سفارتی محاذ پر جمعیت علمائے اسلام کی اصولی سیاست کی فتح تحریر: ایمل خان سواتی

سفارتی محاذ پر جمعیت علمائے اسلام کی اصولی سیاست کی فتح

تحریر: ایمل خان سواتی

حالیہ دنوں میں سفارتی محاذ سے ایک ایسی خبر سامنے آئی ہے جس نے عالمی ایوانوں میں پاکستان کے قد کاٹھ کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان وقتی جنگ بندی کے لیے پاکستان کی کامیاب ثالثی بلاشبہ ایک انتہائی خوش آئند پیش رفت ہے۔ اگرچہ اسے وقتی قرار دیا جا رہا ہے، لیکن حقیقت پسندانہ نگاہ سے دیکھا جائے تو اس کے بطن میں ایک بڑی امید انگڑائی لے رہی ہے کہ اگر مسلسل اور سنجیدہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا تو برسوں کی یہ تلخی مستقل امن میں بدل سکتی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ بات قابلِ اطمینان ہے کہ ان مذاکرات کا مرکز اسلام آباد ہے، جو اس بات کی روشن دلیل ہے کہ پاکستان کا سفارتی اعتماد اب عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔

اس بڑی کامیابی پر پاکستان کی حکومت، مقتدرہ اور وزارتِ خارجہ یقیناً تحسین کے مستحق ہیں۔ دنیا جانتی ہے کہ دو ایسی قوتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنا، جن کے مفادات ایک دوسرے سے متصادم ہوں، کتنا کٹھن کام ہے۔ لیکن پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ثابت کیا کہ ہم صرف مسائل کا حصہ نہیں بلکہ حل کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب ہمیں سیاسی عصبیتوں سے بالاتر ہو کر صرف اور صرف قومی مفاد کی عینک سے دیکھنا چاہیے، اور یہی ایک سچے محبِ وطن کا شیوہ ہے۔

اس تمام منظر نامے میں اگر ہم جمعیت علمائے اسلام کے کردار کا جائزہ لیں تو ایک بہت ہی متوازن اور پختہ سیاسی رویہ سامنے آتا ہے۔ جمعیت کا یہ خاصہ رہا ہے کہ وہ اپنے اصولی موقف پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتی۔ جہاں اسے حکومت یا اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں سے اختلاف ہوتا ہے، وہاں یہ جماعت نہ صرف بھرپور آواز بلند کرتی ہے بلکہ احتجاج کے جمہوری راستے کو بھی اپناتی ہے۔ لیکن اس کڑے اختلاف کے باوجود، جمعیت کا ایک رخ ہمیشہ واضح رہا ہے کہ جہاں ریاست کو فائدہ پہنچتا ہے، وہاں یہ جماعت اسے اپنی کامیابی سمجھ کر اس کی مکمل حمایت کرتی ہے۔

اس کی سب سے بڑی اور تاریخی مثال ماضی قریب میں ملتی ہے جب عمران خان حکومت کے خلاف جمعیت کے ملین مارچ اپنی پوری قوت کے ساتھ جاری تھے۔ سیاسی درجہ حرارت اپنے عروج پر تھا اور حکومت پر دباؤ بڑھ رہا تھا، لیکن جیسے ہی ملک کو بیرونی محاذ پر چیلنج درپیش ہوا اور بھا رت کے خلاف مؤثر جوابی کارروائی کی ضرورت پیش آئی، تو مولانا فضل الرحمن نے کمالِ بصیرت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے اس موقع پر اپنے ملین مارچ کو حکومت کی مخالفت کے بجائے دفاعِ پاکستان کے عنوان میں بدل دیا۔ یہ فیصلہ اس بات کی دلیل ہے کہ جمعیت کے نزدیک ریاست کی سلامتی اور وقار کا درجہ سیاسی مخالفت سے کہیں بلند ہے۔

آج بھی ہمیں اسی قومی یکجہتی اور رویے کی اشد ضرورت ہے۔ اختلاف جمہوریت کا حسن ہے، لیکن جب ریاست عالمی سطح پر کوئی سنگ میل عبور کر رہی ہو، تو پوری قوم کو ایک ہی صف میں کھڑا ہونا چاہیے۔ اگر یہ سفارتی کوششیں بار آور ثابت ہوتی ہیں تو یہ نہ صرف ہمارے ملک کے لیے سیاسی استحکام لائیں گی بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے بھی ایک عظیم فتح ثابت ہوں گی۔

اللہ کرے کہ امن کا یہ سفر رکے نہیں، اسلام آباد کے مذاکرات کامیاب ہوں اور ہمارا پیارا ملک دنیا کے نقشے پر ایک امن دوست اور ذمہ دار قوت بن کر مزید چمکے۔ آمین۔

ایمل خان سواتی

کوآرڈینیٹر جمعیت ڈیجیٹل میڈیا ٹیم گلف ریجن، ممبر مرکزی کونٹینٹ جنریٹر اینڈ رائٹر فورم جمعیت پاکستان

#teamJUIswat


0/Post a Comment/Comments