قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا جمعیۃ علماء اسلام مینارٹی ونگ سندھ کے زیر اہتمام نجی ہوٹل میں تقریب سے خطاب
17 مئی 2026
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ و نصلی علی رسول کریم۔
جناب صدر مجلس روی کمار قطری صاحب سیکریٹری جنرل اور یہاں جو اس اجتماع میں جنہیں مینارٹیز کے عنوان سے منعقد کیا گیا ہے، تمام مینارٹیز کے معزز اراکین سب کی خدمت میں میرا سلام قبول ہو۔ یقیناً آج کی یہ محفل میرے لئے بھی اور تمام دوستوں کے لئے ایک نوعیت کے اعتبار سے مختلف محفل لگ رہی ہوگی جس میں ہم سب پاکستانی بلا تفریق مذہب و نسل ہم اس میں شریک ہیں اور ہماری ایک تاریخ ہے کہ ہمارا دین وہ ہمیں تنگ حلقوں سے نکال کر آفاقیت سکھاتا ہے، عالمگیریت سکھاتا ہے، پوری انسانیت کے لئے ایک بہترین پیغام ہمیں دیتا ہے اور ہمارے اکابر ہمارے اسلاف اسی عالمگیریت اور آفاقیت کے علمبردار تھے اور جمعیت علماء اسلام انہی کی پیروکار ہے اور آج بھی وہ پوری قوم کو ایک ساتھ لے کر چلنے کا عزم رکھتی ہے اور یہ اجتماع ایک پہلا انتہائی اہم مظاہرہ ہے اس کا اور ان شاءاللہ یہ سفر آگے بھی جاری رہے گا۔
مجھے یاد ہے 1972 میں جب عبوری آئین نافذ ہوا جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم صدر پاکستان بنے اور صوبہ سرحد جو آج خیبر پختونخوا کہلاتا ہے اس میں میرے والد چیف منسٹر بنے تو اس وقت تعلیمی اداروں کو قومی ملکیت میں لیا جا رہا تھا، سرکاری تحویل میں لیا جا رہا تھا لیکن مفتی صاحب نے اپنے صوبے میں واضح اعلان کیا کہ اقلیت ان کی جتنے بھی تعلیمی ادارے ہیں وہ سرکاری تحویل میں نہیں لیے جائیں گے ان کو آزادی کے ساتھ اپنے ادارے چلانے کا حق حاصل ہے جب تک وہ نہیں چاہیں گے ہم یک طرفہ طور پر ان کے اداروں کو قبضے میں نہیں لیں گے۔ ایک مرحلہ ایسا آیا کہ تعلیم کے مسئلے پر کابینہ میں ان کو بریفننگ دی گئی اور یہ تاثر دیا گیا کہ ہمارے صوبے میں جو مسیحی برادری کے مشنری سکولز ہیں یا ان کے ہاسپٹلرز ہیں ان کا معیار وہ ہمارے سکولوں سے بہتر ہے تو ایک بیوروکریٹ کہتا ہے کہ میں اس انتظار میں تھا کہ یہ مولوی صاحب ہے یہ ابھی حکم جاری کرے گا کہ جتنے بھی ان کے سکول ہیں بند کر دیے جائیں تو مفتی صاحب نے ہمارے بریفننگ کے بعد ہمیں ہدایت جاری کی کہ اپنے تعلیمی اداروں کو اور صحت کے اداروں کو ان کے معیار کے مطابق لے جانے کی کوشش کرو۔ تو اس ذہن کے ساتھ ہمیں اس ملک کے اندر تمام برادریوں کے ساتھ تعلقات اور روابط رکھنے کی ہمارے اکابر نے ہمیں درس دیا ہے۔ آج ہم اسی فکر اور نظریہ کے حامل ہیں اور اسی انداز کے ساتھ ہم آگے جانا چاہتے ہیں، اسی لئے جمعیت علماء اسلام نے مستقل ایک مینارٹی ونگ بنایا ہے جس کے اس وقت صدر بھی یہاں تشریف فرما ہے سیکریٹری جنرل بھی تشریف فرما ہے، صوبہ سندھ، چاروں صوبوں میں اس قسم کی تنظیمیں موجود ہو گئی ہیں اور ان شاءاللہ یہ سفر مل کر آگے جاتا رہے گا اور اقلیتوں کے حقوق کے لئے ہم اگر مسلم میجارٹی کے حقوق کے لئے بات کرتے ہیں تو اس سے کہیں بڑھ کر ہم مینارٹی کے حقوق کی بات کریں گے، انسانی حق انسانی حق ہوتا ہے، ہمارے ہاں ایک لفظ ہے امن یہ تین حروف کا ایک چھوٹا سا لفظ ہے لیکن یہ تمام تر انسانی حقوق کے تحفظ کا عنوان ہے اور جتنا بھی انسانی حقوق ہے وہ صرف تین چیزوں کے گرد گھومتا ہے، تمام قوانین دنیا میں بنتے ہیں تو وہ تین باتوں کے گرد گھومتے ہیں، انسان کی جان، انسان کا مال اور انسان کی عزت و آبرو، اگر جان محفوظ ہے اگر مال محفوظ ہے اگر عزت و آبرو محفوظ ہے تو امن ہے اور پھر سٹیٹ کے اندر یہ طاقت ہونی چاہیے کہ اگر کسی کی جان یا مال یا عزت و آبرو کے حوالے سے کسی کا حق مارا جاتا ہے تو انصاف سے اس کی حق تلفی ہو اسے وہ حق واپس دیا جائے مجرم کو سزا دی جائے تاکہ ہر شہری کو اس ملک میں رہتے ہوئے ہر لحاظ سے تحفظ کا احساس دیا جائے۔ ہم اس فلسفے پر اس نظریے پر یقین رکھتے ہیں ہر چند کے ہمارے ملک میں بد امنی ہے، سندھ میں بھی بد امنی ہے، خیبر پختونخوا اور بلوجستان یہ تو میدان جنگ بنے ہوئے ہیں، کتنے حملے ہمارے اکابر علماء پر ہوئے ہیں صرف اس بات کے لئے کہ ہم خون بہانے کے ان کے عمل میں شریک ہو جائیں، ہم اس کی سزا پا رہے ہیں لیکن ہم اپنے نظریے اور اپنے عقیدے پر کوئی کمپرومائز کرنے کے لئے تیار نہیں، قربانیاں دیں گے لیکن اس ملک کو امن کا گہوارہ بنائیں گے، انصاف کا گہوارہ بنائیں گے، انسانی حقوق کے تحفظ کا گہوارہ بنائیں گے اور اسی مشن کو لے کر ہم نے مستقل اپنی پارٹی کے اندر میناریٹی ونگ کی تشکیل کی ہے اور ان شاءاللہ یہ پورے قوم کے ہر برادری، ہر مسلک و مذہب کو ایک ساتھ چلنے کی ترغیب دے گا اور ان شاءاللہ ہم اکٹھے چلیں گے۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کو ترقی دے، پاکستان کو محفوظ فرمائے اور ہمارے تمام پاکستانیوں کو امن و آشتی کا ماحول نصیب فرمائے۔
واٰخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین
ضبط تحریر: #محمدریاض
ممبر ٹیم جےیوآئی سوات
#teamJUIswat

.jpeg)
ایک تبصرہ شائع کریں