قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس رحمہ اللہ کی تعزیت کے موقع پر خطاب
06 مئی 2026
حضرت شیخ دنیا سے چلے گئے اور امن کی تلاش میں بد امنی کا شکار ہو گئے۔ جنہوں نے پوری زندگی قوم کو، ملک کو، امت کو امن دینے کیلئے جدوجہد میں گزاری آج وہ اس سفاکیت اور اس بربریت کا شکار ہوئے ہیں۔ انہوں نے اعلیٰ مقام شہادت کا پا لیا ہے اور مجھے اللہ پر اعتماد ہے کہ اللہ تعالیٰ ان مجرموں کو، ان سفاکوں کو، ان قاتلوں کو ضرور کیفر کردار تک پہنچائے گا۔
جو لوگ بھی حضرت شیخ کی تعزیت میں شریک ہوئے ہیں، مختلف پارٹیوں کے لوگ شریک ہوئے ہیں، حکومت کے لوگ شریک ہوئے ہیں، حزب اختلاف کے لوگ شریک ہوئے ہیں، پاکستان کی معزز شخصیات شریک ہوئے ہیں، ہم سب کے اس ہمدردی کے جذبات کی قدر کرتے ہیں اور ان کو احترام دیتے ہیں وہ ہمارے غم میں ہمارے ساتھ شریک ہوئے ہیں۔ لیکن ہم حکمرانوں سے، ذمہ دار اداروں سے مطالبہ بھی کرتے ہیں اور پرزور انداز میں یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مفت کی تنخواہیں نہ لیں، آج ان کا فرض ہے، فرض منصبی ہے کہ وہ ہمارے شہید کے قاتلوں اور مجرموں کو تلاش کریں، انہیں منظر عام پر لائیں اور انہیں کیفر کردار تک پہنچائیں۔
آج کا دن پورے ملک میں ہماری صوبائی جماعتوں نے اپنے اپنے صوبوں میں مظاہرے کیے ہیں لیکن میں بحیثیت امیر کے اعلان کرتا ہوں کہ جمعہ المبارک کو ان شاءاللہ بعد نماز جمعہ پورے ملک میں تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز پر اور صوبائی ہیڈکوارٹرز پر زبردست مظاہرے کیے جائیں گے اور بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔ میں ان شاءاللہ العزیز چودہ مئی کو کراچی میں ایک بڑے جلسہ عام میں شریک ہوں گا اور ہم آئندہ کا لائحہ عمل اس جلسے میں دیں گے، نے اس ملک کو بچایا ہے اور پاکستان آج اگر قائم ہے علماء کی وجہ سے قائم ہے، جمعیۃ علماء کے موقف کی وجہ سے قائم ہے، وفاق المدارس العربیہ اور ہمارے دینی مدارس کی وجہ سے قائم ہے، تمام مکاتب فکر کے علماء کرام پاکستان کے آئین، پاکستان کے قانون اور پاکستان کے پرامن نظام کے ساتھ کھڑے ہیں، کوئی بھی اسلحے کی سیاست نہیں کر رہا، کوئی بھی بغاوت نہیں کر رہا، ہم قربانیاں دے رہے ہیں، ہماری لاشیں اٹھ رہی ہیں اسی پاداش میں، میں نے باجوڑ میں ایک ہی جلسے کے اندر اسی جنازے اٹھائے ہیں، میں نے وزیرستان کے جید علماء کرام، زمہ دار علماء کرام، ضلعی امراء کی شہادتیں دیتے ہوئے ہم نے دیکھے ہیں، ہم نے قبائلی دنیا میں اور ملک کے اندر یہ قربانیاں دی ہیں، ہم نے مولانا حسن جان جیسے ایک انتہائی شریف النفس اور امن کے طلبگار استاذ کی قربانی دی ہے، ہم نے اپنے پارلمنٹیرین مولانا معراج الدین کی شہادت دی ہے، ہم نے مولانا نور محمد جو ہمارے پارلیمنٹ کے ممبر تھے ان کی شہادت دی ہے، کتنے علماء کرام ہیں کراچی سے لے کر باجوڑ تک جو اس ملک کے لئے شہید ہوئے ہیں، اللہ کے دین کا نام لیتے ہوئے پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانا چاہتے تھے، کیا گناہ ہے ان لوگوں کا سوائے اس کے کہ وہ اللہ دین کی سربلندی چاہتے تھے، وہ اعلیٰ کلمۃ اللہ کے لئے لڑ رہے تھے، جدوجہد کر رہے تھے، پرامن جدوجہد کر رہے تھے، یہ لوگ ہمیں مشتعل کرنا چاہتے ہیں، یہ جو جید علماء کرام کے شہادتیں ہیں یہ ہمارے پرامن راستے کو ایک خون آلود راستے میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں، ہم اپنے ہاتھ کسی مسلمان کے خون سے نہیں رنگیں گے، ہمارے ہاتھ میں امن ہے، امن کا پرچم ہے اور جب بھی ان بد امنوں نے جنگ کی آگ بھڑکانے کی کوشش کی اللہ نے اس کو بجایا ہے، یعنی جنگ کرنا، جنگ کی آگ بھڑکانا یہ اللہ کی مشیت نہیں ہے، اللہ کی مشیت آگ کو بجانا ہے اور یہ لوگ جو روئے زمین پر فساد مچاتے ہیں یہ وہی لوگ ہے۔ اسرائیل صہیونی یہودی اگر وہ خون بہا رہا ہے، ہمارے مسلمانوں کا بہا رہا ہے، جو لوگ یہاں پر اور افغانستان میں اور پاکستان میں خون بہا رہے ہیں یہ بھی انہی کی پیروکار ہو سکتے ہیں، یہ امت مسلمہ کے پیروکار نہیں ہے۔ ہمیں استقامت کے ساتھ اپنے اکابر کے راستے پہ چلنا ہے۔ ان کو جرات کیسے ہوتی ہے کہ وہ مفتی محمود کو مرتد کہتے ہیں، ان کو جرات کیسے ہوتی ہے کہ وہ مولانا عبدالحق کو مرتد کہتے ہیں، انہیں جرات کیسے ہوتی ہے کہ وہ حضرت درخواستی کو مرتد کہتے ہیں، انہیں جرات کیسے ہوتی ہے کہ وہ احمد علی لاہوری کو مرتد کہتے ہیں، انہیں جرات کیسے ہوتی ہے کہ وہ مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ کو مرتد کہتے ہیں، انہیں جرات کیسے ہوتی ہے کہ وہ مولانا حسین احمد مدنی شیخ الاسلام کو مرتد کہتے ہیں۔ ان کو مرتد کہنا یہ اپنے آپ کو مرتد کہنا ہے اور اپنے آپ کو مرتد قرار دینا ہے۔
جمعیۃ علماء اسلام کو مرتد کہنا، علماء کرام کو مرتد کہنا، مدارس کے علماء کو مرتد کہنا، یہ دلیل ہے کہ تم قاتل مرتد ہو اور تمہارا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں، ہم تمہارا راستہ نہیں لیں گے، تمہارے راستے پر جو جائے گا وہ اسلام کا مجرم ہے، وہ رسول اللہ ﷺ کا مجرم ہے، وہ اللہ کا مجرم ہے اور تم ان باتوں سے جذباتی باتوں سے ہمیں گمراہ نہیں کر سکتے۔ ہم اس وطن سے محبت کرتے ہیں، ہم اس وطن سے دینی لگاؤ رکھتے ہیں اور ہم اپنے وطن کو اسلام کا گہوارہ بنانا چاہتے ہیں، امن کا گہوارہ بنانا چاہتے ہیں، دینی اسلام کا مرکز بنانا چاہتے ہیں اور آئیے رائے ہوتی ہیں، مکالمے ہوتے ہیں، میری رائے آپ کی رائے، آئے مکالمہ کریں، اختلاف رائے کریں، یہ کونسا دین ہے کہ اختلاف رائے پر آدمی کسی کو قتل کر دے، آپ نے یہ رائے کیوں دی؟ آپ نے یہ بات کیوں کہی؟ اگر کسی عمل سے پاکستان کا امیج بہتر ہوتا ہے تو ہمارے کوئی ذاتی دشمنی تو نہیں ہے، ہم اس کی تعریف کریں گے، لیکن یہ جہالت ہے اس سے بڑھ کر اور کوئی جہالت نہیں ہے، ہم نے پاکستان کے اندر علماء کرام کے تمام مکاتب فکر نے اتفاق رائے کہ ساتھ، متفقہ اور اجماعی طور پر کراچی سے لے کر چترال اور گلگت تک کے تمام مدارس اور علماء نے اتفاق کے ساتھ یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستان کے اندر اسلحہ اٹھانا شرعاً ناجائز ہے۔ یہ متفقہ فیصلہ ہے، تحریری فیصلہ، لکھا ہوا فیصلہ، پاکستان کے طول و عرض کے لاکھوں علماء کرام وہ دین کو نہیں سمجھتے اور تم چند بھگوڑے اسلام کو سمجھتے ہو، آپ کی حیثیت تو بھگوڑوں کی ہے آپ اپنے آپ کو مجاہد کہتے ہو، شرم نہیں آتی، تم مولانا سمیع الحق کو شہید کروگے تو میں آپ کو مجاہد کہوں گا، تم مولانا حسن جان کو شہید کروگے تو میں تمہیں مجاہد کہوں گا، تم شیخ ادریس کو شہید کروگے تو میں تمہیں مجاہد کہوں گا، ہم پڑھے لکھے لوگ ہیں، ہم تمہاری طرح جاہل نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے ہمیں مدارس کے ساتھ نسبت عطاء کیا ہے، قرآن و حدیث کے علوم کے ساتھ اللہ نے ہمیں نسبت عطاء کیا ہے اور جمعیۃ علماء اسلام جس راستے پر چل رہی ہے آپ استقامت کے ساتھ چلیں، جوانوں میں آپ سے کہتا ہوں دینی مدارس کے طلباء آپ سے کہنا چاہتا ہوں، قوم کے جوانوں سے کہنا چاہتا ہوں جذباتی نعروں میں نا آئیں اسلام سنجیدگی اور وقار کی تعلیم دیتا ہے، جس وقار کے ساتھ میرے بھائی شیخ ادریس پڑھایا کرتے تھے وہ وقار اپنا لو، وہ طرز گفتگو اپنا لو، وہ محبت کا لب و لہجہ اپنا لو، کس طرح ان کی زبان حدیث کی تشریح پر چلتی تھی جیسے وہ نہیں بول رہے الفاظ اس کی زبان پر آ رہے ہیں، خود ترتیب پا رہے ہو، ایسا فصیح و بلیغ استاد میں نے کم و بیش دیکھے، ان کے اندر شیخ حسن جان کی نقل تھی، ان کا انداز تھا، ان کے بیان کی خوبصورتی تھی، وہ حدیث پڑھاتے تھے اور پچھلے سال تو ہمارے ڈیرہ اسمعیل خان کے مدرسے میں باضابطہ ختم بخاری کا پروگرام نہیں ہوا لیکن اس سے پہلے شیخ ادریس صاحب آئے تھے اور انہوں نے ہمارے ہاں ختم بخاری کی اور اس سے پہلے حضرت شیخ حسن جان صاحب آئے تھے اور انہوں نے ختم بخاری کی، پھر ہم نے ان کا بھی جنازہ اٹھایا، پھر ہم نے اج شیخ ادریس کا جنازہ بھی اٹھایا۔
ہم تو برداشت کرلیں گے لیکن جب وقت پلٹے گا تو تم برداشت نہیں کرسکو گے۔
تو ان شاءاللہ امن کا یہ پھریرا لہراتا رہے گا، جمعیۃ علماء کی یہ تحریک چلتی رہے گی، ہم نے جو بات حق سمجھی وہ کہیں گے، جو باطل کی بات ہے اس کا رد کریں گے، دلائل کی بنیاد پر کریں گے، تحریک کی بنیاد پر کریں گے اور ان شاءاللہ، اللہ کی مدد اور آپ لوگوں کی وحدت اور اتحاد کے ساتھ کریں گے۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو
وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض
ممبرز ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کانٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
#teamJUIswat

.jpeg)
ایک تبصرہ شائع کریں