مولانا فضل الرحمن صاحب کا راولپنڈی ڈویژن کے اضلاع کی مجلس عاملہ کے مشترکہ اجلاس سے علمی و نظریاتی خطاب

قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمن صاحب کا راولپنڈی ڈویژن کے اضلاع کی مجلس عاملہ کے مشترکہ اجلاس سے علمی و نظریاتی خطاب

29 جون 2026

الحمد للہ رب العالمین، الصلاۃ والسلام علی أشرف الأنبیاء والمرسلین، وعلی آلہ وصحبہ ومن تبعھم باحسان الی یوم الدین۔ أَمَّا بَعْد

حضرات محترم، میرے بزرگو، دوستو اور بھائیوں، میرے لئے سعادت کی بات ہے کہ جماعتی احباب کی اس مجلس میں آپ کے ساتھ شریک ہو رہا ہوں، اللہ تعالیٰ ہماری اس شرکت کو قبول فرمائے اور اسے ذریعہ نجات بنائے۔

یقینًا آپ حضرات نے جو پنجاب میں ضلع قصور میں جلسہ عام کا اعلان کیا گیا ہے، اُس حوالے سے مشاورت کی ہوگی، کیسے اُس کو کامیاب بنایا جائے، اُس پر بات کی ہوگی، تجاویز مرتب کی ہوں گی، اللہ تعالیٰ ہمارے اِن اجتماعات کو قبول فرمائے اور اِن اجتماعات کو اپنے فضل کرم سے ہر شر سے محفوظ فرمائے اور کامیابی سے ہمکنار فرمائے۔

جن حالات میں جمعیۃ علماء اسلام مختلف صوبوں میں جلسے کر رہی ہے، بد امنی کے اس ماحول میں کوئی دوسری جماعت اتنا بڑا رسک نہیں لیتی لیکن یہ جمعیۃ کا ایک فرض منصبی بنتا ہے کہ ایسے وقت میں جبکہ ہر طرف خوف پھیلا ہوا ہے، بد امنی ہے، دھماکے ہیں، نامزد لوگ شہید کر دیے جاتے ہیں، تو ایسے حالات میں اس طرح کے اجتماعات سے عوام میں حوصلہ پیدا ہوتا ہے، اپنے کارکنوں میں بھی ایک بیداری اور خوداعتمادی آتی ہے اور جو لوگ بد امنی پھیلاتے ہیں، وہ بھی مایوس ہو جاتے ہیں، اگر ہم یہ چیزیں پاکستان کے اندر حاصل کر لیں، ان حالات میں تو یہ ملک کی بھی اور قوم کی بھی اور دین کی بھی بہت بڑی خدمت ہوگی۔

اللہ تعالیٰ نے روئے زمین کی خلافت انسان کو عطاء کی، انسان اللہ کی وہ مخلوق ہے جسے اس نے روئے زمین پر اپنا خلیفہ بنایا کہ اللہ کے قانون اور ضابطوں کو روئے زمین پر نافذ کرے، تو نیابت کا یہ مقام بہت بڑا مقام ہے، یہ مقام اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو نہیں دیا، یہ مقام اللہ تعالیٰ نے جنات کو دیا لیکن وہ ناکام ہوگئے اور حضرت انسان نے خدا کی نیابت کی عظیم الشان ذمہ داری اپنے سر لی اور آج تک وہ سلسلہ کسی نہ کسی شکل میں برقرار ہے۔

ملائکہ میں تو خلافت کا اور نیابت کا استعداد ہی نہیں ہے، وہ نورانی مخلوق ہے اور بس اور ان کے پاس جو علم ہے وہ صرف اتنا کہ "سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا" اس سے آگے اس کے پاس علم ہی نہیں ہے، جنات کے پاس علم تھا لیکن روئے زمین پر اللہ کی نیابت میں ناکام ہوگئے اور پھر اس نیابت کے لیے اللہ نے حضرت انسان کو پیدا کیا، یہ وہ انسان ہے "وَعَلَّمَ آدَمَ الأَسْمَاء كُلَّهَا" اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو سارے علوم عطاء کر دی، یہ عام علوم ہیں جس میں زیادہ تر دنیا میں رہنا اور دنیاوی نظام کو چلانا اس کی رہنمائی ہوتی ہے لیکن علوم کے ساتھ فوائد اور نقصانات دونوں وابستہ ہوتے ہیں، کسی چیز کا علم فائدے کا باعث بھی بنتا ہے اور نقصان کا باعث بھی بنتا ہے، کہیں پر ہدایت کا سبب بنتا ہے تو کبھی یہی علم گمراہی اور ذلالت کا سبب بھی بنتا ہے۔

تو عام انسانیت اس علم کا فائدہ اٹھاتی ہے، ہمارے مدرسوں کے اصطلاح میں دو طرح کے علوم پڑھائے جاتے ہیں ایک ہے علم خاص اور ایک ہے علم عام، عام علم تو وہی جو حضرت آدم کو اللہ تعالیٰ نے دیا "وَعَلَّمَ آدَمَ الأَسْمَاء كُلَّهَا" لیکن ایک خاص علم اللہ نے عطاء کیا جو مؤمنین کے لئے ہے کہ آسمانی کتابیں نازل کی لیکن تمام آسمانی کتابوں میں اللہ نے ان کتابوں کے حفاظت کا ذمہ نہیں لیا، چنانچہ وہ سب تحریفات کا شکار ہو گئی ہیں سوائے آخری کتاب کے قرآن کریم کے "ٱلرَّحۡمَٰنُ۔ عَلَّمَ ٱلۡقُرۡآنَ" یہ وہ خاص علم ہے جو قیامت تک کے لئے محفوظ ہے اور یہ انسان کی کامیابی اور ناکامی کی سمت بتاتا ہے، جتنے علوم آپ کو حاصل ہیں ان علوم میں تو حرام کا ارتکاب بھی شامل ہے، آپ دنیا میں وہ وہ چیزیں ایجاد کرتے ہیں، سائنس نے کیا کچھ نہیں کیا، لیکن جب قرآن کریم آیا اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو پھر آپ نے خاص علم کے ذریعے سے سمت کا تعین کیا، یہ جائز سمت ہے یہ ناجائز سمت، یہ حلال سمت ہے یہ حرام سمت ہے، یہاں تک جائز ہے اس حد سے آگے بڑھو گے تو نقصان ہوگا۔

تو ہم لوگ اس شریعت مطہرہ سے تعلق رکھتے ہیں، اس کے ماننے والے ہیں جو پوری انسانیت کی رہنمائی کرتا ہے، صحیح سمت میں رہنمائی کرتا ہے، حرام سے بچاتا ہے، نقصان سے بچاتا ہے، لیکن انسان ایسی مخلوق ہے کہ جس کے اندر مختلف صفات ہیں، اس کے اندر بشری صفت بھی ہے اس کے اندر ملکی صفت بھی ہے، اس کے اندر بہیمی صفت بھی ہے اور اس کے اندر درندگی کی صفت بھی ہے اور یہ تمام متضاد صفات ایک انسان کے اندر جمع کر لیے گئے ہیں، جو ایک دوسرے سے متصادم ہیں لیکن اسی تصادم کے نتیجے میں دنیا ترقی بھی کر رہی ہے، پانی اکیلا پانی ہے تو قیامت تک اکیلا پانی ہے، آگ اکیلا آگ ہے تو قیامت تک اکیلا آگ ہے اور بس، لیکن جب ان دونوں کو آپس میں لڑایا جاتا ہے اور دونوں کے بیچ میں ایک چھوٹا سا پردہ ڈال کر قریب کر لیا جاتا ہے تو پھر جا کر اس تصادم سے ایک تیسری چیز نکلتی ہے بھاپ اور اس بھاپ نے انسان کو کہاں پہنچا دیا، کس مقام پر پہنچا دیا ہے۔

تو اس اعتبار سے اگر انسان اللہ کی دی ہوئی رہنمائی کے مطابق چلتا ہے تو تب تو وہ حقیقی معنوں میں خلیفہ بھی بنتا ہے، وہ حلال و حرام میں امتیاز بھی کرتا ہے، اگر وہ حاکم بنتا ہے تو اللہ کے خلیفہ ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ظلم و عدل میں امتیاز کرے گا، انسانی معاشرے کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے وسائل بروئے کار لائے گا اور اسی چیز کا نام سیاست ہے۔ عبادت کے لئے لفظ خلق استعمال ہوا ہے "وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونَ"، لیکن اللہ کے احکامات کو نافذ کرنا اور ان کے برکات سے خود بھی مستفید ہونا اور پوری انسانیت کو مستفید کرنا اس کے لئے لفظ جعل استعمال ہوا ہے "اِنِّی جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِیفَةٌ"، تو خلق الجعل کا امتیاز آپ علماء کرام جانتے ہیں۔

اس اعتبار سے پھر اللہ تعالی نے ہمیں زمین پر بھیج کر اندھیروں کی طرف نہیں دھکیلا، بلکہ رہنمائی کیلئے وحی کے ذریعے سے رہنمائی کی، انبیاء کرام بھیجے اور آخری وحی اور کامل اور مکمل وحی جناب رسول اللہ ﷺ کو عطاء کی اور وہ وحی آج آپ کے اور ہمارے ہاتھ میں ہے، اب اس نظام کا تقاضا یہ ہے کہ ہم تدبیر کے ذریعے سے معاملات کو اس طرح سلجھائیں کہ وہ اصلاح کا سبب اور ذریعہ بنے، جمعیۃ علماء اسلام در حقیقت اس فکر اور اس عقیدے کی حامل جماعت ہے، اب ایک طرف ہم دعوے دار ہیں کہ ہم نے قرآن کی علوم کی حفاظت کرنی ہے، جناب رسول اللہ ﷺ نے جو دین کامل اور مکمل صورت میں انسانیت کے حوالے کیا اس کو روئے زمین پر جاری و ساری رکھنا ہے، قابل عمل بنانا ہے، تنفیذ کرنی ہے تاکہ انسانی معاشرہ انصاف، عدل، رواداری اور حسن خلق کا مظاہرہ کرے، لیکن اتنی عظیم الشان ذمہ داری جو در حقیقت اولا یہ ذمہ داری انبیاء کرام کی ہے اور اس ذمہ داری کو اگر صحیح معنوں میں سمجھا ہے تو صحابہِ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے، کہ رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں بھی، لیکن آپ کے وصال کے بعد تو باضابطہ طور پر صحابہ کرام دنیا میں نکلے اور اس دلیل کے ساتھ کہ "كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ" اور میں آپ کو عجیب بات بتاؤں کہ جہاں جہاں تک صحابہ کرام پہنچے ہیں چاہے جہاد کی صورت میں، چاہے دعوت کی صورت میں، جہاں جہاں تک صحابہ کرام پہنچے ہیں آج بھی عالم اسلام وہی وہی ہے اُن کے قلوب وہی ہے، ہم نے کمی تو کی ہے اضافہ نہیں کر سکے ہیں، لیکن بہرحال جن حدود تک اسلام کی حکومت پہنچی، اسلام پہنچا آج چودہ سو سال میں وہی دنیا اسلامی دنیا کہلاتی ہے، بعد میں ہم نے کوئی آگے کوئی تیر نہیں مارا۔

ہم اُس دنیا کو بھی نہیں سنبھال پا رہے ہیں اور کچھ چیزیں ہیں جو ہم پبلک کے سامنے بیان کرتے ہیں، لیکن میرے خیال میں ذاتی طور پر میرا طالب علمانہ خیال ہے، ممکن ہے ٹھیک نہ ہو، لیکن ہم پبلک کو جب دین کے تقاضوں سے آگاہ کرتے ہیں تو کچھ تھوڑا ہم لوگ بھی افراط و تفریط کا شکار ہو جاتے ہیں، زہد کے کیا معنی ہے، ورع کے کیا معنی ہے، ترک دنیا، اب ترک دنیا کا کیا معنی ہے، بھوکے ننگے رہیں اور صرف عبادت کریں، تو پھر اللہ نے انسان کو پیدا کس لیے کیا، اُس کے لئے تو فرشتے بھی ٹھیک تھے ہم سے اچھی عبادت کرتے ہیں، لیکن اللہ رب العزت نے فرمایا "قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ ۚ قُلْ هِيَ لِلَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، آخر انسان کو تو پیدا نہیں کیا خالی، کرہ ارض کو نعمتوں سے بھی تو بھر دیا، تو اللہ تعالیٰ یہی فرماتے ہیں کہ کس نے تمہیں کہا ہے کہ یہ جو میں نے طیبات پیدا کیے، دنیا میں رزق کے مختلف انواع پیدا کیے، یہ تم پر حرام ہے اور ہمارے صوفی حضرات حرام قرار دے دیتے ہیں، نہیں نہیں یہ عیاشی ہے، یہ نہیں ہونا چاہیے، یہ نہیں ہونا چاہیے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تمہارے لئے پیدا کیا ہے، اِس پر حق ہی تمہارا ہے۔

تو کرہ زمین کی جتنی بھی پیداواری صلاحیت ہے اور جتنی بھی نعمتیں یہ زمین اُگلتی ہے اُس پر تو حق ہی مؤمنین کا ہے، ہاں دنیا میں کافر بھی شریک ہو سکتا ہے اور آخرت تو صرف آپ کی ہے، اب آپ ایک سوال اُٹھائیں گے کہ قرآن نے تو یہ کہہ دیا "قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ ۚ قُلْ هِيَ لِلَّذِينَ آمَنُوا"، لیکن مشاہدہ اِس کے خلاف ہے کہ عالم کفر جو ہے وہ اِن نعمتوں سے زیادہ مستفید ہو رہا ہے اور بلکہ اُس کا مالک بنا ہوا ہے، تو قرآن کے الفاظ میں اور مشاہدے کے درمیان تطبیق کیسے پیدا کریں، قرآن کچھ کہہ رہا ہے اور مشاہدہ بالکل اُس کے خلاف آ رہا ہے تو "قُلْ لِلَّذِينَ آمَنُوا" یہ تمام نعمتیں اللہ نے پیدا کیں ہیں ایمان والوں کے لئے، تو جب تک اللہ سے ایمان کا رشتہ مضبوط ہے دنیا کی ساری نعمتیں سمٹ سمٹ کر آپ کی طرف آ رہی تھی، فتوحات ہو رہی تھی، روم بھی فتح ہو گیا، فارس بھی فتح ہو گیا، افریقہ بھی فتح ہو گیا، ہر طرف کی نعمتیں کِچ کِچ کر آپ کی طرف آ رہی تھی۔

اب جہاں امن ہوگا معاشرے میں، جہاں اطمینان ہوگا، سکینہ ہوگا، قناعت ہوگی، یہ ماحول تب پیدا ہوگا جب ساتھ معاشی خوشحالی بھی ہوگی، لیکن اس تمام تر نعمتوں کے لئے اللہ کا شکر گزار بندہ ہونا ضروری ہے، "مَا يَفْعَلُ اللَّهُ بِعَذَابِكُمْ اِن شَكَرْتُمْ وَآمَنْتُمْ"، اللہ کو کیا پڑی ہے کہ تم پہ عذاب ڈالے، بس شکر گزار بن جاؤ اور ایمان لے آؤ، شکر گزار بننے کے لئے صرف زبانی "الحمدللہ، الشكرُ للهِ، الحمدُ للهِ على نِعَمِهِ، الشكرُ للهِ على آلائِهِ"، یہ تو الفاظ ہیں لیکن عمل بھی بتائے کہ آپ کے زبان پر آئے ہوئی یہ الفاظ صحیح ہیں، جوارح تصدیق بھی کریں، آپ کے معاملات بھی ایسے ہوں کہ آپ کے اندر حرص نہ ہو، آپ کے اندر لالچ نہ ہو، آپ ایک دوسرے کا مال نہ لوٹیں، چوریاں نہ کریں، ڈاکے نہ ڈالیں، جو اللہ نے دیا اس پہ قناعت کریں، تو تب آپ ہیں شکر گزار بندے اور پھر "لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ"، اب شکر کے مقابلے میں تاکید کے ساتھ اللہ فرماتے ہیں "لَأَزِيدَنَّكُمْ"، لام بھی تاکید کا آخر میں نون مشدد یہ بھی تاکید کا، لیکن کفران نعمت کرو گے تو "لأعذبنکم" نہیں کہتے، "إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ"، پھر ذرا دھمکاتا ہے، ڈراتا ہے۔ 

اب یہاں دو چیزیں جمع ہوتی ہیں ایک وعدہ اور ایک وعید، ہمارے انسانی معاشرے میں اگر بادشاہ کسی سے وعدہ کرے کہ کل آپ آئیں اور میں آپ کو اتنا انعام دوں گا، تو بادشاہ کے شایان شان یہ ہے کہ وعدہ ہے پورا کرے، نہیں پورا کرے گا تو لوگ باتیں کریں گے کہ دیکھو بادشاہ ہو کر بھی بلاتا ہے اور پھر ایسی واپس کر دیتا ہے اس کے شایان شان نہیں ہوتا، لیکن اگر وہ کہے کہ کل آؤ میں تمہیں دس درے لگاؤں گا، پھینٹی چڑھاؤں گا تجھے اور وہ آجائے ملزم کے طور پر سامنے کھڑا ہے اور بادشاہ کہے! جاؤ معاف ہو کہ یہ بادشاہ کے شایان شان ہے، تو وعدہ پر عمل کرنا اور وعید پر عمل نہ کرنا اگر یہ ہمارے انسانی بادشاہوں کے شایان شان ہے تو اللہ تعالی نے بھی اسی طرح کا کلام کر دیا کہ اگر میرے نعمتوں کو شکر ادا کرو گے لَأَزِيدَنَّكُمْ اور اگر تم نے نافرمانی کی، نا شکری کی، کفران نعمت کیا، تو پھر یہ نہیں کہتے کہ لَأَعذبنکم، تو کہتے ہیں میرا ڈنڈا مضبوط ہے، عذاب بہت سخت ہے۔

تو یہ اللہ کے شایان شان ہے کہ اگر ہم سے کوئی غلطی ہو جائے اور ہم کفران نعمت کر لیں اور وہ ہمیں معاف کر لیں کہ جاؤ بس ٹھیک ہے، اگر انسان کے شایان شان یہ ہے تو اللہ کے تو بطریق اولیٰ شایان شان یہی ہے، لیکن اس اعتبار سے چونکہ یہ علماء کی جماعت ہے اور پھر ہم کہتے ہیں ہمارے اکابر جو ہیں یہ علماء حق تھے، وہ قرآن کریم کا نمونہ تھے، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا نمونہ تھے، سنت کی پیروی کرتے تھے، ہماری جو خانقاہ ہے پنیالہ کی تو وہاں ایک فتویٰ آیا اور اس میں ہمارے اکابر کی خلاف کوئی تکفیر تھی یا پتہ نہیں کیا مسئلہ تھا انہوں نے کہا نہیں اس طرح تو ہم دستخط نہیں کرسکتے اس کے اوپر، ہمیں تو پتہ بھی نہیں ہے دیوبند کیا ہے، تو دو تین علماء بھیجے گئے چوٹی کے علماء، وہاں انہوں نے دو تین مہینے گزارے، ان کے دروس میں بیٹھے، ان کے صبح و شام کو دیکھا سنا، اور واپس آئے اور رپورٹ یہ دی کہ کرہ ارض پر ان سے بڑے علماء نہیں ہیں قرآن و حدیث کے اور کررہ ارض پر ان سے متبعین سنت اور نہیں، تب جا کر پھر ہمارے حضرات نے اپنی اولاد کو تعلیم کے لئے ادھر بھیجا۔

تو آپ کو اللہ تعالی نے وہ سند عطاء کی ہے کہ جس پر کوئی حرف لانا آسان کام نہیں، اتنا بڑا علمی زخیرہ، اتباع سنت، کیونکہ ایک ہے عقیدہ اور ایک ہے عقیدہ کے مطابق عمل، اسی لئے ایک لفظ کا تعلق عقیدہ کے ساتھ ہے دوسری تعلق کا اس عقیدہ کے مطابق عمل کرنے سے، تو ہمارے اساتذہ، ہمارے اکابر، ہماری سند، اس کا نمونہ تھا۔ اب یہ کوئی مسلک نہیں ہے کہ ہم کہیں کہ یہ دیوبندیت ایک مسلک ہے، دیوبندیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی علوم اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی فقہ کا نشاط ثانیہ ہے۔

جب جمعیۃ علماء اسلام کا منشور چھپا 1968 میں، تو ہم چھوٹے تھے اس زمانے میں، سکول میں تھے، پھر جب ہم جماعت کے اندر آئے اور متحرک ہوئے تو ان بزرگوں میں جو ایک علمی شخصیت ہمارے اندر معروف تھی وہ حضرت مولانا محمد مراد صاحب سکھر والے، بڑے علمی آدمی تھے اور بھی بہت سے گزرے لیکن میں نے پوچھا تو یہی ایک بندہ رہ گیا تھا، میں نے ان سے کہا کہ حضرت آپ نے جو جمعیۃ کا منشور بنایا تو تمام آئمہ مجتہدین کی آراء سے استفادہ کیا یا صرف فقہ حنفی سے استفادہ کیا، تو حیران بھی ہوا کہ اس سوال کی طرف آپ کی توجہ کیسے گئی، تو انہوں نے فرمایا کہ اصول یہ طے ہوا تھا کہ تمام آئمہ مجتہدین کی آراء سے ہم استفادہ کریں گے لیکن منشور مکمل ہو گیا اور فقہ حنفی سے باہر جانے کی ضرورت نہیں پڑی۔

تو آپ حضرات اس قسم کے منشور کے حامل ہیں، تو پھر اس مقام پر رہیے نا، یہ تو ایک مقام ہے اس نظریہ کا حامل، اس منشور کا حامل، یہ کوئی ایسی عام بات تو نہیں ہے اس نے تو آپ کو خواص بنا دیا ہے اور آپ کی ہی رہنمائی میں قوم چلتی ہے، سارے امی لوگ بھی آپ کے اوپر اعتماد کر رہے ہیں، یہاں تک کہ اس ملک کے اندر اگر غیر مسلم ہیں وہ بھی اپنے حقوق کے لئے آپ پر اعتماد کر رہے ہیں، تو جن علماء کرام کی اس مقام کے اوپر قوم آپ پر اعتماد کر رہی ہے تو پھر رویے بھی ہمارے اسی مقام کے ہونے چاہیے نا، اب ہم امین ہیں قرآن سنت کے، ہم امین ہیں فقہ حنفی کے، ہم امین ہیں اہل سنت والجماعت کے، ہم امین ہیں اپنے اکابر علماء دیوبند کی تشریحات کے اور تعبیرات کے اور ہمارے جھگڑے عہدوں کے اوپر، مقام اور کردار اس میں مناسبت ہونی چاہیے، اگر اس میں فاصلے آگئے تو سمجھ لو کہ پھر غلطی ہماری ہے، پھر ہمیں اپنی اصلاح کرنی چاہیے اور پھر آپ کا تعلق تو صوفیاء کے ساتھ بھی ہے، صوفیاء کا کام ہوتا ہے مراقبہ، مشاہدے اور مراقبے کا فرق جانتے ہو کہ؟ جب حضرت جبریل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الإِحْسَانِ. قَالَ: أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، یہ مشاہدہ ہے، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ، یہ مراقبہ ہے، پیر صاحب ٹھیک کہہ رہا ہوں نا، یہ مراقبہ ہے۔ تو مشاہدہ اور مراقبہ دونوں ہمارے مدنظر ہونا چاہیے، ہم اللہ کو دیکھ رہے ہیں یا پھر اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے، تو پھر جو مقام آپ کا ہے اور جس جماعت سے ہم وابستہ ہیں تو اس جماعت کے اکابرین نے جو جماعت بنائی تھی وہاں تو عہدوں کا یہ عالم تھا کہ ایک وقت آیا ہندوستان میں الیکشن ہونے لگے تو مسلم لیگ نے جمعیۃ کے طرف رجوع کیا اور مسلم لیگ سے انتخابی اتحاد پر اختلاف ہو گیا، حضرت مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ صاحب رحمہ اللہ اتحاد کے حق میں نہیں تھے اور شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی حق میں تھے اور مباحثہ ہوا، بڑا لمبا مباحثہ ہوا اور جماعت نے حضرت شیخ الاسلام کے دلائل کو طاقتور سمجھا اور ان کی رائے کی مطابق فیصلہ لے لیا تو حضرت مفتی اعظم مستعفی ہو گئے یہ کہہ کر نہیں کہ میں ناراض ہو گیا ہوں، یہ کہہ کر نہیں کہ میری رائے نہیں مانی گئی، فرمایا جماعت کا فیصلہ ہے، اس جماعت کے فیصلے میری رائے کے خلاف ہے اس پر عمل درآمد کرانے میں شاید مجھ سے کوتاہی ہو جائے اور حسین احمد صاحب چونکہ اس رائے کے حق میں ہیں اس پالیسی پر عمل درآمد میں وہ حق ادا کر سکے، اس لیے اسی مجلس میں صدارت تبدیل ہو گئی۔

تو آج جو ہم بیٹھے ہوئے ہیں ہم ذرا اپنی تاریخ اپنے اسلاف کو بھی دیکھیں کہ کس مقام پر ہیں اور ہم آج کس مقام پر ہیں اور پھر علماء حضرات جمعیۃ کے اس پورے منشور کو جس طرح ہمارے اکابر نے بنایا اور جو منہج متعین کیا اور اس کی نسبت تاریخ میں جہاں تک ہے اس کو بھی دیکھ لیں اور اپنے روئیوں کو بھی دیکھ لیں کہ ہمارے روئیے کیا تطبیق رکھتے ہیں اس کے ساتھ، تو ہمیں اس حوالے سے ذرا کچھ اپنی اصلاح بھی کرنی چاہیے، یہ خانقاہی نظام جو ہے یہ ہے اپنی اصلاح کے لئے۔

تو باقی مشاورت آپ لوگ کر چکے ہوں گے، تو ان حالات میں ہمارا جو کام ہے اس میں وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبِدُونَ یہ شخصی زندگی کا کام ہے، اِنّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةٌ یہ اجتماعی کام ہے، خلافت، امامت، امارت، صدارت یہ تمام الفاظ مترادف ہیں مَدْلُولِ وَاحِد کے لیے، مَدْلُول سب کا ایک ہی ہے اور یہ سب چیزیں جو ہیں وہ اِصطلاحات ہیں، الفاظ ہیں، زمانوں کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں لفظ خلیفہ چلتا تھا، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں امیر چلتا تھا، کسی زمانے میں لفظ امام آگیا، تو یہ تعلیمات اگر ہمارے اندر ہو پھر ہم حالات کو بھی دیکھتے ہیں، اختلاف رائے کو بھی دیکھتے ہیں، اپنے مستقبل کو بھی دیکھتے ہیں، اور اس میں کسی تعصب کی گنجائش میں نہیں رہتے۔ ہماری جماعت میں سب آئیں، پوری قوم آئیں، اور ہمارا رویہ ایسا ہونا چاہیے کہ دنیا ہماری طرف ائے اور ہم ہدایت کا سبب بنیں، یہ نہ ہو کہ نیا بندہ جماعت میں آئے اور وہ سوچتا ہے کہ کس مصیبت میں پھنس گیا ہوں، یہ تو خود عہدوں پہ کر رہے ہیں، مجھے یہاں پر کیا ملے گا۔

تو اس پر اللہ تعالیٰ پر اعتماد کریں، وہ جس کو چاہتا ہے عہدہ دیتا ہے، جس کو نہیں چاہتا تو نہیں دیتا، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ حکومت بھی دے اور عزت بھی دے اور بعض دفعہ حکومت دیتا ہے تو عزت خراب ہو جاتی ہے، بعض دفعہ حکومت نہیں دیتا لیکن عزت دیتا ہے۔ اس معاملے کو بھی تھوڑا سا اگر اللہ کے حوالے کریں کیوں کہ اصل حاکم وہی ہے،ہم خواہ مخواہ اپنے آپ کو خوار کر لیتے ہیں لڑ لڑ کے اور ایک دوسرے کے گریبان پھاڑ دیتے ہیں اور ہوتا پھر بھی وہی ہےجو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔

تو ایک جماعت کے اندر رہنے والے وہ ایک خاندان کہلاتے ہیں اور خاندان کے فرد ایک دوسرے سے ایسے جڑے ہوتے ہیں کہ ایک جسم بن جاتے ہیں اور جسم کے اگر آنکھ میں درد ہے تو پورا جسم بے قرار، سر میں درد ہے تو پورا جسم بے قرار، جسم کے اگر کسی حصے میں بھی درد مچل رہا ہے تو ساری رات جاگے گزرتی ہے اور بے قراری کے ساتھ بخار کے ساتھ گزرتی ہے، تو یہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جتنے ارشادات ہیں یہ اُس زمانے کے لوگوں کے لئے نہیں ہیں، قیامت تک آپ کے لئے، ہم سب کے لئے ہیں، ہم سب کے لئے ہیں اور کسی نے کسی طرح ان کے ہمارے اندر کچھ علامات ہونے چاہیے۔

تو یہ چیزیں ہیں کہ جس پہ ہمیں اپنے اندر تبدیلیاں لانی پڑے گی، سوچ میں تبدیلیاں لانی پڑے گی اور اب آپ کے سامنے بڑا ایک چیلنج ہے قصور کا جلسہ، قصور جو ہے وہ قصور نہیں ہیں یہ قصر کی جمع ہے اس کو قصر کی جمع بناو اور صحیح معنوں میں اس کو قصور بناؤں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں جنت کی قصور نصیب فرمائے، حور و قصور اللہ تعالیٰ ہمیں نصیب فرمائے، لیکن اس کا دارومدار بھی اس دنیا کے عمل پر ہے، بہت خطائیں ہمارے اندر ہیں اور بہت سے ایسی خطائیں جو حبط اعمال کا سبب بن سکتی ہیں وہ ہمارے اندر موجود ہیں، اللہ تعالیٰ ہمیں معاف فرمائے، تقصیرات کو عفو و درگزر کر دے اور ہماری اصلاح فرمائے تاکہ ہم اس کی مرضی کے مطابق زندگی میں گزار سکیں۔

وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔

،‎ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض

‎ممبرز ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز 

‎#teamJUIswat

0/Post a Comment/Comments