مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا کراچی پریس کلب کے پروگرام میٹ دی پریس سے خطاب

قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا کراچی پریس کلب کے پروگرام میٹ دی پریس سے خطاب

18 مئی 2026

کراچی پریس کلب کے سیکرٹری جنرل، کراچی پریس کلب کے تمام معزز صحافی حضرات و خواتین، بڑے طویل عرصے کے بعد سہی لیکن ایک بار پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہونے اور آپ کے ساتھ گفتگو کرنے کا موقع مل رہا ہے، جسے میں اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہوں۔

یہ ایک اچھی علامت ہوتی ہے کہ کسی فورم پر ملکی اور بین الاقوامی مسائل زیر بحث آئیں، نئے نئے سوالات پیدا ہوتے ہیں، ان سوالات کے جوابات تلاش کیں جائیں اور اس وقت ہمارا ملک جس گھمبیر صورتحال سے دوچار ہے اسے ہمیں سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ بد امنی عروج پر ہے، صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں صورت حال بغاوت کی ہے، ریاست کے خلاف محدود سطح پر لیکن بہرحال بندوق اٹھائی گئی ہے، کوئی علیحدگی کی باتیں کر رہا ہے، کوئی بزور شمشیر شریعت کی باتیں کر رہا ہے، سندھ میں بھی اور بالخصوص اندرونی سندھ میں ڈاکوؤں کا راج ہے اور ہمارے حکمران ہے کہ نہ امن و امان کے حوالے سے سنجیدہ نظر آرہے ہیں اور نہ ہی اقتصاد کی بہتری میں کوئی سنجیدگی ظاہر کر رہے ہیں۔ نت نئی قانون سازیاں ہو رہی ہیں اور ہماری اسٹیبلشمنٹ وہ اپنی اتھارٹی کو مضبوط کرنے اور ملک کی سیاسی نظام پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی فکر میں ہے۔ پارلیمنٹ پر وہ اثرانداز ہیں، حکومت پر وہ اثرانداز ہے، تو ظاہر ہے کہ اگر ایک ہی ادارہ اتنا طاقتور ہو کہ وہ جب چاہیں آئین میں ردوبدل کردیں، آئین کا حلیہ بگاڑ دیں، ملک کا مستقبل جو بھی ہو، عوام جس حالت سے بھی دوچار ہوں، عام آدمی آج اپنی محنت کے نتیجے میں جو اس کی آمدن ہے اس میں نہ وہ بچوں کو تعلیم دلا سکتا ہے، نہ اپنے گھر کا کرایا دے سکتا ہے، نہ بچوں کو صبح و شام کی روزی دے سکتا ہے، کچھ بین الاقوامی حالات کو بنیاد بنا کر اپنے ہی قوم پر اور اپنے ہی عوام پر مہنگائی کے پہاڑ توڑ دیئے جاتے ہیں، اب ظاہر ہے کہ ہم خیر خواہانہ انداز کے ساتھ یہ بات کرنا چاہتے ہیں کہ خدارا اس روش سے باز آجائیں، اپنی اتھارٹی کو اب اتنا مضبوط کر دینا کہ جمہوریت بے معنی ہو جائے، کہ پارلیمنٹ بے معنی ہو جائے اور ہماری آئینی ترامیم ہو یا ہماری قانون سازی ہو، وہ ایک محل سے آئے ہوئے ہدایات کے تحت ہوتی ہیں۔ سو ہم اپنی تاریخ کا جب تذکرہ کرتے ہیں تو پڑھے لکھے لوگ اس بات کو جانتے ہیں کہ کتنا عرصہ یہ پاکستان محلاتی سازشوں کے ضد میں رہا اور محلاتی سازشوں کے تحت حکومتیں روزانہ بنتی تھی اور گرتی تھی، آج بظاہر عوام کو ووٹ کا حق حاصل ہے اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں، لیکن 2018 کا الیکشن ہو یا 2024 کا الیکشن، آپ خود اس بات کے گواہ ہیں کہ کس طرح عوام کے فیصلے کو اور عوام کے رائے کو تبدیل کر دیا جاتا ہے، اپنی مرضی کی حکومتیں تشکیل دینے کے لیے عوامی رائے کے نتائج مختلف سامنے آجاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ آئین ایک میثاق ملی ہے، ہمارے ملک کے اندر چار صوبے ہیں اگر گلگت بلتستان کو صوبے کی حیثیت دی جائے تو پانچ صوبے ہیں اور ہر صوبہ کثیر القومیت ہے، پورا ملک کثیر القومیت ہے، ہم لوگوں کے حقوق، اس کے آئینی حقوق، اس کے معاشی حقوق، اس کے سیاسی اور جمہوری حقوق، اس کے انسانی حقوق، وہ ہماری ترجیح نہیں ہے، بلکہ قوم کو کمزور کرو، قوم کو تقسیم کرو حتیٰ کہ وہ جبر کے تحت اطاعت پر مجبور ہوجائے۔ فرعون نے بھی تو یہی کیا تھا کہ روئے زمین پر پہلے اپنی حاکمیت مسلط کی، پھر لوگوں کو اپنی اطاعت پر مجبور کیا، لوگوں کو گروہوں میں تقسیم کیا اور کمزور کر دیا، تاکہ وہ اس پر اپنی حاکمیت مسلط کرسکے۔ یہ پاکستان کو بدامنی سے بچانے کا راستہ نہیں ہے، یہ پاکستان میں بغاوتوں کے اُبھرنے کے راستے ہیں، کوئی احتجاج کرتا ہے تو وہ ملک کا دشمن، کوئی چیختا پکارتا ہے وہ ملک کا دشمن اور ایک دماغ پوری قوم کا فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے، اسلام میں تو شورائیت ہے، وحی کا دروازہ بند ہے لیکن شورائیت کا دروازہ تو قیامت تک کھلا ہے، ہم نے اپنی آئین میں عوام کے منتخب نمائندوں پر مشتمل شوریٰ بنائی ہے، ہم اپنے پارلیمنٹ کو مجلس شوریٰ کہتے ہیں، لیکن کیا واقعتاً آج کی پارلیمنٹ وہ قوم کی نمائندہ ہے؟ تو یہ زبردستی کب تک چلے گی؟ اور یہ زبردستی کیوں چلے گی؟ اس زبردستی کے لیے دلیل کیا ہے؟ آج مسلح گروہ نکلتے ہیں فوج کے قلعوں کو اڑا رہے ہیں، پولیس کے تھانوں کو اڑا رہے ہیں، اور اس طرح ہماری دفاعی قوت کا مورال گر رہا ہے، باغیانہ ذہنیت رکھنے والوں کا مورال اوپر کی طرف جا رہا ہے، ہمیں اس کی فکر نہیں، لیکن آئین میں تبدیلی کرو تاکہ میرے اختیارات مضبوط ہو جائیں، میری گرفت مضبوط ہو جائیں، میری اتھارٹی مظبوط ہو جائے، تو اس وقت پوری جنگ وہ اتھارٹی کو مضبوط بنانے میں لگی ہوئی ہے، حکومت کی تمام صلاحیتیں وہاں صرف ہو رہی ہیں اور اقتصادی لحاظ سے جو مہنگائی ہے تو ظاہر ہے کہ اس مہنگائی میں آج وقت ہے کہ ہم اپنی پبلک کے ساتھ کھڑے ہو جائیں، جمعیۃ علماء اسلام نے پورے ملک میں مظاہروں کا اعلان کیا تھا لیکن جب عین انہی دنوں بلکہ اسی روز ایران امریکہ تنازعہ کی بنیاد پر عالمی سطح کے مہمان آنے لگے اور پاکستان کی سرزمین پر اُترنے لگے، تو ہم نے مناسب سمجھا کہ اس کو مؤخر کرتے ہیں، ہم وہ لوگ نہیں ہیں کہ صرف اپنی ضد پر اڑے رہنا یہی سبق ہم نے سیکھا ہے، ہم ملک کو بھی جانتے ہیں، سٹیٹ کی عزت و وقار کو بھی سمجھتے ہیں، حکومتی ذمہ داریوں اور سٹیٹ کے مقام اعتبار میں ہم فرق بھی کر سکتے ہیں، لیکن عوام کے حقوق، عوام ہی سے سٹیٹ بنتی ہے، عوام ہی سے ریاست بنتی ہے، اگر ہم اس پہلو کو نظر انداز کرے اور قوم کو ہم سمجھے کہ وہ غلام ہیں اور صرف یوم آزادی پر ان کو آزادی کا پرچم اٹھانے کا اعزاز ملتا ہے اور بس، 365 دنوں میں ہمیں صرف ایک دن ملتا ہے آزادی کا دن، 364 دن غلامی کے دن۔

تو اس لحاظ سے جمعیۃ علماء اسلام یہ جچی تلی رائے رکھتی ہے کہ آئین کا تحفظ کرنا عوام کی ذمہ داری ہے، ملک ایک ہے اس میثاق کی وجہ سے، ہماری اگر کمٹمنٹ ہے اس پاکستان کے ساتھ تو اس کے بنیاد یہی ہمارا میثاق ہے۔ اگر یہ نہیں رہتا تو پھر کیا حالات بنتے ہیں؟ ہر صوبہ کس طرح سوچتا ہے؟ ہر قوم کس طرف اپنے مستقبل کا تعین کرتا ہے؟ ہمیں وہاں تک پہنچنے سے پہلے اپنے آپ کو سنبھالنا ہوگا اور ملک کو مستحکم کرنا ہوگا، آئیں ملک کو اقتصادی لحاظ سے مستحکم کریں، پبلک کو خوشحال کریں، سیاسی اداروں کو مضبوط کریں، عوام کو احساس دلائے کہ اصل طاقت آپ ہیں، فیصلے آپ نے کرنے ہیں، جمہوری اداروں کو مضبوط کریں۔

لیکن میرے محترم دوستو! پوری دنیا کا جائزہ لیجیے اور میں اس حوالے سے آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ آپ حالات کا جائزہ لیجیے، دنیا میں ایک طرف سرمایہ داریت ہے جو جمہوریت کو ووٹ میں اپنا کردار ادا کرتی رہتی ہے، دوسری طرف کمیونیزم ہے جو اپنی حکومتیں امریت کی بنیاد پر چلا رہی ہے، لیکن جمہوریت پوری دنیا میں ناکام نظر آرہی ہے امریکہ ہو یا مغربی دنیا، اب سرمایہ داریت ننگی ہو کر قوموں کے سرمایوں، ان کے اثاثوں پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔ ٹرمپ کے تمام رویوں کے پیچھے آپ کو یہی نظر آئے گا، معدنی زخائر کدھر ہیں اور اگر کوئی کمزور ملک ہے اور وہاں معدنی زخائر ہیں تو ان کے صدر کو گھر سے اُٹھا کر گرفتار کر دیا جاتا ہے، قیدی بنا لیا جاتا ہے، کہاں ہیں جمہوریت؟ کہاں ہیں ملکوں کے آزادی اور قوموں کے آزادی کا تصور؟ اسی طرح کمیونزم بھی اب ٹوٹ پھوٹ چکا ہے، آنے والے وقت میں سرمایہ داریت یا امریت اور اگر پلس کردیں عسکریت ان کا رول نظر آ رہا ہے اور ہم اسی طرف آگے بڑھ رہے ہیں، ہم اس بات پر غور کریں کہ پھر ہمارے پاس متبادل کیا ہے؟ ہم دنیا کو بتائیں کہ اللہ کا دیا ہوا فطری نظام جس میں انصاف ہے، جس میں خوشحال معیشت ہے، جس میں ہر شہری کے انسانی حقوق کا تحفظ ہے، جس میں شورائیت ہے، عوام کی رائے کی ترجمانی کے لئے ادارے ہیں، آئیں! اس کا مطالعہ کریں اور دنیا کے سامنے ایک متبادل نظام کے طور پر ان چیزوں کو پیش کریں تاکہ انسانیت کو کچھ روشنی ملے اور اپنے مستقبل کو وہ اس روشنی میں طے کر سکیں۔

میں ایک مرتبہ پھر آپ سب کا شکر گزار ہوں، بے حد شکر گزار ہوں۔

وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔

‎ضبط تحریر: #سہیل_سہراب

‎ممبر ٹیم جےیوآئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز 

‎#teamJUIswat

0/Post a Comment/Comments