مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا شہید اسلام شیخ محمد ادریس رحمہ اللہ کانفرنس چارسدہ سے خطاب

قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا شہید اسلام شیخ محمد ادریس رحمہ اللہ کانفرنس چارسدہ سے خطاب

18 جون 2026

الحمدللہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی لاسیما علی سید الرسل و خاتم الانبیاء وعلی آلہ وصحبہ ومن بھیدھم اھتدی، اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ یُرِیدُونَ لِیُطْفِئُوا نُورَ اللّٰہِ بِاَفْوَاہِہِمْ ۚ وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُورِہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُونَ، صدق اللہ العظیم

جناب صدر محترم، اکابر علماء کرام، برادران ملت، میرے دوستوں، میرے جوانوں، میرے بھائیوں! آج ہشتنغر کی سرزمین آپ کے اس فقید المثال اجتماع کے ذریعے ہمارے محبوب، شہید، مخدوم حضرت مولانا محمد ادریس رحمہ اللہ کو خراج عقیدت پیش کر رہا ہے۔ مولانا کی شہادت یہ ایک خاندان کا نقصان نہیں، ایک شہر اور ایک علاقے کا نقصان نہیں، یہ امت کا نقصان ہے اور آج صوبہ خیبر پختونخواہ نے ثابت کر دیا کہ کرہ عرض کے تمام مسلمانوں کے دل اپنے شہید کے ساتھ ہیں، تم ایک ادریس کو شہید کروگے ان کے خون کے ایک ایک قطرے سے شیخ ادریس پیدا ہوگا اور آج شیخ ادریس بزبان حال کہہ رہا ہے

کرو کج جبیں پہ سرِ کفن، مرے دشمنوں کو گماں نہ ہو

کہ غرورِ عشق کا بانکپن، پسِ مرگ ہم نے بھلا دیا

وہ زندہ ہیں، ان کی آواز زندہ ہے، اُس کی روح زندہ ہے، اُس کا نصب العین زندہ ہے، اُس کی جماعت زندہ ہے اور ان شاءاللہ اس زمین پر اسلام کا انقلاب برپا کر کے اپنے منزل کو حاصل کریں گے ان شاءاللہ العزیز۔

کسی نے سوچا ہوگا کہ اس بند مرد قلندر کی شہادت سے لوگوں کے حوصلے پست ہو جائیں گے، کارکنوں کے حوصلے پست ہو جائیں گے، جمعیۃ کا کارکن مایوس ہو جائے گا، لیکن آج کے اجتماع نے دنیا کو بتا دیا، اپنے دشمنوں کو بتا دیا کہ تم ہمارا کتنا خون بہاؤ گے ہمارے قطرے قطرے سے ہزاروں نوجوان اٹھیں گے اور اس انقلاب کی کمان اپنے ہاتھ میں سنبھالیں گے۔

میرے محترم دوستو! جمعیۃ علماء اسلام کی پشت پر دو سو سال سے زیادہ کی تاریخ موجود ہے اور جب تک برصغیر کی سیاست علماء کی قیادت میں تھی برصغیر میں آمن تھا، کوئی فسادات نہیں تھے، پورا برصغیر ایک آواز تھا، لیکن جب سے علماء سے قیادت چھینی گئی اور انگریز کے پروردہ لوگوں کے ہاتھ میں قیادت آئی تو پھر ان کا تو نظریہ ایک ہی ہے کہ لڑاؤ اور حکومت کرو، پھر تمہاری سیاست نے یہاں خون بہایا اور آج تک وہ خون تھم نہیں رہا ہے، انسانیت کا قتل ہو رہا ہے، اس تین چار دہائیوں میں کتنے مسلمان اس خطے کے وہ تہہ تیغ ہوئے، قربان ہو گئے اور ابھی تک وہ سلسلہ جاری ہے۔ ہمارے حکمران جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آپ پاکستان کی حکومت چلانے کے اہل نہیں ہیں، تم انسانی حقوق کا تحفظ نہیں کر سکتے، آج اس اجتماع میں مجھے ملکی معیشت پر بات کرنی تھی، آج مجھے اس قوم کے حقوق پر بات کرنی تھی، کیا وجہ ہے کہ آج بھی میرا کارکن، ہر پاکستانی شہری وہ امن و امان کی بات کر رہا ہے، لیکن سنو اور بار بار سنو ہماری آواز کو، یہاں پر فرقوں کو لڑایا گیا، فرقہ واریت کی نفرتیں پیدا کی گئی، جمعیۃ علماء اسلام میدان میں ڈٹ گئی اور اس لہر کو شکست دے دی، اس ملک میں لسانیت کی بنیاد پر، قومیتوں کے بنیاد پر، علاقائیتوں کے بنیاد پر نعرے لگائے گئے، نفرت اس ملک میں پھیلائی گئی لیکن ایک جماعت، جمعیۃ علماء کی صورت میں میدان میں کھڑی رہی، نفرتوں کو مسترد کیا، نفرتوں کے نعروں کو مسترد کیا، نفرتوں کے نظریات کو مسترد کیا اور الحمدللہ ہر محاذ پر کامیابی کے جھنڈے گاڑے ہیں اور اس ذہنیت کو ہم نے شکست دی۔

تو آپ ایسا نہ سمجھیں کہ آپ کو حکومت نہیں مل رہی، آپ ایک تاریخ ہیں، آپ ایک نظریہ ہیں، آپ ایک نصب العین ہیں، تم نے دینِ اسلام کے اور علومِ دینیہ کے بنیادی اور اساسی اداروں کو ختم کرنی کی کوشش کی اور اب بھی تمہاری کوشش جاری ہے لیکن میں نے بھی کھل کر اعلان کیا ہے کہ تمہارے ان منصوبوں کو، جس طرح انگریز کے منصوبوں کو ہم نے ناکام بنایا، ان کے پروردہ حکمران ذہنیت کو بھی ان شاءاللہ ہم شکست سے دوچار کریں گے۔

میرے محترم دوستو! آج ملک میں، صوبہ خیبر پختونخواہ میں، بلوچستان میں انسان ارزاں ہو گیا ہے، انسانی خون ارزاں ہو گیا ہے، اللہ تعالی کی نظر میں ایک مسلمان کا خون اتنا قیمتی ہے، اتنا قیمتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کے سامنے پوری دنیا تباہ ہو جائے وہ آسان ہے اور ایک مسلمان کے خون کا قطرہ گرنا بہت بھاری ہے۔ کچھ سمجھو ذرا ان چیزوں کو، نام اسلام کا لیا جاتا ہے اور خون مسلم کو ارزاں کیا جاتا ہے، یہ کیوں ہو رہا ہے؟ یہ حالات دوسری اسلامی دنیا میں کیوں نہیں ہے؟ یہ حالات انڈونیشیا میں کیوں نہیں ہے؟ یہ حالات ملائیشیا میں کیوں نہیں ہے؟ یہ حالات بنگلہ دیش میں کیوں نہیں ہے؟ یہ حالات عرب دنیا میں کیوں نہیں ہے؟ یہ حالات وسطی ایشیا میں کیوں نہیں ہے؟ اور پاکستان اور افغانستان کو اس کا نشانہ کیوں بنایا گیا ہے؟ میں واضح طور پر کہتا ہوں کہ آج بھی بندوق کی سیاست کرنے والے اس ذہن کے ایجنٹ ہیں جو اس خطے میں اپنے مالیاتی مفادات کے تحفظ کے لئے فساد پھیلا رہے ہیں۔ 

میرے بھائیو! آج دنیا میں اور مغربی دنیا میں جمہوریت ختم ہو چکی ہے، ان کی جمہوریت میں دلچسپی ختم ہوگئی ہے اور سرمایہ داریت کو آگے لائیں ہیں، اب امریکہ کے صدر کی نظریں دنیا کے معدنی ذخائر پر ہے، دنیا کے دولت اور پیسے پر ان کی نظر ہے، ہمارے پہاڑوں میں پڑی ذخائر پر ان کی نظر ہے، اور یہ مٹی بدامنی میں مصروف رکھنا چاہتی ہے تاکہ ان ذخائر تک ان کی رسائی آسان ہو جائے۔ اس لیے ہم کہہ رہے ہیں کہ تھوڑا عقل سے کام لو، جمعیۃ علماء اسلام جو سیاست کر رہی ہے وہ امریکہ اور مغرب کے لیے بہت مہنگا پڑ گیا ہے، وہ چاہتے ہیں کہ اس مٹی میں خون بہے لیکن جمعیۃ علماء اسلام کی برکت سے تعلیمی ادارے بھی محفوظ ہیں، دینی ادارے بھی محفوظ ہیں، مسجد اور امام بھی محفوظ ہیں، داڑھی اور پگڑی بھی محفوظ ہے اور ہماری برکت سے جب یہ چیزیں محفوظ ہیں تو یہ مغرب کے لیے ناراضگی کا باعث ہے۔

میرے محترم دوستو! مشرقی دنیا میں کمیونزم نے بھی شکست کھائی ہے اور وہ بھی شکست خوردہ ہے اور انہیں کمیونزم میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور وہ اب صرف آمریت سے کام لے رہے ہیں، تو مغرب کی سرمایہ داریت، مشرق کی آمریت اور ہماری عسکریت یہ تینوں مشترکہ طور پر ہماری انسانی زندگی اور امن کو تباہ کر رہی ہے۔ تو حقائق کو دیکھیں گے، جمعیۃ علماء نے ہمیشہ ایک بات کہی ہے اور لوگوں نے یہ کہا ہے کہ آپ بات کر رہے تھے تو ہماری سمجھ میں نہیں آرہا تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہی ہوا جو آپ کہہ رہے تھے۔ تو کل جب آپ پر ژالہ باری ہوگی، پتھر برسیں گے اور وہاں پر تسلیم کروگے تو یہاں کیوں تسلیم نہیں کرتے کہ میں آپ کو دکھا رہا ہوں کہ دور بادلوں میں طوفان آرہا ہے۔

میرے محترم دوستو! آج پاکستان میں جمہوریت کدھر ہے؟ اور جب ہماری مقتدرہ کے ہاتھوں سے جمہوریت یرغمال ہوگئی ہے، جب ہماری مقتدرہ جمہوریت کی روح کو اپنے قبضے میں لیے ہوئی ہے اور اپنی مرضی سے جمہوریت کو سانس لینے کی اجازت نہیں ہے تو پھر کچھ لوگ ان کے ایجنٹ بن کر کہتے ہیں جمہوریت کفر ہے۔ تو جب جمہوریت مغرب میں ناکام ہے، کمیونزم مشرق میں ناکام ہے تو حل صرف ایک ہی ہے کہ اسلامی معشیت کو اپنائیں، اسلام کی شورائیت کو قبول کریں، اسلام کے تصورات کو قبول کریں، اسلام ایک متبادل نظام ہے جو انسان کے فلاح و بہبود اور حقوق کا محافظ نظام ہے۔

آج جب جمعیۃ علماء عوام میں مقبولیت رکھتی ہے تو کون ہے جو اسمبلی میں میرا راستہ روکتے ہیں، میں تو اسمبلی کا راستہ اپنا رہا ہوں، میں تو پارلیمان میں کردار ادا کر رہا ہوں، عوام میرے ساتھ ہیں۔ گلگت میں ہم نے دو سیٹیں جیتیں، پیپلز پارٹی بھی کہہ رہی ہے کہ یہ جمعیۃ نے جیتی ہے ہم نے نہیں، اور پھر الیکشن کمیشن ارکان کرتا ہے کہ پندرہ پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ الیکشن ہوگا، ایک دن دوبارہ الیکشن کا اعلان کیا اور دوسرے دن الیکشن کا نتیجہ ہمارے ہاتھ میں تھما دیا کہ یہ جیت گئے ہیں اور یہ ہار گئے ہیں۔ یہ الیکشن کمیشن انصاف کی الیکشن کر رہے ہیں؟ آپ نے بلوچستان کے ضمنی الیکشن میں ہمارے ساتھ کیا کیا ہے، آپ نے اس صوبے کے الیکشن میں میرے سامنے دھاندلیاں قبول کی ہے، کا سے چھپا رہے ہو؟ یہ جتنی عوام بیٹھی ہے ان سب کا نمائندہ میں ہوں۔ یہاں پر بیٹھے عوام کی میں نمائندگی کر رہا ہوں اور آپ کو اس پر باخبر کر رہا ہوں کہ میرے سامنے انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ ہم نے آپ سے کتنی سیٹیں چھینی ہیں۔ دھاندلیوں کے اعتراف کیں ہیں، جمعیۃ کے سیٹوں پر ہاتھ ڈالنے کے اعترافات کیں ہیں، یہ الیکشن میں جمہوریت کے معیار مان لوں، اسی الیکشن پر شہباز شریف حکومت کرے گا اور میں کہوں گا کہ یہ جائز حکومت ہے۔ مجھے انہوں نے دعوت دی ہے کہ آؤ حکومت میں شامل ہو جاؤ، میں نے کہا اصل نتیجہ میرے ہاتھ پہ رکھا پھر بات کریں گے اور اگر اصل نتیجہ مجھے نہیں دوگے تو میں اسمبلی میں چند سیٹوں پر آپ کو آرام سے نہیں بیٹھنے دوں گا۔

اس ملک میں کوئی نمائندہ حکومت نہیں ہے، جہاں حکومت بنتی ہے ہماری مقتدرہ انتخابات کو منیج کرتا ہے، ہارے ہوئے کو جتوانا، جیتے ہوئے کو ہروانا اب تو یہ ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل بن گیا ہے، اور پھر جب ٹرمپ ان کو پیٹھ پر تھپکی دیتے ہیں کہ بہت کام کے بندے ہو، ہم انصاف سے کام لے رہے ہیں، ہم جس بات کو جائز سمجھتے ہیں اس کو جائز کہا ہے اور جس کو غلط مانتے ہیں تو ان کو ببانگ دہل غلط کہتے ہیں۔ آپ نے انڈیا کے ساتھ جنگ کی تو سب سے پہلے ہم نے سپورٹ کیا، آپ نے ایران اور امریکہ کی ثالثی کی سب سے پہلے ہم نے سپورٹ کیا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ایک کامیاب حکومت ہے، آپ اپنے ملک میں عوام کو زندگی نہیں دے سکتے، امن نہیں دے سکتے تو یہ حکومت کوئی حکومت نہیں ہے۔

ہمارا بجٹ آئی ایم ایف بناتا ہے، ہم نہیں بنا رہے، لیکن میں آئی ایم ایف سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب ہمارا بجٹ آپ بناتے ہیں تو ہماری حکومت کو آپ کہتے ہیں یہ ٹیکس لگاؤ یہ ٹیکس لگاؤ، یہاں ٹیکس لگاؤ یہاں ٹیکس لگاؤ، آئی ایم ایف والو کبھی تم نے میری حکومت کو یہ بھی کہا ہے کہ یہ کرپشن ختم کرو یہ کرپشن ختم کرو یہ کرپشن ختم کرو، کرپشن پروان چڑھ رہا ہے، ہر دفتر کرپشن کا مرکز بن گیا ہے، ہر افسر نے کرپشن کی دکانیں کھولی ہوئی ہیں اور پھر کہتے ہو ملکی معیشت ٹھیک نہیں ہو رہی۔

تو اس لحاظ سے ہم نے آگے بڑھنا ہے، ہمیں کامیابیاں ملی ہیں اور ابھی میرے سامنے ذکر ہوا چھبیسویں آئینی ترمیم کا، تو آئینی ترمیم میں یہ طے ہوا ہے کہ یکم جنوری دو ہزار اٹھائیس سے ملک کے اندر سود ختم ہو جائے گا، کہیں نظر نہیں آ رہا کسی محکمے میں اور کسی بینک میں کہ سود کے خاتمے کے انتظام ہو رہے ہوں، یہ ہے آئین کا وہ حلف جو تم نے اٹھایا ہے، آئین پر عمل درآمد کرنا اور آئین سے وفاداری کا یہ حلف جو تم نے اٹھایا ہے یہاں پر آپ جھوٹے ثابت ہو رہے ہیں، آپ نے وفاقی شرعی عدالت کو مؤثر بنانے کے لئے آئینی ترمیم کی، وہاں علماء کے سیٹیں خالی ہیں ابھی تک خالی ہیں، آپ نے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر اسمبلی میں بحث کرنے کو آئین کا حصہ بنایا آج تک ایک بھی سفارش بحث کرنے کیلئے اسمبلی میں پیش نہیں ہوئی، یہ ہے آئین کا حلف، اسے کہتے ہیں آئین پر عمل درآمد، ایک دباؤ میں آ کر جب تم فیصلہ کر لیتے ہو، بات مان جاتے ہو، پھر جب وہ دن نکل جاتے ہیں پھر تمہیں یاد ہی نہیں رہتا۔ ہمارے صدر صاحب کہتے ہیں کہ معاہدہ کرنا کیا یہ کوئی قرآن و سنت کی بات ہے، آئین میں ترمیم کی ہے آپ نے، صرف معاہدہ ہی نہیں ہے، آئین پر عمل درآمد نہیں ہے اور اپنے لئے کیا کہ تاحیات اب میں مستثنیٰ ہوں گا کوئی مقدمہ میرے خلاف نہیں ہوگا، زرداری صاحب! ہم کب آپ پر مقدمہ چلانا چاہتے ہیں، لیکن اگر یہ استثناء آپ نے حاصل کیا اور کل صدارت کے بعد تم نے کوئی جرم کر لیا، کسی کو قتل کر لیا تم سے کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہوگا، کیا اس طرح کا استثناء خود رسول اللہ ﷺ نے لیا ہے؟ کیا اس طرح کا استثناء خلفاء راشدین نے لیا ہے؟ اگر اس طرح کا استثناء انبیاء نے نہیں لیا، رسول اللہ ﷺ نے نہیں لیا، آپ کون ہوتے ہیں کہ آپ جرم بھی کریں گے اور آپ کی خلاف کوئی مقدمہ بھی نہیں ہو سکے گا۔ ہمارے بڑے بڑے عہدیدار اب تاحیات مراعات لیتے رہیں گے، یہ تو پاکستان کے غریب لوگوں کا استحصال ہے، غریب کو روٹی نہیں مل رہی، غریب کو زندگی نہیں مل رہی، غریب اپنے بچوں کی سکول کے فیس نہیں دے سکتا، غریب اپنے بچوں کے علاج کے لیے دوائی نہیں خرید سکتا، عام آدمی کی حالت یہ ہو گئی ہے اور آپ لوگ ہیں جو پاکستان کے خزانے کے مالک بنے ہوئے عیاشیاں کر رہے ہیں، جمعیۃ علماء اسلام تمہاری ان عیاشیوں کے خلاف ایک تحریک کا نام ہے۔

میرے محترم دوستو! اگر اس ملک کو چلانا ہے شائستگی کے ساتھ چلانا ہے، آئین اور قانون کی روشنی میں چلانا ہے تو پھر جمعیۃ علماء اسلام کا راستہ کھولنا ہوگا، ہمیں مجبور مت کرو پھر، اگر تو گھی آرام سے ڈبے سے باہر آئے تو ٹھیک ورنہ پھر ٹیڑھی انگلی سے نکالا جائے گا۔ پاکستان میں جو سیاست ہو رہی ہے یہ سیاست آئین کی سیاست نہیں ہے، دلیل کی سیاست نہیں ہے، یہ قوت کی سیاست ہے، او معقول طریقے سے ہمارے ساتھ بات کرو، ہمیں مجبور مت کرو، آج اگر ہم نے آواز دی پورا پاکستان اول تا آخر اسلام آباد کی طرف چلنا شروع کر دے گا، ہمارے صوبے میں خون بہہ رہا ہے، بلوچستان میں خون بہہ رہا ہے اور ابھی کشمیر کے اندر خون بہانا شروع کر دیا ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے چارٹر آف ڈیمانڈ ڈیمانڈ پیش کیا ہے، سادہ قسم کی باتیں ہیں کوئی ایسی مشکل بات نہیں کہ اس کے لیے گولی چلائی جائے بلکہ بیٹھ کر بات کی جا سکتی ہے اور مسئلہ کو شائستگی کے ساتھ حل کیا جا سکتا ہے۔

ہم ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں اچھی بات ہے خطے میں امن کے لیے، لیکن افغانستان کے ساتھ کیوں لڑائی چیڑھ رہے ہیں، افغانستان جس کو استحکام کی ضرورت ہے، جس کو استقلال کی ضرورت ہے، ان کو آپ کمزور کر رہے ہیں، آپ کو اپنے پڑوس میں ایک مستحکم پڑوسی چاہیے لیکن اگر امریکہ اور مغرب ان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں تو پھر پروکسی کا کردار پاکستان نے ادا کرنا ہوتا ہے اور کہتے ہیں ہم تو دہشتگردوں کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، دہشتگردوں کے مراکز افغانستان میں ہیں، بھئی افغانستان میں تمہیں دہشتگردوں کے مراکز نظر آتے ہیں اور پاکستان کے اندر تمہیں مسلح گروہ نظر نہیں آ رہے ہیں؟ تمہارے تھانوں پہ انہوں نے قبضے کر لئے ہیں، تمہارے فوجی قلعوں پہ انہوں نے قبضے کیں ہوئے ہیں، اڑا کر رکھ دیا ہے ان کو، کس طرح آپ کہتے ہیں کہ ملک پر ہماری حکومت ہے، تو جان لو کہ آپ کی حکمت عملی غلط ہے، آپ کی پالیسی غلط ہے، اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی ہوگی اور سیدھے ہو جاؤ، الیکشنوں میں چوریاں مت کرو، جمعیۃ علماء اسلام کا راستہ مت روکو ورنہ جمعیۃ علماء کے بغیر تم کوئی مسئلہ حل بھی نہیں کر سکو گے، وہ کبھی کبھی ہم کہتے تھے نا کہ جمعیۃ کے بغیر حکومت بنتی نہیں اور اگر بن بھی جائے تو چلتی نہیں۔ تو آج حکومت بنی ہے لیکن چل نہیں رہی، لیکن ان شاءاللہ العزیز تحریکیں رکتی نہیں ہے، آپ کی تحریک ان شاءاللہ چلتی رہے گی، جاری رہے گی، بیٹھنا تو نہیں نا آپ لوگوں نے، سفر جاری رکھنا ہے۔ میں پشین گیا تھا وہاں تا حد نظر لوگوں نے بہت بڑا اجتماع کیا، اس کا اثر آپ کی صوبے پہ ہوا، آپ کے لوگ جاگ اٹھے، آج تا حد نظر یہاں انسانیت جمع ہے اور ان شاءاللہ گیارہ جولائی کو پنجاب کے شہر قصور میں اتنا ہی بڑا جلسہ ہوگا اور یہ سفر آگے بڑھتا جائے گا، یہ سلسلہ چلتا رہے گا، جب تک ہماری جان میں جان ہے ان شاءاللہ یہ جنگ جاری رہے گی اور آپ یہ مت سمجھیں کہ ہم کسی کی جان لے کر تحریک ختم کرسکیں گے، میں تو واضح اعلان کرتا ہوں کہ فضل الرحمٰن پر ہاتھ ڈالا گیا میں کسی کے خلاف مقدمہ نہیں کروں گا، میں پاکستان کے ریاست کو اپنے قتل کا ذمہ دار کہوں گا، اپنے کارکن کے قتل کا ذمہ دار کہوں گا، اس کے بعد پھر جو ہوگا اس کی ذمہ داری آپ لوگوں پر ہوگی ہمارے اوپر نہیں ہوگی۔

ہم اپنے صفیں صاف رکھنا چاہتے ہیں، ہم ایک صاف اور شفاف تحریک لے کر آگے بڑھ رہے ہیں، ہم پاکستان کو بچا رہے ہیں، ہم نے یہاں فتنوں کا مقابلہ کیا ہے، ہم نے فتنوں کو شکست دی ہے۔ ہم لوگ ان حالات کے مقابلہ کر رہے ہیں، اپنی جانوں پر کھیل کر مقابلہ کر رہے ہیں اور ان شاءاللہ پر امن طریقے سے یہ تحریک آگے بڑھے گی، پر امن طریقے سے ہم ان شاءاللہ کامیابیاں حاصل کریں گے، یہ ملک کسی کے باپ کی جاگیر نہیں ہے، یہ ملک ہمارا ہے، ہم اس کے وفادار ہیں اور اس سرزمین پر وہ نظام لائیں گے جس میں ہمارے ہر شہری کو اس کے حقوق مل سکے، جس میں ہمارے بچوں کو آسان تعلیم مل سکے، آسان علاج مل سکے، آسان زندگی مل سکے اور اسی کے لیے آگے بڑھنا ہے۔ ہم جلسوں میں لاوڈ سپیکر اڑانے والے لوگ نہیں ہیں، چھ مہینے میں ٹھیک کر دوں گا، بابا آج تک ٹھیک نہیں ہوا، آپ خود خراب ہو گئے، ٹھیک تم نے کیا کرنا ہے، ملک کو ٹھیک کرتے کرتے خود خراب ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ اپنا فضل کرم فرمائے اور یہ جذبہ، یہ ہمت، یہ اخلاق یہ للہیت، یہ اللہ اور اس میں اضافہ کرے اور ان شاءاللہ ہم آگے بڑھتے رہیں گے، اگلا پڑاؤ پنجاب میں ہوگا اور پورے طاقت کے ساتھ پورا پنجاب وہاں اُمڈے گا اور بھرپور طریقے سے اس تحریک کو آگے بڑھایا جائے گا، ہم پاکستان میں ناجائز حکمرانی کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔

وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔

،‎ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض

‎ممبرز ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز 

‎#teamJUIswat

0/Post a Comment/Comments