مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا وحدت امت کانفرنس کراچی سے ولولہ انگیز خطاب

قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا وحدت امت کانفرنس کراچی ضلع غربی سے ولولہ انگیز خطاب

14 مئی 2026

الْحَمْدُ للهِ، نَحْمَدُه ونستعينُه ، ونستغفرُه ، ونؤمن به، ونتوكل عليه، ونعوذُ باللهِ من شرورِ أنفسِنا ، ومن سيئاتِ أعمالِنا ، مَن يَهْدِهِ اللهُ فلا مُضِلَّ له ، ومَن يُضْلِلْه فلا هادِيَ له ، ونشهدُ أن لا إله إلا اللهُ وحدَه لا شريكَ له ، ونشهدُ أنَّ سيدنا و سندنا و مولانا مُحَمَّدًا عبدُه ورسولُه،، أرسله بالحقِّ بشيرًا ونذيرًا وداعيًا إلى اللهِ بإذنِهِ وسراجًا منيرًا۔ أمّا بعد، فأعوذُ باللهِ من الشيطنِ الرجيم۔ بسمِ اللهِ الرحمنِ الرحيم۔ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ، وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ، وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا، يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا، وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ۔ صدق الله العظيم۔

 جناب صدر محترم، اکابر علمائے کرام، مشائخ عظام، بزرگان ملت، برادران امت! میں جمعیۃ علمائے اسلام ضلع غربی کے تمام عہدیداران، ذمہ داران اور کارپردازان کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اس عظیم اجتماع کے انعقاد پر، کراچی کے ایک گوشے میں اتنا فقید المثال اجتماع یہ آپ کی بیداری، جمعیۃ علمائے اسلام کے نصب العین کے ساتھ گہری وابستگی اور پاکستان کی ترقی کے لیے پر عزم ہونے کی دلیل ہے۔

میرے محترم دوستو! امت مسلمہ کئی دہائیوں سے عالمی بربریت اور ظلم کا شکار ہے، امریکہ ہو یا مغربی دنیا ان کے بارود کی بارش امت مسلمہ پہ ہو رہی ہے، اپنی طاقت انہوں نے افغانستان میں آزمائی، اپنی طاقت انہوں نے عراق میں آزمائی، لیبیا میں آزمائی اور فلسطین کے مسلمانوں اور غزہ کے مسلمانوں پر جو بیتی، ساری دنیا اس منظر کو دیکھتی رہی اور مجھے افسوس اس بات پر ہے کہ امت مسلمہ بھی تماشائی بن کر رہی، ان کا ضمیر سویا رہا، وہ اس احساس سے محروم نظر آئے، کہ ہمارے بھائیوں پہ صہیونیوں کے ہاتھوں کیا بیت رہی ہے؟ جنابِ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمام ایمان والو کے آپس کے بھائی چارے، آپس کے دوستی اور باہم مہربان ہونے میں ایسی ہے جیسے ایک جسم، کہ اگر اس کے سر میں درد ہے تو پورا جسم بے قرار رہتا ہے، اگر اس کی آنکھ میں درد ہے تو پورا جسم بے قرار رہتا ہے، جسم کی کسی حصے میں اگر درد مچل رہا ہو تو ساری رات جاگے گزرتی ہے، بخار کے حالت میں گزرتی ہے، آج میں اپنی امت مسلمہ کے ضمیر کو جھنجوڑنا چاہتا ہوں اور ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اپنے دلوں کو ٹٹولیے، کیا اپنے مسلمان بھائی پر جب ظلم کے پہاڑ ڈھائے جا رہے تھے آپ کو کچھ بھی تکلیف کا احساس ہوا؟ ذرا سوچنا پڑے گا جمعیۃ علماء اسلام ایک آواز ہے، جمعیۃ علماء اسلام ایک نظریہ ہے، جمعیۃ علماء اسلام ایک تاریخ ہے اور جس جماعت کی پشت پر دو سو سال کی جہاد کی تاریخ ہو، فرنگی کے خلاف جہاد کی تاریخ ہو، آزادی کے لیے قربانیوں کی تاریخ ہو، میں پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کو بھی کہنا چاہتا ہوں، میں پاکستان کی بیوروکریسی کو بھی کہنا چاہتا ہوں، میں پاکستان کی سیاست دانوں کو بھی کہنا چاہتا ہوں، میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو بھی کہنا چاہتا ہوں، کہ جمعیۃ کو سیاست مت سکھاؤ، جمعیۃ سے سیاست سیکھو۔ لیکن جمعیۃ علماء اسلام کا منشور ہے کہ ایک اسلامی بلاک وجود میں آنا چاہیے، ایک مشترکہ سیاسی حکمت عملی، مشترک اقتصادی نظام، مشترک دفاعی معاہدہ یہ امت کو ایک جسم بنا سکتی ہے اور جب کوئی اچھا کام ہوا اگر پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ ہوا یہاں ہم نے حکمرانوں سے اختلاف کو بھلا دیا اور اس اقدام کی حمایت کی ہے، اس کو مزید آگے بڑھانے کی تمنا کرتے ہیں اور میں بتانا چاہتا ہوں کہ یہ مسئلہ صرف اب بیت المقدس تک محدود نہیں ہے، قبلہ اول تک محدود نہیں ہے، یہ مسئلہ اب صرف فلسطین تک محدود نہیں ہے، یہ عرب دنیا سے آگے بڑھتے ہوئے ایران تک پہنچ گیا ہے اور اگر ہم نے یہ سمجھا کہ یہ تو صرف ایران کا معاملہ ہے ایران جانے اور اس کا مسئلہ جانے، تو میں اپنے حکمرانوں کو بھی بتانا چاہتا ہوں، اپنے عوام کو بھی اس حوالے سے بیدار کرنا چاہتا ہوں کہ اگر ایران کو اسرائیل سر کر لیتا ہے تو پھر اسرائیل پاکستان کے دروازے پر کھڑا ہے۔

ذرا سمجھو اس بات کو، بین اقوامی قوتیں کس منافقت کے ساتھ، کس ناجائز حربوں کے ساتھ امت مسلمہ کا خاتمہ چاہتی ہے، بیت المقدس پر قبضہ کرنا چاہتی ہے، حرمین الشریفین ان کے نشانے پر ہے اور اسی لیے میں عرب دنیا سے بھی کہنا چاہتا ہوں کہ اب آپس کے جھگڑوں کا وقت نہیں ہے، اب امت کے وحدت کا وقت آگیا ہے، اپنی دفاع ایک کرو، اپنا اقتصاد ایک کرو، اپنی سیاست ایک کرو، ہم آہنگی پیدا کرو، کوئی تمہارا دفاع نہیں کرے گا، آئیں ایک دفاعی قوت بن کر ہم اسلامی دنیا کو ایک مضبوط بلاک بنائیں اور اکٹھے ہو کر امت مسلمہ کی مفادات کا دفاع کریں۔

میرے محترم دوستو! لیکن کون کرے؟ پاکستان کے یہ حکمران؟ کس کس بات کو روؤں، سنجیدہ ہو جائیں، جہاں پر پاکستان خود ایک قومی یکجہتی سے محروم ہے، جمعیۃ علماء اسلام پاکستان میں ایک قومی یکجہتی کی علم بردار جماعت ہے، ہم مسلمان بھی ہیں، ہم ایک عقیدہ بھی رکھتے ہیں، لیکن ہم تعصب کے قائل نہیں ہیں، ہم نفرتوں کے قائل نہیں ہیں، آئیں ہم اپنے اختلاف سے بھی بات کریں لیکن سلیقے کے ساتھ، شائستگی کے ساتھ، نفرتوں کی سیاست ہم اٹھاتے نہیں ہیں، نفرتوں کی سیاست کو ہم دفن کرتے ہیں۔ ہم پاکستان میں شدت کی سیاست نہیں کر رہے، ہم پاکستان میں اصولوں کی اور محبت کی سیاست کرتے ہیں، پاکستان ایک آئین رکھتا ہے، ایک قانون رکھتا ہے، کتنی مرتبہ ہم نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر اس آئین پر حلف اٹھایا، ہم اس کے وفادار ہیں، لیکن جو لوگ ملک کے محافظ ہیں، جو ہماری سرحدات کے محافظ ہیں، جو ہماری ملکی سیاست کی محافظ ہیں، جو ہماری ملکی معیشت کی محافظ ہیں، اگر وہی آئین کو سبوتاژ کرتے ہیں، اگر وہی قانون کو موم کی ناک بنا کر جدھر چاہیں جیسے چاہیں موڑ دیں، تو پھر ملک کو تباہی کے کنارے پر پہنچانا اس کے ذمہ دار آپ ہیں، میں دفاعی اداروں کا احترام کرتا ہوں، میں ملک کا نظم ونسق چلانے والے اداروں کا احترام کرتا ہوں، میں ملک پہ اصولی سیاست کا احترام کرتا ہوں، لیکن اپنے حدود سے تجاوز کروگے تو پھر سامنے بھی ہم کھڑے ہوں گے، مقابلہ بھی ہم کریں گے اور ان شاءاللہ تم مجرموں کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہو، اس لئے کوئی مجرم مقابلہ نہیں کرسکتا، جمعیۃ علماء اسلام ایک پاک، صاف، شفاف اور عقیدے پر پختہ اور پرامن جماعت اگر اس کو تم نے مد مقابل میں لانے کی کوشش کی تو اپنی ہلاکت کا اعلان کرو گے اور کوئی راستہ تمہارے پاس نہیں ہوگا۔

میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ جمعیۃ علماء اسلام ایک مؤثر قوت ہے، اگر آج پاکستان بچا ہوا ہے، اگر آج پاکستان باقی ہے میں اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اس کے فضل و کرم کو گواہ بناتے ہوئے واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ جمعیۃ علماء اسلام کی برکت سے پاکستان باقی ہے، ہم خون کی قربانیاں دے رہے ہیں، گزشتہ دو تین دہائیوں میں ہمارے کتنے کارکن، ہمارے کتنے عہدیدار، جید علماء کرام نشانہ بنے، کس گناہ پر؟ کون سا گناہ کیا تھا انہوں نے؟ اگر کسی دوسری جماعت کے ساتھ ظلم ہوتا ہے ہم وہاں بھی ظلم کی خلاف آواز اٹھاتے ہیں، لیکن جمعیۃ علماء کا گناہ بتایا جائے، ان کے علماء کو کیوں شہید کیا جا رہا ہے؟ اس لیے کہ جو ہمیں قتل کر رہے ہیں ان کو پتا ہے کہ جس ملک کو ہم توڑنا چاہتے ہیں جمعیۃ علماء توڑنے نہیں دے رہے ہیں۔ ہم تو پگڈنڈی پہ سفر کر رہے ہیں ایک طرف دباؤ آتا ہے، کبھی دوسری طرف سے دباؤ آتا ہے، ہم الیکشن لڑتے ہیں، ہم پاکستان کی جمہوری نظام کے ساتھ وابستہ ہیں اور اسٹیبلشمنٹ دھاندلیاں کر کے ہمیں پارلیمنٹ سے باہر کرتی ہے، ایک طرف کچھ جاہل قوتیں ہم پر کفر کے فتوے لگاتی ہے اور ایک طرف پاکستان کے وفادار ہمیں پارلیمنٹ سے باہر رکھنے کے لئے انتخابات میں دھاندلیاں کرتے ہیں، ہم کدھر جائیں؟

ذاہد تنگ نظر نے مجھے کافر جانا

اور کافر یہ سمجھتا ہے مسلمان ہوں میں

اس پگڈنڈی پر ہم سفر کر رہے ہیں، ایک طرف بھی ہم پر گولیاں برس رہی ہیں اور باجوڑ سے لے کر کراچی تک ہم نے لاشیں اٹھائی ہیں، ایک باجوڑ میں ہم نے آسی جنازے ایک ہی اجتماع سے اٹھائی ہیں، وزیرستان کے تمام اضلاع کے امراء دہشتگردوں کی گولی کا نشانہ بنے ہیں، مہمند کے علاقے میں جائیں، کرم کے علاقے میں جائیں، وزیرستان کے علاقے میں جائیں، علماء ہی نشانے پر، علماء کی نشانے پر، کیوں؟ لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ہم ان حربوں سے جمعیۃ علماء اسلام کے پائے استقامت کو متزلزل کر سکیں گے، یاد رکھیں ہم نے اپنی تاریخ سے سر اٹھا کے چلنا سیکھا ہے، کسی کے سامنے جھکنا نہیں سیکھا ہے۔ لیکن میری جان مال اور عزت و آبرو کی ذمہ داری ریاست کی ہے، ریاست ذمہ دار ہے، میں ریاست کو اس اجتماع وساطت سے اور آپ کی تائید کے ساتھ واضح پیغام دینا چاہتا ہوں، واضح پیغام دینا چاہتا ہوں مجھے جو بھی قتل کرے میں اس کا بدلہ نہیں لوں گا، میں سٹیٹ کو اپنے قتل کا ذمہ دار سمجھوں گا، اطلاع بھیج دیتے ہیں تھریٹ لیٹر، فون کر لیتے ہیں آپ فلانے علاقے میں نہ جائیں، یہاں بھی روک رہے تھے ناں، میں نے کہا جاؤں گا۔

میرے محترم دوستو! پہلے تو ہمارے حکمران اپنی خارجہ پالیسی ٹھیک کریں، پاکستان کے دو سرحد ہے ایک مغربی سرحد ہے اور ایک مشرقی سرحد، مشرقی سرحد پر ہندوستان ہے وہ سرحد بھی بند، مغربی سرحد پر ڈھائی ہزار کلومیٹر تک ایک افغانستان ہے یہ سرحد بھی بند، چین پاکستان پر اعتماد کھو رہا ہے، وہاں سے بھی کوئی بڑی خیر کی ابھی توقع نہیں ہے، ایران کے حالات کہ اب نہ وہ اچھے کا ہے نہ برے کا، تو ملک محصور ہو گیا ہے، پاکستان تمہاری وجہ سے یرغمال ہے اور کہتے ہیں ہم پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں، تم خود بھی پھنس چکے ہو، قوم بھی اس وقت محصور ہے اور پاکستان کے عوام آج رل رہے ہیں، ایک آبنائے ہرمز بند ہوا ہمارے سارے حکمرانوں کے آبنائے ہرمز بند ہو گئے ہیں، انڈیا میں ایک روپے پیٹرولیم مصنوعات مہنگی نہیں ہوئی، بنگلہ دیش جیسے ملک میں صرف سولہ فیصد قیمتیں بڑھی ہیں اور ہم ہیں کہ یہاں اکسٹھ فیصد ہم نے قیمتیں بڑھا دی ہیں، جبکہ ایران کا تیل اسی مقدار سے آ رہا ہے جس مقدار سے آبنائے ہرمز بند ہونے سے پہلے آ رہا تھا، تو سیدھی بات ہے ایران کے ساتھ معاہدہ کرو، جائز طریقے سے تیل برآمد کرو ختم بات، آئی ایم ایف ناراض ہوگا، امریکہ ناراض ہوگا اور ان کو کمیشنیں نہیں ملیں گی پھر، پوری سرحد کی نگرانی یہ لوگ خود کرتے ہیں۔ تو جو خیبر پختونخوا میں پینتالیس سال سے خون بہہ رہا ہے آج کی بات نہیں ہے، انیس سو اناسی سے لے کر جب میں ابھی طالب علم تھا اور یہاں جنگ شروع ہوئی ہے ہمارے سرحد پر اور آج جب میں 73 سال میں داخل ہوگیا ہوں، مسلسل دیکھ رہا ہوں کہ کیا ہو رہا ہے، بلوچستان اس وقت خون میں نہا رہا ہے، سندھ تو ویسے ہی ڈاکوں کے ہاتھ میں ہے، سارے اختیارات! کہتے ہم مستثنیٰ ہیں، صدر پاکستان مستثنیٰ ہے زندگی بھر اب اس کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں ہو سکے گا، ایسا پاک، صاف، شفاف، یہ تو اسٹیبلشمنٹ بڑی بیوقوف اور احمق ہے جس کو پتہ نہیں کس کس جرم میں آٹھ دس سال جیل میں رکھا، کبھی اتنا بڑا مجرم کے جیل میں اور کبھی اتنا پاک اور شفاف شخصیت کہ اس کے خلاف کوئی کیس بھی نہیں ہو سکے گا اور تاحیات، لیکن یہ میرا موضوع نہیں ہے، میں تو یہ سوچتا ہوں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اپنے آپ کو مستثنیٰ قرار نہیں دیا، دعوت دی، کوئی ہے کہ جس کا میرے اوپر حق ہو تو وصول کرو، ایک صحابی کھڑا ہوا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ میرا آپ کے اوپر ایک حق ہے، میں وہ حق وصول کرنا چاہتا ہوں، آپ نے فرمایا کیا حق ہے آپ کا، کہا آپ نے مجھے ایک چھڑی ماری تھی میں اس کا بدلہ لینا چاہتا ہوں، آپ نے فرمایا آؤ، کہا نہیں آپ نے مجھے پیٹھ پہ مارا تھا میں نے بھی آپ کو پیٹھ پر مارنا ہے، آپ نے پیٹھ کر دی، کہا نہیں پیٹھ میری ننگی تھی میں نے ننگی پیٹھ پر آپ کو بدلہ دینا ہے، رسول اللہ ﷺ نے پیٹھ ننگی کر دی، وہ تو صحابی تھا بہانہ ڈھونڈ رہا تھا، لپٹ گیا اور آپ کی پیٹھ مبارک کو چومتا رہا، چومتا رہا، چومتا رہا یہاں تک کہ مہر نبوت کو چوما، لیکن آپ نے یہ تو نہیں کہا کہ میں پیغمبر ہوں میں مستثنیٰ ہوں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ خود عدالت پیش ہوئے، قاضی شرح کی عدالت میں پیش ہوئے، یہ تو نہیں کہا کہ میں امیر المومنین ہوں اور مدعی کو حق نہیں ہے کہ میرے خلاف کیس دائر کر سکے، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عدالت میں تو کوئی مستثنیٰ نہیں تھا، وہ خود بھی مستثنیٰ نہیں تھے۔ یہ کیا قانون سازیاں ہو رہی ہیں؟ اٹھارہ سال سے کم عمر شادی نہیں کر سکتے ہیں اور اگر شادی کر لی تو اس کو زنا بالجبر کہا جائے گا، لیکن اگر بچہ پیدا ہو گیا تو بچہ حلالی ہوگا، یہ ہماری قانون سازیاں ہیں۔

آج ملک ان سے نہیں چل رہا، بینک بیچے جا رہے ہیں، پی آئی اے بیچا جا رہا ہے، تمام سرکاری ادارے بیچے جا رہے ہیں، یہاں تک کہ کالج اور یونیورسٹیاں بیچے جا رہی ہیں، سکول تک بیچے جا رہے ہیں، لیکن دینی مدرسہ جو پرائیویٹ سیکٹر میں ہے اس پر قبضہ ہو رہا ہے، اب یہ کوئی عقل کی بات ہے، اس عقل والوں کے ساتھ ہماری جنگ ہے اور مجھے پتا ہے مدرسہ کے ساتھ دشمنی کون کر رہا ہے، کس کے لئے وہ مشکل بنا ہوا ہے، قانون پاس ہو چکا ہے، جس طرح ہم نے کہا تھا اسی طرح پاس ہوا ہے، اب عمل درآمد نہیں ہو رہا، صوبوں میں قانون سازیاں نہیں ہو رہی ہیں اور ان کا خیال یہ ہے کہ ہم اس طرح مدرسوں کو غیر مؤثر بنا دیں گے، تمہارا باپ بھی دینی مدارس کو ختم نہیں کر سکے گا ان شاءاللہ۔

یہ جنگ ہم نے لڑنی ہے، یہ تحریک ہم نے اٹھانی ہے، اس ملک میں ہمیں امن چاہیے، انسانی حقوق کا تحفظ چاہیے اور خوشحال معیشت چاہیے، ہم نے مہنگائی کے خلاف مظاہروں کا اعلان کیا تھا، لیکن انہی دنوں میں ایران امریکہ کے درمیان پاکستان نے ثالثی کا عمل شروع کیا اور اسلام آباد میں بین الاقوامی قیادت اتر رہی تھی، تو ہم نے سوچا کہ ان حالات میں ہمیں ملک کے لئے مشکل پیدا نہیں کرنی چاہیے، ہم نے وہ مظاہرے مؤخر کیے، منسوخ نہیں کیے اور اب ان شاءاللہ العزیز 22 مئی کو جمعہ کے روز ملک بھر کے ہر ضلعی ہیڈکوارٹر میں مظاہرے کیے جائیں گے، دوبارہ اعلان کرتا ہوں، ہم عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، اس کے دکھ درد میں ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں، جہاں بدامنی ہے ہم وہاں پر بھی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، اپنا خون دے رہے ہیں، اس وقت بھی میں نے پارلیمنٹ میں بھی کہا کہ آج جب میں گفتگو کر رہا ہوں تو مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے میں خون کی جھیل میں کھڑے ہو کر بات کر رہا ہوں، شیخ ادریس کو تم نے کیوں قتل کیا؟ اس نے کیا جرم کیا تھا؟ وہ روزانہ اٹھائیس سو طلبہ کو پڑھاتا تھا روزانہ، تیرہ سو طلبہ ایک مدرسے میں اور پندرہ سو طلبہ دوسرے مدرسے میں، جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی شوریٰ کا رکن تھا، صوبائی اسمبلی میں ہمارا ممبر رہا ہے، وہ ملک میں امن کی بات کرتا تھا، اگر دنیا میں قیام امن کے لئے پاکستان حرکت میں آتا ہے تو سب سے پہلے ہم تائید کرتے ہیں، اگر انڈیا کے خلاف اپنی سرزمین کا دفاع کرتے ہیں اور کامیاب دفاع کرتے ہیں تو ہم شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں، لیکن پارلیمنٹ کی سیاست میں اگر علماء کرام جاتے بھی ہیں تو ان کو دھاندلی کے ذریعے شکست سے دوچار کر کے پارلیمنٹ کی کردار سے محروم کر دیا جاتا ہے، تم پارلیمان کے کردار سے ہمیں محروم کر سکتے ہو، لیکن اس میدان کی کردار سے ہمیں محروم نہیں کر سکتے، اب فیصلے ایوان میں نہیں میدان میں ہوں گے، ہم اس جدوجہد کو آگے بڑھائیں گے ان شاءاللہ۔

میرے محترم دوستو! ہمارا نصب العین بڑا واضح ہے ہم پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں، ایک ایسی ریاست جو معاشی لحاظ سے طاقتور ہو، ایک ایسی ریاست جو دفاعی لحاظ سے طاقتور ہو، ایک ایسی ریاست جہاں عام آدمی کے حقوق محفوظ ہو اور اس جدوجہد کو ان شاءاللہ جاری و ساری رکھا جائے گا۔ آپ اس جلسے میں عزم کریں کہ ان شاءاللہ یہ جدوجہد ہماری آگے بڑھتی رہے گی، اس کے بعد ہم ان شاءاللہ چار جون کو بلوچستان میں جلسہ کریں گے اور بہت بڑا اجتماع ہوگا، چار جون کو پشین میں ان شاءاللہ اجتماعات ہوگی ان شاءاللہ۔

میں بہت شکر گزار ہوں آپ کا، اللہ تعالیٰ آپ کے عزم کو اور مضبوط کرے اور ان شاءاللہ جس طرح اس اجتماع میں آپ نے ایک صف ہوکر ایک قوم ہوکر ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ان شاءاللہ آنے والے وقتوں میں بھی قوم ایک رہے گی اور اس وحدت کے ساتھ ہم کامیابیاں حاصل کریں گے، اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو۔

وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔

‎ضبط تحریر: #سہیل_سہراب

‎ممبر ٹیم جےیوآئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز 

‎#teamJUIswat 

0/Post a Comment/Comments