قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا جامع مسجد المحمود اسلام آباد کی افتتاحی تقریب سے خطاب اور خطبہ جمعہ
08 مئی 2026
نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِیْنُهٗ وَنَسْتَغْفِرُهٗ وَنُؤْمِنُ بِهٖ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْهِ وَنَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّئاٰتِ اَعْمَالِنَا مَن یَّهْدِهِ اللهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ یُّضْلِلْهُ فَلاَ هَادِیَ لَهُ، وَنَشْهَدُ أَنْ لَآ اِلٰهَ اِلاَّ اللهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِیْکَ لَهٗ، وَنَشْهَدُ اَنَّ سَیِّدَنَا مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُوْلُهٗ، صَلی ٱللَّهِ تعالی عَلی خَیرِ خَلقِه مُحَمَّد وَعَلی اٰلِه وَصَحبِِه وَبَارَک وسَلَّم تَسلِیماً کثیراً کثیراً. أما بعد فأعوذ بِٱللَّهِ مِنَ الشَّیطنِ الرَّجِیم، بِسمِ ٱللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم۔ إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّهَ فَعَسَى أُولَئِكَ أَنْ يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ۔ صدق اللہ العظیم
الحمدللہ جامعہ مسجد کی تعمیر مکمل ہوئی ہے اور آج بعد از تکمیل آپ پہلی مرتبہ اس میں نماز جمعہ ادا کر رہے ہیں۔ میرے لئے یہ سعادت کی بات ہے کہ میں بھی آپ کے ساتھ نماز جمعہ کی اس اجتماع میں شریک ہو رہا ہوں، اللہ تعالی ہم سب کی اس حاضری کو اور ہم سب کی عبادات کو اپنے دربار میں قبول فرمائے۔
میرے محترم دوستو! نماز جمعہ کا اہتمام امت کی ضرورت ہے، دین اسلام اجتماعیت کو اولیت دیتا ہے، مسلمانوں کے باہمی اکھٹ اور ان کے درمیان ایک جماعتی نظم یہ ایک معروف امر ہے اور جمعہ کے نماز اس عظیم فضیلت کے لئے ایک مثال بھی ہے اور امت کو اس طرف متوجہ کرنے کا ایک عمل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جماعت کو رحمت قرار دیا ہے اور تفریق و انتشار کو عذاب قرار دیا ہے، "الجماعة رحمت والفرقة عذاب" تو باجماعت نماز ہو یہ بھی اجتماعیت کی طرف ایک رہنمائی ہے اور جمعہ کے روز نماز جمعہ میں ایک بڑے اجتماع کی صورت میں شریک ہونا، اس میں خطبہ پڑھا جانا، قوم کو ایک تعلیم کا انتظام کرنا، یہ ساری چیزیں امت کی اجتماعیت کو اجاگر کرنے کے لئے ہیں۔ خدا کرے کہ ہمارے اندر یہ احساس پیدا ہو، ہم تو بس اپنے انفرادی حیثیت میں آتے ہیں، دو رکعت نماز پڑھ کے چلے جاتے ہیں، یہ بھی ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ میرے دائیں یا بائیں کون کھڑا ہے، کہاں سے آیا ہے، میرے ساتھ اس کا کیا رشتہ ہے، اگر بحیثیت مسلمان ہم اپنے دائیں بائیں اس احساس سے بالکل محروم ہوں تو پھر یہ محض ایک اکھٹ تو ہے لیکن جو اس کا مقصد ہے وہ مقصد حاصل نہیں ہوتا، اللہ تعالی نے انسان کو مدنی الطبع پیدا کیا ہے، یعنی انسان کی فطرت میں اور انسان کی جبلت میں مل جل کر رہنا ہے، چنانچہ ہم شہروں میں رہتے ہیں، محلوں میں رہتے ہیں، دیہاتوں میں رہتے ہیں، ہماری مشترکہ آبادیاں ہوتی ہیں، انسان کبھی بھی جانوروں کی طرح جنگلوں میں الگ الگ نہیں پھرا کرتا، بلکہ وہ باقاعدہ شہر بساتے ہیں، محلے بساتے ہیں، دیہات بساتے ہیں۔ تو جب مل جل کر رہنا ہے تو پھر ان کے ایک دوسرے کے ساتھ منظم زندگی کی ضرورت ہے اور جب نظم پیدا کرنا ہوگا تو اس نظم کے لئے قانون بھی بنانا ہوگا، چنانچہ انسانی معاشرے میں قانون بھی ہوتا ہے، اس قانون کی پاسداری ہوتی ہے اور اس قانون کے ذریعے سے پڑوسی کا حق، محلے دار کا حق، جو آپ کے آس پاس رہتا ہے اس کے کیا حقوق ہے آپ کے اوپر، یہ شریعت کا ایک مستقل موضوع ہے۔
تو جب اللہ تعالی نے انسان کو پیدا کیا اور انسان کو پیدا کرنے کے بعد اس کی طبیعت میں اور جبلت میں مل جل کر رہنا ڈال دیا اور یہ ایک دوسرے سے الگ تھلگ نہیں رہ سکتے تو پھر مل جل کر رہنے کے لئے ضابطہ اور نظام اور قانون بھی تو اللہ نے ہی دینا ہے، تو یہ کیسے ہوگا کہ معاشرہ تو ہو، سوسائٹی تو ہو اور اللہ تعالی کی طرف سے اس کی طبیعت میں پیدا کیا گیا ہے اور پھر اللہ کی طرف سے قانون نہ ہو، آخر پر امن طریقے سے بھی تو رہنا ہے نا، ورنہ انسان کے اندر تو لالچ ہے، حرص ہے، پھر اس کی طبیعت میں جھگڑالو پن بھی ہے، پھر وہ اپنے مفادات کے لئے، لالچ اور حرص میں آ کر دوسرا کا حق چھیننا چاہتا ہے، سب کچھ سمیٹنا چاہتا ہے، دوسرے کو محروم کرنا چاہتا ہے۔ سو پہلے اخلاقی تعلیم دی کہ اپنے سے پہلے دوسرے کا خیال کرو، اپنا حق دوسرے کے لئے قربان کر دو، تو جب اخلاقی لحاظ سے اس بلندی کو انسان پائے گا تو کوئی جھگڑا نہیں ہوگا، امن و آشتی ہوگی، محبت ہوگی، ایک دوسرے کا خیال اور لحاظ ہوگا اور اگر اخلاقی دائرے میں انسان اپنا فرض ادا نہیں کر رہا ہے تو پھر ایک قانونی دائرہ آ جاتا ہے۔ پھر اس قانونی دائرے کی پیچھے ایک حکومت ہوتی ہے۔ جو اس قانون کو نافذ کرتی ہے اور اس پہ تین چیزوں کا خیال رکھا جاتا ہے، ایک انسان کے جان کی حفاظت اور جان سے متعلق تمام حقوق کی حفاظت، اور دوسرا انسان کا مال اور مال سے متعلق تمام حقوق کی حفاظت اور تیسرا انسان کے عزت و آبرو اور اس سے متعلق تمام حقوق کا تحفظ، تو انسان کا جان، انسان کا مال، انسان کا آبرو، اس کی عزت، اس کا تحفظ کرنا یہ ہے در حقیقت امن کا قیام، یہ محفوظ ہے تو امن ہے سکون ہے آشتی ہے اور اگر یہ محفوظ نہیں ہے یا قانون نہیں ہے یا قانون پر عمل درآمد نہیں ہے یا حکومت غیر مؤثر ہے تو پھر معاشر میں فساد پیدا ہوتا ہے۔
جاری ہے

.jpeg)
ایک تبصرہ شائع کریں