مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا قومی اسمبلی کے اجلاس سے ولولہ انگیز خطاب

قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا قومی اسمبلی کے اجلاس سے ولولہ انگیز خطاب

11 مئی 2026

جناب سپیکر! بار بار اس فلور پر کھڑے ہو کر ہم اپنے ملک کے حالات پر بات کرتے ہیں، لیکن میرے اس احتجاج کو نوٹ کیا جائے کہ ہماری گفتگو قوم کو براہ راست نہیں سنائی دی جا رہی ہے۔ اگر یہ پارلیمنٹ عوام کا نمائندہ ہے تو حکومتی بنچ پر بیٹھنے والے اور اپوزیشن بنچ پر بیٹھنے والے وہ ایکول ہیں، برابر کی حیثیت میں ہم یہاں بیٹھتے ہیں، اگر اس طرف کی کوئی تقریر وہ عوام کے پاس جاتی ہے، وہ سن رہے ہیں کہ میرا نمائندہ آج کیا بات کر رہا ہے، تو ہمارا بھی یہ حق ہے کہ ہماری پوری گفتگو کو عوام سنے، ہم ان کی امانت لے کر یہاں آئے ہیں اور ان کی امانت کی پاسداری ہمارا شرعی فریضہ بھی ہے، ہمارا آئینی و قانونی فریضہ بھی ہے اور ہمارا اخلاقی فریضہ بھی ہے۔

جناب سپیکر! میں آج جس ماحول میں گفتگو کر رہا ہوں مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے میں خون کے جھیل میں کھڑا ہوں اور آپ سے مخاطب ہو رہا ہوں۔ مسئلہ کسی ایک فرد کا نہیں ہے، ہمارے شیخ مولانا محمد ادریس وہ شہید ہو گئے، وہ ہمارے صوبائی اسمبلی کے ممبر رہ چکے تھے، ان کے سسر قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے تھے مولانا حسن جان شہید، مولانا معراج الدین اس پارلیمنٹ کے رکن رہے، شہید ہو چکے ہیں، مولانا نور محمد صاحب وانا کے وہ اس پارلیمنٹ کے رکن رہے ہیں اور وہ شہید ہو چکے ہیں۔ باقی جو ہمارے اکابر علماء ہیں، جو میرے لئے میرے استاد کا مقام رکھتے ہیں وہ دہشتگردی کے بھینٹ چڑ چکے ہیں اور جمیعۃ علماء اسلام ہوں، تمام مکاتب فکر کی سیاسی جماعتیں ہوں، تمام مکاتب فکر کی مدارس ہوں، مدرسین ہوں، علماء ہوں، طلباء ہوں، طول وعرض میں یہ سب لوگ پاکستان کے آئین کے ساتھ کھڑے ہیں، ملک کے ساتھ کھڑے ہیں، کس چیز کی سزا ان کو دی جا رہی ہے کہ آئے روز ہم جنازے اٹھا رہے ہیں، باجوڑ میں ہم نے ایک جلسے کے اندر آسی جنازے اٹھائے، وانا وزیرستان میں، شمالی وزیرستان میں ہمارے ضلعی صدور، ضلعی امیر وہ تمام شہید کر دئیے گئے ہیں اور بعض اب بھی زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ ایک فعال زندگی گزارنے کے قابل نہیں رہے ہیں۔ اس دوران انڈیا نے ہمارے اوپر حملہ کیا، ہم نے دفاع کیا، جو قابل تحسین بات ہے۔ وہ نہ پہلے ہم نے چھپائی ہے نہ آج چھپاتے ہیں کہ پاکستان نے بہتر دفاعی کارکردگی دکھائی، لیکن ذرا آگے تو پڑھیے جب جنگ شروع ہوئی تو وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے جو پہلا بیان جاری کیا وہ یہ تھا کہ یہ انڈیا پاکستان کا باہم معاملہ ہے ہم اس میں مداخلت نہیں کریں گے، ان کی رپورٹس یہ تھی کہ انڈیا بہت طاقتور ہے اور اگر پاکستان کو وہ لپیٹ لے تو امریکہ اور مغرب کا کچھ نہیں جارہا، وہ ہندوستان کے ساتھ سٹریٹیجک معاہدے کر رہا تھا اور پاکستان کے بارے میں کہا کہ یہ آپس میں لڑ رہے ہیں، لڑنے دو، پھر نریندر مودی کی درخواست پر امریکہ نے مداخلت کی، پھر جنگ بند ہوئی، پھر کہا میں نے انڈیا پاکستان کی جنگ بند کرائی ہے، کس کے درخواست پہ کی ہے؟ کیوں کی ہے؟ ان ساری چیزوں کا ادراک کیوں نہیں کیا جارہا؟ اور پھر ہم نے کہا کہ ٹرمپ صاحب کو امن نوبل انعام ملنا چاہیے، ایک طرف ستر ہزار شہداء، فلسطین کے شہدہ ہیں، ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ لوگ زخمی ہیں، اتنے ہی بے گھر ہو چکے ہیں، طاقت کے زور پر ایک پورے مسلمان ملک پر قبضہ کیا جارہا ہے، اسرائیل کو مکمل تعاون دیا گیا، اس کو اسلحے کی سپورٹ دی گئی، وہ جنگ بڑھتے بڑھتے ہمارے ایران تک پہنچ گئی، ایران بہتر کارڈ کھیل رہا ہے اس وقت، آبنائے ہرمز بند ہے، لیکن کسی ملک کے پیٹرولیم نرخوں پہ کوئی فرق اثر نہیں پڑ رہا، صرف پاکستان کیوں وہ ملک ہے کہ جہاں مہنگائی عروج پہ چلی گئی؟ صرف پاکستان ہے کہ جہاں مہنگائی کا طوفان آیا، کہاں ہیں ہمارے معاشی ماہر؟ کہاں ہیں ملکی معیشت کو منیج کرنے والے لوگ؟ نہ انڈیا متاثر ہوا حالانکہ جہاز تو ان کے بھی رکے ہوئے ہیں، خود ایران متاثر نہیں ہوا، افغانستان تک متاثر نہیں ہوئے اور ہم نے یہاں پر قیامت برپا کر دی عوام کے اوپر، جس طرح کہ پہاڑ ہم نے ان کے اوپر گرائے ہیں اب ہم کس سے روئیں، میں نے تو یہاں پر کھڑے ہو کر غالباً آپ ہی کے موجودگی میں یہ تجویز دی تھی کہ پارلیمنٹ کا ایک ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے اور اس سے پہلے بلائے جا چکے ہیں۔ جناب یوسف رضا گیلانی صاحب پرائم منسٹر تھے، اس زمانے میں بلائے گئے ہیں، اس سے آگے پیچھے بلائے گئے ہیں، اگر یہ پارلیمنٹ واقعی عوام کا نمائندہ ہے تو حکومت اس تجویز سے فرار کیوں اختیار کر رہی ہے؟ کیوں ہم سر جوڑ کر آپس میں نہیں بیٹھ رہے؟ کیوں ہمیں حالات سے اگاہ نہیں کیا جارہا؟ کیا ہم اس آزاد ملک میں آزادی سے بات نہیں کر سکتے؟ آج پوری دنیا میں، پوری دنیا میں حکمران میاں نواز شریف صاحب کو نہیں سمجھا جارہا، ملک میں بھی اور ملک سے باہر بھی، شہباز شریف صاحب وزیراعظم ہیں سہی، لیکن اس کام کے لئے ہیں کہ جیسے آج پتہ نہیں ایک سو قانون سازیاں بیک وقت ہو گئیں، جب چاہیں آپ قانون سازیاں کرائیں، جب چاہیں آپ چھبیس ویں ترمیم لے آئیں، جب چاہیں آپ ستائیس ویں ترمیم ترمیم لائیں اور پھر جب چاہیں آپ اٹھائیس ویں ترمیم لانے کی باتیں کریں، یہ مذاق بنا دیا گیا ہے اس آئین کو، ہم نے تو اس آئین سے وفاداری کا حلف اٹھایا ہے، لیکن پہلے ناجائز طریقوں سے آئین معطل ہوتا تھا، آئین کسی ایک فرد واحد کی رائے کے تابع ہوتا تھا، میں حکومتی بینچوں پر بیٹھے ہوئے پیپلز پارٹی کے بھائیوں سے کہہ سکتا ہوں کہ اٹھارویں ترمیم آپ کے وقت میں ہوئی تھی، صوبوں کو اختیارات آپ کے وقت میں دئیے گئے، کس طرح آپ اس مہم جوئی میں شریک ہوتے ہیں کہ رفتہ رفتہ دوبارہ اٹھارویں ترمیم غیر مؤثر کی جا رہی ہے، کچھ تو اپنے ملک کے لیے سوچیں، اس جمہوریت کی بات تو کریں، ہمارے ملک میں ہم نے ادارے بنائے ہیں، ہم نے اس ملک کا آئین بنایا ہے، ذوالفقار علی بھٹو پرائم منسٹر تھے، دو تہائی اکثریت ان کے پاس تھی لیکن چھوٹے صوبوں کو پورے اعتماد میں لے کر انہوں نے آئین بنایا اور مجھے ان کا وہ بیان آج بھی یاد ہے کہ ہم نے آئین بنایا ہے اور ہم ہی اس آئین کا تحفظ کریں گے۔

آج میرا آئین غیر محفوظ ہے، اس کو ہم کس طرح دوبارہ متفقہ آئین کی شکل دے سکتے ہیں، میں یقیناً پیپلز پارٹی سے یہ توقع رکھوں گا کہ وہ بڑی مضبوط مؤقف کے ساتھ اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرے ورنہ یہ ڈھیلا ڈھالا کردار یہ شاید ذوالفقار علی بھٹو کی روح کو تسکین نہیں پہنچا سکے گا، آپ ان کی امانت کو ضائع کر رہے ہیں۔ میرے والد نے دستخط کیے تھے، میں اس پر کھڑا ہوں، آپ نے اٹھارویں ترمیم پاس کی میں آپ کے ساتھ تھا، آج بھی آپ آئین کی جنگ لڑیں آپ آگے ہم آپ کے سپاہی، لیکن احساس ہونا چاہیے کہ یہ ملک میرا ہے، احساس ہونا چاہیے کہ واقعی میں عوام کا نمائندہ ہوں اور اس ملک کے اندر میں ایک پارلیمانی کردار ادا کر رہا ہوں۔

کل بنوں میں واقع ہوا ایک حملے نے پورے پولیس اسٹیشن کو اڑا دیا، جتنے وہاں سپاہی تھے وہ سب کے سب شہید اور آج تمام شہر کے اور علاقے کے تھانوں کے پولیس وہ اپنے اپنے تھانے چھوڑ چکی ہے اور پولیس لائن میں آکر جمع ہو گئی ہے۔

اس سارے صورتحال میں ہم نے یہاں پر بڑے بڑے واقعات دیکھیں، مولانا ادریس کا واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے، روز مرہ کی بات کر رہا ہوں، ہر روز پورے سال کے تمام تعلیمی دور میں وہ ہر روز سامنے اٹھائیس سو طلبہ کو پڑھا رہا ہوتا ہے، بیک وقت ایک مدرسہ میں تیرہ سو، دوسرے مدرسہ میں پندرہ سو، یہ ہمارے اثاثے ہیں۔ اس کے باوجود اُن کو شہادت کی لباس میں دفن کیا گیا، تو مجھے یہ شعر یاد آیا، فیض کا شعر ہے

کہ اپنے سر پر کفن کو ذرا ٹیڑھا رکھو

تاکہ دشمن کو یہ گمان نہ ہو کہ میں غرورِ عشق کی بانکپن کھو چکا ہوں۔

وہ زندہ ہے، تمام شہداء زندہ ہیں، میرے اداروں کے نوجوان اگر جا رہے ہیں، وہ اپنا خون اپنی مٹی کو حوالے کر رہے ہیں، اپنی جان مٹی کے حوالے کر رہے ہیں، تو ہماری پالیساں کدھر ہے؟ امن و امان نہ ہو کاروبار کہاں ہوگا؟ آج میرے علاقوں میں جناب سپیکر! توجہ سے سن لیجیے اس بات کو، کوئی حکومتی رٹ موجود نہیں، دیہاتوں میں، مسجدوں کے اندر مسلح لوگ، بیٹھکوں کے اندر مسلح لوگ، عام آدمی اپنے بچے کو پڑھانے کے لیے سکول نہیں بھیج سکتا، کاروبار ختم ہو چکے ہیں، وہ نقل مکانی کر رہے ہیں اور کتنی دنیا نقل مکانی کر چکی ہے، لیکن کوئی قوم کو نہیں بتایا جا رہا کہ ہمارے ملک میں کیا صورتحال ہے؟ میں ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھتا ہوں، ٹانک میرا علاقہ ہے، لکی مروت میرا علاقہ ہے، بنوں میرا علاقہ ہے، میں ان علاقوں سے ووٹ لیتا رہا ہوں، ان علاقوں نے بار بار مجھے پارلیمنٹ میں بھیجا ہے، یہ میرے آنکھوں کے سامنے کے علاقے ہیں۔ آپ پیٹرولیم کی قیمتیں بڑھائیں لیکن یہ بھی تو دیکھیں کہ آپ کی پالیسیوں کے نتیجے میں میرا خون کتنا سستا ہو چکا ہے، کبھی احساس ہے ہمیں اس بات کا؟ جب میں نہ ملک کے لیے، نہ اس کے امن و امان کے لیے، نہ کسی شہری کی حفاظت کے لیے کوئی پالیسی بنا سکتا ہوں، نہ میں اس کے خوشحال معیشت کے لیے کوئی پالیسی بنا سکتا ہوں، تو پھر حکومت تو نہ رہی۔ حکومت کے تو دو ہی کام ہوتے ہیں کہ لوگوں کی معیشت کو ٹھیک کریں اور لوگوں کی انسانی حقوق اور جان و مال کی تحفظ کریں، نہ ہم لوگوں کو معیشت دے رہے ہیں اور نہ ہم لوگوں کو جان و مال کا تحفظ دے رہے ہیں اور اس بات کے بھی کوئی نوٹس تو لے کہ یہاں سے جب بجٹ پاس ہوتا ہے اور کسی بھی اسکیم کے لیے ٹینڈر آتے ہیں، ٹھیکہ دار جاتا ہے سائٹ پہ، تو پہلے اس کو اپنے پورے ٹینڈر کے جو پیسہ ہوتا ہے اس کا دس فیصد ان لوگوں کو دینا پڑتا ہے یہاں سے دس فیصد ملا کر ہم بجٹ پاس کرتے ہیں، تو ہمیں بتایا تو جائے کہ یہ ساری چیزیں کیا ہیں؟ یہ تو ہمارا دل گردہ ہے کہ ہم پھر بھی اس علاقے میں جاتے ہیں، اس گاؤں میں جاتے ہیں اور کس ماحول میں ہم وہاں ہوتے ہیں؟ اب تو لوگوں نے علاقوں میں جانا چھوڑ دیا ہے، جو بھی ہمارے نوٹیبل لوگ ہیں اب وہ غمی خوشی ساری یہاں اسلام آباد تک محدود ہو گئی ہے اور اگر کوئی درس حدیث دے رہا ہے، عام گاڑی میں جا رہا ہے، تو اس طرح شہید کر دیا گیا کہ اس طرح آسانی سے تو مرغی کو بھی زبح نہیں کیا جاتا ہے، جتنا ان اہم لوگوں کو شہید کیا گیا اور یہ سلسلہ جاری ہے اور فتوے لگ رہے ہیں کہ جمہوریت کی بات کرنے والا کافر ہے، یہ بھی سوچنا چاہیے کہ کیا آج دنیا جمہوریت کے لئے سنجیدہ ہے؟ امریکہ سے لے کر یورپ سے ہوتے ہوئے پاکستان تک ہم حکمرانوں کو اور جدید دنیا کو جمہوریت کے ساتھ سنجیدہ نہیں دیکھ رہے ہیں۔ مغربی دنیا میں اگر جمہوریت نہیں ہے تو پھر سرمایہ داریت ننگی ہو کر سامنے آئے گی اور آ چکی ہے، ٹرمپ آج جو جنگ لڑ رہا ہے اپنے کاروبار کے حوالے سے لڑ رہا ہے، ہر ایک کو خطرہ قرار دیتا ہے، صدام میرے لئے خطرہ ہے، اب ایران میرے لئے خطرہ ہے، لیبیا میرے لئے خطرہ ہے، شام میرے لئے خطرہ ہے، کمزور ترین ملکوں کو اپنے لئے خطرہ قرار دے کر ان پر چڑھ دوڑنا، لیکن کچھ اچھی علامات ضرور سامنے آئی ہے کہ اس جنگ میں یورپ ان کے ساتھ نہیں ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ دو ہزار پندرہ میں یورنیم کی افزودگی کے حوالے سے جو ایران کے ساتھ ڈیل ہوئی تھی دو اعشاریہ سات آٹھ کی، آج امریکہ کہتا ہے کہ زیرو پہ آؤ، تو یہ ممالک کہہ رہے ہیں ہمارے تو ڈیل ہو چکی ہے اور آپ کی بھی ہو چکی تھی، پھر جو ایک دفعہ ڈیل ہو گئی ہے اس کے بعد اس پہ جنگ مسلط کرنے کا کیا معنی ہے؟ میں تو سوچتا ہوں عرب دنیا نے بھی بہت ہی تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کیا ہے کہ وہاں پہ امریکی اڈے ہیں، وہاں سے ایران پہ حملہ ہوتا ہے تو ایران نے ان کو نشانہ بنایا، لیکن وہ یہ سمجھ رہے تھے اور ایران بھی پورے احترام کے ساتھ انہیں کہتا تھا کہ میرا آپ سے کوئی لڑائی نہیں ہے لیکن بہرحال جنگ تو ہوئی، سعودی عرب جیسا ملک تو غیر محفوظ ہوا، امارات تو غیر محفوظ ہوا، کویت غیر محفوظ ہوا، قطر غیر محفوظ ہوا، بحرین غیر محفوظ ہوا، پورے خلیج میں آگ لگی ہوئی ہے اور جس کے ہاتھوں لگی ہوئی ہے اس کے لئے ہم کہہ رہے ہیں کہ ہم آپ کو نوبل انعام دینا چاہتے ہیں۔ اس قسم کی پالیسیاں اگر آپ بنائیں گے تو ہمیں سمجھایا جائے کہ یہ ملک کدھر جا رہا ہے؟

ایک زمانہ تھا اس وقت بھی ایک ڈکٹیٹر کی حکومت تھی تو خان عبدالولی خان مرحوم سے کسی نے پوچھا کہ ملک کدھر جا رہا ہے؟ تو اس نے کہا ہمارے ڈرائیور کو پتہ نہیں ہے ہم تو سواری ہیں۔ تو میرا تو خیال یہ ہے کہ ہمارے ڈرائیور کو بھی پتہ نہیں ہے۔ جب میرے ہاں سے بنا تو یہ کچھ بھی نہیں کر سکا سارے چیزیں نیچے آتی رہی سارے چیزیں نیچے آتی رہی، ہائے ہائے اب کیا کریں:

بھروسہ تو نے توڑا تھا مگر خود کو سزا یوں دی

کہ پھر جو مل گیا اس پر بھروسہ کردیا میں نے

جو مل گیا اس پر بھروسہ کر دیا میں نے

تو آپ لوگوں نے بھروسے توڑے ہیں اور ہمارے بھروسے توڑو گے تو پھر اندھیرہ ہے، ہم نہ ہوں گے تو اندھیرہ ہوگا۔

تو ہمیں ذرا حالات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے، کچھ تلخ باتیں ہیں جس کو ہمیں سوچنا چاہیے، آئین کھلواڑ بن چکا ہے اور پارلیمنٹ کے ذریعے سے یہاں پر قانون سازی ہوئی، آئین میں ترمیم آئی کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے سفارشات اب ڈیبیٹ کے لئے ایوان میں پیش ہوں گے، ڈیڑھ سال ہو گیا ہے کوئی ایک سفارش یہاں ہمارے بحث کے لئے آئی ایک، یہاں طے ہوا کہ یکم جنوری دو ہزار اٹھائیس سے سود ختم ہوگا، آئین میں ترمیم کر دی، کسی محکمے میں، کسی بینک میں ہم سودی نظام سے ایک غیر سودی نظام کی طرف جاتے ہوئے نظر آرہے ہیں؟ کسی ایک محکمے میں کوئی ہلچل ہے نظر آرہی ہے؟ تو بدعہدیاں کیوں کرتے ہو، دینی مدارس ہے عجیب بات یہ ہے کہ تمام حکومتی ادارے ان کو پرائیوٹائز کرنے کی پالیسی آرہی ہے، ایک مدرسہ واحد پرائیوٹ ادارہ ہے جس پر حکومت قبضہ کرنا چاہتی ہے جی، اُلٹا سوچتے ہیں جی، تمام نجی ادارے، سرکاری اداروں کو نجی ادارہ بنایا جارہا ہے، پرائیوٹائز کیا جارہا ہے ایک دینی مدرسہ ہے جس پر حکومت قبضہ کرنا چاہتی ہے اور ان شاءاللہ نہیں کر سکے گی، دینی مدرسہ کی آزادی، اس کے حریت، اس کے لئے ہم نے لڑنا ہے اور مجبور نہ کیا جائے کہ حالات خرابی کی طرف چلے جائیں، یہ قانون پاس ہو چکا ہے، جب قانون پاس ہو چکا ہے تو پھر صوبوں میں قانون کیوں پاس نہیں ہو رہے ہیں؟وہی قانون صوبوں میں لاگو کیوں نہیں ہو رہا؟ بلوچستان میں نہیں ہو رہا، کے پی میں نہیں ہو رہا، پنجاب اور سندھ میں نہیں ہو رہا، اس کا تو تعلق پورے ملک کے مدارس کے ساتھ ہیں۔ چاروں صوبوں میں مدارس موجود ہیں اور ایک سرکاری این جی او بھی بنی ہے، سرکاری این جی او، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ریلیجیس ایجوکیشن (ڈی جے آر ای)، بس گنتی پوری کر رہے ہیں۔ جس مسجد کے ساتھ کوئی ایک چھوٹا سا حجرہ بنا ہوا ہے وہ بھی جامعہ فلاں اور ہمارے پاس اتنے مدرسے رجسٹرڈ ہو گئے ہیں اور صوبائی حکومتیں آرڈر جاری کرتی ہیں، ڈپٹی کمشنر آرڈر جاری کرتا ہے مدارس کو کہ آپ ڈی جے آر ای کے تحت پہلے رجسٹریشن کرائیں، اس کے بعد پھر آپ چندہ بھی لے سکتے ہیں اور آپ کھالیں بھی جمع کر سکتے ہیں۔ یہ قدغن کہاں ہے؟ قانون تو یہ ہے کہ مدارس 1860 کی ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہوں گے، حکومت نے تو اُن مدارس کو سلسلے ڈرافٹ کا حصہ ہی نہیں بنایا، پھر شور شرابے پر ہم راضی ہو گئے کہ ٹھیک ہے اگر کوئی مدرسہ اُدھر جانا چاہتا ہے تو جائے، اس پہ کوئی ضد کی بات تو نہیں ہے، لیکن ڈپٹی کمشنر کون ہوتا ہے کہ وہ یہ آرڈر کرے کہ آپ ڈی جی آر ای کے تحت اپنے آپ کو رجسٹر کرائیں، یک طرفہ طور پہ اس قسم بھی قانون نافذ کرنا، اگر یہ قانون وہاں نہیں ہے تو پھر یہ اسی قانون کا حصہ ہے ڈی جی آر ای، اور وہ بھی تو نہیں ہیں وہاں صوبہ میں، تو پھر کیوں آرڈر دیا جاتا ہے مدارس کو کہ آپ یوں کریں؟

سو یہ مدارس آزاد مدارس ہیں، یہ قرآن و حدیث اور فقہ پڑھاتے ہیں اور علوم کے مراکز ہیں۔ پتہ نہیں کتنے فیصد کا آپ کی آبادی کو پڑھا لکھا بنا رہے ہیں اور ٹیلنٹ یہ ہے کہ ہمارے نوجوان کالج بھی پڑھتے ہیں، ہمارے نوجوان آپ کے بورڈز میں امتحانات بھی دے رہے ہیں اور صرف امتحانات نہیں دے رہے ہیں آپ کے بورڈز کو ہم ٹاپ کر رہے ہیں، تو پھر کیوں ہمارے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کیا جا رہا ہے؟ کہاں پر اعتماد ہم پیدا کریں گے؟ یہ کون سی بھائی چارہ ہے؟ میں آپ کے ساتھ روتا رہا ہوں اور جب میں مر جاؤں تو آپ پرواہ نہ کریں اس بات کی؟ تو اس طرح تو دوستی نہیں چلے گی، اس طرح تو بھائی چارہ نہیں چلے گا، یہاں سنا تھا کہ کوئی ٹرمپ صاحب آ رہے ہیں یا پتہ نہیں کوئی وفود آ رہے ہیں، ہم نے مہنگائی کے حوالے سے پورے ملک میں احتجاج کی کال دی ہوئی تھی، آپ کے لوگ آئے کہ صاحب آپ اس دن مظاہرے کریں گے جس دن کہ ہمارے پاس دنیا کے بڑے بڑے مہمان موجود ہوں گے، میں نے کہا آپ کی بات صحیح ہے، سو ہم نے مؤخر کیا ہے ہم ملک کو سمجھتے ہیں، ہم ملک کی عزت کو سمجھتے ہیں، کس موقع پھر کیا کیا جائے اس کا پورا ادراک ہے ہمیں، لیکن اس کی قدر تو کرو، اس کا احترام تو کرو، آپ کو میرے زندگی پر کیوں اعتراض ہے کہ مجھے اس ملک کے اندر زندہ رہنے کا بھی حق نہیں ہے، تو پھر جمہوریت تو آپ نے خود دفن کر دی، یہ جمہوریت تو نہیں رہے گی، جمہوریت ایک مردہ لاش بن چکی ہے۔ آپ کے روئیوں کی وجہ سے جمہوریت اپنے مقدمہ ہار رہا ہے۔

سو ان تمام چیزوں کو ایڈریس کریں، ان چیزوں کی طرف متوجہ ہوں اور بلاوجہ چاہیے تو حکومت کو کہ وہ تعلقات کے لیے نرم روئیوں کا آغاز کریں، لیکن ہم ہیں کہ ہم نرم روئیوں کا آغاز کر رہے ہیں، حالانکہ یہ حکومت کا کام ہوتا ہے۔ حکومت اس نے چلانے ہوتی ہے، حکومت کی خواہش ہوتی ہے کہ میرے لئے مشکلات کم ہوں، لیکن یہاں پر الٹی بات چل رہی ہے، ہمیں کسا جارہا ہے، ہمیں دباؤ میں لایا جارہا ہے، اپوزیشن کو دباؤ میں لایا جا رہا ہے۔ تو اپوزیشن ان شاءاللہ کھڑی ہے، اپنی جگہ پہ کھڑی ہے اور یہ جو ہمارے ساتھی شہید ہوئیں اور اسپر حکومت نے کسی قسم کی توجہ نہیں دی، مذید حالات خراب ہوئے ہیں، میں لیڈر آف اپوزیشن سے گزارش کروں گا کہ اپوزیشن کے واک آؤٹ کا اعلان کر دے۔ شکریہ

ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض

‎ممبرز ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز 

‎#teamJUIswat 

0/Post a Comment/Comments