مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب

قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب

24 جون 2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم. نحمده و نصلی على رسوله الکریم 

یہاں پر کچھ باتیں جذباتی حدود سے آگے جا کر ہوئی ہیں جب کہ یہ وقت بڑے تحمل کا ہے، بڑی سنجیدگی کا ہے، برداشت کا ہے اور جناب سپیکر! میں انتہائی احترام کے ساتھ عرض کرنا چاہوں گا کہ کل آپ بھی کچھ ضرورت سے زیادہ جذباتی نظر آئے۔حضرت! کاین گناہیست کہ در شہر شما نیز کنند

اگر آج یہاں سے کوئی ایسی بات کی جا رہی ہے کہ آپ سمجھتے ہیں کہ وہ انسٹی ٹیوشنز کے بارے میں ہیں، تو کیا ہمارے کنٹینرز پر، ہمارے جلسوں میں جب میاں نواز شریف صاحب خطاب فرماتے تھے تو وہ آرمی چیف، آئی ایس آئی کی چیف کا نام لے کر ان کی خلاف تقریر نہیں کیا کرتے تھے؟ اور کیا دفاع کے محکمے کو وہ محکمہ زراعت نہیں کہا کرتے تھے؟ تو یہ ایسی چیزیں ہیں کہ ہماری سیاست میں کبھی ہم ذرا حدود سے آگے چلے جاتے ہیں اور اچھی بات ہے خواجہ آصف صاحب نے جو باتیں کی ہیں کہ ہم بھی اپنے غلطیوں سے کچھ سبق سیکھتے ہیں، غلطیوں سے سبق سیکھنا اچھی بات ہے، لیکن اس وقت اگر کشمیری احتجاج پر ہیں تو میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ وہاں جو باضابطہ طور پر چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا گیا ہے اُس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ جس پر حکومت نگوشیٹ نہ کرسکے، تقریروں میں وہ نوجوان ہیں اگر کسی نے کوئی حد سے آگے بڑھ کر بات کی ہے یا پاکستان کے خلاف کوئی الفاظ تعبیر ہوئے ہیں تو اُس کے حق میں بھی باتیں ہوئی ہیں، اسی اجتماع میں ہوئی ہیں، انہی مقررین نے پاکستان کے حق میں باتیں کی ہیں، اور آج وہ باقاعدہ ایک خط مجھے بھیج رہے ہیں۔

جناب سپیکر! آپ کی توجہ چاہیے، جناب سپیکر میں آپ سے مخاطب ہوں، رولز کے مطابق سپیکر سے ہی مخاطب ہونا پڑتا ہے اور اگر سپیکر جو ہے جب وہ "چشم من درچشم تو، چشمان تو جائے دیگر"،

کشمیریوں کی جو اس وقت جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ہے، انہوں نے باضابطہ طور پر مجھے یہ خط بھیجا ہے اپنے قیادت کے دستخطوں کے ساتھ اور جس میں انہوں نے ثالثی کا کردار ادا کرنے کیلئے مجھے کہا ہے، یقیناً یہ کام میں تنہا نہیں کر سکتا، نہ میرے بس کی بات ہے لیکن میں نے اس کا مثبت جواب دیا ان کو اور کل 23 تاریخ تھی، یہ آخری تاریخ تھی انہوں نے لانگ مارچ کا اعلان کرنا تھا اور اگلا پروگرام دینا تھا، لیکن انہوں نے نہیں دیا اور ابھی ان کے درمیان میں شائد مشاورت چل رہی ہو، وہ کوئی جواب تیار کر رہے ہوں میرا جو ان کو پیغام ملا ہے اس کے بارے میں، لیکن حکومت حکومت ہوا کرتی ہے، اگر حکومت کا رد عمل مقررین نوجوانوں کی تقریروں اور اس سے بھی کہیں بڑھ کر حکومت کا رد عمل جذباتی ہو جاتا ہے تو یہ حکومت کا مقام نہیں ہوا کرتا۔

جناب سپیکر! اچھا ہوا کہ اس وقت جناب وزیراعظم بھی تشریف لے آئے ہیں ہاؤس میں، موجود ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت بھی موجود ہے اور ان کی موجودگی میں، میں آپ سے گزارش کر رہا ہوں کہ اگر اس وقت احتجاج پر بیٹھے ہوئے عوام کا ایک بڑا ہجوم ہے، ایسا نہیں کہ بلکل وہاں پر کوئی پبلک نہیں ہے ان کے ساتھ، لوگ بڑی تعداد میں راولاکوٹ میں موجود ہیں اور ان کی جو جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ہے اس کا باضابطہ طور پر میرے پاس خط آیا اور میں نے اس کے جواب میں ایک بیان ریکارڈ کیا، جب ان کو بھیجا، اس کو پبلش کیا میں نے، کہ میں اس میں جو کردار میرا ادا ہو سکتا ہے میں کرنے کے لئے تیار ہوں اور حکومت کے آفس کو بھی میں نے آگاہ کیا ہے، ابھی تک نہ حکومت کی طرف سے مجھے کوئی جواب ملا ہے اور نہ ہی ابھی تک ان کی طرف سے کوئی رد عمل آیا ہے، سوائے اس کے کہ کل 23 تاریخ تھی اور کل انہوں نے اگلا پروگرام دینا تھا، لانگ مارچ کا اعلان کرنا تھا، جو انہوں نے نہیں کیا اور اس وقت انہوں نے کسی قسم کے اگلے قدم کا اعلان نہیں کیا ہے۔

تو یہ ان کی طرف سے ایک مثبت رد عمل عملی طور پر نظر آ رہا ہے اور میں ان کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ہمارے جواب کو احترام دیا اور ان شاءاللہ اگر حکومت کی طرف سے کوئی مثبت اور امید افزا گفتگو ہوتی ہے تو یہ مسئلے کو حل کرنے کی طرف لے جائے گی، بات چیت ہونی چاہیے، چارٹر آف ڈیمانڈ پہ نظر رکھنی چاہیے، مقررین کی تقریروں کو بہانہ بنا کر طاقت کا استعمال یہ کبھی بھی حکومتوں کا رویہ نہیں ہوا کرتا، حکومت جو ہیں وہ ماں باپ کی حیثیت رکھتی ہے اور جب کشمیر کے اندر تشدد ہوگا آپ بتائیں کہ اٹھہتر سال تک کشمیریوں کے کاز کی وکالت کرنا اس کو آپ ایک لمحے میں دفن کردیں گے اور وہ انڈیا جو ہر فورم پر دفاعی پوزیشن میں ہوا کرتا تھا آج وہ جارحانہ انداز اختیار کر چکا ہے، جب ہم ان کے خلاف قراردادیں پیش کرتے تھے بیلجیم میں، انسانی حقوق کے اداروں میں، اقوام متحدہ میں، آج وہ پاکستان کے خلاف قراردادیں لا رہا ہے، پوزیشن بالکل تبدیل کر دی گئی ہے وجہ یہ ہے کہ پاکستان ریاست کے طرف سے جو رد عمل گیا ہے اور جو ان کو لاشیں ملی ہیں اور مزید بھی بالکل تیار کھڑے ہیں کہ کبھی کوئی حرکت ہو تو ہم ایک سخت اقدام کریں، اس سے مسئلہ کشمیر کی پوری نوعیت تبدیل ہو گئی ہے، پاکستان کا موقف بالکل برعکس چلا گیا ہے اور انڈیا کا موقف بھی برعکس چلا گیا ہے۔ ہم جہاں اٹھہتر سال تک کھڑے تھے آج ہندوستان وہاں کھڑے ہونے کی طرف جا رہا ہے اور جہاں ہندوستان اٹھہتر سال تک کھڑا تھا آج ہم پاکستان اسی مقام پر جا رہے ہیں، اس میں کچھ ہمیں حکمت عملی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور خواجہ آصف صاحب نے جو باتیں کی ہیں ہر چند کہ اگر اس میں قابل اعتراض مواد ہے، ہر چند کہ اس میں اگر کشمیر یا پاکستان کے مفاد کے خلاف کوئی مواد ہے تب بھی وہ خواجہ آصف نہیں ہے یہاں پر، وہ یہاں پر وزیر دفاع ہیں اور وزیر دفاع کی حیثیت سے ان کا رد عمل محتاط ہونا چاہیے تھا۔ میرے خیال میں جب لڑائی والا کام ہو تو آپ لوگ لڑائی والا کام خواجہ آصف کے حوالے کرتے ہیں اور جب مفاہمت والا کام ہو تو وہ پھر اپ اسحاق ڈار کے حوالے کر دیتے ہیں۔

آج ان کو لا تعلق کیوں کیا جا رہا ہے، میرے خیال میں اس کا تعلق صرف داخلہ پالیسی سے نہیں ہے، اس کے اثرات ہمارے خارجہ پالیسی پر پڑ رہے ہیں اور پاکستان نے اس وقت جو ایران امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور اس کے جو دنیا میں مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں، پاکستان کے اندر ان کو ہمیں سمیٹنا چاہیے، حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اس طرز عمل کو اس کے مفادات کو سمیٹے، لیکن جہاں وہ باہر سے کما رہے ہیں پاکستان کے اندر اس کو گنوا رہے ہیں، یہاں حکومت کی ان کامیابیوں کے عوام پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہو رہے ہیں، یہاں امن و امان نہیں ہے اور خیبر پختونخوا، بلوچستان میں تو پہلے ہی امن و امان نہیں تھا، سندھ کے لوگ ڈاکوں کے ہاتھوں محکوم نظر آ رہے ہیں، لیکن اگر کشمیر کی بھی ایسی صورت حال بنتی ہے تو جہاں فوج کو یا بارڈرز پہ ہونا چاہیے یا بیرکوں پہ ہونا چاہیے آج وہ پاکستان کے صحراؤں میں پھیلے ہوئے ہیں، پاکستان کے پہاڑوں میں پھیلے ہوئے ہیں، ان کے فوجی شہید ہو رہے ہیں، اور اس مشکل میں ریاست پھنسی ہوئی ہے کہ اس مشکل وقت میں انہیں قومی یکجہتی کی ضرورت ہے، اگر ان حالات میں بھی حکومت کی طرف سے ایسے بیانات آئے کہ جس سے قوم تقسیم ہو، جس سے اپوزیشن کو سخت سے ردعمل دینا پڑے تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ یہ ملک کی یکجہتی کے لیے کوئی کردار ہوگا، بلکہ ملک کو تقسیم کرنے کا سبب بنے گا۔

بہت زیادہ اشتعال ہے ملک کے اندر، ہم نے پرسوں چارسدہ میں جلسہ کیا، ہم نے اس سے پہلے پشین میں جلسہ کیا، لاکھوں لوگ وہاں اکٹھے ہوئے، بہت ہی کامیاب اجتماعات، پبلک نے اتفاق کیا اور یہ وہ میدان ہے کہ اگر ایک سیاسی جماعت پبلک میں اترتی ہے اور تاحد نظر انسانوں کا سمندر اکٹھا کرتی ہے یہ ایک وہ سیاسی جنگ ہے کہ جہاں قوم کا مورال بلند ہوتا ہے اور آپ کے کارکنوں کا مورال بلند ہوتا ہے، امن پسندوں کا مورال بلند ہوتا ہے، اور مسلح قوتوں کا مورال گر جاتا ہے، تو میرے خیال میں ہم جس محاذ پر کام کر رہے ہیں، میں تو سمجھتا ہوں کہ ہمیں پبلک کی طرف سے زبردست قسم کا ایک مثبت ردعمل ملا ہے، کیا وہ ردعمل حکومتی پارٹی کو بھی مل سکتا ہے؟ میرے خیال میں اس وقت ان کے لئے وہ حالات نہیں ہیں۔ آپ کو وہ حالات بنانے ہوں گے، کہ ہم یکجہتی کا اظہار کریں اور اداروں کا احترام، ہم اداروں کا احترام کرتے ہیں، ہم فوج کا احترام کرتے ہیں، ہم اسٹیبلشمنٹ کا احترام کرتے ہیں، لیکن ہمارے سامنے ایک آئین بھی ہے، ہمارے سامنے ایک قانون بھی ہے، جو ہمارے دائرہ کار کا تعین کرتا ہے، ہمارے اختیارات کے دائرے کو متعین کرتا ہے، اگر وہ اپنے دائرے میں رہے ہمارے سروں کے تاج، لیکن اگر وہ سیاست میں فریق بن کر سامنے آتے ہیں، انتخابات کے نتائج کو تبدیل کرتے ہیں اور بلوچستان میں اور گلگت میں حال ہی میں جو کارنامے دکھائے گئے ہیں اور جس طرح نتائج تبدیل کیے گئے ہیں میرے خیال میں اگر وہ سیاست میں آئیں گے تو پھر سیاست میں ہم ہیں اور سیاست میں ان کو جواب بھی دیا جائے گا، اگر وہ اپنے فرائض تک محدود رہتے ہیں ہم نے جب انڈیا کے ساتھ لڑائی ہوئی سب سے پہلے میں نے سپورٹ کیا ہے اور ہم نے کہا ہم ایک قوم ہیں، اگر آپ نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے سب سے پہلے میں نے سپورٹ کیا ہے اور میں اچھے کاموں کا اچھی بات کہوں گا، لیکن اگر آپ غلط راہ پہ چلیں گے تو ہم گونگے نہیں ہیں کہ ہم گونگے شیطان کی طرف خاموش رہیں، پھر ہم پارلیمنٹ میں بھی بات کریں گے اور پارلیمنٹ آباو ہے، پارلیمنٹ سپیرئیر ہے، پارلیمنٹ میں ہر ایک بات کی جا سکتی ہے، دفاع کی قوت ہو وہ اس پارلیمنٹ کے ماتحت ہے، یہاں پر کوئی بھی ادارہ ہو اسٹیبلیشمنٹ ہو، بیوروکریسی ہو، وہ اس پارلیمنٹ کے ماتحت ہے، اگر پارلیمنٹ آج بجٹ پاس کر رہی ہے اور بجٹ میں ہم اپنے اداروں کو جو یہاں سے پیسہ جائے گا، یہاں سے بجٹ جائے گا اور اس بجٹ سے اس کو غلط طور پر استعمال کریں گے تو اس پر تنقید پارلیمنٹ نہیں کرے گی تو کون کرے گا؟ لہذا پارلیمنٹ کو آزاد رہنے دیجیے، پارلیمنٹ کو سپیرئیر رہنے دیجیے، اس کو سپریم رہنے دیجیے اور کسی کو بالاتر ہونے کا تصور نہیں ہے، ہم کوئی ایسی تنقید نہیں کر رہے ہیں خدا نخواستہ کہ ہم ان کا کوئی مزاق اڑا رہے ہیں، کوئی برے الفاظ سے ان کو یاد کر رہے ہیں، ہم ان کے کردار، ان کے ایٹیچیوڈ، ان کے موقف، ان کے رویوں پر اپنی شکایت ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں، تو وہ ہم ریکارڈ پر لا رہے ہیں۔

میاں شہباز شریف صاحب وزیراعظم ہے، تشریف فرما ہے، کیا جب ہم اکٹھے ایک سٹیج پر ہوتے تھے تو انہوں نے اس زمانے میں فوج کے سربراہ کا نام نہیں لیا تھا؟ کیا انہوں نے اس وقت جنرل فیض کا نام نہیں لیا تھا؟ کیا اس وقت انہوں نے فوج کی ادارہ کو محکمہ زراعت نہیں کہا تھا؟

تو یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ ذرا اپنی ماضی کو بھی پہلے دیکھ لیا کریں اس کے بعد آپ ہماری تنقید کو اتنا سخت ردعمل دیں۔

تو جناب سپیکر! آپ ہمیں آپ ضرور ڈانٹیں، آپ ہمارے سپیکر ہیں، آپ ہمارے غلطیوں کے اصلاح بھی کریں گے لیکن جب ہم اور آپ کی قیادت اس قسم کے خطابات کرتی تھی تو آپ بھی ان کے ساتھ سٹیج پر بیٹھے ہوتے تھے اور آپ بھی ہمارے ساتھ ہوتے تھے۔ بہت بہت شکریہ

ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض

‎ممبرز ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز

#teamJUIswat

0/Post a Comment/Comments