ہے کہ آپ کو کسی طرح اپنا ہم نوا بنایا جا سکے یا آپ کی دست شفقت وہ حاصل کر سکے، شاید اس میں ان کو کوئی ناکامی نہیں ہوئی ہے۔ کل پھر ان کا ایک جلسہ تھا اس میں آپ کی خلاف نعرے لگے، تو کیا آپ کے اور تحریک انصاف کی درمیان جو رابطے تھے وہ بالکل ختم ہوگئے؟
مولانا صاحب: جواب تو آپ نے خود دے دیا کہ کل آپ کے خلاف پھر نعرے لگ رہے تھے، ان کی عادتوں میں کوئی فرق تو نہیں ایا۔
صحافی: مولانا صاحب حکومتی اتحادی جماعتوں نے پارلیمانی اجلاس بلایا ہے، کوئی اٹھائیسویں ترمیم کی باتیں چل رہی ہیں، آپ کو اس حوالے سے اعتماد میں لیا گیا ہے یا نہیں؟
مولانا صاحب: دیکھیں اٹھائیسویں ترمیم کی باتیں ابھی تک میڈیا میں چل رہی ہیں، کوئی خاص سیاسی محاذ پر ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی، اس حوالے سے یقیناً اپوزیشن کو مل بیٹھ کر سوچنا ہوگا اور اگر وہ ملک اور آئین اور قانون سے متصادم ہے یا اس میں کوئی جبر کا پہلو ہے تو اس کا راستہ روکنے کیلئے ہمیں ایک مشترک اقدام کرنا ہوگا۔
صحافی: مولانا صاحب! عمران خان کی حکومت میں جے یو آئی اپوزیشن میں تھی، اس وقت بھی اپوزیشن میں، عمران خان کی کارکردگی کیسی تھی اور شہباز شریف کی کارکردگی کیسی ہے، شہباز شریف کا نیب کیسے ہے اور عمران خان کا نیب کیسا تھا؟
مولانا صاحب: میرے خیال میں یہ بہت چھوٹا سا سوال ہے آپ نے بہت مختصر تاریخ کی بات کی ہے پاکستان کے پوری تاریخ میں ہر آنے والا پہلے کو بخش دیتا ہے۔
صحافی: مولانا صاحب آپ نے تین باتیں کیں ایک کم عمری کی شادی، اور ابھی یہ نئے آیا ہوا ہے کہ خاوند کی کمائی میں پچاس فیصد کٹوتی جو ہوتی ہے وہ بیوی کو دیں گے تو اس پر آپ نے پہلے بھی کم عمری کی شادی والی جو بل ہے اس میں آپ نے اعتراضات لگائے تھے پورے پاکستان میں، اب اس میں آپ لوگوں کا کیا کردار ہوگا؟
مولانا صاحب: ایک ہے اپوزیشن میں بیٹھ کر کردار ادا کرنا اور ایک ہے حکومت میں بیٹھ کر کردار ادا کرنا، چونکہ اس وقت ہم اپوزیشن میں ہیں اور اپوزیشن میں بھی چھوٹے گروپ والے لوگ ہیں، تھوڑی سی آپ لوگ اور عوام ہماری قوت بڑھائیں پھر دیکھتے ہیں یہ کیسے قانون لاتے ہیں۔
صحافی: مولانا صاحب آپ کا جو تحریک ہے وہ وفاق کے خلاف ہے ان کے اقدامات کے خلاف ہے یہاں صوبے میں بھی کرپشن کی زبان کھل عام بولی جا رہی ہے تو اس پر بھی نکتہ چینی ہوگی؟
مولانا صاحب: سنا ہے عروج پر ہے۔
صحافی: مولانا صاحب ہم وفاق کی بات کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ آپ سمجھتے ہیں کہ اس وقت صوبے میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے کرپشن عروج پہ ہے، وزیراعلی صاحب شروع دن سے اسلام آباد میں بیٹھے ہیں۔
مولانا صاحب: یہ جو آپ کا ذہن ہے جس طرح آپ سوچ رہے ہیں، آپ سوال کر رہے ہیں، صرف اس لیے کہ یہی بات میرے زبان سے آپ نکالنا چاہتے ہیں، تو آپ ٹھیک سوچ رہے ہیں۔
صحافی: مولانا صاحب پی ٹی آئی نے اپریل سے اسلام آباد اور کے پی اور راولپنڈی میں احتجاج کی کال دی ہے اور جلسے کی، اس کے احتجاج کے حوالے سے کیا کہیں گے اکیلے احتجاج کریں گے؟
مولانا صاحب: اُن کو حق پہنچتا ہے اگر وہ جلسہ کرتے ہیں، احتجاج کرتے ہیں، ہم تو اس سے اختلاف نہیں کریں گے، وہ اپوزیشن کی جماعت ہے اور اپنے مطالبات کے لیے وہ ضرور اپنا احتجاج کریں، اگر کرنا چاہتے ہیں تو اس پہ تو ہم کوئی پابندی نہیں لگا سکتے اور نہ ہی لگنی چاہیے۔
صحافی: مولانا صاحب چینی سفیر نے آپ کے ساتھ ملاقات کی تو افغانستان کی حوالے سے ایسی کوئی بات ہے کہ ہم اس کو بڑا سمجھیں، اگر کوئی ہو؟
مولانا صاحب: دیکھیں چین اس وقت بہرحال ایک کردار تو ادا کر رہا ہے لیکن چین زیادہ شور شرابہ نہیں مچاتا، جو کچھ کرتا رہتا ہے، یقیناً یہ تشویش وہاں پائی جا رہی ہے کہ پاکستان میں جو چین کی سرمایہ کاری کے مواقع تھے وہ بند ہو چکے ہیں، اب اگر آپ مغربی سرحدات بھی بند کر لیتے ہیں، مشرقی سرحدات بھی بند کر لیتے ہیں تو چین کے ساتھ ایک کوریڈور بند ہو جاتا ہے اور وہ بھی آپ سے مایوس ہوں اور ایران اس وقت کوئی اچھے نہ برے کا، تو وہ اپنے حالات سے نمٹ رہا ہے، تو خطے میں ہم نے پاکستان کو محصور کر دیا ہے اور تمام ترقی کے راستے اور کاروبار کے راستے مسدود کر دیے ہیں۔
صحافی: مولانا صاحب ابھی ضمنی الیکشن آئے ہیں اس میں آپ کا امیدوار کون ہوگا؟
مولانا صاحب: پتہ نہیں مجھے، وقت سے پہلے آپ لوگ میرے خیال میں وہ جانور ابھی ذبح نہیں ہوا تھا اور تقسیم والے سر پہ کھڑے تھے۔
خدا حافظ
ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض
ممبرز ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کانٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
#teamJUIswat

.jpeg)
ایک تبصرہ شائع کریں