قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کا کشمیر کی موجودہ صورتحال پر اہم گفتگو
23 جون 2026
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمده و نصلي على رسولِهِ الكریم۔
آج میں یہ گفتگو ایک ایسے وقت میں کر رہا ہوں جب کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورت حال کے اندر کشمیری عوام اور پاکستان کے عوام انتہائی فکر مند ہیں، کشمیر کے امن و امان کے لیے، کشمیر کی سلامتی کے لیے اور اس مرحلے پر کشمیر کی جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اکابرین جناب سردار عمر عزیز صاحب، خواجہ مہران ایڈووکیٹ صاحب اور جناب شوکت نواز میر صاحب کہ جنہوں نے بوساطت امتیاز اسلم کے دستخط کر کے مجھے مراسلہ بھیجا ہے اور انہوں نے آزاد کشمیر کے اندر بحران کے اور کشیدہ صورت حال کے حل کے لیے مجھ سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔
میں نے کشمیر اور پاکستان کے بہترین مفاد کے لیے مصالحتی کردار ادا کرنے کیلئے حامی بھری ہے، لیکن میرے پاس یہ مسئلہ ایک ایسے مرحلے میں آیا ہے جب کمیٹی کے لوگ اس وقت ایک دھرنے میں بیٹھے ہوئے ہیں اور اگلے لائحہ عمل کی طرف بڑھ رہے ہیں، ظاہر ہے کہ ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے مجھے وقت اور مہلت درکار ہوگی تاکہ حکومت سے رابطہ کیا جا سکے اور ان کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لیے گفتگو کی جا سکے اور اس طرح مذاکرات کے لیے زمین ہموار کی جا سکے اور پھر ایسے موقع پر جبکہ محرم الحرام کا پہلا عشرہ جو تمام مسلمانوں کیلئے مقدس اور محترم ہے اور یہ ایک حساس دن بھی ہیں، ایسے موقع پر میں ضروری سمجھتا ہوں کہ پہلے مرحلے میں کمیٹی دھرنے کو منسوخ کرے اور اگلے کسی لائحہ عمل کی طرف نہ جائے، تاکہ مذاکرات کی طرف اور مسئلہ کے حل کی طرف پیشرفت کے لئے ہمیں راستہ مل سکے، مواقع مل سکے اور دھرنے میں موجود لوگ ان کی قیادت اور حکومت کو کسی ایک موقف پر لانے کے لیے بات چیت کا آغاز کیا جا سکے۔
ظاہر ہے کہ جب سیاسی بحران اٹھتے ہیں تو اس کے لئے کچھ ابتدا میں نرمیاں پیدا کی جاتی ہیں، ہم فریقین سے نرم رویوں کے طرف جانے کی اپیل کریں گے اور مذاکرات پر آمادگی کے لیے ہم درخواست کریں گے تاکہ یہ بحران حل ہو سکے۔
اس حوالے سے میں اپیل کروں گا کہ اگلے اقدامات کے لیے ماحول کو سازگار بنانے کی اقدامات کئیں جائیں اور ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کیا جائے جو مسئلہ کے حل کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کا سبب بن سکے۔
میں اچھی امید کے ساتھ یہ پیغام کشمیر جائنٹ کمیٹی کو دینا چاہتا ہوں اور حکومتی ذمہ داران کو بھی یہ پیغام دینا چاہتا ہوں اس حوالے سے پہلا اقدام دھرنے کی منسوخی کا ہے اور یہ ایک ایسا پہلا اقدام ہوگا جس کے بعد مزید بات کو آگے بڑھانے کیلئے مواقع مہیا ہو سکیں گے۔ اللہ تعالی ہمارا حامی و ناصر ہو۔
وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
،ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض
ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
#teamJUIswat

.jpeg)
ایک تبصرہ شائع کریں