قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب
15 جون 2026
بسم اللہ الرحمن الرحیم، نحمده و نصلي على رسول اللہ الكریم
جناب اسپیکر! دو ہزار چھبیس ستائیس کا بجٹ اپنے روایتی بندوبست کے ساتھ پیش ہو چکا ہے اور روایات کے مطابق حکومت اس بجٹ کو ایک کامیاب بجٹ قرار دے رہا ہے، لیکن کچھ حقائق ہیں کہ جس سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا اور جناب اسپیکر! میں آپ کی توجہ چاہوں گا کہ اپوزیشن کی تقریریں بلیک آؤٹ ہو رہی ہیں اور ہمارے پی ٹی وی جو اسمبلی کی تقریروں کو قوم تک پہنچانے کا واحد چینل ہے اس میں اپوزیشن کے نکتہ نظر کو پیش نہیں کیا جا رہا اور میں بار بار آپ سے عرض کر چکا ہوں کہ یہ بہت بڑا ظلم ہے کہ ایک پارلیمنٹ ہے اور جب ہم پارلیمنٹ میں آتے ہیں تو ہم سب کولیگ ہیں اور سب کی حیثیت ایک ممبر پارلیمنٹ کی ہے، پھر کیوں اپوزیشن کی تقریریں عوام تک نہیں پہنچنے دی جا رہی، ہمارا نکتہ نظر قوم تک کیوں نہیں پہنچایا جا رہا، میں کوئی زیادہ معاملات میں تقریر نہیں کرنا چاہوں گا ہمارے بہت سے معزز اراکین نے بجٹ کے حوالے سے گفتگو کی ہے اور شاید وہ مجھ سے اچھی گفتگو کر چکے ہیں۔ اس کی کمزوریوں کی نشاندہی کے حوالے سے بھی اور ایک بہتر تجاویز کے حوالے سے بھی، بنیادی بات یہ ہے کہ معیشت یقیناً پاکستان کا مسئلہ ہے اور جناب شہباز شریف صاحب جب کسی زمانے میں ہمارے ساتھ کنٹینر پر ہوتے تھے تو اس وقت بڑے جوش و جذبے کے ساتھ وہ فرمایا کرتے تھے کہ ملکی معیشت کو اگر میں چھ مہینے کے اندر ٹھیک نہ کر دوں تو پھر میرا نام شہباز شریف نہ ہو، یہ سارے مناظر ہم نے دیکھے، سنے ہیں۔ ہمیں اگر عمران خان سے شکوہ تھا کہ انہوں نے اپنی حکومت میں تاریخ کے سب سے بڑے قرضے لئے، آج اگر ہم ان کی پالیسیوں سے اختلاف کرتے تھے تو ہمیں اصلاحات کی طرف بڑھنا چاہیے تھا، تیسرا بجٹ ہم نے پیش کر دیا لیکن ہم قرضوں میں کہیں زیادہ بیرونی قرضے ہیں ملک کے اندر کے قرضے ہیں اور اس وقت ہمارے ہر پاکستانی وہ تین لاکھ پچیس ہزار روپے کا مقروض ہے بلکہ ڈالر میں ہے۔
اس ساری صورتحال میں جب غریب آدمی اپنی صبح اور شام کی نان جویں ترستا ہوگا وہ اپنی تنخواہ میں گھر کا کرایہ بھی دے رہا ہے، وہ اپنی تنخواہ میں بچوں کے سکول کے فیس بھی ادا کر رہا ہے، وہ اپنی تنخواہ میں بجلی کا بل بھی دے رہا ہے، وہ اپنی تنخواہ میں گیس کا بل بھی دے رہا ہے اور اس کی جو ادائیگیاں ہیں اور اخراجات ہیں وہ اس کے آمدن سے بڑھ جاتے ہیں۔ ذرا تھوڑا سا سوچ لینا چاہیے کہ اس غریب انسان کی زندگی کا کیا حال ہوگا، غربت اگر پہلے 25 فیصد تھی تو اس سال میں 29 فیصد شرح سے کم تک لوگ چلے گئے ہیں غربت کے لکیر سے نیچے چلے گئے ہیں اور ظاہر ہے کہ جب ہم عوام کو روزگار کے مواقع فراہم نہیں کر سکتے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک کے اندر بدامنی ہیں، روزگار کے لئے لوگ گھروں سے باہر نہیں جا سکتے اور میں یہ بات کسی تعصب کی بنیاد پر نہیں کہہ رہا ہوں، میں مسلسل یہ باتیں کر رہا ہوں، ایک پاکستانی کی حیثیت میں اور ایک پارلیمنٹرین کی حیثیت میں، کہ ملک کا امن و امان انتہائی حد تک خراب ہے۔ آپ لوگ سندھ سے تعلق رکھتے ہیں جناب سپیکر: آپ کے ہاں مسئلہ ہے، ڈاکوؤں کا مسئلہ ہے کچے کے ڈاکوؤں کا مسئلہ ہے اور ہمارے ہاں تو حکومتی رٹ ختم ہو چکی، تھانوں پر قبضے ہو رہے ہیں، پولیس سٹیشن تباہ کر دیے جا رہے ہیں، چھاؤنیوں پر حملے ہو رہے ہیں، ہمارے فوج کے جوان، ہمارے ایف سی کے جوان، ہمارے پولیس کے جوان، آئے روز حملوں کا شکار ہیں اور شہید ہو رہے ہیں۔ دفاع کی صلاحیت ہماری کمزور ہو رہی ہے، مناسب نہیں کہ ہم اس فورم پر یہ بات کہیں، لیکن میں یہ تجویز دے چکا ہوں کہ یہ مسئلہ اس حد تک گھمبیر ہے کہ ہمیں ان کیمرا ایک اجلاس کرنا چاہیے اور پارلیمنٹ کے اراکین کو بتانا چاہیے کہ یہ صورتحال کیوں درپیش ہے؟ اصل حقائق سامنے لائے جائیں۔ افغانستان کی صورتحال اس کے ساتھ ہمارے تعلقات کی نوعیت اس وقت کیا ہے؟ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات کی نوعیت کیا ہے؟ انڈیا کے ساتھ ہمارے تعلقات کی نوعیت کیا ہے؟ ملک کے اندر دو چھوٹے صوبوں کی خصوصیت کے ساتھ ہم دیکھیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ہم نے تو صرف ایک سوال کیا تھا کہ ہمیں صرف اتنا بتایا جائے کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ بس، لیکن آج تک یہ نہیں بتایا جا رہا کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ اور معاملہ اب چلا گیا کشمیر کی طرف، وہ کشمیر جہاں ہر کشمیری کا دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتا تھا، آج وہاں باغیانہ تقریریں ہو رہی ہیں، پبلک اس میں شریک ہو رہی ہے، اس کا معنی یہ ہے کہ ان اٹھہتر سالوں میں ہم نے کشمیریوں کو مایوس کیا ہے، ہم نے وہاں کی ماؤں اور بہنوں کے عزتوں اور ان کے ناموس پر اٹھہتر سال صرف سیاست کی ہے، ہم نے ان کا مقدمہ نہیں لڑا ہے اور آج جو صورتحال وہاں نظر آ رہی ہے یہ تشویشناک ہے، یہ نہیں کہ میں صرف حکومت پر تنقید کروں، میں یہ تجویز کروں گا کہ اس حوالے سے ہمیں غور و فکر کرنا چاہیے، اپوزیشن کو اس میں انوال کرنا چاہیے، ان کیمرہ اجلاس کریں اور ہمیں بتائیں حقائق کیا ہیں، ہم نے ہمیشہ کہا کہ کشمیریوں پر ہندوستانی فوج ظلم کر رہی ہے، وہاں کے جوانوں کو شہید کر رہی ہے اور آج جب وہی کچھ یہاں پاکستان میں دہرایا جارہا ہے، اس ایک لفظ پر کب تک گزارہ کرتے رہیں گے کہ یہ را کا ایجنٹ ہیں، یہ فتنہ الہندوستان ہے، شاید آپ پبلک کے سامنے کہہ سکے کہ یہ تو اس قسم کے مجرم ہیں یا ملک کے مجرم ہیں یا دین اسلام کے مجرم ہیں یا عقیدے کے مجرم ہیں، لیکن اس سے کیا مسئلہ حل ہوتا ہے؟ ہم تعصب کی بات نہیں کر رہے، اگر آپ نے انڈیا کے خلاف جنگ لڑی ہے اگر آپ نے فتح حاصل کی ہے سب سے پہلے حمایت کرنے والا میں تھا، ہم نے یہ نہیں سوچا کہ جس حکومت سے مجھے اختلاف ہے آج میں کسی ایک مسئلہ پر ان کو سپورٹ کروں، نہیں، ہم نے کہا ہم ایک صف ہے پوری قوم پر ایک صف ہے ہم فوج کے شانہ بشانہ ہیں، اگر آپ نے ایران امریکہ کے درمیان مصالحت کی بات کی، ہم نے سپورٹ کیا ہے، اس کے علاوہ پاکستان کے پاس اور کوئی بہتر راستہ نہیں تھا۔ لیکن اگر ہم امریکہ اور ایران کے درمیان اس لیے مصالحت چاہتے ہیں کہ ہمیں خطے میں جنگ نہیں چاہیے، خطے کے لوگوں کو ہم آمن دینا چاہتے ہیں تو اس کی ضرورت افغانستان کے ساتھ بھی ہے، دہشتگردوں کے مراکز افغانستان میں ہیں، وہاں پر بمباریاں کی جا رہی ہیں، تو کیا اس سے پاکستان کے اندر مسلح گروہوں کی کاروائیوں میں کوئی کمی آئی یا اس میں اضافہ ہوا؟ ذرا اپنی حکمتِ عملی پر ذرا نظر تو ڈالنی چاہیے۔ افغانستان کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے اور پاکستان کو ایک مستحکم ہمسایے کی ضرورت ہے، جب ہمیں کچھ نہیں ملتا اٹھہتر سال کے بعد ہم افغانستان کو طعنہ دیتے ہیں کہ پاکستان کے خلاف سب سے پہلا ووٹ افغانستان نے دیا تھا، وہ ظاہر شاہ کی حکومت تھی، افغانستان ہندوستان کی تقسیم کے خلاف تھا اس میں کوئی شک نہیں، یہاں کے قوم پرست اور افغانستان کے حکومت کا موقف ایک تھا آپ اس کا طعنہ تو افغانستان کو دیتے ہیں آج کی حکومت کو، لیکن کیا آپ نے ایک لمحے کیلئے یہ سوچا کہ سن انیس سو پینسٹھ میں جب ہندوستان نے آپ پر جنگ مسلط کی اور آپ کی مشرقی سرحد پر جنگ ہو رہی تھی تو اسی افغانستان نے آپ کو پیغام بھیجا کہ آپ اپنی مشرقی سرحد پر جنگ لڑے، مغربی سرحد کے محافظ ہم ہیں اور آپ کا پوری مغربی سرحد پر آپ کے ایک سپاہی کو بھی جانے کی ضرورت نہیں پڑی اور افغانستان آپ کو سپورٹ کر رہا تھا۔ آج آپ اس کو ظاہر شاہ اور نادر شاہ کے زمانے کے طعنے دے رہے ہیں، کیا انیس سو اکہتر میں جب آپ بنگال میں پھنس گئے تھے، لڑائی ہو رہی تھی ہندوستان کے ساتھ، کیا اس وقت افغانستان کی حکومت نے آپ کو پیغام نہیں بھیجا کہ اگر آپ جنگ لڑ رہے ہیں مغربی سرحد سے بے نیاز ہو جائیے، ایک سپاہی آپ کو افغانستان کے سرحد پر بھیجنے کی ضرورت نہیں پڑی، آج اٹھہتر سال کے بعد ہماری فوج تقسیم ہے آدھی افغانستان کی سرحد پر ہے، آدھی ہمارے ہندوستان کی سرحد پر ہے، آدھی ملک کے اندر جنگ لڑ رہی ہے اور اس جنگ کے لیے آج ہمارے فورسز ناکافی ہیں۔
جناب سپیکر! آج قبیلوں سے کہا جا رہا ہے، آج قوموں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ تم لشکر بناؤ، تم نکلو، تم لڑو، میرا پشتون ہو یا بلوچ وہ مقامی ہے، اگر وہ مقامی لوگوں کے ساتھ جنگ لڑے گا ان کی دشمنی نسلوں تک جائے گی، کیا یہ قوم کی ذمہ داری ہے؟ یا تو پھر آپ کہیں کہ ہم پاکستان کے ہر شہری کو فوجی تربیت دیں گے تاکہ وہ جہاد کے جذبے سے سرشار بھی ہو اور اس کے لڑنے کے اس کے اندر صلاحیت بھی ہو، ہم نے تو پاکستان میں کسی کو چھوٹا سا پستول رکھنے کی بھی اجازت نہیں دی، ہم تو چھری بھی نہیں رکھ سکتے، ہم تو بغیر لائسنس کے ایک بندوق بھی نہیں رکھ سکتے، اپنی حفاظت بھی نہیں کر سکتے، آج ان حالات میں اگر میرے اوپر تین خودکش حملے ہوئے ہیں، میرے گھر پر کئی راکٹ کے حملے ہوئے ہیں، میرے بچوں کے اوپر حملے ہوئے ہیں، میرے بچوں کو گاڑیوں سے اُتارنے کی کوشش کی گئی ہے، میری پارٹی کے سینئر لوگوں کے اوپر خودکش حملے ہوئے ہیں، ایک ایک حادثے میں پچیس پچیس اور تیس تیس لوگ شہید ہوئے ہیں، ان حالات سے ہم گزر رہے ہیں۔ اس کے باوجود ہمیں تو ایک بندوق رکھنے کی بھی اجازت نہیں، ملبہ قوم پر ڈالنا، ملبہ لشکروں پر ڈالنا یہ کون سی حکمت عملی ہے؟ فوج میں ہم کس لئے بھرتی ہوتے ہیں؟ ہم نے فوجی وردی کس لئے پہنی ہوئی ہے؟ ہم نے پیٹی کس لئے باندھی ہوئی ہے؟ اس لئے باندھی ہوئی ہے کہ جب جنگ کا وقت آئے تو پھر ہمارا یہ نوجوان جنگ لڑے ٹانک میں، میں جنگ لڑوں ڈیرہ اسماعیل خان میں، فتح اللہ خان جنگ لڑے ڈیرہ اسماعیل خان میں، اس لئے تو نہیں ہے اور اپنے گھر کا یہ حال کہ ہارڈ سٹیٹ، بس لڑنا ہے اور صرف لڑنا ہے، کوئی سر اٹھائے فنا کر دو، کشمیریوں کا تشدد کی طرف جانے کے ہم حق میں نہیں ہیں، لیکن ان کے چارٹر آف ڈیمانڈ کو ذرا پڑھ لیجئے، کونسی اس کے اندر ایک ایسی بات ہے جس پہ نگوشیٹ نہ کیا جا سکتا ہو، جس پر حکومت ان کے ساتھ بیٹھ نہ سکتی ہو، بات نہ کر سکتی ہو، ایک پوائنٹ بتایا جائے، جب ساری باتیں اس قابل ہیں کہ ہم اس پر گفتگو کریں اور بات چیت سے معاملات کو حل کریں تو پھر تشدد کی طرف جانے کی کیا ضرورت ہے؟ لوگوں کو بغاوت کی طرف لے جانے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ حالات ایک دن میں پیدا نہیں ہوئے، یہ ہماری اٹھہتر سال کے رویوں کے نتیجے میں آج لوگوں کے اندر یہ احساسات پیدا ہوئے۔ میرے علماء شہید ہو رہے ہیں، علماء اس لئے شہید ہو رہے ہیں کہ وہ جمہوریت کی بات کیوں کرتے ہیں، وہ پارلیمنٹ کی سیاست کیوں کرتے ہیں، پھر جمہوریت کفر ہے، اگر جمہوریت کے راستے سے اور پارلیمنٹ کے راستے سے قوم کو کچھ دیا جاتا، جو کہ ہمارے آئین کا تقاضا ہے، قرآن و سنت کی بات میں بطور ایک انفرادی حیثیت کے نہیں کر رہا ہوں، قرآن و سنت کی بات میرا آئین کرتا ہے، اس حوالے سے حکومتوں کے پیش رفت زیرو ہے، اس پیش رفت کے ساتھ ملک کے اندر بغاوتیں نہیں اٹھیں گے تو کیا ہوگا، بلآخر صبر کے پیمانے لبریز ہو جاتے ہیں، لوگوں کو مطمئن کرنا یہ حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس کی پالیسیوں کا اثر ہوتا ہے، اگر آپ نہیں کریں گے تو پھر الٹا ردعمل آتا ہے، تو کبھی اس کے بارے میں بھی سوچا ہے؟ یہی اسی ایوان میں آئین میں ترمیم ہوئی کہ یکم جنوری 2028 سے ملک کے اندر سود ختم ہوگا، کیا آج بھی جب میں گورنمنٹ کے طرف مخاطب ہو کر کہوں گا کہ صاحب کسی محکمے میں، کسی بینک میں کسی سطح پر کوئی پیش رفت ابھی تک ہوئی ہے، تو جواب نفی میں آئے گا یہ ہے سنجیدگی کا عالم، اگر میں شریعت کورٹ کو مؤثر بنانے کی بات کرتا ہوں تو زیرو پرسنٹ ابھی تک اس پر عمل نہیں ہوا، ہم نے آئین میں ترمیم کی کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے سفارشات وہ ڈیبیٹ کے لئے ایوان میں پیش کی جائیں گی، دو سال ہو رہے ہیں ہم آج تک ایک سفارش بھی ڈیبیٹ کے لئے ایوان میں نہیں لا سکے، یہ ہے معاہدے، یہ ہے پارلیمنٹ کے فیصلے، یہ ہے پارلیمنٹ کے فیصلوں کی توقیر، یہ ہے اپنی زبان کو عملی جامع پہنانے کے مناظر، اب آپ بتائیں کہ ان حالات پر آپ کس طرح عام آدمی کو مطمئن کرسکیں گے؟ میں نے تو آپ کے ساتھ مذاکرات کیے تھے، ہم نے تو بات چیت کی تھی، کوئی ڈنڈے تو نہیں اٹھائے تھے، کوئی ہنگامے تو نہیں کیے تھے اور مذاکرات میں آپ نے جو کچھ تسلیم کیا، چھبیسویں ترمیم میں جو کچھ آپ نے تسلیم کیا، ستائیسویں ترمیم میں اس سب کو چاٹ لیا واپس، یہ ہوتی ہے کمٹمنٹ؟ اور آج اٹھائیسویں ترمیم کی باتیں ہو رہی ہیں، کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ اٹھارویں ترمیم کو واپس کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں، افواہیں ہیں، ابھی تک کوئی چیز منظر عام پہ نہیں آئی، لیکن باتیں ہو رہی ہیں اور باتیں بلاوجہ نہیں ہوتی، اسی لئے میں سوچتا ہوں کہ جہاں میں حکومت کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں جناب سپیکر آپ کی وساطت سے، وہاں میں خاص طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ سن انیس سو تہتر کا آئین یہ پاکستان پیپلز پارٹی کے قائد ذوالفقار علی بھٹو شہید نے دیا میرے والد نے اس پر دستخط کئے تھے، خان عبدالولی خان نے اس پر دستخط کئے تھے، غوث بخش بزنجو نے اس پر دستخط کئے تھے، چھوٹے صوبوں نے اس کو قبول کیا تھا، کیا حشر کیا گیا اس کا؟ اور پھر پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت تھی جب اٹھارویں ترمیم کے لئے پارلیمنٹ کی کمیٹی بنی، نو مہینے ہم بیٹھے رہے اور نو مہینے کے بعد ہم نے آئین کی اصلاح کی، سو فیصد نہ سہی لیکن بہت حد تک ہو گئی، ہم نے صوبوں کو حقوق دیے، این ایف سی ریکارڈ ہوا، جس میں طے ہوا آئین کے اندر کہ این ایف سی کے حصص میں صوبوں کے حصوں میں اضافہ تو کیا جا سکے گا لیکن کمی نہیں کی جا سکے گی۔ آج صوبے کا حق ہماری حکومت کے لئے گلی کی ہڈی بن گئی ہے، غریب صوبے کو آپ اگر حق دینا چاہتے ہیں تو اس کے لئے صوبوں کو توڑو، یہ فکر یہ سوچ اگر روز ہم آئین کو کھلواڑ بناتے رہیں گے پھر پاکستان کے اندر استحکام نہیں آئے گا، ہمیں ملک کے اندر استحکام کی طرف جانا چاہیے، امن و امان کیسے لایا جائے، کیا صرف طاقت ہی اس کا مسئلہ ہے؟ افغانستان کے ساتھ معاملات، میں خود جا چکا ہوں وہاں اور پاکستانی نظام کو اعتماد میں لے کر گیا ہوں، ایک ہفتہ مذاکرات ہم نے کیں، میں مکمل کامیابی کے ساتھ واپس لوٹا ہوں، الیکشن کے بعد میں اپوزیشن میں بیٹھ گیا، یہ ہے آپ کا استعداد اور صلاحیت کہ ہمارے حاصل کی ہوئی کامیابیاں اس کو آپ تسلسل نہیں دے سکے، اس کو آپ کامیابی کے نتائج تک نہیں پہنچا سکے، یہ صلاحیتیں ہیں آپ کی، یہ خارجہ پالیسی ہیں آپ کی، کون بیٹھے ہوئے ہیں خارجہ پالیسی طے کرنے میں، کہ طے شدہ معاملات آپ سے دوبارہ بگڑ گئے، اگر آپ ملک کو نہیں چلا سکتے تو ہم تو پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ آپ عوام کی نمائندے نہیں ہیں، سو جب آپ عوام کی نمائندے نہیں ہیں آپ کے اندر خود اعتمادی آ بھی نہیں سکے گی۔
ذرا سوچیے! تعلقات کی جو نوعیت اور تعلقات میں کشیدگی کی جو نوعیت آج حکومتی پارٹیوں اور پی ٹی آئی کے درمیان نظر آ رہی ہے یہ کوئی میرے لیے آج پہلا منظر نہیں ہے، خواجہ آصف صاحب میرے محترم ہیں، میرے بڑے ہیں، مجھ سے عمر میں بھی بڑے ہیں، میں احترام کرتا ہوں یہ سب کچھ خوب جانتے ہیں، پرویز اشرف صاحب بیٹھے ہوئے ہیں، میرے لیے قابل احترام ہیں یہ سارے مناظر انہوں نے دیکھے ہیں، جو کشیدگی کی نوعیت اور ایک دوسرے کے خلاف روئیوں کی جو انتہا پسندی ہے یہ مناظر ہم نے مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی بیچ میں نہیں دیکھے تھے، میاں نواز شریف اور بینظیر بھٹو کے درمیان ہم نے نہیں دیکھے تھے، آج ہم انہی مناظر کو دوبارہ دوسرے شکل میں دہرا رہے ہیں، میں ان روئیوں کے حق میں نہیں ہوں، میں حجم کے مطابق رد عمل دینے کے حق ہوں، اگر عمل چیونٹی کے برابر ہے تو رد عمل چیونٹی کے برابر ہونا چاہیے، لیکن ہم ہیں کہ عمل چیونٹی کے برابر اور رد عمل ہاتھی کے برابر ہوتا ہے۔ مسائل کو اس کے اپنے خاص حدود کے اندر ہمیں سوچنا چاہیے، اپوزیشن کی جماعتیں بیٹھی ہیں، محمود خان اچکزئی ہمارے لیڈر آف دی اپوزیشن ہے، مجھ سے انہیں ووٹ نہیں مانگا لیکن میں نے ان کو سپورٹ کیا ہے اور میں آج بھی یہ سوچتا ہوں کہ جس طرح پرائم منسٹر صاحب نے خطاب کیا اور اس میں انہوں نے میثاق جمہوریت کی بات کی، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے درمیان دوریاں اور تلخ رویوں کی ایک تاریخ وہ میثاق جمہوریت پر جا کر ختم ہوئی، میں اس کا سگنیچری نہیں ہوں، غالباً عمران خان بھی اس کے سگنیچری نہیں ہیں، لیکن بعد کے جو سیمینارز ہوئے، آل پارٹیز ہوئے، ان کے جو اعلامیے سامنے آئے اس پہ ہم سب کی تائید اس کو حاصل ہوئی اور آج ایک متفقہ دستاویز ہے، ہم نے جو عہد کیا تھا، ہم نے جو میثاق کیا تھا کہ ہم اختلاف رائے کریں گے، جو حکومت کر رہی ہے اُس کو حکومت کرنے دیجیے، ملکی معاملات میں ہم تعاون کی ضرورت ہوگی تو وہ بھی کریں گے، ایک دوسرے کے حکومتوں کو گرائیں گے نہیں، اور اگر میں بڑی وضاحت کے ساتھ اس سے بھی اچھے واضح الفاظ کے ساتھ عرض کروں کہ اپوزیشن اپوزیشن کرے گی لیکن وہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے سہولت کار نہیں بنے گی، وہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے حکومت پر پریشر نہیں ڈالے گی، وہ اس کے لئے ہنگامے نہیں کھڑا کرے گی تاکہ وہ پھر حکومت کو منیج کر سکے، آج وہ ساری چیزیں بگڑ گئی، دوبارہ معاملات خراب کر دئیے گئے۔ میں تو آج بھی کہتا ہوں کہ عمران خان کو باہر آنے دیں، سیاست میں اگر ان کی گرفتاری کی وجہ سے تلخی ہے ہمیں ملک کی بہتری کے لئے اور ملک کے اندر مجموعی طور پر ایک برادرانہ اور ہم آہنگی کی فضاء پیدا کرنے کے لئے ایک شخص کی قربانی کوئی مسئلہ نہیں ہے، آجائیں باہر میدان میں سیاست کرتے ہیں، مجھے لوگ پوچھتے ہیں آپ عمران خان پر بہت تنقید کرتے تھے آج کل کیوں نہیں کر رہے؟ میں نے کہا یہ میرا مزاج نہیں مانتا کہ میرا مخالف جیل میں ہو اس کے ہاتھ پاؤں بندھے ہو اور میں کھل کر ان پر تنقید کرتا رہوں، او وہ بھی باہر آئیں گے، وہ بھی بات کریں گے، ہم بھی بات کریں گے۔ کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے۔ آداب کے اندر کریں گے، یہی تعلقات میں حزب اختلاف اور حکومت کے بھی چاہتا ہوں، میثاق جمہوریت کی طرف آئیں ہم دوبارہ چلیں، اور اس کے لیے یقیناً اپوزیشن کو بھی مشورہ کرنا ہوگا وزیراعظم نے اگر کوئی بات کی ہے لیکن کچھ تو معاملات کے حل کے لیے ہمیں بتایا جائے کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ اور آپ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ اگر آپ کو یہ خطرہ ہے کہ ان کیمرہ میٹنگ ہوگی اور پی ٹی آئی والے کوئی ہنگامہ کریں گے میں اس فلور پر پی ٹی آئی والوں کی زمہ داری خود لیتا ہوں وہ کوئی ہنگامہ نہیں کریں گے۔
اسپیکر کے سوال پر کہ مولانا صاحب آپ کتنے بولیں گے؟ مولانا صاحب کا جواب: بولنے پر تو حضرت اتنے درد ہیں کہ ہر درد کے لیے گھنٹہ چاہیے۔ اور اب جب آپ کے اوپر ایک بوجھ آگیا ہے، ایک دباؤ آگیا تو مجھے آپ کے درد کا بھی احساس ہے، مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ یہ درد آپ کا اکیلا نہیں ہے، یہ درد کہیں سے آ جاتا ہے۔
تو اس اعتبار سے ہمارے مسائل ہیں، امن و امان کا مسئلہ ہے، ہمارے ملک کے اندر معیشت کا مسئلہ ہے، سیاستدانوں کا، حکومت اور اپوزیشن کا معاملہ ہے ل، پڑوسی ممالک کے ساتھ معاملات کو معمول کی طرف جانا ہے۔ اگر میں پی ٹی آئی کے ساتھ شدید اختلافات کے باوجود اس پارٹی کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے سفر شروع کیا، اور کافی سفر میں نے کیا ہے، تو آپ بھی اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے سفر شروع کرے، تلخی اور شدت سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
تو اس حوالے سے صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے، اور یہ بھی میں ایک بات عرض کروں کہ یہ ایک واحد بجٹ اجلاس ہوتا ہے، جناب اسپیکر! یہ ایک بجٹ اجلاس ہی ہوتا ہے کہ جس میں ہمیشہ کہا جاتا ہے کہ آسمان تلے آپ جو چاہیں کہہ سکتے ہیں، اگر یہاں پر بھی قدغنیں لگ جائیں کہ پانچ منٹ بولنا ہے، دس منٹ بولنا ہے تو ہم ملک کے مسائل پر بات نہیں کر سکیں گے۔ تو تشدد کے راستے چھوڑ دینے چاہیے۔
محبت گولیوں سے بو رہے ہو
وطن کا چہرہ خون سے دھو رہے ہو
گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے
یقین مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو
ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض
ممبرز ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
#teamJUIswat

.jpeg)
ایک تبصرہ شائع کریں