مولانا فضل الرحمٰن صاحب اور حافظ نعیم الرحمن صاحب کی ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس

قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن صاحب کی ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس

28 جون 2026 

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم

حافظ صاحب کا میں تہہ دل سے شکر گزار ہوں تشریف لائے اور انہیں ہمیں عزت بخشی۔ جو گفتگو انہوں نے کی ہے میرے خیال میں یہ ہم سب کی ایک ہی آواز ہے، میں صرف آج آپ دوستوں کی یہاں تشریف آوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ تفصیل بیان کرنا چاہوں گا، سب سے پہلے جب میرے ساتھ رابطہ کیا وہ محترمہ مشعال یاسین ملک صاحبہ نے کیا اور ان کے ساتھ ملک صاحب کی اکلوتی بیٹی جنہوں نے ڈیڑھ سال کی عمر میں اپنے والد کو دیکھا اور اس کے بعد اب وہ دس سال سے اوپر ہو گئی لیکن اپنے والد کو نہیں دیکھا، ان کے احساسات تھے کہ جہاں پر میرا شوہر اس وقت پھانسی کا انتظار کر رہا ہے اور انڈین جیل میں ہے جب یہاں کے حالات ان تک پہنچیں گے تو آپ بتائیں کہ ان کے احساسات کیا ہوں گے، جس نے ساری زندگی اس کا دل و دماغ، اُس کے جذبات، ان کے احساسات پاکستان کے ساتھ جڑے رہے اور کتنی کشمیر کی قیادت ہے بالخصوص حریت کانفرنس کی قیادت، جنہوں نے بغیر کسی ایک تحفظ کے مسلسل پاکستان کا ساتھ دیا اور پاکستان کی تحریک کو اپنی تحریک سمجھا، ہر تحریک پاکستانی جھنڈے تلے انہوں نے چلائی، ان کے جنازے پاکستان کے جھنڈے میں لپٹ کر قبروں تک گئے ہیں اور انہوں نے قدم قدم پر پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے ہیں، آج اس قسم کے حالات اگر پیدا ہو گئے ہیں تو یہ حادثاتی قسم کے حالات ہیں جس کے درپردہ بہت سے وجوہ ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ وہ وقت ہے کہ جو ہمارے عقل و دانش کو اپیل کرتا ہے کہ ہم جذبات سے کام نہ لیں اور عقل و دانش کے ساتھ ہم خوش اسلوبی سے اس معاملے کو حل کریں اور اس کے کوئی اچھے نتائج ہم سامنے لائیں۔

اس حوالے سے جب میں نے اسمبلی میں بات کی تھی تو یہاں ایک بہت بڑا وفد میرے پاس آیا جس میں سابق صدر آزاد کشمیر جناب سردار یعقوب صاحب بھی موجود تھے، جس میں سابق صدر آزاد کشمیر سردار ابراہیم خان کے پوتے سردار حسن ابراہیم صاحب وہ بھی موجود تھے، یہاں ان کے وکلا جو بار کے صدر تھے، ڈسٹرک بار کے وہ بھی موجود تھے، باقی بہت سے معززین اس پورے وفد میں موجود تھے اور یہ وفد میرے پاس ان لوگوں کا خط لے کر آیا تھا جس میں انہوں نے ہم سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے اپیل کی تھی، میں نے ان کی مشاورت کے ساتھ ایک ویڈیو پیغام جاری کیا کہ اگر میں نے ثالثی کا کردار ادا کرنا ہے تو میں اس کار خیر کے لیے تیار ہوں، لیکن مجھے کچھ مہلت بھی چاہیے، اگر صبح تئیس تاریخ ہے اور تئیس تاریخ کو آپ نے اعلان کیا ہے کہ ہم لانگ مارچ کی طرف آگے بڑھیں گے، مزید اگلی اقدامات کا اعلان کریں گے تو سر دست ہمیں یہ دھرنا ہے اس کو منسوخ کر دینا چاہیے، اس کے جواب میں چوبیس گھنٹے تو لگ گئے لیکن بہرحال انہوں نے دھرنا تو برقرار رکھا لیکن اگلا کوئی قدم انہوں نے نہیں اٹھایا، نہ اس کا اعلان کیا سب چیزیں مؤخر کر دی۔ یہ بھی ایک مثبت سوچ کے تحت ایسا کیا گیا ہے اور ایک موقع انہوں نے فراہم کیا ہے کہ کسی قسم کے خون خرابے سے بچ کر ہم اگر کوئی معاملہ کوئی سیاسی طور پر حل کر سکتے ہیں، میں نے اس حوالے سے اسمبلی میں بھی بات کی، پرائم منسٹر صاحب کے آفس کو بھی میں نے اپنی سارے صورتحال سے آگاہ کیا اور وہ بھی اس وقت مشاورت میں مصروف ہیں۔ سو جب تک دونوں طرف کے مشاورت مکمل ہو کر ہم تک کوئی بات نہیں پہنچتی ہم منتظر رہیں گے اگلے کوئی قدم اٹھانے سے، لیکن ان حالات میں پاکستان کے تمام سیاسی قیادت، کشمیر کی تمام سیاسی قیادت وہ اس وقت تشویش میں ہے اور فکر مند ہے کہ مسئلہ کشمیر کے ہوتے ہوئے آج ہم کس طرح بین الاقوامی فورم پر انڈیا ایک جارح کی انداز میں پاکستان کے خلاف قرارداد لاتا ہے اور پھر وہاں پر پاکستان ایک دفاعی پوزیشن لے لیتا ہے، اٹھہتر سال میں جو پاکستان کی پوزیشن تھی وہ یکسر کیوں تبدیل ہو گئی؟

سو ان ساری چیزوں کو ہم نے سنبھالنا ہے اور صورتحال کو وہی لے جانا ہے کہ جہاں پر تھا، ہاں اگر کشمیریوں کے مطالبات ہیں، چارٹر آف ڈیمانڈ ہے اب اگر حکومت یہ کہتی ہے کہ ہم نے ان کے سارے مطالبات مانے ہیں تو یہ بات بھی آن ریکارڈ ہے کہ حکومت نے پھر ان کی اسی کمیٹی کو کالعدم بھی قرار دیا، پھر اسی کمیٹی کے ساتھ معاہدات اس کو بھی منسوخ کیا، پھر جتنے مطالبات انہوں نے تسلیم کئے تھے ان کو منسوخ کرنے کا نوٹیفیکشن بھی جاری ہے۔ 

سو صورتحال اس وقت یہ نہیں ہے کہ ہم کہیں کہ حکومت یہ مان چکی ہے، یہ مان چکی ہے، حکومت جو مان چکی ہے اس سب کو منسوخ کر چکی ہے۔ لہذا گورنمنٹ کو دوبارہ اس بات پر آمادہ ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہمیں اپنی پوزیشن بتائے تاکہ اس میں ہم ایک اچھا مثبت کردار کرسکے اور مسئلہ کے حل کے طرف پر ہم جائیں، مسئلہ کشمیر بہت نازک اور حساس ہے، خیبر پختون خواہ ہو، بلوچستان ہو اور پھر اب کشمیر کی بھی یہ صورتحال بن جائے تو پاکستان کا مستقبل کیا ہوگا؟ اس حوالے سے ہر پاکستانی شہری فکرمند ہیں اور صرف ہمیں قوت کی بنیاد پر فیصلوں سے گریز کرنا چاہیے اور عقلمندی کی بنیاد پر ہمیں فیصلوں کی طرف جانا چاہیے تاکہ ایک مشاورت کا ماحول ہو، ہم ان کی سنیں، وہ ہماری سنیں اور مجھے اللہ پر بھروسہ ہے کہ جب ہم نیک نیتی کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھیں گے تو کوئی نہ کوئی راستہ اللہ نکالے گا۔ شکریہ

سوال و جواب 

صحافی: مولانا صاحب ابھی آپ نے چوں کہ خود ذکر کر دیا ہے کہ حکومت کے جانب سے بھی کچھ اقدامات ابھی تک اس طرح نہیں کیے گئے ورنہ شکوہ وہ کیا کر رہے تھے وہاں سے، کشمیر میں ہم خود گئے ہیں کوریج کے لیے کہ ہمیں ہی صرف کہا جا رہا ہے کہ آپ دھرنا ختم کریں یا پیچھے ہٹ جائیں، حکومت سے کوئی نہیں پوچھ رہا کہ آپ ہمارے خلاف جو مقدمات ابھی نئے مقدمے قائم کر دیئے ہیں یا وہ لیکن آپ نے یہ ذکر کر دیا ہے، اصل اس میں ایک اور چیز آ رہی ہے کہ جس طرح محمود اچکزئی نے کہا کہ ایک طرف ایک حکومت کرش کرنا چاہتی ہے اور دوسری طرف دوسری حکومت ان کے ساتھ بات کرنا چاہتی ہے، یہ کون سی دو حکومتیں متوازی چل رہی ہیں کہ کرش بھی کرنا چاہتی ہے اور بات بھی؟

مولانا صاحب: دیکھیں! ہمیں اس وقت اس چیزوں سے بالاتر ہو کر بات کرنی ہے، ہم نے حکومت کو دو حصوں میں تقسیم نہیں کرنا، حکومت کو دو حصوں میں تقسیم کرنا تو یہ تو پھر میرا خیال میں کوئی غیر ضروری سی بات ہو جاتی ہے، سنجیدہ ہو کر ہمیں اس معاملے کو زیر بحث لانا ہے، میں اپوزیشن میں ہوں میں حکومت کے ساتھ اس وقت بیان کی حد تک میرے بیان وہ دیکھ رہے ہیں، ان کا کوئی بیان ہو تو میں دیکھ رہا ہوں، پیغام کوئی ہمارا چلا جاتا ہے کوئی ان کا آ جاتا ہے، لیکن کشمیر کے لئے میں وہ سارے حدود عبور کر کے ان کے ساتھ براہ راست گفتگو کرنے کے لئے تیار ہوں۔

صحافی: مولانا آپ نے بہت زیادہ اپنائیت کے ساتھ پیشکش کی لیکن کشمیر کے موجودہ صورتحال پاکستان میں یا انڈیا میں نہیں دیکھی جارہی بلکہ انٹرنیشنل ورلڈ ہے وہاں بہت زور و شور سے یہ موضوع اٹھایا جا رہا ہے، برطانیہ کے پارلیمنٹ پر ایک بہت بڑا احتجاج ہوا، اسی طرح سویٹزرلینڈ میں ہوا، امریکہ میں ہوئے، تو پوری دنیا میں بڑا نگیٹیو میسج آ رہا ہے، آپ بارہا حکومت کو پیغام دے چکے ہیں، حافظ صاحب کی طرف سے بھی یہ خبر سامنے آئی تھی کہ وہ بھی آئندہ کچھ گھنٹوں میں وزیراعظم سے ملاقات کرنے جارہے ہیں، تو حکومت آخر کیوں کہ سنجیدہ نہیں ہو رہی جبکہ آفیشلی حکومتی اعداد و شمار کا مطابق 24 کے قریب لاشیں گر چکی ہیں، کئی سارے لوگ لا پتہ ہیں، پورا کشمیر بند ہے اس کے باوجود یہ نانسیڈرزس کیوں لکھا جاتی ہے؟

مولانا صاحب: یہ آپ نے بڑا اچھا سوال کیا کہ پوری دنیا میں جو کشمیری ڈائس پورا ہو رہا ہے وہ اس کا بڑا کردار ہے تحریکِ آزادی کشمیر میں اور پوری دنیا میں وہ قضیہ کشمیر کے وکیل ہیں اور ہر محاذ پر، ہر فورم پر وہ دنیا میں لڑ رہے ہیں، بات کر رہے ہیں، سو یقیناً ان کی بھی جذبات ہیں، ان کا بھی ردعمل آ رہا ہے اور مزید آئے گا، لیکن میں ان سے بھی اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ یہاں جو مقامی صورتحال ہے اس پر مثبت اثرات کے لئے کردار ادا کریں، ایسے کوئی ایک الگ سی لائن لینا کہ جس سے یہاں پر جو گفتگو چلے گی یا بات چیت ہوگی یا معاملات طے ہوں گے اس پر اس کے کوئی منفی اثرات مرتب نہیں ہونے چاہیے۔

صحافی: مولانا صاحب یہ بتائیں آپ خود ایک سینئر سیاستدان بھی ہیں اور آپ کی بات کا بڑا وزن ہوتا ہے، یہ بتائیں کہ جب تک یہ تحریک عوامی نوعیت کے مسائل پر تین مقام پر تو صحیح چلتی رہی، لیکن ہم نے دیکھا کہ اسی دھرنے کے دوران جو باتیں جو بیانات سامنے آئے اس کے بعد یہ کشیدہ صورتحال کی طرف میں لے گئی، آپ کیا سمجھتے ہیں کہ جو وہاں کمیٹی کے ذمہ داران ہیں کیا اُن کی ذمہ داری نہیں بنتی کہ سٹیج آپ نے ایسے لوگوں کے حوالے کیا جنہوں نے آپ کی تحریک کے رخ کو موڑنے کی کوشش کی کیا کہیں گے؟

مولانا صاحب: آخر مسئلہ جو بگڑا ہے تو کوئی تو اس کی وجہ ہے، سو ہم نے اس بگاڑ کو ٹھیک کرنا ہے نا، یہ تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ خود بخود ہی، دیکھے ہم ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں آپس میں، محبت سے ہم بات کر رہے ہیں، آپ سوالات کر رہے ہیں ہم جوابات دے رہے ہیں، خدا نہ کرے کوئی ایسی صورتحال بن جاتی ہے تو اس کا کوئی سبب ہوگا، کوئی وجہ ہوگی، پھر اس کے بعد ہم نے فوری طور پر ڈنڈے تو نہیں اٹھانے، فوری طور پر ہم نے یہ کوشش کرنی ہے کہ یہ بات اب دوبارہ اپنی جگہ پر بحال ہو جائے، سو ہم اس وقت اس کوشش میں ہیں کہ بغیر کوئی سخت اقدام کے ہم باہر کے کشمیریوں کو بھی سلام کرتے ہیں اور اُن کو میں بڑے احترام کے ساتھ یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ جہاں جہاں بھی ہے اور ساری زندگی اُنہوں نے کشمیر کے آزادی کیلئے جو کردار ادا کیا ہے، جس طرح اُنہوں نے تحریکِ آزادی کشمیر کو سپورٹ کیا ہے، اُس کی وکالت کی ہے اور پاکستان اور کشمیری ہر جگہ جہاں جہاں بھی ہے آپس میں رابطے میں رہے ہیں، سو اُس کے آج بھی ان حالات کے اوپر مثبت اثرات کے ہم اُن سے توقع رکھتے ہیں، ایسی کسی بیان سے احتراز کرنا چاہیے کہ جس کے منفی اثرات مرتب ہوں یہاں کے لوگ جو ہیں وہ صلح کی طرف جا رہے ہوں اور کوئی ایسی بات ہو جائے کہ صلح کی طرف بڑھنے والے قدم جو ہے وہ کہیں رک جائے، تو کسی طرف سے بھی ایسے کوئی نئے اقدام کی گنجائش نہیں ہے کہ ہم صلح کی طرف بڑھتے ہوئے قدم جو ہے وہ رک جائیں یا وہ پسپا ہو جائیں۔

صحافی: اچھا مولانا صاحب یہ بتائیں کہ ایک طرف احتجاج چل رہا ہے، اتنی تحریک بھی چل رہی ہے، لوگ جو ہیں وہ اتنا زیادہ احتجاج میں ہیں، دوسری طرف ہے الیکشن کا بھی اعلان کر دیا گیا، پیپلز پارٹی پہلے بھی مطالبہ کر چکی ہے کہ الیکشن جو ہیں وہ ڈی لیں کیے جائے، آپ کے ایک خیال میں یہ الیکشنز جو ہیں وہ اپنے وقت پہ ہو سکتے ہیں اور دوسرا ہے سر جو ابھی کابینہ کے وزراء کی جانب سے بیانات آ رہے ہیں اور حکومت کی طرف سے جو غیر سنجیدگی دکھائی جارہی ہے ان ساری چیزوں کو آپ کیسے دیکھ رہے ہیں؟

مولانا صاحب: دیکھیں! اب خاص حالات کے ماحول میں کیا ہونا چاہیے میں اس پر تو بات نہیں کر سکتا لیکن بہرحال الیکشن اپنا ایک خاص ماحول چاہتا ہے اور اگر وہ ماحول مہیا نہیں ہیں لوگوں کو تو پھر عوام کی حقیقی رائے جو ہے سامنے نہیں آئے گی، ویسے بھی لوگ شاکی ہیں آج کل کہ جی فیصلے عوام نہیں کرتے کہیں اور جگہ سے ہوتے ہیں، تو اگر حالات بھی خراب ہو جائیں تو پھر تو اس کے بعد جو نتائج آئیں گے لوگ کیا تبصرے کریں گے۔ لہذا یہ بات اصولی طور پر اپنی جگہ ہے کہ انتخابات اگر کشمیر میں ہونے ہیں تو انتخاب کے لئے انتخابی ماحول کا ہونا بھی لازم ہے۔

صحافی: حضرت آپ ماشاءاللہ ایک زیرک سیاست دان ہیں، آپ کا بڑا احترام ہے، صرف یہ بتائیے گا کہ کشمیر میں صورتحال اس نہج پر ہے کہ لوگ جو ہیں سیاست دانوں پر اعتماد نہیں کر رہے ہیں، آزاد کشمیر کے جو سیاسی لیڈر رہے ہیں وہ کچھ نہیں کر پا رہے ہیں، اس کی وجہ کیا ہے؟

مولانا صاحب: حضرت آپ ایک واقعہ کو نہ دیکھیں، دنیا میں بہت سی ایسی جگہیں ہیں جہاں کبھی کبھی معروف سیاسی قیادت پس منظر میں چلی جاتی ہے، غیر معروف سیاسی قیادت میدان میں آ جاتی ہے، ابھی آپ نے بنگلہ دیش میں دیکھا کہ تبدیلی کون لے آیا، آپ نے مصر میں دیکھا تبدیلی کیسے آئی، تو یہ دنیا میں بعض جگہوں پر اس قسم کے واقعات آ جاتے ہیں ہمیں اس کو صحیح نہج پر لے جانا ہے، جو نئے لوگ سامنے آئے ہیں عام کارکن ہیں، عام شہری ہیں اور اس وقت بہرحال ان کے ہاتھ میں ایک مسئلہ آیا ہوا ہے، سو ایسے نوجوان جن کو سیاسی تجربہ نہیں ہے زیادہ اور انہوں نے ایسے معاملات بہت کم فیس کیے ہیں، تحریکوں میں ضرور شامل رہے ہیں لیکن قیادت اور معاملات کو طے کرنا، سو ہم ان کو بھی سپورٹ کریں گے، ہم ان کے ساتھ بھی تعاون کریں گے اور سمجھانے بجھانے کی بھی کوشش کریں گے کہ تاکہ جیسے کہ حافظ صاحب نے فرمایا کہ پاکستان کے آئین کی اور قانون کی فریم ورک کے اندر ہمیں مسئلے کا حل نکال سکیں۔

بہت بہت شکریہ 

ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض

‎ممبرز ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز 

‎#teamJUIswat‎

0/Post a Comment/Comments