مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا کراچی پریس کلب کے صحافیوں سے اہم گفتگو

قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا کراچی پریس کلب کے صحافیوں سے اہم گفتگو

18 مئی 2026

سوالات و جوابات

صحافی: 

مولانا صاحب: اٹھائیس ویں ترمیم کے بارے میں ابھی تب کوئی واضح چیز سامنے نہیں آئی ہے، حکومت کی طرف سے کوئی واضح تجویز نہیں آئی ہے، ہمارے کچھ دوست ہیں جو کچھ موضوعات کے اوپر ڈائیلاگ کا آغاز کر رہے ہیں لیکن ہم اس نظام کے اندر رہتے ہوئے ڈائیلاگ کریں، نظام کی اکھاڑ پچھاڑ اس میں بڑی سطح پر تغیرات اور تبدیلیاں کہ اس کا اصل چہرہ ہی تبدیل ہو جائے، اس شکل میں ہمیں شائد کوئی تجویز قابل قبول نہ ہوگا، ہم نے بڑی مشکل سے 23 سالوں کے بعد آئین حاصل کیا تھا پھر ہمارا آئین آمروں کے مداخلت کے نتیجے میں بہت ہی بگڑ گیا، بلاآخر پیپلز پارٹی ہی کی حکومت میں اٹھارویں ترمیم کے لئے ہم بیٹھے اور آئین کو اول سے لے کر آخر تک اس کے تمام خرابیوں کو دور کیا، کوشش کی کہ آئین کو اصل حالت میں واپس لائے جائے، اس میں ہم کامیاب ہو گئے، پیپلز پارٹی آج حکومت میں بھی ہیں اور خود مسلم لیگ ن اس میں شریک تھی، ایم کیو ایم اس میں شریک تھی، تمام سیاسی پارٹیاں اس آئینی کمیٹی میں موجود تھیں، ایک متفقہ دستاویز سامنے آیا اور اس کو پارلیمنٹ نے اتفاق رائے سے منظور کیا، پارلیمنٹ کے فیصلوں اور ان کی اتفاق رائے کو اس طرح حقیر سمجھنا یہ شاید کسی طرح بھی ملک کے لیے مفید نہیں ہے۔

صحافی:

مولانا صاحب: دیکھیے پی ڈی ایم تھا، پی ڈی ایم میں سیول سپر میسی کے لیے جدوجہد کی گئی، ساڑھے تین سال سے زیادہ ہم نے جدوجہد کی اس حوالے سے، لیکن آج وہ خود سیول سپر میسی کی نفی کر رہے ہیں اور اسٹیبلیشمنٹ کی چھتری کے نیچے ان کی خواہشات کے مطابق حکومت بھی چلا رہے ہیں، آئین میں تبدیلیاں بھی کر رہے ہیں، قانون سازیاں بھی کر رہے ہیں، یہ روش شاید پاکستان کے لئے مفید نہ ہو۔

صحافی:

مولانا صاحب: یہ بھی ہم کر چکے ہیں، یہ بھی ہم کر چکے ہیں، دس سال ایوب خان کی حکومت تھی، اس سے پہلے کتنے سال جنرل یحیٰی کی حکومت تھی، جنرل ضیاء الحق کی حکومت تھی اور دس سال جنرل مشرف کی حکومت تھی، تو یہ بھی دیکھ چکے ہیں۔ آج جتنی خرابیاں، جتنی تباہیاں ان ادوار میں آئی ہیں جس طرح ملک کا نظام چور چور ہوا ہے، پارلیمنٹ اپنا وقعت کھو چکا ہے اور جس طرح ایک فرد کہ خواہش پر آئین میں تبدیلیاں اور قانون میں تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں، سو اسی کو تو شاخسانہ ہے۔ تو سیاستدان ذرا اپنے رویوں کے اوپر غور کریں اور الیکشن دوبارہ ہونے چاہیے، شفاف ہونے چاہیے، تاکہ عوام کے نمائندے آئے اور وہ حقیقی معنوں میں اپنا کردار ادا کریں۔

صحافی:

مولانا صاحب: دیکھیے میری جو اپنی سیاسی زندگی ہے ہم نے جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے خلاف تحریک چلائی، سیاسی جماعتوں نے تحریک چلائی، ایم آر ڈی پہ تھی، پھر اس کے بعد اگر جنرل مشرف آئے تو ہم نے ان کے مارشل لاء کو مسترد کیا، یہ میرا سوال ہے سیاستدانوں سے جو میں ان کی مجلس میں دہراتا رہا ہوں اور آج آپ کے سامنے اس کا اظہار کر رہا ہوں کہ ہم مسلسل جمہوریت کے اور اس کے تقویت کے لیے تحریکیں چلا رہے ہیں، ہم یہاں پر آمریت کے خلاف تحریکیں چلا رہے ہیں، کیا وجہ ہے کہ اس کے باوجود مسلسل جمہوریت کمزور ہوتی جا رہی ہے اور آمریت جو ہے وہ طاقتور ہوتی جا رہی ہے؟ اس کے پیچھے وجوہات کیا ہیں؟ یہ میں نے ان تمام قائدین کی موجودگی میں ایک سے زیادہ مرتبہ یہ سوال اٹھایا ہے، اور سیدھی سادھی بات ہے کہ آپ کی بات سے میں اتفاق کرتا ہوں کہ سیاستدان ہی کمپرومائز کرتے ہیں، اگر سیاستدان کمپرومائز نہ کرے اور وہ اپنے موقف پہ ڈٹے رہیں، تو کوئی قوت جو ہے وہ عوام کے حق پہ ہاتھ نہیں ڈال سکتے۔

صحافی:

مولانا صاحب: جہاں تک ایران اور امریکہ کی جنگ کے بیچ پاکستان کی ثالثی کا کردار ہے، میرے خیال میں اگر ہم حقائق کی بنیاد پر تجزیہ کریں تو پاکستان کی جو پوزیشن ہے ماسوائے ثالثی کے اور کوئی راستہ بھی نہیں تھا، سعودی عرب ہے، ایران ہے، امارات ہے، سعودی عرب ہے، مصر ہے، ترکی ہے، ہر ایک نے اپنے زاویہ سے اپنا کردار متعین کیا اور اس میں کسی جانب فریق بننا وہ جس طرح خلیجی ممالک کیلئے مشکل تھا پاکستان کیلئے بھی سوائے ثالثی کے کردار کے اور کوئی راستہ نہیں تھا، سو جو پاکستان کی صلاحیت تھی جو اس کا استعداد تھا ہم نے اس کو سپورٹ کیا ہے، ہم نے اس سے کوئی اختلاف نہیں کیا، ہم نے سٹیٹ کے لئے کوئی مشکلات نہیں پیدا کی، ہم نے پورے ملک میں جو مظاہروں کا اعلان کیا تھا اس کو مؤخر کر دیا تھا۔ لیکن جہاں تک ہے افغانستان کے حوالے سے، حضرت ہم دو پڑوسی ملک ہیں اور جب ہندوستان تقسیم نہیں ہوا تھا، اس وقت بھی ہم پڑوسی تھے، پاکستان بن گیا تو اس کے بعد سے بھی ہم پڑوسی چلے آرہے ہیں اور افغانستان پاکستان کے بیچ میں تحفظات بھی رہے، لیکن ڈیورنڈ لائن جو ڈھائی ہزار کلومیٹر طویل ایک بارڈر ہے اس پر دونوں طرف پشتون قوم رہتی ہے، ایک بھائی کا گھر ادھر ہے تو دوسرے بھائی کا گھر ادھر ہے، ایک ہی گھر کا صحن ایک طرف ہے تو کمرے دوسرے طرف ہیں، ایک ہی مسجد کا محراب افغانستان میں ہے تو اس کے مقتدی پاکستان میں کھڑے ہوتے ہیں اور ہم ایک دوسرے کے لئے ناگزیر بھی ہیں، لیکن ایک دوسرے سے ہم شاکی بھی رہے ہیں۔ ہمیں تلاش کی اس بات تھی کہ افغانستان میں کوئی ایسی حکومت وجود میں آئے کہ جو پرو پاکستانی ہو، اب اگر ہم شکایت کرتے ہیں برہان الدین ربانی سے، پھر ہم طالبان کو وہاں کے افغان طالبان کو اپنا پرو پاکستانی سمجھتے ہیں، پھر جب ان کی حکومت آتی ہے تو ہم ان کو تسلیم بھی کرتے ہیں اور بطور سفیر بھی ان کو جگہ دیتے ہیں اور پھر جب نائن الیون ہوتا ہے تو ہم امریکہ کے اتحادی بن کر ان پر حملہ آور ہوتے ہیں، پاکستان میں امریکہ کو اڈے بھی دیتے ہیں، فضائیں بھی دیتے ہیں، وہاں بمبارمنٹ بھی ہوتی ہے، اور دوسری طرف ہم غلاف کے نیچے ان کو پاکستان میں جگہ بھی دیتے ہیں۔ بیس سال جنگ ہوئی، اب ظاہر ہے بیس سال جنگ کے بعد جب وہ افغانستان میں داخل ہوئے اور وہاں کی حکومت پر انہوں نے گرفت حاصل کی، تو بہت سے مسائل ان کے اور ہمارے بیچ میں تھے، مشکلات بھی تھی، ہمارے درمیان مہاجرین کا مسئلہ تھا، ہمارے درمیان باہمی تجارت کا مسئلہ تھا، ہمارے درمیان سرحدات کا مسئلہ تھا، ہمارے درمیان مسلح گروہوں کا مسئلہ تھا، جب یہ ہماری ہی لوگ مسلح ہوکر افغانستان جا رہے تھے تو ہم نے کبھی ان پر اعتراض نہیں کیا، جب وہاں انہوں نے بیس سال جنگ لڑی اور وہ ایک جنگجویانہ مہارت اس حد تک حاصل کر سکے تو وہ سٹیٹ کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں آگئے، آج ہم نے ان کو ایک مسئلہ بنا دیا ہے۔ سو اس وقت بھی میں گیا تھا الیکشن سے پہلے اور تمام مسائل حل کر کے آیا، یہاں میں نے بریفنگ دی سب کو اور میں نے جو کچھ حاصل کیا تھا ان کے سامنے رکھا، انہوں نے مجھے اپریشیٹ کیا، لیکن الیکشن میں دھاندلی کے نتیجے میں، میں نے پی ڈی ایم چھوڑ کر اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔ اب میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ کی سفارتی رول اتنا کمزور کیوں ہیں کہ تم پرو پاکستانیوں کو بھی اینٹی پاکستان بنا رہے ہو اور سفارتی ذرائع سے آپ مسئلے کے حل کی صلاحیت سے محروم ہیں، وہاں بمباریاں آپ کر رہے ہیں۔ بنیادی بات یہ ہے کہ میں اپریشیٹ کروں گا اپنی حکومت کو، اگر افغانستان میں ان کو پاکستان دشمن مسلح گروہوں کے مراکز معلوم ہیں اور وہاں پر وہ سٹرائک کر سکتے ہیں تو خود پاکستان کے اندر ان کے مراکز ان کو معلوم کیوں نہیں ہے؟ اور جو کچھ بنوں میں ہو رہا ہے، لکی مروت میں ہو رہا ہے، جو ٹانک میں ہو رہا ہے، ڈیرہ اسماعیل خان میں ہو رہا ہے، وزیرستان میں ہو رہا ہے، وہاں پر جو صورتحال ہے اس میں سٹیٹ کو کس قدر مشکل درپیش ہے اس وقت، یہ ساری صورتحال اپنی طور پہ ایک بڑا سوال ہے اور جس کا ان کے پاس سفارتی حوالے سے کوئی جواب نہیں، صرف طاقت کا استعمال، اور صرف طاقت کا استعمال، اور اس وقت ہمارے پاس دو سرحد ہیں ایک انڈیا سرحد ایک افغان سرحد، باقی تو کوریڈورز ہیں۔ ان دو بڑی سرحدات یہ دونوں بند ہو گئی ہیں، دونوں سرحدات پر آپ کی تجارت بند ہے، ایران اس وقت آپ کے اچھے کا نہ برے کا، چائنہ کا اس وقت آپ بے اعتبار نہیں رہا ہے، اس کے سی پیک کے پورے پیکج کو آپ نے تباہ و برباد کر دیا ہے، ملک کو کہاں کھڑا کر دیا ہے اور اسی لیے میں نے عرض کیا تھا کہ پارلیمنٹ کا ایک ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے اور ہمیں ذرا بتایا جائے کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے اس وقت؟ ہم تشویش میں ہیں، پارلیمنٹ تشویش میں ہیں، لیکن ان میں ہمت نہیں ہے کہ وہ ان کیمرہ اجلاس میں بھی پارلیمنٹ کا جو زیادہ تر انہی کی منشاء کا ہے وہ ان کا سامنا کر سکے اور ان کو مطمئن کر سکے۔ تو میں تو ابھی بھی کہتا ہوں کہ ان کیمرہ اجلاس بلاو، ہمیں بتاؤں کہ تمہارے سفارتی کوششیں کیوں ناکام ہیں، افغانستان ہمارا پڑوسی اور مسلمان ملک میں ہے، برادر ملک ہے، وہ کیوں ہمارے ساتھ دشمنی کی طرف چلا گیا ہے؟ اور ہم ان شکایات کا کس طرح ازالہ کر سکتے ہیں؟ یہ اب بھی ہوسکتا ہے لیکن اس کے لیے صلاحیتوں کی ضرورت ہے۔

صحافی:

مولانا صاحب: دیکھیے یہ جو اس وقت میں مہنگائی ہے اس کا تعلق آبنائے ہرمز کے ساتھ ہے، کیونکہ ہمارے سامنے یہی وجہ پیش کی جا رہی ہے اس کے علاوہ اور کوئی وجہ نہیں ہے، لیکن اس سے انڈیا کیوں متاثر نہیں ہوا؟ اس سے بنگلہ دیش جزوی طور پر متاثر ہوا ہے اگر وہاں پر سولہ فیصد قیمتیں بڑھی ہیں، تو ہمارے ہاں اکسٹھ فیصد کیوں بڑھی ہیں؟ کیوں ہم یہ جو پیٹرولیم مصنوعات ہیں وہ ہم کس طرح خرید رہے ہیں؟ چار سو پانچ سو روپے پر ہم پہنچ گئے ہیں۔ تو یہ لیویز کیوں بڑھا دی گئی ہیں؟ یہ سارے وہ مسائل ہیں کہ جو لنک کر رہے ہیں باہر کی ہماری صورتحال سے اور اس پر وہ ہمت کریں، وہ بتائیں، مطمئن کریں پارلیمنٹ کو، کہ اس صورتحال سے ملک دوچار کیوں ہے؟ تاکہ اراکین بھی اپنے رائے دے سکیں، بات کر سکیں وہاں پر، اور اپنے لیے کوئی راستے نکال سکیں، عوام کے سر پر اس طرح مسلط ہو جانا اور اس طرح پہاڑ توڑنا یہ ناقابل برداشت ہے اور ان شاءاللہ بائیس مئی کو ہم پورے ملک میں ہر ضلعی ہیڈکوارٹر میں مظاہروں کا اعلان کر چکے ہیں اور ان شاءاللہ ملک بھر میں مہنگائی کی خلاف ہم عوام کے ساتھ کھڑے نظر آئیں گے اور بھرپور احتجاج کریں گے ان شاءاللہ 

صحافی:

مولانا صاحب: آپ نے اپنے لیول کا سوال کیا ہے لیکن ہے بڑا خطرناک قسم کا سوال، آپ نے کہا کہ آپ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں یا باغیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، دیکھیں ہم تو قربانیاں دے رہے ہیں، ہمارے سینئرز شہید ہو رہے ہیں، ہم روزانہ لاشیں اٹھا رہے ہیں، ان باغیوں کے ہاتھوں اٹھا رہے ہیں۔ تو ظاہر ہے کہ پاکستان اور ہم ایک ہیں، ہم اس ملک کو ایک اسلامی، فلاحی انصاف پر مبنی ریاست بنانا چاہتے ہیں، لیکن اپنے شورائی نظام کے راستے سے، جب حکومت شوریٰ کو کمزور کرے گی، پارلیمنٹ کو کمزور کرے گی، وہاں پر خلاف شریعت قانون سازیاں ہوں گی جو ابھی ہوئی ہیں تازہ، وہاں ایسے ایسے آئینی ترامیم ہوں گی کہ جس کے بعد آئین کمزور ہو جائے گا۔ تو پھر ظاہر ہے کہ آپ خود جمہوریت کا کیس جو ہے وہ ہار رہے ہیں، جمہوریت کا مقدمہ یہاں کے جمہوری لوگ خود ہار رہے ہیں، ہم اس حوالے سے اپنے واضح رائے رکھتے ہیں کہ نہ اٹھارہ کے دھاندلی زدہ الیکشن کو ہم نے تسلیم کیا نہ چوبیس کے دھاندلی زدہ الیکشن کو ہم تسلیم کر رہے ہیں، ہم اپنے موقف پہ قائم ہیں اور جہاں تک ہو سکے ہم اس ملک کو طاقتور بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کی ہم رائے رکھتے ہیں، یہ ایک کی بالادستی اور دوسرے کی زیردستی یہ میرے خیال میں پاکستان میں یہ ملک کے لیے مفید ثابت نہیں ہوگا۔

صحافی:

مولانا صاحب: بڑا اچھا سوال ہے، ویسے تو آپ ذرا مہربانی کرے کل آپ کے خلاف مقدمہ درج ہو جائے گا کہ کراچی پریس کلب نے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف فضل الرحمن کو بلایا تھا۔ تو اس حوالے سے ہم متوازن گفتگو کرتے ہیں، میں آج ہی آصف علی زرداری کو دعوت دیتا ہوں، میں آج بھی اس کی پارٹی کو دعوت دیتا ہوں کہ آپ آئیں اس آئین کو بچائیں جو ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں بنا، جس پر میرے والد نے دستخط کیے، میں آج بھی انہیں کہنا چاہتا ہوں کہ آئیں اس اٹھارویں ترمیم کو محفوظ کریں جس پر آپ نے اور ہم نے بیٹھ کر دستخط میں ہیں، اور آپ کو میں بتانا چاہتا ہوں کہ اٹھارویں ترمیم پاس ہونے کے بعد اس کمیٹی میں شریک تمام پارلیمنٹیرینز کو آصف علی زرداری صاحب نے ستارہ امتیاز عطاء کیا تھا جسے صرف میں نے واپس کیا ہے باقی سب نے قبول کیا ہے۔ تو میں ان کو دعوت دے رہا ہوں کہ آپ اپنا کردار اس وقت ادا کریں اور ایوان صدر کی بلند عمارت میں بیٹھ کر تو میرے خیال میں شاید وہ تحفظ نہیں کر سکیں گے اور وہاں سے اگر وہ نظام چلائیں گے تو اس طرح نظام نہیں چلے گا۔

اتر کر قصر عالی سے ہمارے رو برو آؤ

بلندی سے ہمارے قد کا اندازہ نہیں ہوگا

صحافی:

مولانا صاحب: دیکھیے سیاست دانوں کا باہمی رابطہ یا جس طرح ہم میل جول کر رہے ہیں، کوئی ہمیں مل رہا ہے یہ تو ایک اچھی علامت ہے ملک کی سیاست کی، اور رہا یہ کہ ان ملاقاتوں کو سیدھا فوری طور پر کسی اتحاد سے جوڑ دیں شائد اس کا ابھی مرحلہ نہیں آیا ہے وقت کے ساتھ ہی اور حالات کو دیکھ کر فیصلے میں جائیں گے۔

صحافی:

مولانا صاحب: دیکھیے جہاں تک ہے انڈیا کا تعلق، انڈیا تو براہ راست بہ صورت ایک یونین کے ایک سٹیٹ کے پاکستان پر حملہ آور ہوتا ہے، افغانستان کی طرف سے ہمیں جو شکایت ہے وہ مسلح گروہوں کا ہے جو ادھر سے سرحد عبور کرکے ہماری طرف آتے ہیں۔ اب اس پر افغان گورنمنٹ کا کتنا کنٹرول ہے اصولی طور پر تو ہم ان کو مورد الزام ٹھہرا سکتے ہیں لیکن کیا وہاں پر حکومت اتنی مستحکم ہے، مظبوط ہے کہ وہ جو بیس سال یا چالیس سال سے مسلح گروہ وجود میں آئے ہیں، جنگجووں طبقہ وجود میں آیا ہے کیا ان کو وہ کنٹرول کر سکتے ہیں یا نہیں کرسکتے؟ تو دونوں طرف کی نوعیت میں ضرور فرق ہے لیکن یہ ہے کہ اس پر ہمیں سیاسی اور سفارتی انداز میں کام کرنا چاہیے۔ پاکستان اس وقت کسی جنگ میں مبتلا ہونے کا متحمل نہیں ہے۔

صحافی:

مولانا صاحب: ہم بھی آپ کی طرح منتظر ہیں کہ وہ مرحلہ جب آئے گا۔

صحافی:

مولانا صاحب: دیکھیے جہاں تک الیکشن کمیشن کا تعلق ہے اس میں تو یقیناً یہ صلاحیت نہیں ہے کہ وہ منصفانہ انتخابات کرا سکے گی، اس نے تو لیپ ٹاپ سامنے رکھنا ہے اور نتائج باہر سے آنے ہیں اور انہوں نے اناؤنس کرنے ہیں، اس سے زیادہ ان کی صلاحیت نہیں ہے۔ اور پھر ایک بیان دینا ہے کہ پورے ملک میں شفاف الیکشن ہوئے ہیں۔ وہ شفاف ہمیں معلوم ہے جہاں ہوئے اور کیسے ہوئے، پولنگ سٹیشنوں پر ہم بیٹھتے ہیں، وہ منظر ہم دیکھتے ہیں، ہمارے سامنے سب کچھ ہو رہا ہوتا ہے، تو کا طرح ہم اعتماد کریں، ہاں یہ ہے کہ انتخابی اصلاحات ہونے چاہیے اور ایک با اختیار الیکشن کمیشن ہونا چاہیے کہ جو اس بات کی مکمل ضمانت دے سکے کہ انتخابات وہ منصفانہ اور شفاف ہوں۔جہاں تک پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات ہیں ہماری کوئی باضابطہ مذاکرات نہیں ہوئے ہیں، اور ہم نے ضرور ان کو یہ آفر دی ہے کہ چوں کہ آپ کے اور ہمارے درمیان بڑے تلخ قسم کے حالات گزرے ہیں اور جیسے پہاڑ بیچ میں کھڑے ہو اس کو سر کرنا، اس کے لیے پہلے ماحول بنائیں، اور پھر ہم ان اختلاف کو دور کرنے کے لیے تیار ہیں۔

سو ایک بات واضح ہے کہ ہم نے ان دو سالوں میں باہمی تعلق کو نارملائز کرنے میں پیش رفت کی ہے، اس حد تک ہم کامیاب ہوئے ہیں لیکن یہ کہ باقاعدہ ہم بیٹھیں اور اور اختلافی نکات پر ہم گفتگو کرے یہ نوبت اب تک نہیں آسکی ہے۔

صحافی:

مولانا صاحب: حضرت میری جان کو نہیں، آپ کی جان کو بھی خطرہ ہے۔

صحافی:

مولانا صاحب: ہمارے درمیان ملاقات میں کوئی بڑی چیز مانع نہیں ہے، ذاتی تعلق ہوتا ہے، سماجی تعلق ہوتا ہے، ہم وضع داری کی سیاست کرتے ہیں، کوئی ایسی بڑی بات نہیں ہے لیکن بامقصد ہونی چاہیے، صرف ایک دوسرے کی زیارت تو مقصود نہیں ہے۔ اس میں جب وہ ایک پوزیشن لے چکے ہیں تو اس پوزیشن میں وہ اپنی پارٹی کے لیے مشکل ہیں ہمارے لیے شائد وہ اتنا مشکل نہ ہو۔

صحافی:

مولانا صاحب: بجائے اس کے کہ میں آپ کے سوال کا جواب دوں، میں شکرگزار ہوں کہ آپ نے ایک بڑے اہم مسئلے کی طرف ہمیں متوجہ کیا ہے۔ ایران امریکہ کے درمیان جو کشیدگی بڑھی تو اس میں کوئی شک نہیں کہ قضیہ فلسطین اس کے پس منظر میں چلا گیا ہے اور ہم اس وقت اپنے دوستوں کے ساتھ اپنی پارٹی کے ساتھ مشاورت میں ہیں کہ قضیہ فلسطین پر صہیونی جارحیت کے خلاف ہم پاکستان میں ایک بڑا سیمینار کریں اور اس کو دوبارہ اُجاگر کریں تاکہ قضیہ فلسطین کسی طرح بھی پس منظر میں نہ چلا جائے اور پس منظر میں جن وجوہات کی وجہ سے گیا ہے اس کو دوبارہ پیش منظر میں لانے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے جمعیۃ نے مشاورت کر دی ہے۔

بہت بہت شکریہ 

ضبط تحریر: #سہیل_سہراب

‎ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز 

‎#teamJUIswat

0/Post a Comment/Comments